تحریر : رسول بخش رئیس تاریخ اشاعت     25-09-2026

جب حالات ایسے ہوں

آج کے دور میں ریاستیں اپنے محدود جغرافیائی دائرے میں رہتی ہیں اور ایک آئینی نظام کے سائے میں سانس لیتی اور جیتی جاگتی ہیں۔ اب تو سرحدیں بھی اس طرح نہیں رہیں جو کبھی ہوا کرتی تھیں۔ شاید در اندازی کرنے والوں اور غیرقانونی تارکینِ وطن کو کہیں نہ کہیں رکاوٹیں ڈال کر واپس بھیجا جا سکے‘ لیکن خبروں اور اطلاعات کو روکنا تو درکنار‘ محدود کرنا بھی کسی کے بس میں نہیں۔ دنیا ہمیں اچھی طرح دیکھ رہی ہے۔ آج ہم پوری دنیا کو سینکڑوں ٹی وی چینلوں‘ انٹرنیٹ کے رنگوں اور رنگینیوں‘ اور آن لائن اخباروں اور رسالوں کی رسائی حاصل کر کے ہر وقت دیکھ اور سن سکتے ہیں۔ اس بارے میں زیادہ تمہید کی ضرورت نہیں کہ ہم دنیا کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ ہماری سرحدوں سے باہر‘ قریبی علاقوں اور ملکوں میں جو کچھ ہو رہا ہے اور مزید ہونے کی جو اطلاعات ہیں‘ ہم اپنی قومی اور انفرادی زندگی میں اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے۔ افغانستان سے دہشت گردی کی یلغاراورکچھ اور ممالک میں دہشت گردوں کے سرغنوں کے محفوظ ٹھکانوں سے کون واقف نہیں؟ کئی برسوں سے ہمارے سلامتی کے ادارے اور عام شہری ان کی زد میں ہیں۔ معاشی نقصانات کا اندازہ دہشت گردی کے خلاف جنگ سے لے کر اب تک‘ سینکڑوں ارب ڈالر میں ہے۔ معاشرے پر نفسیاتی‘ معاشی اور سماجی اثرات‘ خصوصاً سرحدی علاقوں میں مرتب ہوئے ہیں۔ وہ گہرے زخموں کی طرح شاید بہت دیر تک رِستے رہیں۔ ایران کے خلاف اسرائیلی اور امریکی جنگ ابھی تک ختم نہیں ہوئی‘ اور نہ ہی ایران کی طرف سے علاقے میں امریکہ کے اتحادیوں کے خلاف شدید ردِعمل‘ جو مختلف صورتوں میں ہے‘ رکنے کا نام لے رہا ہے۔ غزہ میں جو ہم نے اور پوری دنیا نے بے بسی کی حالت میں اسرائیل کی طرف سے فلسطینیوں کی نسل کشی کو دیکھا ہے‘ شاید اس کا اثر اور دکھ پوری زندگی زائل نہ ہو سکے۔
اگر ہم کسی دوسرے عالمی سطح کے بحران‘ جیسا کہ روس کی یوکرین کے خلاف پانچ سال سے جاری جنگ اور اس کے معاشی اثرات کو بھی اکٹھا کر کے دیکھیں تو ایسا لگتا ہے کہ ہماری سیاست اور حکمرانوں کی روش میں کوئی فرق نہیں آیا۔ اندرونی طور پر ایک طرف ہمیں دہشت گردی‘ بڑھتی ہوئی لاقانونیت‘ آبادی کے خطرناک پھیلاؤ اور اس کے نتیجے میں غربت کا سامنا ہے‘ اور دوسری طرف ہمارے سب سیاسی کرم فرما کرسی مضبوط کرنے اور بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کا پرانا کھیل کھیلنے میں مصروف ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ ہمارے حکمرانوں نے کبھی اپنی‘ نہ دوسروں کی تاریخ سے‘ نہ ہی بدلتے ہوئے عالمی حالات سے کچھ واقفیت حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔ تیل کے بڑھتے ہوئے عالمی بحران اور خلیج کی جنگ کی وجہ سے حالات خطرناک صورتحال اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ کئی دہائیوں سے ہماری قومی طاقت چند ہاتھوں میں رہی ہے‘ اور وہی چند ہاتھ معتبر بھی تھے‘ مفکر بھی‘ رہبر بھی اور مشعلِ راہ بھی۔ نتائج کے بارے میں کچھ کہنے کی ضرورت نہیں‘ آپ سب کچھ اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ رہے ہیں۔ حکمران اپنے طاقت کے کھیل تماشے میں‘ ایوب خان کی حکومت کے بعد سے اتنا مصروف رہے ہیں کہ ہوش ہی نہیں رہا کہ آبادی کا بلا روک ٹوک پھیلاؤ کیسے معاشرے اور کیسی معیشت کو جنم دے سکتا ہے۔ اس آمر سے لاکھ اختلاف سہی مگر ایوب خان‘ جس کے خلاف سب سے پہلے جلوس ہماری نسل کے طلبہ نے نکالے تھے‘ اس زمانے میں ملک میں منصوبہ بندی صرف خاندانوں کو محدود کرنے تک نہ تھی بلکہ قومی زندگی کے ہر شعبے میں رائج ہوئی۔ ایک دہائی میں بہت کچھ ہمارے ملک اور قوم نے کر دکھایا۔ اس کے بعد جو کچھ ہوا‘ وہ مداری کے کھیل تماشے ہی تھے۔ نعرہ بازی آسمان کو چھوتی رہی اور زمین میں ہمارے ملک کی سمت بگڑتی رہی۔ کہاں چار کروڑ اور کہاں 25کروڑ؟ ہم نہ پانی‘ نہ زمین میں اضافہ کر سکتے ہیں۔ بس زور اس بات پر ہے: غلہ زیادہ پیدا کرو۔ غلہ ہمارے کاشتکار جب زیادہ پیدا کرتے ہیں تو کوئی خریدار نہیں ملتا۔ حکمرانوں کے وارے نیارے ہو جاتے ہیں جب غلے کی کمی ہو‘ جیسے چینی بھی کبھی برآمد اور کبھی درآمد ہوتی رہی ہے۔ یہ ہے ہماری منصوبہ بندی! یہ صرف آج اور اس حکومت کی بات نہیں‘ 56سال پیچھے چلے جائیں‘ اور اس کے بعد کے سیاسی کرشموں‘ چال بازیوں‘ پرانے اور نئے سیاسی فنکاروں اور کٹھ پتلی تماشے کے ماہروں کے کارنامے آپ کے سامنے کھل کر آ جائیں گے۔
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے اہلِ اقتدار کنویں کے مینڈک کی طرح اس سے باہر نہیں نکل سکے۔ اب تو غلطی بھی کوئی غلطی نہیں رہی کہ سب کچھ جان بوجھ کر کرتے ہیں اور ساتھ للکارتے ہیں کہ ہاں! کیا ہے‘ ہماری مرضی! آپ نے جو کرنا ہے کر لیں! اس کو کوئی تکبر کی انتہا نہ کہے تو آپ ہی بتائیں اور کیا کہے؟ یہ جو سرکاری ہوائی جہاز میں برطانیہ جانے کا معاملہ ہے‘ جو کچھ اندر کھاتے اس ملک میں ہو رہا ہے‘ اس کے مقابلے میں کوئی بڑا واقعہ نہیں‘ مگر یہ اس لیے عوام کے ذہنوں میں ابھرا ہے کہ یہ طاقت کی سیاست کا ایک عکس ہے جسے عوامی میڈیا کی ہواؤں نے ہر طرف پہنچا دیا ہے۔ صوبوں کو اٹھارہویں ترمیم کی بندر بانٹ سے جس قدر فیضیاب کیا گیا‘ سرکاری سطح پر ایسے ارتکازِ زر اور طاقت کی مثال کسی وفاقی نظام میں نہیں ملتی۔ بہت مؤثر بیانیہ مرکز کی طاقت کے خلاف دہائیوں سے لسانی گروہوں کی طرف سے چل رہا تھا۔ اس سے موروثی سیاسی خاندانوں نے آئین کو آمریت کے اثرات سے پاک صاف کرنے کے بہانے اپنے اپنے صوبوں میں معاشی اور سیاسی آمریت پیدا کرنے کی کامیاب منصوبہ بندی کی۔ اس ترمیم کے بعد ایسا لگتا ہے کہ ملک میں ایک نہیں‘ پانچ طاقت کے مراکز قائم ہیں۔
وطن عزیز کے معروضی حالات ایسے ہی ہیں‘ مگر ان کے تناظر میں ہمیں تو قومی یا سیاسی مفاہمت کی کوئی پالیسی نظر نہیں آ رہی۔ کچھ موسم بدلتے ہی سب حزبِ اختلاف والے‘ اور وہ بھی جن کا دھیان نہ کرپشن پر جاتا ہے اور نہ ہی دیگر اہم قومی امور پر‘ اسلام آباد پر چڑھائی کرنے کیلئے تیار بیٹھے ہیں۔ نہ حکمرانوں کے رویے میں کوئی لچک ہے‘ نہ دوسروں کی سیاسی مہم جوئی میں کوئی فرق یا امید کی تمنا۔ ماضی کے کچھ حالات‘ جن کا ذکر اوپر کیا گیا ہے‘ اور ہمارے قریبی علاقے میں جنگ اور اس کے دور رس اثرات کا تقاضا تو یہ ہے کہ سب مل کر بیٹھیں‘ کچھ ملک اور عوام کا سوچیں۔ ابھی تو معلوم نہیں کہ آگے چل کر امریکہ‘ ایران اور اس کے اتحادیوں کے خلاف کیا کرنا ہے‘ اور کوئی سمجھوتا ہوتا ہے کہ جنگ جاری رہتی ہے۔ پوری دنیا متاثر ہو رہی ہے اور سب سے زیادہ بھاری اثرات کھانے پینے کی اشیا سے لے کر پٹرول تک ہیں۔ مدبر قیادت کی یہی نشانی ہے کہ وہ حکومتی اتحاد میں ہو یا حزبِ اختلاف کی جماعتوں میں‘ حالات کی نزاکت کو سمجھتی ہے اور اپنے محدود مفادات سے نکل کر عام لوگوں کی زندگیوں کو آسودہ اور ملک کو ترقی کی راہ پر ڈالتی ہے۔ دنیا تو ہمیں دیکھ کر حیران ہوتی ہے کہ ایک طرف روزانہ دہشت گرد ہماری پولیس اور سلامتی کے اداروں کے افسروں اور جوانوں پر حملے کر رہے ہیں تو دوسری طرف ہم کنٹینروں کو میدان میں رکھ کر ایک دوسرے کو اکھاڑنے پچھاڑنے کی تیاریوں میں ہیں۔ دونوں طرف کے لیڈر ایسے حالات میں گھر سے بھی نہیں نکلتے‘ عوام کو ایک دوسرے پر پتھراؤ اور دنگا فساد کرنے پر لگا دیتے ہیں۔ پولیس اہلکار بھی تو عوام میں سے ہیں۔ ایسے قومی‘ علاقائی اور عالمی حالات میں تباہی‘ تصادم اور لانگ مارچوں کا لامتناہی سلسلہ اپنے سیاستدانوں کے بارے میں بہت کچھ بتاتا ہے۔ لگتا ہے کہ ہم عوام ان کے اصل کھیل میں بے بس ہیں۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved