ترکی یا ترکیہ؟ جس زبان پر ہمیشہ سے لفظ ترکی چڑھا ہوا ہو‘ اسے ترکیہ لکھنے اور بولنے میں ہمیشہ تکلف محسوس ہوتا ہے۔ میرا معاملہ بھی یہی ہے۔ بھئی! مختصر‘ آسان اور رواں نام ترکی چھوڑ کر ترکیے کون بولے۔ اس لیے سرکاری نام جو بھی ہو اور ترک زبان کی گرامر کچھ بھی کہتی ہو‘ مجھے ترکی ہی کہنے دیجیے۔
خدا خیر رکھے‘ جب یہ کالم آپ پڑھ رہے ہوں گے‘ میں استنبول میں ہوں گا۔ پہلی بار یہاں 2010ء میں آنا ہوا تھا۔ اس کے بعد کئی چکر اور لگے۔ آخری بار چار سال پہلے آیا تھا‘ جب استنبول کے علاوہ صوبہ بولو کے حسین جنگلات اور جھیلیں دیکھنے کا بھی موقع ملا تھا۔ ترکی کے کئی سفروں کا ایک فائدہ یہ ہوا کہ مجھے اپنا سیاحتی شوق پورا کرنے کا موقع بھی مل گیا۔ ویسے ترکی سارا ہی خوبصورت ہے اور سیاحت کیلئے بہترین بھی‘ لیکن مجھے استنبول کے علاوہ برصہ‘ بودرم‘ داتچا‘ مرمریس اور بولو وغیرہ دیکھنے کا زیادہ موقع مل سکا۔ ہر جگہ ایک سے بڑھ کر ایک حسین ہے۔ زمین‘ پیر اور منظر آنکھیں جکڑ لیتے ہیں۔ استنبول تو خیر خود ایک جادوئی شہر ہے اور آپ کو اپنی تعریف کرنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ حسن کی کون سی قسم ہے جو قدرت نے اسے نہیں بخشی۔ قدرتی حسن فراواں اور ہر طرف‘ پہاڑ‘ سبزہ‘ باغات‘ پھر مرمرا‘ باسفورس کا سمندری حسن جو ہر کچھ دیر بعد آپ کو دیکھنے لگتا ہے۔ دو براعظموں میں بسا ہوا شہر جس کے یورپی اور ایشیائی دونوں ساحل ایک دوسرے کے سامنے مقابلے پر کھڑے ہیں اور یہ فیصلہ مشکل ہے کہ کس کو ترجیح دی جائے۔ تاریخی حسن تو یہاں چپے چپے پر بکھرا ہے۔ بازنطینیوں کا قسطنطنیہ کا طویل دور اور اس کے آثار‘ پھر عثمانی ترکوں کے محل‘ عجائب گھر‘ مسجدیں‘ عمارتیں اور نفیس خطاطیاں! جی بھر کے دیکھنے کے بعد بھی جی نہیں بھرتا۔ انسانی حسن کی بھی ایسی مثالیں کم ہیں۔ ترک لوگ صحتمند اور خوبصورت ہیں۔ سرخ سفید اور گلابی رنگتیں۔ مردوں عورتوں کی رنگت شہد اور دودھ کے آمیزے سے بنی لگتی ہے۔ نوجوان مرد ہو یا عورت‘ زیادہ تر چہرے قدم روک دینے والے ہوتے ہیں۔ سب تو نہیں لیکن اکثر چہرے میر کے مصرعے کی طرح ہیں:
جو شکل نظر آئی تصویر نظر آئی
اور موسم کا حسن؟ موسم کی خوبصورتی میں بھی استنبول بے مثال ہے۔ میرا شدید گرمیوں میں کبھی آنا نہیں ہوا۔ سنا ہے گرمی بھی کافی ہوتی ہے لیکن سمندر کے قرب کی وجہ سے شامیں خنک اور خوشگوار ہو جاتی ہیں۔ ستمبر اور اکتوبر جو خزاں کے مہینے ہیں‘ خنک ہوا اور زرد پتوں کی رُت ہے‘ شام کے وقت یہ ٹھنڈی ہوا بتانے لگتی ہے کہ کیسی سردی آنے والی ہے۔ ایک دو بار سردی کے موسم میں بھی آنے کا موقع ملا اور ایک طوفانی موسم میں بھی‘ جس میں فلائٹ خطرے میں تھی۔
2021ء میں ترکی نے مسلم ممالک کے ناشرین اور کتب فروشوں کی ایک تنظیم بنائی تھی جس میں ساٹھ سے زیادہ ملکوں سے اہم لوگ شامل کیے گئے تھے۔ بنیادی طور پر یہ خاکہ ترک اور عرب دوستوں کا تھا جس کے مقاصد میں ان ناشرین کا باہمی رابطہ‘ تجارتی رابطے‘ ایک دوسرے سے زیادہ سے زیادہ تعاون اور ایک دوسرے کی زبانوں میں تراجم کا فروغ وغیرہ شامل تھے۔ اس کا بنیادی خاکہ ترکوں اور عربوں کا سہی لیکن یہ ہم سب کے دل کی آواز تھی۔ میں بہت مدت سے اور بہت شدت سے محسوس کرتا تھا کہ ایک عالمی پلیٹ فارم کی سخت کمی ہے جہاں مشترکہ مسائل کو پیش کیا جا سکے اور ان کے حل نکالے جا سکیں۔ سو یہ تنظیم میرے دل سے ہم آہنگ تھی۔ استنبول میں 25 سے 27 ستمبر تک اس تنظیم کا اجلاس ہے جس میں تمام ارکان شرکت کریں گے۔ امید ہے کہ یہ کام آگے بڑھتا رہے گا۔یہ بات اہم ہے کہ ترکی کئی سال سے مسلسل معاشی بھنور میں ہے۔ پاکستان میں کم لوگوں کو اس وقت ترکی کی مہنگائی اور افراطِ زر کا اندازہ ہوگا۔ ترک لیرا کی قدر مسلسل کم ہو رہی ہے۔ اندازہ کیجیے کہ 2010ء میں ایک لیرا 56پاکستانی روپے کے برابر تھا۔ 2016ء میں 34روپے کے برابر۔ 2021ء میں لیرا 18روپے کا تھا۔ 2022ء میں 13روپے کا۔ اور ستمبر 2026ء میں لیرا 5.75روپے کے برابر بتایا جا رہا ہے۔ اس لحاظ سے تو پاکستانیوں کو اچھا لگتا ہے کہ ایک لیرا کم روپے میں مل جاتا ہے۔ لیکن دوسری طرف اس نے ترکی میں جو ہولناک اور کمر توڑ مہنگائی کی ہے‘ وہ بھی غیر معمولی ہے۔ حکومت نے تنخواہوں اور سہولتوں میں اضافہ کیا ہے لیکن مہنگائی کا دیو اس سے زیادہ قد رکھتا ہے۔ 2016ء میں سلطان احمت کے ٹورسٹ اور تاریخی علاقے میں جہاں قیمتیں عام علاقوں سے زیادہ ہوتی ہیں‘ ایک مناسب سے ریسٹورنٹ میں 30 سے 40 لیرا میں کھانا مل جاتا تھا۔ اب 300 لیرا کے لگ بھگ ہے۔ آج کل دودھ ایک لٹر 60 سے 70 لیرا ہے یعنی 350 روپے۔ سبزیاں مثلاً ٹماٹر 100 لیرا‘ یعنی 575 روپے فی کلو گرام ہیں‘ آلو 260 روپے۔ چاول سات سو روپے فی کلوگرام۔ یہ قیمتیں کسی علاقے میں کم یا زیادہ ہو سکتی ہیں لیکن ان سے ایک عمومی اندازہ ہو سکتا ہے۔
اگرچہ مہنگائی کے معاملے میں حکومت زیادہ مؤثر نظر نہیں آتی لیکن شہری سہولتوں‘ صفائی‘ آلودگی اور ٹرانسپورٹ کے معاملے میں اردوان حکومت نے غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ آ پ جس شہر میں بھی جائیں‘ صفائی کے عمدہ انتظامات ملتے ہیں۔ ایک عام ہوٹل یا ریسٹورنٹ میں بھی صفائی کا بہترین انتظام ملتا ہے۔ استنبول ہی کی بات کر لیں‘ یہ ایک بڑا شہر ہے‘ لگ بھگ 5500 مربع کلومیٹر میں پھیلے ہوئے اور ڈیڑھ کروڑ سے زیادہ آبادی کے اس شہر کو سنبھالنا آسان نہیں ہے۔ زیادہ آبادی یورپین حصے میں بستی ہے اس لیے یہاں قیمتیں بھی زیادہ ہیں۔ ایشیائی ساحلی علاقہ قدرے سستا ہے لیکن پہاڑیوں‘ سمندروں اور دو حصوں میں شہر کے بٹے ہونے کی وجہ سے عملی دشواریاں بہت بڑھ جاتی ہیں۔ پھر ٹریفک اتنا زیادہ ہے کہ شہر سے باہر جانے میں دو تین گھنٹے لگ سکتے ہیں۔ لیکن پبلک ٹرانسپورٹ کا بہت اچھا نظام ہے اور بہ آسانی سفر کیا جا سکتا ہے۔ ایک استنبول کارڈ خرید لیں‘ پھر چاہے ٹرام میں سفر کریں یا ٹرین میں یا فیری پر‘ سب جگہ ایک ہی کارڈ چلے گا۔ اسی کے ساتھ گزشتہ کئی دہائیوں میں ترکی نے دفاعی ساز وسامان‘ لڑاکا طیارے‘ ڈرونز‘ بحری جہاز اور آبدوزیں بنانے وغیرہ کے معاملے میں غیر معمولی پیشرفت کی ہے۔ اب دنیا ان شعبوں میں ترکی کا لوہا مانتی ہے۔ پاکستان اور ترکی کا باہمی تعاون اور ایک دوسرے کی مدد بھی ایک بہت خوش آئند بات ہے جس پر دونوں ملکوں کے لوگوں کو فخر ہونا چاہیے۔
اور یہ شہر میزبانِ رسول حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کی آرام گاہ بھی تو ہے۔ 2010ء میں پہلی بار استنبول اور مزارِ صحابیٔ رسول پرپہلی حاضری کی یادگار میرا یہ شعر ہے:
اب ایسے شہر کی کیا کوئی مدح خوانی کرے
جو میزبانِ پیمبر کی میزبانی کرے
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved