اسلام زندگی کے تمام پہلوئوں کے حوالے سے انسانوں کی کامل رہنمائی کرتا ہے۔ کتاب و سنت میں فرائض‘ سنن‘ حلال اور حرام کو واضح کر دیا گیا ہے۔ انسان کے لیے فرائض کی ادائیگی اور حرام سے اجتناب کرنا نہایت ضروری ہے۔ انسان اپنی زندگی میں بہت سے ایسے کام کرتا ہے جو حقیقت میں جائز ہوتے ہیں لیکن ان کے نتائج کا علم نہیں ہوتا۔ ہر انسان اپنے تجربے کی روشنی میں فیصلہ کرتا ہے تو کئی مرتبہ نتائج مثبت اور کئی مرتبہ منفی نکل آتے ہیں۔ دیکھنے میں آیا ہے کہ بہت سے لوگ جب عقلمند اور باشعور لوگوں سے مشورہ کرتے ہیں تو ان کے معاملات بہتر ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح بہت سے لوگ اللہ تبارک وتعالیٰ سے استخارہ کے ذریعے خیر کو طلب کر کے کامیاب ہو جاتے ہیں۔ کسی بھی کام کے کرنے کے حوالے سے استخارے اور مشورے کی اہمیت غیر معمولی ہے۔ اس حوالے سے عربی کے ایک خوبصورت قول کا ترجمہ توجہ طلب ہے: ''جس نے استخارہ کیا وہ نامراد نہ ہوا اور جس نے مشورہ کیا وہ پشیمان نہ ہوا‘‘۔ یہ قول بعض کتابوں میں نبیﷺ کی طرف منسوب روایت کے طور پر منقول ہے تاہم محدثین کے نزدیک اس کی سند ثابت نہیں۔ البتہ اس کا مفہوم درست ہے‘ اس لیے کہ استخارہ اور مشورہ دونوں شریعت سے ثابت ہیں۔
اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآن مجید کے بہت سے مقامات پر مشورے کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ الشوریٰ میں اہلِ ایمان کی اچھی صفات میں سے اس صفت کا بھی ذکر کرتے ہیں کہ وہ آپس میں مشورہ کرتے ہیں۔ سورۃ الشوریٰ کی آیات: 37 تا 38 میں ارشاد ہوا: ''اور (وہ) کبیرہ گناہوں سے اور بے حیائیوں سے بچتے ہیں اور غصے کے وقت (بھی) معاف کر دیتے ہیں۔ اور اپنے رب کے فرمان کو قبول کرتے ہیں اور نماز کی پابندی کرتے ہیں اور ان کا (ہر) کام آپس کے مشورے سے ہوتا ہے اور جو ہم نے انہیں دے رکھا ہے اس میں سے (ہمارے نام پر) دیتے ہیں‘‘۔
اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآن مجید میں نبی کریمﷺ پر اس وحی کا بھی نزول فرمایا کہ وہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے مشورہ کر لیا کریں‘ حالانکہ نبی کریمﷺ کو اللہ تبارک وتعالیٰ نے جس ذہانت‘ حکمت اور بصیرت سے نواز رکھا تھا‘ وہ جمیع انسانیت میں کسی کے پاس بھی نہیں تھی لیکن آپﷺ پر اس وحی کا نزول کہ ''مشورہ کر لیا کریں‘‘ درحقیقت اس میں امت کیلئے رہنمائی موجود ہے کہ انہیں اپنے معاملات میں مشورہ کر لینا چاہیے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورہِ آل عمران کی آیت: 159 میں ارشاد فرماتے ہیں: '' اور کام کا مشورہ ان سے کیا کریں پھر جب آپ کا پختہ ارادہ ہو جائے تو اللہ پر بھروسہ کریں بیشک اللہ توکل کرنے والوں سے محبت کرتا ہے‘‘۔ اس آیت مبارکہ سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ انسان کو مشورہ کرنے کے بعد ہی کوئی فیصلہ کرنا چاہیے اور ایک مرتبہ فیصلہ کرنے کے بعد تذبذب کا شکار ہوئے بغیر اللہ تبارک وتعالیٰ کی ذات پر بھروسہ کرنا چاہیے۔ نبی کریمﷺ بہت سے امور میں اپنے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے مشورہ کیا کرتے تھے۔ آپﷺ نے غزوۂ بدر‘ غزوۂ احد‘ غزوۂ خندق اور بہت سے دیگر مواقع پر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے مشورہ کیا۔
مشورے کے حوالے سے اس بات کو بھی ذہن میں رکھنا چاہیے کہ مشورہ امانت ہوتا ہے۔ اس حوالے سے سنن ابودائود میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ''مشورہ دینے والا امین ہوتا ہے‘‘۔ اس سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ جس انسان سے مشورہ لیا جائے اس کو مشورہ دیانتداری کے ساتھ دینا چاہیے اور جس بارے میں مشورہ کیا جائے‘ اسے اپنے تک محدود رکھنا چاہیے۔ صحیح مسلم میں حضرت تمیم داریؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا ''دین خیر خواہی کا نام ہے‘‘۔ ہم نے عرض کیا: کس کیلئے؟ آپﷺ نے فرمایا: اللہ کیلئے‘ اس کی کتاب کیلئے‘ اس کے رسول کیلئے‘ مسلمانوں کے ائمہ کیلئے اور عام مسلمانوں کیلئے‘‘۔ اس حدیث سے یہ بات معلوم ہوتی ہے مسلمان کو ہمیشہ دوسرے مسلمانوں کے ساتھ خیر خواہی والا معاملہ کرنا چاہیے۔ چنانچہ جب کسی سے مشورہ طلب کیا جائے تو اس کو کسی کی غلط رہنمائی کرنے کی بجائے خلوص سے مشورہ دینا چاہیے‘ بالخصوص کاروبار اور نکاح کے حوالے سے اگر انسان کسی سے معاملہ کرنے جا رہا ہو تو مشورہ دینے والے کو متعلقہ شخص کے محاسن اور عیوب سے مشورہ مانگنے والے کو آگاہ کرنا ضروری ہے تاکہ وہ ممکنہ نقصان سے بچ سکے اور متوقع فوائد کو اچھے طریقے سے حاصل کر سکے۔
جس طرح مشورے کی انسانی زندگی کے فیصلوں میں بہت واضح اہمیت ہے‘ اسی طرح استخارے کی بھی انسانی زندگی میں فیصلوں کے حوالے سے بہت زیادہ اہمیت ہے۔ اس حوالے سے صحیح بخاری میں حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ ہمیں اپنے تمام معاملات میں استخارہ کرنے کی اسی طرح تعلیم دیتے تھے جس طرح قرآن کی کوئی سورت سکھلاتے۔ آپﷺ فرماتے کہ جب کوئی اہم معاملہ تمہارے سامنے ہو تو فرض کے علاوہ دو رکعت (نفل) پڑھنے کے بعد یہ دعا پڑھو: (ترجمہ) ''اے میرے اللہ! میں تجھ سے تیرے علم کی بدولت خیر طلب کرتا ہوں اور تیری قدرت کی بدولت تجھ سے طاقت مانگتا ہوں اور تیرے فضل عظیم کا طلبگار ہوں کہ قدرت تُو ہی رکھتا ہے اور مجھے کوئی قدرت نہیں۔ علم تجھ ہی کو ہے اور میں کچھ نہیں جانتا اور تُو تمام پوشیدہ باتوں کو جاننے والا ہے۔ اے میرے اللہ! اگر تُو جانتا ہے کہ یہ کام جس کیلئے استخارہ کیا جا رہا ہے میرے دین‘ دنیا اور میرے کام کے انجام کے اعتبار سے میرے لیے بہتر ہے (یا آپﷺ نے یہ فرمایا کہ میرے لیے وقتی طور پر اور انجام کے اعتبار سے یہ خیر ہے) تو اسے میرے لیے نصیب کر اور اس کا حصول میرے لیے آسان کر اور پھر اس میں مجھے برکت عطا کر اور اگر تُو جانتا ہے کہ یہ کام میرے دین‘ دنیا اور میرے کام کے انجام کے اعتبار سے بُرا ہے‘ (یا آپﷺ نے یہ فرمایا کہ میرے معاملہ میں وقتی طور پر اور انجام کے اعتبار سے برا ہے) تو اسے مجھ سے ہٹا دے اور مجھے بھی اس سے ہٹا دے۔ پھر میرے لیے خیر مقدر فرما دے‘ جہاں بھی وہ ہو اور اس سے میرے دل کو مطمئن بھی کر دے‘‘۔ آپﷺ نے فرمایا کہ ''ھذا الامر‘‘ (اس کام) کی جگہ اپنے کام کا نام لے۔ اس حدیث سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ1: استخارہ زندگی کے ہر معاملے میں کرنا چاہیے۔ 2: استخارے کی دعا کو نبی کریمﷺ اس طرح سکھلاتے جس طرح قرآن مجید کی آیات کو سکھلایا کرتے تھے۔ 3: استخارہ کرنے کیلئے دو رکعت نفل نماز ادا کرنی چاہیے۔
بعض لوگ استخارہ کیلئے ایسے طریقے اختیار کرتے ہیں جو رسول اللہﷺ کی سنت سے ثابت نہیں۔ استخارے میں ان طریقوں سے بچ کر نبی کریمﷺ کی سنت کی اتباع کرنی چاہیے۔ کتب احادیث سے یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ انسان کو دوسروں سے استخارہ کرانے کے بجائے اپنے معاملات میں خود استخارہ کرنا چاہیے۔ اگر استخارہ خلوص سے کیا جائے تو اللہ تعالیٰ انسان کے دل کو اس سمت میں مائل کر دیتا ہے جو انسان کیلئے بہتر ہو یا اُس کام میں آسانی پیدا کر دیتا ہے جو انسان کیلئے بہتر ہو۔ استخارے میں خواب کے ذریعے بھی رہنمائی ہو سکتی ہے تاہم خواب استخارہ کیلئے شرط نہیں ہے۔ اگر انسان اپنے معاملات میں استخارہ کرے تو اللہ تبارک وتعالیٰ اس کو خیر عطا فرما دیتے ہیں۔ اگر ہم اپنی زندگی کے معاملات کو مشاورت اور استخارے کے ذریعے انجام دیں تو بہت سی خیر و برکات کے حصول میں کامیاب ہو سکتے اور بہت سے نقصانات سے بچ سکتے ہیں۔
مشورہ انسانوں کی رائے جبکہ استخارہ اللہ تعالیٰ سے خیر کو طلب کرنے کا نام ہے۔ دونوں کو یکجا کرنا ایک دوسرے سے متعارض نہیں۔ چنانچہ انسان کو کوئی بھی فیصلہ کرنے سے قبل یہ دونوں کام ضرور کرنے چاہئیں۔ دعا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں خیر والے فیصلے کرنے کی توفیق دے‘ آمین!
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved