بہت مشکل سے ملاقات کا وقت طے ہوا۔
اس لیے کہ اس حسینہ سے ملنا آسان نہ تھا۔ ایک تو حسن بے پناہ! رنگت جیسے مکھن میں سیندور ملا ہو! بال سنہری‘ نرم اور ریشمی‘ جن سے نکلتی ہوئی خوشبو قریب آنے والے کو بے سُدھ کر دے۔ چہرہ جاڑے کی دھوپ جیسا۔ دوسرے حسینہ کی مصروفیت! دنیا اس سے ملاقات کیلئے بے تاب اور قطار میں کھڑی ہوئی! کوئی برسوں سے اور کوئی مہینوں سے! جس محل میں وہ رہ رہی تھی اس کی وسعت اور طرزِ تعمیر کے کیا ہی کہنے!! کئی منزلہ عمارت! کئی کمرے‘ کئی حمام اور گاڑیوں کیلئے کئی اصطبل! غلام‘ حاجب‘ نقیب‘ چوبدار بے شمار! جس دن میری ملاقات طے تھی‘ میں صبح صبح حاضر ہو گیا۔ مگر مجھے بتایا گیا کہ حسینۂ عالم کی کچھ مصروفیات اچانک پیش آ گئیں اس لیے مجھے دس دن انتظار کرنا ہو گا۔ میں نے انتہائی بے بسی اور بے کسی سے عرض کیا کہ میں بہت دور سے آیا ہوں۔ اگر اپنے ملک واپس گیا اور پھر آیا تو اخراجات میری استطاعت سے باہر ہو جائیں گے۔ ملک میرا دور بھی بہت ہے۔ جنوبی ایشیا کا آخری کنارا! دلکش چہرے والی سیکرٹری مسکرائی۔ پھر اس نے بتایا کہ حسینۂ عالم کے احکام یہ ہیں کہ جو ایک بار ملا قات کیلئے آ جائے‘ اسے ملاقات تک یہیں ٹھہرایا جائے۔ یہ پروٹوکول کا لازمی حصہ ہے۔ کچھ دیر کے بعد ایک نوجوان خاتون اٹھلاتی‘ بل کھاتی آئی اور مجھے ساتھ آنے کیلئے اشارہ کیا۔ کئی راہداریاں اور کمرے عبور کرنے کے بعد‘ برقی سیڑھیوں کے ذریعے ہم محل کی چوتھی منزل پر پہنچے۔ اس منزل پر بھی ہم کافی دیر چلتے رہے۔ بالآخر ایک وسیع و عریض اپارٹمنٹ میں پہنچ کر اس نے بتایا کہ یہ ہے دس دن کیلئے میری قیام گاہ! اپارٹمنٹ کی وسعت دیکھ کر میں حیران ہوا۔ اس میں چار بیڈ روم تھے۔ کچن تھا اور بہت بڑا ڈرائنگ روم! ایک طرف جم تھا دوسری طرف سنیما جو صرف میرے لیے تھا۔ سنیما کے ملازم کے پاس ہزاروں فلمیں تھیں۔ نئی‘ پرانی‘ تاریخی‘ رومانی‘ سنسنی خیز اورجاسوسی بھی! چار حسینائیں میری دیکھ بھال کیلئے وقف تھیں۔ ایک کھانا پکانے کیلئے۔ دوسری صفائی کیلئے۔ تیسری میرے وارڈ روب کی انچارج تھی اور چوتھی ٹیلی فون آپریٹر۔ دنیا میں کہیں بھی فون کرنا ہو‘ یہ خاتون ملا کر دے گی۔ بتایا گیا کہ ایک مرسیڈیز مع ڈرائیور ہر وقت تیار ملے گی۔ یہ تمام سہولتیں‘ بلکہ تعیشات مفت تھیں۔ مجھے ایک پائی بھی نہیں ادا کرنی ہو گی۔ کھانے پینے کا سامان‘ گروسری اور اکل و شرب کے دیگر امور سب اس خاتون کے ذمے ہوں گے جو باورچی خانے کی انچارج ہے۔
ہاں یہ تو بتانا بھول ہی گیا کہ یہ حسینۂ عالم‘ جس سے ملاقات کیلئے میں دور دراز کا سفر طے کر کے آیا تھا اور جس کیلئے دس دن انتظار کرنا تھا‘ اس کا نام آئی ایم ایف تھا‘ یعنی انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ!! میں جب اس کے محل میں داخل ہوا تھا تو غیظ و غضب سے بھرا ہوا تھا۔ مجھے اس سے پوچھنا تھا کہ میرے ملک کے عوام سے اسے آخر کیا دشمنی تھی۔ میرے سوالات ایسے تھے جن کا اس کے پاس‘ میرے خیال میں‘ کوئی جواب ہی نہیں ہونا تھا۔ میری نظر میں یہ حسینہ‘ یعنی آئی ایم ایف استعمار کی باندی تھی اور امیر ملکوں کی‘ خاص کر امریکہ کی‘ ایجنٹ تھی۔ اسے بے نقاب کرنا میری آمد کا مقصد تھا۔ لیکن میری قیام گاہ اور اس سے وابستہ سہولتیں میرے دل کو آہستہ آہستہ‘ غیر مرئی طریقے سے لبھا رہی تھیں! سب کچھ ایک خواب کی طرح لگ رہا تھا۔ یہ پرستانی زندگی تھی۔ مرسیڈیز مجھے خوبصورت مقامات پر لے جاتی۔ ناشتے میں بیسیوں آئٹم ہوتے۔ رات کا ڈنر کبھی کسی بڑے افسر کے گھر میں‘ کبھی کسی سات ستارہ ہوٹل میں‘ چار کنیزیں ہر وقت حکم کی منتظر رہتیں۔ وہ ہر روز ایسے ملبوسات پہن کر آتیں جو ملکوں کے حکمرانوں کی بیگمات بھی نہیں برداشت کر سکتی تھیں۔ ہر شام کہیں نہ کہیں مجھے کسی محفلِ رقص و سرود میں لے جایا جاتا۔ پلنگ ایسا جیسے پانی پر بچھا ریشمی گدا ہو۔ ہوتے ہوتے میرے دل میں حسینۂ عالم کیلئے نرم گوشہ پیدا ہونے لگا۔ ابھی چھ دن بھی نہ گزرے تھے کہ میرے خیالات میں تبدیلی آنا شروع ہو گئی۔ مجھے حسینۂ عالم ایک نیک دل‘ فیاض اور انسان دوست خاتون نظر آنے لگی۔ انسان دوست نہ ہوتی تو اسے کیا ضرورت تھی کہ مجھ جیسے عام‘ دو ٹکے کے کالم نگار کو اتنا شاہانہ پروٹوکول دیتی جب کہ میں اس سے دو دو ہاتھ کرنے کیلئے آیا ہوں۔ دس دن ختم ہونے تک میں پوری طرح اس کا عقیدت مند اور سپاس گزار ہو چکا تھا۔ اب میں اسے اپنا محسن سمجھنے لگا تھا اور سوچ رہا تھا کہ جو کچھ میرے ایجنڈے پر ہے اور جو کچھ کہنے کیلئے میں آیا تھا‘ وہ کتنا غیر مناسب ہے۔
گیارہویں دن ملاقات ہوئی۔ حسینۂ عالم ایک پری لگ رہی تھی۔ میں نے اسے قریب سے دیکھا اور دم بخود رہ گیا۔ آسمانی حسن‘ نیکی اور فیاضی کا امتزاج!! اس کے ارد گرد اس کے مشیر کھڑے تھے۔ اس نے تاخیر سے ملنے کی معذرت کی اور پوچھا کہ میں کیا چاہتا ہوں۔ میں نے ریشہ خطمی ہوتے ہوئے عرض کیا کہ آپ کے جو احسانات ہیں میری قوم پر‘ بس ان کا شکریہ ادا کرنے حاضر ہوا ہوں! حسینہ مسکرائی اور کہا ''جناب کالم نگار! ایسی بات نہیں۔ میرے مشیروں نے آپ کے کالموں‘ سوشل میڈیا پر بکھرے ہوئے آپ کے خیالات اور تقریبات میں آپ کی گفتگوؤں کا بھرپور مطالعہ کیا ہے۔ مجھے معلوم ہے آپ کیا سوچ کر آئے تھے اور یہ دس دن مہمان نوازی اور خاطر داری کے بھی ایک خاص مقصد کیلئے تھے۔ آپ کا مجھ پر سب سے بڑا اعتراض یہ تھا کہ میں تنخواہوں اور پنشن کے اضافے کی اجازت نہیں دیتی۔ پٹرول اور بجلی گیس کے نرخ بڑھوا کر عوام کی زندگی جہنم بنا رہی ہوں مگر اعیانِ حکومت کی عیاشیوں پر اعتراض نہیں کرتی۔ وہ قومی خزانے کو اپنے اور اپنے متعلقین پر بے دردی سے لٹاتے ہیں۔ جہاز خریدتے ہیں۔ چارٹرڈ جہازوں پر سفر کرتے ہیں۔ پورے پورے خاندان سرکاری خرچ پر پل رہے ہیں۔ ان کے غیرملکی دوروں پر اربوں خرچ ہو رہے ہیں۔ ایوانِ صدر اور وزیراعظم ہاؤس کے روز افزوں بجٹ پر میں اعتراض نہیں کرتی۔ ارکانِ پارلیمنٹ کی فلک بوس تنخواہوں اور مراعات کی طرف نہیں دیکھتی۔ تو جناب کالم نگار! میں کوئی مصلح یا ریفارمر نہیں۔ میں استعمار کی کنیز ہوں۔ میں اگر آپ کے حکمرانوں کی عیاشیاں ختم کر دوں تو آپ کا ملک اپنے پیروں پر کھڑا ہو جائے گا۔ آپ کے حکمرانوں کی نیتیں صاف ہو جائیں گی۔ قرضے ان کی عیاشیوں پر نہیں‘ عوام کی فلاح و بہبود پر صرف ہوں گے۔ اگر پاکستان خوشحال ہو جائے تو پھر مغربی ممالک کی اقتصادی غلامی کا خاتمہ ہو جائے گا۔ یہی تو میں اور میرے مالکان نہیں چاہتے۔ میرا منصوبہ یہ ہے کہ پاکستان جیسے ملک غربت کے سمندر میں ڈوب کر مریں نہ باہر نکل سکیں۔ بس منہ پانی سے باہر رہے تا کہ سانس لیتے رہیں۔ یوں وہ ہمیشہ کیلئے میرے غلام رہیں گے۔ ابھی تمہارے وزیراعظم سپیشل جہاز پر لندن گئے ہیں۔ جہاز خالی واپس گیا ہے۔ وہ کچھ دن لندن ٹھہریں گے۔ پھر امریکہ میں جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے۔ واپسی پر پھر کچھ دن لندن ٹھہریں گے۔ لندن اور دبئی تمہارے حکمرانوں کے اصلی وطن ہیں۔ پاکستان تو ان کی جاگیر ہے۔ ابھی اربوں روپے کی بلٹ پروف گاڑیاں خریدی جا رہی ہیں۔ کیا مجھے یہ سب معلوم نہیں؟ کیا میں اندھی ہوں؟ حکمرانوں اور ارکانِ پارلیمنٹ کا طرزِ زندگی عام آدمی جیسا ہو جائے تو پاکستان سنگا پور‘ نیوزی لینڈ آئر لینڈ اور سکینڈے نیویا جیسا ہو جائے۔ یہی تو معاشی استعمار نہیں چاہتا۔ اور ہاں! یہ مرسیڈیز جو آپ یہاں استعمال کر رہے تھے‘ آپ کے گھر پہنچ جائے گی۔ مجھے امید ہے آپ کی آئندہ تحریریں میرے حق میں ہوں گی!!‘‘۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved