تحریر : رؤف کلاسرا تاریخ اشاعت     25-09-2026

میجر عامر کا غصہ

میں میجر عامر کو اکثر کہتا ہوں کہ اس عہدے پر ہزاروں افراد نے سروس کی اور ریٹائر ہوئے‘ لیکن وہ واحد ہیں کہ جب ان کا نام لیا جاتا ہے تو سب کو علم ہوتا ہے کہ کس میجر عامر کا ذکر ہو رہا ہے۔
میرے خالو بھی میجر تھے۔ میجر نواز ملک‘ اور کیا کمال کی خوبصورت اور دبنگ شخصیت کے مالک تھے۔ کلرکہار کے قریب کرولی گاؤں سے ان کا تعلق تھا۔ وہ ہمارے خاندان اور علاقے میں اپنے اصل نام کے بجائے میجر صاحب کے نام سے ہی جانے جاتے تھے۔ اُن جیسا کتاب بین اور مقناطیسی شخصیت کا حامل کوئی اور بندہ شاید ہی میں نے زندگی میں دیکھا ہو۔ ان کے ہمارے گاؤں اور پورے علاقے پر بہت احسانات ہیں۔ یہ دونوں میجرز میری زندگی میں اہم رہے اور دونوں کی اپنی اپنی جگہ اور الگ الگ شخصیات ہیں۔
میجر (ر) عامر کبھی کبھار ملکی حالات پر کڑھتے ہیں تو ایک لمبا سا وائس نوٹ بھیج دیتے ہیں‘ جس میں کھل کر دل کی بھڑاس نکالتے ہیں۔ وہ ذہین انسان ہیں۔ آئی ایس آئی میں تعیناتی کے دنوں میں وہ متنازع بھی رہے اور آج تک کئی سوالات و جوابات کا خندہ پیشانی سے سامنا کرتے ہیں۔ میری ان سے کئی دفعہ بحث بھی ہو جاتی ہے۔ ان کے پاس معلومات کا بڑا خزانہ ہے اور اسے استعمال کرنے کا فن بھی وہ جانتے ہیں۔ مجھے ان کی یادداشت پر رشک آتا ہے۔ مجال ہے چھوٹی سی بات بھی ان کے حافظے سے نکلی ہو۔ ان کے بعد ایسی رشک بھری یادداشت میں نے ملتان کے پیارے ڈاکٹر انوار احمد کی دیکھی۔ انہیں اس عمر میں بھی ماضی کے واقعات پوری تفصیل کے ساتھ یاد ہیں۔ جن لوگوں کی یادداشت بہت تیز ہوتی ہے وہ بہت دلچسپ ہوتے ہیں۔ ان کے پاس سامعین کو سنانے کیلئے بہت سے واقعات ہوتے ہیں اور وہ ایسے دلچسپ کہ جو آپ کو کبھی بور نہ ہونے دیں۔ ہمارے پیارے ڈاکٹر ظفر الطاف کا حافظہ بھی کمال کا تھا۔
میجر عامر جب حالیہ دنوں میں عمرہ کر کے واپس آئے تو کچھ دوست مبارک دینے ان کے گھر گئے۔ وہاں رات گئے تک محفل جمی رہی۔ ڈاکٹر بابر اعوان‘ سابق کمشنر اسلام آباد طارق پیرزادہ‘ حامد کرزئی اور اشرف غنی ادوار کے افغان سفیر‘ سلیم صافی‘ قیصر بٹ‘ عبداللہ بابر اعوان اور عمار خان اس محفل میں شریک تھے۔ جس محفل میں بابر اعوان اور میجر عامر ہوں وہاں گفتگو تیز‘ تیکھی اور دلچسپ ہوتی ہے۔ میرے جیسے جو سننے پر یقین رکھتے ہیں‘ کو بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے۔ اُس رات بھی یہی ہوا۔ بہت گرم سرد بحث رہی۔ اس بیٹھک کا احوال میں پھر کسی وقت کہ بہت ساری باتیں ہیں جو میرے خیال میں قارئین تک پہنچنی چاہئیں‘ تاہم اس وقت مسئلہ اسلام آباد کا‘ جو محاصرے میں ہے۔ اتنی بڑی تعداد میں کنٹینرز سے شہر کو بھر دیا گیا ہے اور خوف و ہراس کی ایسی صورتحال ہے کہ بندہ حیران ہوتا ہے کہ حکومتیں بھلا ایسے بھی خوفزدہ ہوتی ہیں؟ میجر عامر نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ ایسا خوف و ہراس تو پاک بھارت جنگ میں بھی نہیں تھا جیسا اب نظر آ رہا ہے۔ لگتا ہے کہ اسلام آباد میں کوئی بہت ہی بڑا کام ہونے والا ہے۔
میجر عامر نے مجھے دو تین وائس نوٹس بھیجے جو میرے خیال میں موجودہ صورتحال میں بہت اہم ہیں اور اس سے آپ کو صورتحال کو سمجھنے میں آسانی ہو سکتی ہے کہ اسلام آباد اور اس کے گردونواح میں کیا ہو رہا ہے۔ وہ حیران ہیں کہ ایک طرف اسلام آباد ہائیکورٹ نے صاف احکام جاری کیے کہ سڑکیں بند نہیں ہوں گی‘ لیکن دوسری جانب حکومت نے تقریباً پورا ملک بند کر دیا ہے۔ اسلام آباد کو خیبرپختونخوا سے کاٹ دیا گیا ہے۔ ایبٹ آباد‘ ہزارہ‘ پشاور‘ صوابی اور مردان سے ہزاروں لوگ اپنے کام کے سلسلے میں وفاقی دارالحکومت آتے ہیں۔ ظاہر ہے سپریم کورٹ بھی اِدھر ہے‘ شریعت کورٹ بھی ادھر ہے۔ یہاں بڑے ہسپتال ہیں‘ جہاں ہزاروں لوگ علاج کیلئے آتے ہیں۔ سب سے بڑی بات کہ پنجاب کو بھی اسلام آباد سے کاٹ دیا گیا ہے۔ اب سوال تو بنتا ہے کہ اُس عدالتی فیصلے کا کیا جس میں کہا گیا تھا کہ اسلام آباد کی سڑکیں بند نہیں کی جائیں گی۔ اتنی بڑی آبادی کو بنیادی سہولتوں سے محروم کرنا‘ باقی ملک سے کاٹنا‘ یہ کیسی حکمرانی ہے کہ ایک آدمی اعلان کرے کہ وہ اسلام آباد جلوس لے کر آ رہا ہے اور حکومت کنٹینر کھڑے کرکے پورے ملک کو اس کی سزا دینا شروع کر دے۔ لانگ مارچ کیلئے تو 27 ستمبر کا اعلان ہوا لیکن ابھی سے یہ عالم ہے کہ پشاور سے اسلام آباد اخبارات نہیں آ سکے۔ اگر جلوس آ رہا ہے تو آنے دو۔ کل کو اگر اسلام آباد؍ پنڈی سے کوئی جلوس برآمد ہوا تو اس کو کیسے روکیں گے؟ مطلب یہ ہے کہ اسلام آباد کو باقی صوبوں سے کیوں کاٹ دیا گیا ہے؟ خیبرپختونخوا سے کیوں کاٹ دیا ہے؟ اٹک سے کیوں کاٹ دیا ہے؟ ہزارہ سے کیوں کاٹ دیا ہے؟ شہریوں کیلئے یہ بہت بڑے مسائل ہیں۔ مثلاً خدانخواستہ اگر ان دنوں ایمرجنسی میں مجھے گاؤں جانا پڑ جائے تو میں نہیں جا سکتا۔ وہاں کوئی بیمار ہو جائے‘ کوئی فوت ہو جائے تو میں عیادت یا جنازے کیلئے نہیں جا سکتا۔ میرا قصور صرف یہ ہے کہ میں خیبر پختونخوا کا یا اٹک کا رہنے والا ہوں؟ یہ کون سا طریقہ ہے کہ آپ صوبوں کو وفاق سے کاٹ دیں؟
میجر عامر کا کہنا ہے کہ پتا نہیں کن لوگوں کے حوالے ہے یہ حکومت۔ یہ بدنصیبی ہے کہ ہم ایسے عہد میں جی رہے ہیں۔ میں نے انہیں جواب دیا کہ اکثر سیاستدان‘ میڈیا‘ اینکرز اور کالم نگار بلکہ سول سوسائٹی بھی سمجھتی تھی کہ شہباز شریف ایک بہترین وزیراعظم بنیں گے۔ نواز شریف وزیراعظم بن کر اداروں سے الجھ جاتے ہیں جبکہ شہباز شریف سب کو ساتھ لے کر چلنا جانتے ہیں۔ اب پتا چل رہا ہے کہ ان کے دور میں معاملات مقتدرہ کے ساتھ تو اچھے ہیں لیکن سیاست‘ پارلیمنٹ‘ گورننس اور اتھارٹی کہیں غائب ہو گئی ہے۔ حتیٰ کہ ان کی اپنی کابینہ اب ان کی اتھارٹی پر سوال کرتی نظر آتی ہے‘ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی کمانڈ کمزور پڑ رہی ہے۔ اگر کسی وقت آپ وزیروں کی گفتگو اور ٹویٹس پر غور کریں تو اندازہ ہو جائے گا کہ حکومت کی وہ رِٹ اور اتھارٹی کہاں ہے‘ جس کی بات میجر عامر کر رہے ہیں۔ یہ بات بھی طے ہے کہ لوگ خود بھی اس کے ذمہ دار ہیں۔ ہر چند دن کے بعد کوئی نہ کوئی پارٹی اپنے ورکرز کو لے کر اسلام آباد کی طرف چل پڑتی ہے۔ حکومت خندقیں کھود دیتی ہے‘ سڑکیں اکھاڑ دیتی ہے‘ انٹرنیٹ بند کر دیتی ہے‘ ہزاروں سپاہی دوسرے اضلاع سے منگوا کر سکول بند کر کے وہاں انہیں ٹھہرا دیتی ہے۔ ان کے کھانے پینے پر کروڑوں روپے الگ سے لگتے ہیں۔ یہ سب خرچہ عوام کی جیب سے پورا کیا جاتا ہے۔ ابھی دیکھ لیں کہ چالیس کروڑ روپے صرف کنٹینرز کا خرچہ بتایا جا رہا ہے اور کنٹینرز ایسوسی ایشن کا نمائندہ میڈیا پر کہہ رہا تھا کہ انہیں تو ایک روپیہ نہیں ملا۔ اپریل 2022ء میں جو کنٹینرز لگے تھے‘ ان کا کرایہ 21 کروڑ روپے بنا تھا‘ باقی اخراجات الگ تھے۔ اب کی دفعہ کنٹینرز کی تعداد ہزاروں تک پہنچ گئی ہے۔ لگتا ہے کہ یہ اسلام آباد نہیں بلکہ ایک بندرگاہ ہے‘ جہاں ہزاروں کنٹینرز امپورٹ ایکسپورٹ کیلئے اپنی باری کے انتظار میں کھڑے ہیں۔
پی ٹی آئی کچھ کر پائے گی یا نہیں لیکن وزیر داخلہ نے دس دن پہلے ہی پورے شہر کو لاک کر کے چابی جیب میں ڈالی اور ایران کے دورے پر نکل گئے۔ اب اسلام آباد کے رہائشی جانیں اور ان کے حالات۔ اچھا خاصا شہر تھا‘ کبھی ہزاروں درخت تو کبھی جنگل کاٹ کر اور کبھی گرین بیلٹس اکھاڑ کر اور کبھی بیکار کی کھدائیاں کر کے اس کا بیڑہ غرق کر دیا گیا ہے۔ اس وقت شہر کی حالت دیکھ کر لگ رہا ہے کہ حکمران اس سوچ پر کاربند ہیں کہ آگ لگے بستی میں‘ ہم اپنی مستی میں۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved