آپ کو کیسا لگے گا کہ آپ اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں بیٹھے کراچی سے پشاور تک 1726کلومیٹر طویل نئی ریلوے لائن بچھانے کے منصوبے پر بریفنگ سُن رہے ہوں اور بڑے فخر سے بتایا جارہا ہو کہ اس سے ریل گاڑیوں کی رفتار 120کلومیٹر فی گھنٹہ ہو جائے گی۔ ہو سکتا ہے آپ کو لگے کہ واہ واہ کیا بات ہے‘ یہ 75 کلومیٹر فی گھنٹہ سے تو بہتر رفتار ہے‘ کچھ تو سفر کی اذیت کم ہو گی۔ لیکن اگر اس اجلاس میں موجود ایم این اے مرزا اختیار بیگ حیرانی سے کہہ اٹھیں کہ وہ ابھی مراکو سے واپس آئے ہیں‘ وہاں تو ٹرین 360 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلتی ہیں اور آپ اب بھی 120 کی سپیڈ تک پہنچے ہیں جس پر چھ ارب ڈالر خرچ کیا جا رہا ہے؟ آپ ابھی مرزا اختیار بیگ کی بات کو ہضم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ خود آپ کو یاد آتا ہے کہ 2013ء میں چین گئے تھے تو بیجنگ سے شنگھائی جس بُلٹ ٹرین پر گئے تھے اس کی رفتار 302 کلومیٹر فی گھنٹہ تھی۔ کہیں سے نہ لگتا تھا کہ ٹرین اتنی سپیڈ سے چل رہی ہے۔ سب دوست جو اس ٹرین میں سوار تھے حیرانی سے قریب سے گزرتے مناظر کو دیکھ رہے تھے۔ اب وہی ٹرین تیرہ برس کے بعد 302 سے 350 کلو میٹر فی گھنٹہ تک پہنچ چکی ہے۔ اب آپ کو اس اجلاس میں ریلوے حکام بڑے فخر کیساتھ بتا رہے ہوں کہ اس منصوبے کے مکمل ہونے سے ٹرین کی رفتار 120 تک جا سکے گی۔ کراچی کے ایم این اے جاوید حنیف خان اوپر سے یہ کہہ کر آپ کے منہ کا ذائقہ خراب کر دیں کہ پہلے بھی ہماری ٹرین 120 تک چلتی ہے تو پھر اس میں نیا کیا ہو رہا ہے؟ پتا چلا کہ کراچی سے پشاور تک لائن بچھائی جا رہی تھی‘ اس پر کُل لاگت نو ارب ڈالر آنی تھی جس پر ٹرین کی رفتار 160کلومیٹر فی گھنٹہ تک جا سکتی تھی۔ تاہم بارہ سال کے بعد اب چین جو اسے سی پیک کا حصہ سمجھ کر فنانس کرنے کو تیار تھا‘ پیچھے ہٹ گیا ہے تو اس کی لاگت چھ ارب ڈالرز کر دی گئی ہے۔ اس منصوبے میں تبدیلیاں کرنی پڑی ہیں تاکہ لاگت کم ہو۔ اب بہت سے پل اور فلائی اوور اس منصوبے سے نکال دیے گئے ہیں تاکہ لاگت تین ارب ڈالرز کم کی جا سکے۔ لیکن اب اس سے رفتار 160 نہیں ملے گی بلکہ 120 ہو گی۔ اس پر کمیٹی ممبران خصوصاً حنیف جاوید خان اور مرزا اختیار بیگ حیران تھے کہ پھر کیا فائدہ ہوا۔ دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی ہے اور ہم چھ ارب ڈالرز کا قرضہ لے کر بھی 120کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار والی پٹری بچھا رہے ہیں۔
مرزا اختیار بیگ اور حنیف جاوید خان بہت تیاری کے ساتھ ہر اجلاس میں شریک ہوتے ہیں اور ان کی باتوں سے ان کی قابلیت‘ ریسرچ اور محنت کا اندازہ ہوتا رہتا ہے۔ ان کے سامنے ا کثر سرکاری افسران کو لاجواب اور بے بس ہوتے دیکھا ہے۔ ان کے چبھتے ہوئے سوالات کا انداز اپنی جگہ شاندار ہوتا ہے۔ خیر کمیٹی اراکین کی حیرانی قابلِ دید تھی جب اکنامک افیئر ڈویژن اور ریلوے حکام نے بریفنگ دینی شروع کی کہ کراچی سے پشاور تک جو نئی پٹری بچھانی تھی وہ منصوبہ کہاں تک پہنچا۔ یہ منصوبہ 2014ء میں نواز شریف کے تیسرے دور میں سوچا گیا کہ 1700کلومیٹر نیا ریلوے ٹریک بنا کر پاکستان میں سفری سہولتوں کو تیز اور جدید کیا جائے۔ اس کام کیلئے چین سے بہتر اور کونسا ملک اور کونسی ٹیکنالوجی ہو سکتی تھی۔ چین سے بات چیت شروع ہوئی اور اس منصوبے کی فزیبلٹی رپورٹ‘ ڈیزائن اور دیگر ضروریات پر کام شروع ہوا تو ساڑھے نو ارب ڈالرز تک کی لاگت کا اندازہ لگایا گیا۔ چین اس منصوبے کو سی پیک میں شامل کرنے پر تیار تھا اور اس حوالے سے ان کے انجینئر ز اور دیگر کمپنیاں بھی تیار تھیں۔ اس دوران خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں منصوبوں پر حملے شروع ہوئے اور درجنوں چینی ورکرز اور انجینئر مارے گئے۔ پاکستان نے ان کی فیملیز کو لاکھوں ڈالرز ہرجانہ بھی ادا کیا۔ تاہم چینیوں کا اس وقت صبر جواب دے گیا جب کچھ عرصہ پہلے کراچی میں چین سے آنے والے انجینئرز کو اس وقت خودکش حملے میں نشانہ بنایا گیا جب وہ کراچی ایئرپورٹ سے نکل کر شہر کی طرف جا رہے تھے۔ چینی حکام نے پہلے بھی شکایتیں کی تھیں کہ انہیں کراچی میں سکیورٹی گاڑیاں مانگنے کیلئے اہلکاروں کو پیسے دینا پڑتے ہیں۔ یوں چین نے کراچی سے پشاور پروجیکٹ پر اپنے انجینئرز بھیجنے سے انکار کر دیا جنہوں نے اس منصوبے کے زمینی ڈیزائن اور دیگر سروے کرنا تھے۔ اب کی دفعہ انہوں نے چین سے زوم پر ہی پاکستانی حکام سے بات چیت شروع کر دی۔ یہ معاملہ دو ڈھائی سال چلا اور پھر خاموشی چھا گئی۔
میں ریلوے کی ایسی کئی بریفنگز میں شریک رہا ہوں جہاں چین کے ساتھ چلنے والے ان ایشوز کو زیر بحث لایا گیا اور حکام بار بار کہتے تھے کہ چین اس منصوبے کو مکمل کرے گا۔ اب اچانک سوموار کے اجلاس میں چین کا ذکر غائب ہو گیا اور حکام نے نئی بریفنگ دینا شروع کر دی کہ اب وہ اس منصوبے کو نو ارب ڈالرز سے چھ ارب ڈالرز تک لے آئے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے انہیں کہا ہے کہ وہ اب کسی اور بینک اور قرضہ دینے والے ادارے سے قرضہ لیں اور منصوبے پر کام شروع کریں۔ اس وقت تک ایشین ڈوپلمنٹ بینک‘ ورلڈ بینک اور دیگر سے بات چیت چل رہی ہے اور وہ تین ارب ڈالرز تک قرضہ دینے کو تیار ہیں کہ کراچی سے روہڑی تک ریلوے لائن بچھانے میں مددگار ہوگا۔ آگے ملتان سے لاہور اور پشاور تک کے لیے کسی اور پارٹی سے قرض لیں گے۔ تاہم مجھے کچھ حیرانی ہوئی کہ اراکین نے ریلوے اور اکنامک افیئرز ڈویژن حکام سے یہ نہیں پوچھا کہ چین کے ساتھ بارہ سال تک بات چیت کے بعد معاملہ کیوں ختم ہوا۔ اس پر کسی نے نہ سوال کیا نہ بریف کیا گیا۔ بس حکام نے بتا دیا کہ وزیراعظم نے کہہ دیا ہے کسی اور سے قرض کی بات کریں۔ اب یہ بحث الگ ہے کہ آپ چھ ارب ڈالرز لگا کر بھی 120 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ٹرینیں چلائیں گے تو اس سے کیا بڑا فرق پڑے گا؟ آپ ان عالمی بینکوں سے پانچ سے چھ فیصد سود پر قرض لے رہے ہیں جو بہت زیادہ ہے۔ اگر آپ نے ریلوے لائن کو اَپ گریڈ کرنا ہے تو پھر پورا کریں کہ دنیا 400 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے آگے نکل گئی ہے اور ہم ابھی 120 کلومیٹر فی گھنٹہ سپیڈ والا ٹریک بنا کر خوش ہو رہے ہیں۔ ہم جب تک 400 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچیں گے دنیا ایک ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ چکی ہو گی۔
سیکرٹری اکنامک افیئرز ڈویژن نے حیران کن انکشاف کیا کہ انگریزوں نے یہ طویل ٹریک بنایا تھا اور اب ایک سو سال کے بعد یہ نیا ٹریک پہلی دفعہ بنایا جا رہا ہے وہ منصوبہ بھی ابھی کاغذوں میں ہے۔ ابھی اس کی گراؤنڈ بریکنگ کا کام شاید اگلے سال جنوری میں شروع ہو۔ اس ملک میں میرے نزدیک دو بڑے اہم عوامی منصوبے تھے جنہیں سب سے پہلے مکمل کیا جانا چاہیے تھا۔ ایک تو بجلی کا ٹرانسمیشن سسٹم جو بہت پرانا ہے اور 30 سے40 فیصد لائن لاسز کا ذمہ دار ہے‘ اسے بدلا جاتا تاکہ بجلی کا بوجھ صارف پر کم پڑتا۔ اور دوسرا‘ کراچی سے پشاور تک نئی ریلوے لائن بچھائی جاتی۔ مزے کی بات ہے کہ دونوں منصوبوں پر چین مالی اور ٹیکنکل مدد دینے کو تیار تھا مگر دونوں منصوبے کھوہ کھاتے گئے۔ ہاں اس دوران ہم نے اپنے لیے جہاز اور بارہ ارب روپے کی بلٹ پروف مرسیڈیز گاڑیاں خرید لیں۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved