تحریر : ڈاکٹر رشید احمد خاں تاریخ اشاعت     21-09-2026

سعودی عرب اور حوثیوں کے مابین کشیدگی …(2)

کرۂ ارض پر متعدد ممالک یا مقامات ایسے ہیں جنہوں نے چھوٹے رقبے‘ کم آبادی اور ناکافی وسائل کے باوجود اپنے جغرافیائی محل وقوع کی بنا پر تاریخ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان میں سے ایک یمن ہے۔ جزیرہ نما عرب کے جنوب میں واقع اس ملک کے شمال میں سعودی عرب‘ شمال مشرق میں عمان‘ مشرق میں بحیرہ عرب‘ جنوب میں خلیج عدن اور مغرب میں بحیرہ احمر واقع ہے۔ لیکن فراعین مصر سے لے کر 20ویں صدی میں ریاست برطانیہ کے عروج و زوال تک‘ یمن کے خصوصی کردار کی اصل وجہ اس کی آبنائے باب المندب کے کنارے پر موجودگی ہے۔ آبنائے باب المندب کی تنگ آبی پٹی بحیرہ احمر کو بحر ہند سے ملاتی ہے اور اس طرح قدیم زمانے میں مشرق (چین اور ہندوستان) اور مغرب (یورپ) کے درمیان سمندر کے ذریعے انتہائی نفع بخش تجارت کے دو اہم راستوں میں سے ایک پر یمن کو کنٹرول حاصل رہا ہے۔ دوسرا تجارتی راستہ چین‘ جنوب مشرقی ایشیا اور آبنائے ملاکا سے گزر کر شمالی بحر ہند یا بحیرہ عرب سے آبنائے ہرمز کے راستے خلیج فارس اور اس سے آگے ایران‘ میسوپوٹیمیا (جدید عراق) کے بعد بحیرہ روم کے مشرقی کنارے پر واقع بندرگاہوں تک پہنچتا تھا۔ آج بھی یمن میں حوثی قبائل کے جنگجوؤں اور سعودی عرب کے درمیان جنگ سے دنیا بھر میں تشویش کی جو لہر دوڑ گئی ہے اس کی وجہ آبنائے باب المندب کے راستے توانائی خوراک کی ترسیل میں رکاوٹ پڑنے کا خدشہ ہے کیونکہ آبنائے ہرمز کے بعد مشرق وسطیٰ اور دنیا کے باقی حصوں کے درمیان تیل کی سب سے زیادہ مقدار (تیل کی کُل تجارت کا سات فیصد) آبنائے باب المندب سے گزرتی ہے۔ دنیا کی کُل تجارت کا 12 فیصد آبنائے باب المندب سے گزرتا ہے۔ اس کے علاوہ نہر سویز کے راستے یورپ اور بحیرہ روم کے مشرقی ساحل پر واقع عرب اور غیر عرب ممالک کیلئے جنوبی ایشیا‘ مشرقی افریقہ اور اس سے آگے جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک کے ساتھ روابط کیلئے سب سے کم فاصلے کا بحری راستہ آبنائے باب المندب سے ہی گزرتا ہے۔ 3 ستمبر سے حوثی جنگجوؤں کے حملوں اور پیش قدمی سے پیدا ہونے والی صورتحال سے یہ سب کچھ خطرے میں پڑ گیا ہے۔ اس لیے دنیا بھر میں یہ سوال پوچھا جا رہا ہے کہ یہ حوثی جنگجو کون ہیں اور کن مقاصد کیلئے باب المندب پر قبضہ کر کے سعودی عرب کو ہدف بنا رہے ہیں؟
حوثی یمن کے بہت سے قبائل میں سے ایک ہیں اور ایک اندازے کے مطابق ملک کی کُل آبادی کا 35 فیصد ہیں۔ پہاڑوں اور دشوار گزار راستوں پر مشتمل یمن کا شمالی حصہ صدیوں سے ان کا مسکن ہے مگر سعودی عرب کے ساتھ وقفے وقفے کے ساتھ لیکن مسلسل تصادم کے سلسلے نے انہیں گوریلا جنگ کا ماہر بنا دیا ہے۔ مغربی ذرائع کی فراہم کردہ اطلاعات کے مطابق حوثی جنگجوؤں کی تعداد ایک سے ڈیڑھ لاکھ کے قریب ہے اور یہ جدید ترین اسلحہ سے لیس ہیں‘ جن میں ہلکے اور بھاری خودکار ہتھیاروں کے علاوہ بیلسٹک میزائل اور ڈرون بھی شامل ہیں۔ حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان کوئی علاقائی جھگڑا نہیں ہے لیکن مشرق وسطیٰ خاص طور پر خطے میں امریکی کردار پر سعودی عرب اور حوثیوں کی ایک دوسرے کے مخالف سوچ دونوں کے مابین تصادم کا باعث بنی ہے۔ مثلاً 2003ء میں جارج بش کے دورِ صدارت میں عراق پر امریکی حملے کی حوثیوں نے نہ صرف مذمت کی تھی بلکہ ایک مسلم ملک کے خلاف اسے امریکی جارحیت قرار دیا تھا جبکہ سعودی عرب نے اس کی حمایت کی تھی بلکہ یمن کے اُس وقت کے صدر علی عبداللہ صالح کو بھی اپنے ساتھ امریکہ کے حامیوں کی صف میں کھڑا کر لیا تھا۔ 2011ء میں جب شمال مغربی افریقہ سے جمہوریت کے حق میں عرب ملکوں میں دہائیوں سے اقتدار پر قابض آمرانہ حکمرانوں کے خلاف عوامی احتجاج کا سلسلہ‘ جسے عرب سپرنگ کہا جاتا ہے‘ شروع ہوا تو یمن میں علی عبداللہ صالح‘ جو گزشتہ کئی دہائیوں سے اقتدار پر قابض تھے‘ کے خلاف بھی عوام نے احتجاجی جلوس نکالے اور اُن کے استعفے کا مطالبہ کیا۔ مگر سعودی عرب نے صدر صالح کی حمایت کی اور جب اقتدار چھوڑ کر انہیں ملک سے بھاگنا پڑا تو سعودی عرب نے اُنہیں اپنے ہاں پناہ دی اور یمن میں صدر صالح کے جانشین منصور ہادی کی حمایت جاری رکھی۔ حوثیوں نے انہیں قبول کرنے سے انکار کر دیا اور حکومت کے خلاف جدوجہد جاری رکھی جس کے نتیجے میں ستمبر 2014ء میں حوثیوں نے یمن کے دارالحکومت صنعا پر قبضہ کر لیا۔ 2015ء میں سعودی عرب نے متحدہ عرب امارات کی مدد سے یمن میں مداخلت کی‘ جسے امریکہ نے ہوائی حملوں سے مدد فراہم کی‘ مگر سعودی عرب کی مداخلت اور امریکی حملے حوثیوں کو شکست دینے میں ناکام رہے۔ آخرکار 2022ء میں جنگ بندی کا معاہدہ طے پایا‘ مگر سعودی عرب نے یکطرفہ طور پر حوثیوں کی بحری ناکہ بندی جاری رکھی۔ اب حوثیوں کی طرف سے اعلان کیا جا رہا ہے کہ ان کی موجودہ کارروائیوں کا مقصد صرف سعودی عرب کی طرف سے 2022ء سے بحری ناکہ بندی اور یمن کی فضائی حدود کے استعمال پر پابندی کا خاتمہ ہے۔ اگر سعودی عرب اس بحری اور فضائی ناکہ بندی کو ختم کر دے تو وہ بھی اپنی جنگی کارروائیوں کو روک دیں گے مگر سعودی عرب کی طرف سے اس کی جلد توقع نہیں کیونکہ حوثی ایک نان سٹیٹ ایکٹر ہیں اور بین الاقوامی برادری یمن کی اُس حکومت کو جائز تسلیم کرتی ہے جس کا دارالحکومت اب عدن ہے۔ سعودی عرب کو یہ خطرہ بھی لاحق ہے کہ حوثیوں کی کامیابی سے جزیرہ نما عرب نے جنوبی حصے میں ایران کے اثر ونفوذ کو تقویت ملے گی۔ سعودی عرب کے مؤقف سے نہ صرف امریکہ اور اسرائیل بلکہ خلیجی عرب ریاستیں بھی متفق ہیں‘ اس لیے حوثیوں کی حالیہ پیش قدمی اور سعودی عرب کے تیل اور توانائی کے انفراسٹرکچر کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرون سے نشانہ بنانے کی سخت مذمت کر رہے ہیں مگر ان میں سے کوئی بھی اپنی فوجیں حوثیوں کے خلاف یمن میں داخل کرنے پر تیار نہیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ یمن کا وہ علاقہ جو حوثیوں کے قبضے میں ہے‘ روایتی جنگ کیلئے موزوں نہیں۔ حوثی اس سے پوری طرح آگاہ اور عادی ہونے کی وجہ سے حملہ آور فوج کو ٹف ٹائم دے سکتے ہیں۔ خلیج میں کسی بھی عرب ملک کے پاس تربیت یافتہ اور پیشہ ورانہ طور پر لڑنے والی فوج نہیں کیونکہ 1970ء کی دہائی سے ان تمام ملکوں نے اپنے دفاع اور سلامتی کی ذمہ داری امریکہ کو دے رکھی ہے۔ امریکہ نے اپنی اس ذمہ داری کو نبھانے کیلئے بھاری معاوضے کے عوض سعودی عرب‘ قطر‘ متحدہ عرب امارات اور بحرین میں وسیع فضائی اور بحری اڈے تعمیر کر رکھے تھے مگر یہ دفاعی نظام کسی بیرونی حملے کی صور ت میں ہی مؤثر ثابت ہو سکتا ہے‘ اندرونی طور پر کسی خانہ جنگی یا بغاوت کو کچلنے کیلئے امریکی فوجیوں کی مداخلت اس منصوبہ بندی میں شامل نہیں۔ اسی وجہ سے امریکہ ایران کے سامنے بے بس ہے اور یمن جیسی صورت حال میں اپنی فوجیں بھیجنے پر تیار نہیں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ سمجھتے ہیں کہ اگست میں پاکستان‘ ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان جس دفاعی معاہدے پر دستخط ہوئے‘ اسے یمن جیسی صورت حال میں استعمال کیا جا سکتا ہے اور پاکستان یا ترکیہ دونوں سے عملی طور پر سعودی عرب کی مدد یعنی حوثیوں کے خلاف اپنی فوجیں بھیجنے کا مطالبہ کیا جا سکتا ہے‘ مگر یہ ممالک یمن میں حوثیوں کے خلاف اپنی فوجیں بھیجنا نہیں چاہتے۔ البتہ پاکستان اور ترکیہ کی طرف سے سعودی عرب کو حوثی حملوں سے بچانے کیلئے ہر ممکن اقدام کا ارادہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ جیسا کہ ترک وزیر خارجہ حقان فیدان نے کہا ہے کہ یمنی حوثیوں کے جاری حملوں کے باعث سعودی عرب کی کچھ عسکری ضروریات ہو سکتی ہیں‘ ہم پاکستان کے ساتھ مکہ معاہدے کے تحت ان عسکری ضروریات کا جائزہ لیں گے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved