افغانستان میں طالبان کی عبوری حکومت قائم ہونے کے بعد سے افغان سرزمین کا پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ایک بڑا ایشو بنا ہوا ہے۔ پاکستان کی جانب سے اس مسئلے کے حل کے لیے پُرامن کوششوں اور دوست ممالک کے کردار کے باوجود یہ مسئلہ حل نہیں ہو سکا‘ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کو افغانستان میں دہشت گردوں کے اُن مراکز پر براہِ راست کارروائیاں کرنا پڑیں جہاں سے پاکستان کے مختلف علاقوں خصوصاً خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں منظم دہشت گردی کے واقعات پلان ہوتے ہیں۔
پاکستان نے افغان سرزمین پر دہشت گردی کے خاتمے کے حوالے سے طالبان انتظامیہ سے جو توقعات قائم کی تھیں وہ دم توڑ چکی ہیں۔ پاکستان کی جانب سے افغان عبوری حکومت کی توجہ بار بار وہاں سے ہونے والی دہشت گردی کی طرف مبذول کرانے کے باوجود افغان طالبان کی جانب سے کوئی سنجیدگی ظاہر نہیں کی گئی۔ بلکہ ایسی رپورٹس سامنے آ رہی ہیں کہ افغان انتظامیہ نہ صرف دہشت گردوں کے خلاف کارروائی سے گریزاں ہے بلکہ دہشت گرد گروپوں خصوصاً کالعدم ٹی ٹی پی کو ہر طرح کی سپورٹ اور مدد بھی فراہم کر رہی ہے۔جمعہ کے روز کوہاٹ میں پرانی پولیس لائن میں مسجد پر ہونے والے دہشت گردانہ حملے میں سکیورٹی فورسز کے جوانوں اور عام شہریوں سمیت 25افراد کی شہادت سے ملک بھر میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ اس حملے میں بھی افغان شہری کے ملوث ہونے کے شواہد سامنے آئے جس کے بعد سکیورٹی فورسز نے افغان سرحد سے متصل علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں کی ہیں۔ سکیورٹی فورسز نے کالعدم ٹی ٹی پی اور اس سے وابستہ گروہوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔افغان سرزمین کا پاکستان کے خلاف استعمال اور پاکستان کی سکیورٹی فورسز کو ٹارگٹ کرنے سے جہاں پاک افغان تعلقات متاثر ہو ر ہے ہیں وہیں خطے کی مجموعی صورتحال بھی کشیدگی اور عدم استحکام سے دوچار ہے۔ افغان سرزمین کا پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے مسلسل استعمال اور ان معاملات میں طالبان حکومت کا عدم تعاون بہت سے سوالات کو جنم دیتا ہے۔ پاکستان نے افغانستان کی عبوری حکومت کو بارہا دوحہ معاہدے پر عملدرآمد کی جانب متوجہ کیا‘ جس میں افغانستان نے اپنی سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دینے کا وعدہ کیا تھا‘ لیکن افغان عبوری حکومت نے ہر بار یہ کہہ کر اپنی ذمہ داریوں سے جان چھڑانے کی کوشش کی کہ یہ عمل پاکستان کی سرزمین پر ہو رہا ہے‘ لہٰذا پاکستان خود یہ ذمہ داری پوری کرے۔سعودی عرب‘ چین‘ قطر اور ترکیہ سمیت مختلف ممالک نے افغانستان پر یہ معاملات سفارتی سطح پر حل کرنے کے لیے دباؤ ڈالا لیکن ان کوششوں کے بھی اب تک کوئی بہتر نتائج نہیں مل سکے۔
عالمی و علاقائی سطح پر پاکستان کی سفارتی کوششوں کے باوجود افغان طالبان نے تحریری طور پر اس بات کی ضمانت دینے سے گریز کیا کہ ان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہو گی۔ افغان عبوری حکومت کی اس ہٹ دھرمی کی وجہ سے دونوں ممالک کے تعلقات کشیدہ ہو گئے ۔ جہاں تک اس سوال کا تعلق ہے کہ افغان طالبان ذمہ داری کا احساس کیوں نہیں کر رہے تو اس کی وجہ ان کے نظریاتی‘ قبائلی‘ سیاسی اور مالی مفادات ہیں۔ عالمی میڈیا میں شائع ہونے والی بعض رپورٹس میں اس کی بڑی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ افغان طالبان اور کالعدم ٹی ٹی پی کی جڑیں ایک خاص فکر سے نکلتی ہیں‘ دونوں گروہ افغانستان میں امریکیوں کے خلاف مشترکہ کارروائیوں میں یکساں شریک رہے‘ اس لیے افغان طالبان کالعدم ٹی ٹی پی کے خلاف کسی بھی کارروائی سے گریزاں نظر آتے ہیں۔ طالبان حکومت کے بعض رہنما ٹی ٹی پی کیلئے خاص جھکاؤ رکھتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اس کے مکمل خاتمے سے طالبان کے پاس پاکستان پر دباؤ کا ہتھیار ختم ہو جائے گا اس لیے وہ ٹی ٹی پی اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کے خلاف آپریشن سے گریزاں ہیں۔ وہ عالمی سطح پر یہ یقین دہانی تو کراتے ہیں کہ اپنے ملک میں دہشت گردی کا سدباب کریں گے لیکن ہمسایہ ممالک بالخصوص پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی میں افغان سرزمین کے استعمال کو تسلیم نہیں کرتے۔ انہیں معلوم ہے کہ اگر وہ اس حقیقت کو تسلیم کر لیں گے تو انہیں دہشت گردوں کے خلاف عملی کارروائیاں کرنا پڑیں گی جس سے وہ گریزاں ہیں۔ وہ داعش خراسان کے خلاف تو کارروائیاں کرتے ہیں تاہم ٹی ٹی پی کے معاملے میں خاموش تماشائی بنے نظر آتے ہیں۔
جہاں تک دہشت گردی کے خاتمے کے حوالے سے پاکستان کے کردار کی بات ہے تو پاکستان نے اپنے طور پر دہشت گردی کے سدباب کے لیے ہمیشہ کوششیں کی ہیں اور کر رہا ہے‘ لیکن مشکل یہ ہے کہ اس دہشت گردی کے تانے بانے افغان سرزمین سے ملتے ہیں اور شواہد ہونے کے باوجود طالبان انتظامیہ اس ضمن میں کوئی کردار ادا کرنے کو تیار نہیں۔ لیکن اب پاکستان افغانستان سے پھوٹنے والے دہشت گردی کے سوتے بند کرنے کا عزم کر چکا ہے کیونکہ جب تک افغانستان میں موجود دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں اور تربیتی مراکز کا سدباب نہیں ہوگا علاقے میں امن نہیں آئے گا۔ پاکستان نے اپنی صبر و تحمل کی پالیسی کو اب جارحانہ دفاع کی حکمت عملی میں بدل دیا ہے۔ اس پالیسی کے تحت افغان سرزمین پر ٹی ٹی پی کے مضبوط ٹھکانوں‘ تربیتی کیمپوں اور سہولت کاروں کے خلاف خودمختار اور ہدفی فضائی و زمینی کارروائیاں جاری ہیں۔ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے ایک حالیہ انٹرویو میں کہا تھا کہ پاکستان کا افغانستان سے بنیادی مطالبہ یہی ہے کہ وہ اپنی سرزمین کا پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دے اور اگر وہ یہ ذمہ داری ادا کرنے کو تیار نہیں تو پھر پاکستان کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔ یہ بیان ایک واضح پیغام ہے کہ ہم نے اپنے ہاؤس کو اِن آرڈر کرنا ہے اور اگر افغان سرزمین سے ہمارے ہاں دہشت گردی ہوئی تو ہم دہشت گردوں کو بھی کچلیں گے اور ان کے سہولت کاروں کا بھی پیچھا کریں گے۔ یہ دہشت گرد صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ افغانستان کے بھی دشمن ہیں۔ یہ دہشت گردی ہی ہے جو افغانستان کو امن و استحکام سے ہمکنار نہیں ہونے دے رہی۔
پاکستان نے اس ضمن میں افغان عبوری حکومت سے مذاکرات کا آپشن بھی استعمال کیا لیکن اس کا فائدہ کم اور نقصان زیادہ ہوا‘ اس لیے کہ طالبان حکومت دہشت گردی کے مسئلے کے پُرامن حل کو پاکستان کی کمزوری سمجھتی رہی۔ یہی وجہ ہے کہ اب طالبان عبوری حکومت کے ساتھ مذاکراتی عمل خارج از امکان نظر آتا ہے۔ ریاستی سطح پر یہ سوچ موجود ہے کہ ایسے گروہ جو پُرامن شہریوں کو نشانہ بناتے ہیں انسانیت کے دشمن ہیں اور ان سے نرمی برتنے‘ یا مذاکراتی عمل سے ریاستی رِٹ متاثر ہوتی ہے۔ ریاست کی قوت اس وقت مؤثر قرار پاتی ہے جب اس کے پاس طاقت کے ساتھ قانون و انصاف‘ ترقی اور سیاسی تدبر بھی ہو‘ لہٰذا ریاست کی جانب سے دہشت گردی کے سدباب کے لیے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو‘ خواہ وہ مغربی سرحد کے کسی بھی جانب ہوں‘ ٹارگٹ کرنے کا عمل وقت کی بڑی ضرورت ہے۔پاکستان کی سکیورٹی فورسز کی جانب سے دہشت گردی کے خاتمے کے عمل کو ہر سطح پر سراہا جا رہا ہے ۔ سکیورٹی فورسز کا بڑا کریڈٹ یہ ہے کہ انہوں نے پہلے بھی دہشت گردی کی جنگ میں اس کے سدباب میں بنیادی کردار ادا کیا اور اب اپنی مغربی سرحد پر دہشت گردی کے قلع قمع کے لیے سرگرمِ عمل ہیں۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved