تحریر : محمد اظہارالحق تاریخ اشاعت     22-09-2026

پاکٹ منی فلاں جگہ پڑی ہے

میں نے حمزہ کو وڈیو کال کی اور لائبریری جانے کا کہا۔ جب وہ لائبریری پہنچ گیا تو میں نے بتایا کہ جو الماری کھڑکی کے ساتھ ہے اس سے اگلی الماری میں اردو شاعری کی کتابیں پڑی ہیں۔ ان میں ایک کتاب ''گلِ نغمہ‘‘ رکھی ہے۔ اسے ڈھونڈو۔ چند لمحوں کے بعد اس نے بتایا کہ ''گلِ نغمہ‘‘ مل گئی ہے۔ تب اسے کہا کہ اس میں تمہاری اس مہینے کی پاکٹ منی پڑی ہے۔ تھوڑی دیر میں اس نے بتایا کہ کتاب میں پڑے اتنے ڈالر مل گئے ہیں۔
آسٹریلیا قیام کے دوران‘ اسرار اور معاذ‘ دونوں کے بچوں کو وقتاً فوقتاً پاکٹ منی دیتا رہتا ہوں۔ میری اس حرکت کو بچوں کے ماں باپ زیادہ پسند نہیں کرتے۔ اکثر والدین اس بات پر پختہ یقین رکھتے ہیں کہ نانا نانی‘ دادا دادی بچوں کو جب بھی کچھ کھلائیں پلائیں گے یا جیب خرچ دیں گے یا کسی باغ یا پارک میں لے جائیں گے یا انہیں کوئی ملبوس لے کر دیں گے تو بس بچوں کو خراب (spoil) کریں گے۔ یہ الزام صرف ہمارے ملک میں نہیں‘ پوری دنیا میں لگایا جاتا ہے۔ ایک دفعہ میں اور میری اہلیہ کینیڈا میں ایک ریستوران میں بیٹھے تھے۔ قریب ہی ایک سفید فام‘ عمر رسیدہ خاتون بارہ تیرہ سال کے بچے کے ساتھ بیٹھی تھی۔ بچہ کچھ کھا رہا تھا اور وہ اسے دیکھ دیکھ کر نہال ہوئے جا رہی تھی۔ ہم دونوں اندازہ لگانے لگے کہ بچہ اس خاتون کا پوتا ہے یا نواسہ۔ میں اس کے پاس چلا گیا۔ سلام کر کے پوچھا تو اس نے بتایا کہ نواسہ ہے۔ میں نے کہا کہ والدین الزام لگاتے ہیں کہ ہم بچوں کو خراب کرتے ہیں۔ اس نے مسکر اتے ہوئے جواب دیا ''بالکل! ہم خراب کرتے ہیں اور کریں گے۔ کیوں کہ ہم والدین نہیں بلکہ گرینڈ پیرنٹس ہیں اور گرینڈ پیرنٹس کا یہی کام ہے‘‘۔ یہ جو گزشتہ صدی کے معروف امریکی شاعر اوگڈین ناش (Ogden Nash) کا مشہور قول ہے کہ When grandparents enter the door, discipline flies out the window‘ یعنی جیسے ہی گرینڈ پیرنٹس دروازے سے داخل ہوتے ہیں‘ ڈسپلن کھڑکی کے راستے باہر کود جاتا ہے۔ تو یہ بھی شاعر نے بچوں کے والدین کو خوش کرنے کیلئے کہا ہو گا۔
کچھ دن پہلے ایک وڈیو کلپ دیکھا کہ باپ بیٹے کی پٹائی کر رہا ہے کیونکہ بیٹے نے امتحان میں نمبر کم لیے ہیں۔ وقت گزرتا ہے۔ پٹائی کرنے والا باپ دادا بن جاتا ہے۔ مار کھانے والا بیٹا باپ بن جاتا ہے۔ اس کا بیٹا بھی کم نمبر لے کر پاس ہوتا ہے اور وہ جب بیٹے کی پٹائی کرنے لگتا ہے تو دادا درمیان میں آجاتا ہے اور کہتا ہے کہ نمبر کم ہیں تو کیا ہوا‘ پاس تو ہو گیا ہے نا! باپ حیران ہو کر اپنے ماتھے پر چپت رسید کرتا ہے اور بڑبڑاتا ہے کہ کل جس بات پر اسے پیٹا گیا تھا‘ آج اسی بات پر پوتے کو کچھ نہیں کہنے دیتے!
آسٹریلیا قیام کے دوران‘ اسرار اور معاذ‘ دونوں کے بچوں کو وقتاً فوقتاً پاکٹ منی دیتا رہتا ہوں۔ پاکستان آنے کے بعد یہ سلسلہ معطل ہو جاتا ہے۔ پچھلے سال انہی دنوں آسٹریلیا میں تھا تو حمزہ پندرہ سال کا ہو گیا۔ سوچا کہ اب ماشاء اللہ بڑا ہو گیا ہے۔ اس کی ضروریات چھوٹے بچوں کی نسبت زیادہ ہوں گی‘ تو ایسا نظام بنایا کہ میرے پاکستان جانے کے بعد بھی اسے جیب خرچ ملتا رہے۔ چنانچہ واپس آنے سے پہلے میں اس کی بارہ ماہ کی پاکٹ منی مختلف جگہوں پر رکھ آیا۔ اپنے کسی کوٹ کی جیب میں‘ کسی دراز میں‘ زیادہ تر کسی کتاب میں! ہر ماہ کے پہلے ہفتے اسے فون پر بتاتا ہوں کہ فلاں الماری میں رکھی فلاں کتاب میں دیکھو۔ یا فلاں کوٹ یا فلاں قمیص کی جیب میں دیکھو۔ یہاں منطقی سوال پیدا ہوتا ہے کہ جیب خرچ حمزہ کی اماں یا ابا کو کیوں نہیں دے آتا کہ وہ ہر مہینے اسے دے دیا کریں۔ ایسا نہ کرنے کی وجہ ہے اور بہت ٹھوس وجہ ہے۔ ایک تو میں پوتوں پوتیوں اور نواسوں نواسیوں کے ضمن میں ان کے والدین پر اعتبار بالکل نہیں کرتا۔ اس لیے نہیں ان کی دیانت پر شبہ ہے‘ بلکہ اس لیے کہ ایک تو وہ بھول جائیں گے اور دوسرے بچوں کی جو اہمیت گرینڈ پیرنٹس کیلئے ہوتی ہے وہ والدین کیلئے نہیں ہوتی۔ جیسا کہ میں نے اپنی تصنیف ''سمندر، جزیرے اور جدائیاں‘‘ میں لکھا ہے کہ نانا دادا‘ نانی دادی کا اتحاد پوتوں پوتیوں‘ نواسوں نواسیوں کے ساتھ فطری ہے۔ بچوں کے والدین بچوں کی باتوں کو اہمیت نہیں دیتے اور کسی حد تک بچوں کے گرینڈ پیرنٹس کی باتوں پر بھی پوری توجہ نہیں دیتے۔ اس کے بر عکس بچے گرینڈ پیرنٹس کی باتوں پر بہت توجہ دیتے ہیں اور گرینڈ پیرنٹس بچوں کی باتوں پر۔ مثلاً ہم میں سے ہر شخص کا مشاہدہ ہے کہ بچہ باپ سے مٹھائی یا کھلونا مانگتا ہے تو باپ‘ جو کام سے تھکا ہوا آیا ہوتا ہے‘ کہتا ہے کہ کل لیتا آؤں گا۔ مگر دادا یا نانا آدھی رات کو بھی گھر سے نکل جاتا ہے‘ مطلوبہ شے لا کر بچے کو دیتا ہے اور پھر تھکاوٹ کا احساس کیے بغیر بچے کو خوش ہوتا دیکھتا ہے تو اسے ایک عجیب‘ آسمانی قسم کی راحت ملتی ہے۔ بچہ ماں سے کہتا ہے کہ اسے حلوہ یا آملیٹ یا پاستا بنا دے تو ماں جو دن بھر کی تھکی ہاری ہے‘ کہتی ہے کہ جو پکا ہوا ہے وہی کھا لو‘ حلوہ یا پاستا کل بنا دوں گی۔ مگر دادی یا نانی اسی وقت اٹھتی ہے اور بچے کی خواہش فوراً پورا کرتی ہے۔ ایک پہلو یہ بھی ہے کہ ماں باپ زندگی کی گاڑی میں جُتے ہوتے ہیں۔ نوکری‘ کاروبار‘ ہزار افکار و آلام! جبکہ گرینڈ پیرنٹس اکثر و بیشتر ریٹائرڈ ہوتے ہیں اور نسبتاً کم مصروفیات کے حامل!! بچوں کیلئے بھی گرینڈ پیرنٹس کی ہر بات نہایت اہم ہوتی ہے۔ باپ شام کو گھر آئے گا تو بچہ فوراً بتائے گا کہ آج دادا جان گر گئے تھے یا نانو کی دوا ختم ہو گئی ہے۔ دو سال پہلے میری آنکھوں کی جراحی ہوئی تو حمزہ جو تب چودہ برس کا تھا‘ اپنی وڈیو گیم چھوڑ کر دن کا زیادہ حصہ میرے کمرے میں‘ میرے پاس بیٹھ کر گزارتا تھا۔ میں کئی بار کہتا کہ جاؤ باہر کھیلو کودو۔ مگر وہ نہیں مانتا تھا۔ بیمار پڑوں تو نواسی زینب فوراً ایک سخت گیر نرس بن جاتی ہے۔ بخار ہو تو کہیں جانے نہیں دیتی۔ ڈرائیور سے گاڑی کی چابی لے کر اپنے پاس رکھ لیتی ہے۔ ایک بار طبیعت کی ناسازی کے باوجود مجھے شہر سے باہر جانا پڑا۔ پہلے تو اس نے روکنے کی کوشش کی مگر میں نہ رکا۔ ابھی میں گوجر خان کے قریب پہنچا تھا کہ زینب کا فون آیا ''نانا ابو! راستے میں سونے کی کوشش کیجیے ورنہ تھکاوٹ زیادہ ہو گی‘‘۔ میں خدا کی قدرت پر حیران ہوا کہ انسان کیلئے کیسے کیسے محافظ پیدا کیے ہیں۔ سولہ سترہ سال کی بچی اور بڑی بوڑھیوں کی طرح فکر مند!! قدرت انسان سے اس کے ماں باپ‘ نانا نانی‘ دادا دای واپس لیتی ہے تو بدلے میں پوتیاں پوتے‘ نواسیاں نواسے عطا کرتی ہے جو بڑوں کی طرح اس کا خیال رکھتے ہیں۔
لیکن سب نانے دادے ایک جیسے نہیں ہوتے۔ کچھ تو بچوں کا شور برداشت ہی نہیں کرتے۔ ایک صاحب کو میں جانتا ہوں جو اپنے بچوں سے کبھی بغلگیر ہوئے نہ نواسے کو کبھی بوسہ دیا۔ شاید میں اس حوالے سے زیادہ حساس ہوں۔ کچھ برس پہلے تاشقند سے ایک سیمینار میں شرکت کی دعوت ملی۔ میں نے معذرت کر لی کیونکہ اس دن حمزہ کی آسٹریلیا کیلئے پرواز تھی اور میں اسے رخصت کرنا زیادہ ضروری سمجھتا تھا۔ اس وقت جب یہ کالم لکھ رہا ہوں‘ چار سالہ رستم اور اڑھائی سالہ آزادِہ نے میرے کمرے ہی میں قیامت کا شور برپا کر رکھا ہے ۔ میں بڑوں کا شور نہیں برداشت کرتا مگر بچوں کے شور میں میری قوتِ تحریر میں اضافہ ہو جاتا ہے‘ بشرطیکہ بچے اپنے ہوں!

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved