دبے پاؤں آنے والی تبدیلی آ چکی ہے۔ یہ تبدیلی کسی اعلان کے ساتھ نہیں آتی۔ نہ محکمہ موسمیات کسی خبر کا اعلان کرتا ہے‘ نہ خبر لگتی ہے نہ ٹکرز چلتے ہیں۔ نہ آسمان پر کوئی تختی لگتی ہے کہ خزاں اور پھر سردی آ پہنچی۔ موسم بس ایک دن اچانک اپنے انداز بدل لیتا ہے۔ اس موسم میں تو ہوا بھی گلابی شال اوڑھ کر چلتی ہے۔ تازگی سے چھلکتی‘ شاداب کرتی‘ دل پر چلتی ہوا جو ایک طرف درختوں کے زرد پتے اڑاتی اور دوسری طرف خزاں کے اس موسم میں دلوں میں پھول کھلاتی ہے۔ یہ مہک اور یہ خنکی جسم سے پہلے یادوں کو چھوتی ہے۔ مجھے وہ سارا وقت یاد آنے لگتا ہے جب امی سردیوں کی تیاریوں میں مصروف ہو جایا کرتی تھیں۔ ٹین کے بڑے بڑے بکسوں میں سے سارے گرم کپڑے نکال کر چارپائیوں پر دھوپ میں ڈال دیے جاتے تھے تاکہ سال بھر کی بساند نکل جائے اور کیڑے یا جراثیم‘ اگر کوئی ہیں تو‘ ختم ہو جائیں۔ چارپائیوں پر کپڑے پھیلانا اس بات کی علامت تھی کی گرمی ختم ہوئی اور سردی دہلیز پر کھڑی ہے۔ سال بھر سینت کر رکھے ہوئے لحاف اور گدے نکالے جاتے اور ان میں روئی بھروانے کا کام شروع ہو جاتا تھا۔ وہ زمانہ روئی کے بھرے لحافوں اور رضائیوں کا تھا۔ اب کمبلوں کا دور ہے لیکن لحاف کی نرمی گرمی اور آرام کا کوئی کمبل کیا مقابلہ کر سکتا ہے‘ خاص طور پر اُن علاقوں میں جہاں جم کر سردی پڑتی ہے۔ میری امی مرحومہ ان دنوں روئی پینجوانے یعنی دھنکوانے کی تیاری شروع کر دیتی تھیں۔ میں اپنے لڑکپن سے بہت بعد تک دُھنیے سے روئی دُھنکوانے جاتا رہا۔ اس وقت یہ ایک صبر آزما اور جھنجھلاہٹ بھری ڈیوٹی ہوتی تھی۔ اب وہ دن یاد آتے ہیں۔ پہلے پرانے لحافوں کی سلائیاں ادھیڑ کر پرانی روئی نکالی جاتی‘ پھر ساری روئی ایک گٹھڑ بنا کر اکٹھی کی جاتی جسے لے جانا بھی ایک مشکل کام تھا۔ اس کاریگر کے پاس جسے دُھنیا‘ دھنکیا‘ نداف یا پنجیارا کچھ بھی کہہ لیجیے۔ روئی دھننا صوفیا کا روزگار رہا ہے۔ حسین بن منصور حلّاج سے کون واقف نہیں اور حلّاج دُھنکنے والے ہی کو کہتے ہیں۔
شاہزادوں کا افلاک پر راج تھا‘ کوئی عطار تھا کوئی حلاج تھا
عشق سات آسماں پار کرتا گیا‘ ہل چلاتے ہوئے‘ روئی دھنتے ہوئے
دھنکنے کی آواز سننا بھی ایک یادگار تجربہ تھا۔ وہ واقعہ ہر بار یاد آتا تھا جو والد مرحوم سے کئی بار سنا تھا اور جس کے مطابق خاص آہنگ میں نکلتی یہ آواز کہتی تھی کہ: دون است دون است دنیائے دوں
(حقیر ہے‘حقیر ہے‘ یہ دنیاحقیر ہے)
سخت‘ ملگجی ٹکڑیوں میں اکٹھی ہو چکی روئی کو نرم‘ سفید اڑتے گالوں میں تبدیل ہوتے دیکھنا بھی کیا عجب تماشا تھا۔ کیا عجب حلّاج نے تصوف کے ابتدائی رموز اسی مٹتی‘ روپ بدلتی روئی سے سیکھے ہوں۔ لحافوں میں روئی بھر کر نگندے بھرنا اگلا مرحلہ تھا۔ میں ڈورے ڈالنے کے الفاظ سے جان بوجھ کر اجتناب کر رہا ہوں۔ نگندوں کے لیے کئی عورتیں اجرت پر بلائی جاتیں۔ بڑے پرچم کی طرح پھیلے مخملی ریشمی لحاف میں آڑے ترچھے یا سیدھے‘ ڈوبتے ابھرتے نگندے ڈالنا ایک فن تھا۔
رضائی اور لحاف ہی نہیں سویٹر‘ کوٹ‘ گرم کپڑے‘ دلائیاں‘ رضائیاں بھی اپنے محفوظ خانوں سے باہر نکل کر دھوپ بھرے صحنوں اور آنگنوں یا چھتوں کی راہ لیتے ہیں۔ ستمبر اپنے اختتام تک پہنچتا ہے تو ایئر کنڈیشنرز اور پنکھوں کو بھی چین سا آنے لگتا ہے۔ یہ آوازیں مدہم ہوتی ہیں تو سکون ماحول میں سرایت کرنے لگتا ہے۔ زندگی مصنوعی موسموں سے دور ہو کر فطرت کے قریب آنے لگتی ہے اور فطرت کے سکون جیسی طمانیت تو انسان نے کبھی بنائی ہی نہیں۔ یہ تو عمومی مشاہدہ بھی ہے اور نفسیات دانوں کا تجزیہ بھی کہ موسم خوشگوار ہو تو لوگوں کے موڈ بھی بہتر ہو جاتے ہیں۔ چڑچڑا پن‘ جھنجھلاہٹ اور بیزاری گرمی کے دنوں کی طرح کہیں پیچھے رہ جاتے ہیں اور خوش دلی ‘خوش مزاجی ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کرچلنے لگتی ہے۔
موسم دروازہ کھٹکھٹا کر نہیں آتے۔ خزاں اور سردی بھی دبے پاؤں اترتی ہے۔ کبھی نیم کے پتوں میں چھپی ہوئی سرسراہٹ کی صورت‘ کبھی چائے کے کپ سے اٹھتی بھاپ میں اپنا چہرہ دکھاکر اور کبھی شام کے وقت کسی سڑک کے کنارے بیٹھے ہوئے بوڑھے کے کندھوں پر پڑی ہوئی شال میں نظر آتی ہے۔ صبح ذرا دیر سے روشن ہوتی ہے‘ شام ذرا جلدی دامن میں اندھیرا سمیٹ لیتی ہے۔ دروازے پر کوئی مانوس شخص آ جائے تو اس کے قدموں کی آہٹ بھی پہچان لی جاتی ہے۔ سردی کے قدموں کی آہٹ بھی سنائی دینے لگی ہے۔ لاہور کو سردی کا انتظار سب سے زیادہ رہتا ہے۔ یہ شہر گرمی کو جھیلتا ضرور ہے مگر گرمی سے محبت نہیں کرتا۔ جون‘ جولائی اور اگست کی تپتی دوپہریں جب سڑکوں کو آگ کی سلوں میں بدل دیتی ہیں اور ہوا جیسے بھٹی سے نکل کر آتی ہے تو لاہور کا ہر درخت‘ ہر دیوار‘ اور ہر آدمی ایک ایسی صبح کا منتظر ہوتا ہے جب ہوا میں ذرا سی ٹھنڈک ہو۔ پھر ستمبر آتا ہے‘ اکتوبر اپنی ہلکی سی سنہری چادر بچھاتا ہے‘ اور موسم آہستہ آہستہ اپنا لہجہ بدلنے لگتا ہے۔ نومبر اس موسم کی جوانی ہے؛ یعنی گلابی جاڑوں کی جوانی۔ شہابی جاڑوں کی جوانی۔
لاہور میں خزاں خاموشی سے ساتھ آ کر بیٹھ جاتی ہے اور بس یہیں بسنے لگتی ہے۔ آپ کو گویا اس کا انتظار ہی ہوتا ہے۔ ایک زمانے میں لاہور کا منظر بہت مختلف تھا‘ اب لاہور بہت پھیل گیا ہے اور اس میں بہت کچھ تبدیلی آ گئی ہے لیکن شہر کے کچھ حصوں خاص طور پر اندرونِ شہر میں بہت کچھ ابھی ویسا ہے۔ آپ اس موسم کو روایتی لاہور کی آنکھوں سے دیکھنا چاہتے ہوں تو اندرون شہر چلے جائیے۔ دہلی دروازہ‘ بھاٹی دروازہ‘ لوہاری دروازہ‘ شاہ عالمی اور موچی دروازہ۔ یہ صرف شہر کے دروازوں کے نام نہیں‘ لاہور کے حافظے کے باب ہیں۔ ان گلیوں سے گزریں تو محسوس ہوتا ہے جیسے وقت منجمد ہوگیا ہو۔ پرانی اینٹوں کی دیواریں‘ لکڑی کے دروازے‘ بالکونیوں سے لٹکتے ہوئے کپڑے‘ تنگ گلیوں میں ایک دوسرے کے قریب کھڑے مکان اور صبح کی ہلکی دھوپ سب مل کر ایسا منظر بناتے ہیں جیسے کسی پرانی داستان کا ورق کھل گیا ہو۔ بادشاہی مسجد کی سیڑھیوں پر پڑتی دھوپ ہو یا شاہی قلعے کی دیواروں پر ٹھہری ہوئی خاموشی‘ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے شہر اپنی پرانی کتاب کے صفحات پلٹ رہا ہو۔ فجر کے بعد شہر ابھی پوری طرح بیدار نہیں ہوا ہوتا۔ مسجد کے مینار سے اذان کی آواز سرد ہوا میں کچھ زیادہ صاف سنائی دیتی ہے۔ صبح میں خاص نیم خوابی ہوتی ہے۔ شہر آنکھیں کھولتا تو ہے مگر پوری طرح بیدار ہونے سے پہلے کچھ دیر اپنے خوابوں میں جاگتا رہتا ہے۔ گلی کے نکڑ پر چائے کا کھوکھا آہستہ آہستہ جاگ رہا ہوتا ہے۔ کسی چھت پر کپڑے ابھی تک اوس سے نم ہوتے ہیں۔ یہ جملہ محسوس کیجیے گا کہ لاہور میں موسم صرف محسوس نہیں کیے جاتے‘ کھائے بھی جاتے ہیں۔ کسی گھر میں پراٹھا تلنے کی خوشبو اُٹھ رہی ہوتی ہے‘ کہیں سے آملیٹ کی خوشبو۔ کوئی بزرگ چادر لپیٹے چارپائی پر بیٹھے حقے یا چائے سے اپنی صبح کا آغاز کر رہے ہوتے ہیں۔ حلوہ پوری کی گرم خوشبو کاغذ میں لپٹ کر گھر پہنچتی ہے تو اس کے ساتھ صبح بھی گھر میں داخل ہوتی ہے۔ پائے کی دیگ سے اٹھتی ہوئی بھاپ‘ نہاری کی خوشبو‘ گرم نان کی سوندھ‘ تلوں والے کلچے کی مہک اور ساتھ میں چائے۔ کسی چھوٹے سے ہوٹل پر شیشے کے گلاس میں ڈالی ہوئی کڑک چائے ہو یا گھر کے کپ میں الائچی کی خوشبو لیے دودھ پتی۔ اور چائے... لاہور کی سردی اور چائے کا تعلق شاید کسی لغت میں نہیں ملے گا مگر لاہور کے دل کی لغت یہ صدیوں سے جانتی ہے۔ سردی کی صبح میں چائے محض ایک مشروب نہیں‘ ایک چھوٹی سی پناہ گاہ بن جاتی ہے۔ کپ دونوں ہاتھوں میں تھام کر اس کی گرمی کو محسوس کرنا ایسے ہے جیسے انسان اپنے ہاتھوں میں ایک مختصر سی دھوپ رکھ لے۔ کبھی سوچا ہے؟ کہ چائے کی بھاپ میں بھی ایک عجیب شاعری ہوتی ہے۔ وہ چند لمحوں کے لیے فضا میں اٹھتی ہے‘ کوئی شکل بناتی ہے‘ پھر تحلیل ہو جاتی ہے۔ ہم اسے دیکھتے رہ جاتے ہیں اور وہ ہماری آنکھوں کے سامنے ایک مختصر سی نظم کہہ کر غائب ہو جاتی ہے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved