تحریر : ڈاکٹر رشید احمد خاں تاریخ اشاعت     25-09-2026

سعودی عرب اور حوثیوں کے مابین کشیدگی …(3)

یمن میں ایک طرف حوثی جنگجوؤں اور سعودی عرب کے مابین ہوائی حملوں‘ میزائلوں اور ڈرونز کے ساتھ جنگ جاری ہے اور دوسری طرف حوثی قبائل نے یمن کے دو مرکزی شہروں‘ طائز اور مارب پر قبضہ کرنے کیلئے نیا محاذ کھول دیا ہے۔ مبصرین کی رائے میں اگر یمن کے ان دو شہروں پر حوثیوں کا قبضہ ہو گیا تو یمن کے باقی حصے اور عدن پر حوثیوں کے قبضے کی راہ ہموار ہو جائے گی۔ سعودی عرب حوثیوں کی اس پیش قدمی کو روکنے کیلئے ہوائی حملے اور توپوں سے گولہ باری کر رہا ہے‘ لیکن 2015ء سے 2022ء کے دوران حوثی باغیوں پر فضائی بمباری‘ جس میں امریکی بمباری بھی شامل ہے‘ کے تجربے کی روشنی میں کہا جا سکتا ہے کہ اس کا کوئی بڑا نتیجہ برآمد نہیں ہوگا۔ البتہ یمن کی سرکاری فوجوں نے بحیرہ احمر کے ساحل کے ساتھ اہم مقامات‘ جن میں بندرگاہ المخا بھی شامل ہے‘ کو آزاد کرانے کیلئے ایک نیا محاذ کھولا ہے۔ تاہم حال ہی میں یمن کی سرکاری فوجیں جس طرح حوثیوں کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہوئی ہیں‘ اس کے پیشِ نظر سرکاری افواج حوثیوں کے زیرِ قبضہ علاقوں کو واپس لیتیں نظر نہیں آتیں؛ البتہ دونوں میں گھمسان کی جنگ کا خدشہ ہے‘ کیونکہ اونچائی پر ہونے کی وجہ سے مرکزی یمن کے یہ علاقے بحیرہ احمر کے ساحل اور آبنائے باب المندب کے تحفظ کیلئے انتہائی اہم ہیں۔
سعودی عرب اپنی فوجیں یمن میں داخل نہیں کرنا چاہتا اور امریکہ اس کی حمایت میں حوثیوں کے ٹھکانوں پر بمباری نہیں کرنا چاہتا۔ برطانیہ اور فرانس کی طرح وہ سعودی عرب کو صرف انٹیلی جنس‘ لاجسٹک اور دیگر تکنیکی امداد فراہم کرنا چاہتا ہے۔ یمن کی سرکاری افواج بیرونی امداد کے بغیر حوثیوں کو پیچھے نہیں دھکیل سکتیں‘ بلکہ مبصرین کا اندازہ ہے کہ حوثی جنگجو‘ جو پہلے ہی یمن کے دارالحکومت صنعا پر قابض ہیں‘ سرکاری افواج کو شکست دے کر اب نئے مرکزی مقام عدن پر قابض ہو جائیں گے۔ اس طرح حوثیوں کو نہ صرف جنوبی یمن اور باب المندب پر پورا کنٹرول حاصل ہو جائے گا‘ بلکہ سعودی عرب کے حمایت یافتہ صدر راشد کی حکومت کے زیرِ قبضہ شمالی یمن کا علاقہ دو حصوں میں تقسیم ہو جائے گا۔ اس صورتحال میں سب سے زیادہ خطرہ سعودی عرب کو درپیش ہوگا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ حوثیوں کی برق رفتاری سے پیش قدمی کے باوجود سعودی عرب نے مکہ دفاعی معاہدے کو فعال کرنے کے بجائے امریکہ اور یورپی طاقتوں سے اپیل کی‘ مگر سب نے عملی طور پر یمن کی خانہ جنگی میں مداخلت سے انکار کر دیا۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ اگر امریکہ یا یورپی ممالک مداخلت کرتے تو خدشہ ہے کہ حوثی آبنائے باب المندب کو ہر قسم کی جہاز رانی کیلئے بند کر دیں گے۔ اس اقدام کے نتیجے میں تیل کی عالمی قیمت‘ جو پہلے ہی آبنائے ہرمز کے بند ہونے سے بحران کا شکار ہے‘ آسمان کو چھونے لگے گی۔ حوثیوں نے اس حوالے سے پہلے ہی اعلان کر رکھا ہے کہ آبنائے باب المندب سوائے سعودی عرب کے‘ باقی ہر ملک کے بحری جہازوں کیلئے کھلی ہے۔ یہاں تک کہ عمان میں امریکیوں کے ساتھ ایک ملاقات میں حوثیوں نے یقین دلایا کہ وہ امریکی جہازوں پر فائرنگ نہیں کریں گے۔ اس طرح یورپی ممالک بھی حوثیوں کے خلاف سعودی عرب کا ساتھ دے کر بحیرہ احمر کے راستے اپنی کھربوںیورو کی تجارت کو خطرے میں ڈالنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔
اس وقت یمن کی صورتحال پر جتنے بھی تبصرے اور تجزیے ہو رہے ہیں‘ ان سب میں سعودی عرب جو دنیا کا سب سے بڑا تیل برآمد کرنے والا ملک ہے اور جس نے کھربوں ڈالر کے امریکی ہتھیار خرید رکھے ہیں‘ کو ایک بے بس اور تنہا ملک کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے‘ کیونکہ وہ اپنی سرحدوں پر منڈلاتے ہوئے خطرے کا مؤثر طور پر مقابلہ نہیں کر پا رہا۔ مکہ دفاعی معاہدہ ابھی پوری طرح آپریشنل نہیں ہوا۔ اگرچہ وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایک بیان میں کہا تھا کہ مکہ معاہدہ فعال ہو سکتا ہے اور پاکستان کی قیادت نے بھی کھل کر سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے اور واضح کیا ہے کہ سعودی عرب کی مدد میں پاکستان کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔ ترکیہ نے بھی سعودی عرب کی بعض ضروریات پوری کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔ تبصرہ کاروں کی رائے میں یہ ضروریات ڈرونز اور میزائل ہو سکتے ہیں‘ جن کو ترکیہ بڑی تعداد میں بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے‘ لیکن سعودی عرب کے پاس ہتھیاروں کی کمی نہیں۔ اصل مسئلہ ان ہتھیاروں کو میدانِ جنگ میں دشمن کے خلاف استعمال کرنے والوں کی کمی ہے‘ جسے اپنے دفاع پر سالانہ 80 بلین ڈالر سے زیادہ خرچ کرنے والا سعودی عرب اپنے ذرائع سے دور نہیں کر سکتا۔ اس لیے ہر طرف سے مایوس ہو کر سعودی عرب کی نظریں پاکستان پر ہیں۔ جیسا کہ پہلے بیان کیا ہوا کہ اپنے برادر ملک کے تحفظ اور بقا کے لیے پاکستان کسی بھی اقدام سے گریز نہیں کرے گا۔
پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون کے حوالے سے ایک اہم بات یہ ہے کہ دونوں ملک مکہ دفاعی معاہدہ کا ہی حصہ نہیں‘ بلکہ ان کے مابین ایک دوطرفہ سٹرٹیجک میوچوئل ڈیفنس ایگریمنٹ بھی ہے‘ جس پر دونوں ملکوں نے 17 ستمبر 2025ء کو دستخط کیے تھے۔ اس معاہدے کے تحت دونوں ملکوں نے ایک دوسرے کے خلاف جارحیت پر ساتھ دینے کا عہد کیا تھا‘ جبکہ رواں سال 7اگست کو طے پا جانے والے مکہ دفاعی معاہدے کے تحت پاکستان‘ سعودی عرب اور ترکیہ ایک دوسرے پر مسلح حملے کو اپنے اوپر حملہ تصور کریں گے۔ مگر دونوں معاہدوں میں یہ نہیں بتایا گیا کہ جارحیت اور مسلح حملے کے خلاف ردِعمل انفرادی ہوگا یا اجتماعی اور یہ کہ اس کا کیا طریقۂ کار ہوگا۔ خاص طور پر مکہ دفاعی معاہدے کے تحت مسلح حملے کی صورت میں ردِعمل کا کیا میکانزم ہوگا‘ کیونکہ تینوں ملک مختلف خطوں سے تعلق رکھتے ہیں اور تینوں کا دشمن الگ الگ ہے‘ جبکہ کسی دفاعی محاصرے کے مؤثر ہونے کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ ان کا دشمن مشترکہ ہو۔
ان دو دفاعی معاہدوں کے علاوہ پاکستان اور سعودی عرب انٹرنیشنل میری ٹائم ڈیفنس تنظیم کے بانی ارکان بھی ہیں۔ اس تنظیم میں بحیرہ احمر اور بحرِ ہند سے تعلق رکھنے والے اور ممالک بھی شامل ہیں۔ ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاع اور سکیورٹی کے شعبوں میں تعاون 1960ء کی دہائی سے چلا آ رہا ہے۔ اِس وقت بھی سعودی عرب میں پاکستان آرمی‘ ایئر فورس اور بحریہ سے تعلق رکھنے والے 8000 فوجی موجود ہیں‘ مگر ان کی ذمہ داریاں تربیت‘ لاجسٹک سپورٹ اور اندرونی تحفظ تک محدود چلی آ رہی ہیں۔اب تک پاکستان نے کسی عرب ملک کی حمایت میں کسی دوسرے عرب یا غیر عرب ملک کی زمین پر اپنے فوجی دستے داخل نہیں کیے اور اس پالیسی پر سختی سے عمل کیا ہے۔ اس حوالے سے 2015ء میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی درخواست پر یمن میں اپنی فوجیں بھیجنے سے انکار کو بطور مثال پیش کیا جا سکتا ہے۔ اب بھی پاکستان کی رائے عامہ مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کی باہمی جنگ میں پاکستان کی شرکت کے خلاف ہے۔ اگرچہ مکہ مکرمہ پر حوثیوں کے مبینہ ڈرون حملے اور سعودی عرب کی توانائی کے انفراسٹرکچر کو ٹارگٹ بنانے کی رپورٹس نے سعودی عرب کی براہِ راست مدد کرنے کی راہ ہموار کر دی ہے مگر اس بات کا بھی خدشہ ہے کہ اگر پاکستان نے یمن کی خانہ جنگی میں کوئی عملی اقدام کیا تو ایران کے ساتھ ہمارے تعلقات کو نقصان پہنچے گا اور اس سے ایک ایسی دلدل میں پھنس سکتا ہے جس سے باہر نکلنا مشکل ہو۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved