تحریر : آصف عفان تاریخ اشاعت     25-09-2026

کرسیِ شفا

میدان لگ چکا ہے‘ کہیں للکاروں کی بازگشت ہے تو کہیں انتباہی بیان جاری ہیں‘ کھیل تو وہی پرانا ہے لیکن کھلاڑیوں کی پوزیشن تبدیل ہے۔ اسی طرح شکار اور شکاری بھی بدل چکے ہیں۔ جو کبھی زندان میں تھے‘ اب ایوانوں میں براجمان ہیں اور ایوانوں میں موجیں مارنے والے زندانوں کے باسی بن چکے ہیں۔ ماضی کی غلطیوں سمیت سبھی بدعتیں کئی اضافوں کے ساتھ دہرائی جا رہی ہیں۔ تحریک انصاف اپنے دورِ حکومت میں اصل کام چھوڑ کر انتقام کی جس بھٹی کو بغض اور عناد کے ایندھن سے بھڑکاتی رہی آج خود بھی انہی شعلوں کی لپیٹ میں ہے۔ البتہ سسٹم میں نقب لگا کر اَسیری کی آڑ میں لمبا ریلیف لینے والے‘ تحریک انصاف کے اسیروں کی عمر اور بیماری کا لحاظ کرنے سے نہ صرف انکاری ہیں بلکہ لڑکھڑاتی ٹانگوں اور کانپتے ہاتھوں کے ساتھ وہیل چیئرز پر عدالتوں میں پیشیوں پر آنے والے سبھی اسیر زندان سے ایوان میں آتے ہی بھلے چنگے ہو کر ایسے بھاگے پھرتے ہیں جیسے کرسی میں شفا ہو۔
حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے تحریک انصاف کو واضح اور دوٹوک پیغام دے چکے ہیں کہ قانون ہاتھ میں لینے والے ہوں یا عوام کے معمولاتِ زندگی میں خلل ڈالنے والے‘ سبھی کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا۔ دوسری طرف احتجاجی کال سے کئی روز قبل ہی شہرِ اقتدار کے داخلی راستوں کو سبھی خاص و عام کے لیے بند کر کے اہم شاہراہوں پر سینکڑوں کنٹینرز اور رکاوٹیں کھڑی کرنے کے اقدامات پر قانون اور انسانی حقوق کے ادارے خاموش ہیں۔ یہ کہنا بھی ہرگز بے جا نہ ہو گا کہ عملی طور پر حکومت وہ سبھی کچھ کیے چلی جا رہی ہے جس کا اندیشہ تحریک انصاف سے لاحق ہے‘ یعنی تحریک انصاف احتجاجی کال دے کر اسلام آباد بند کر دے گی اور شہر کا کاروبارِ زندگی معطل ہو کر رہ جائے گا۔ پیش بندی کے نام پر سبھی حکومتی اقدامات عین وہی منظر پیش کرتے نظر آرہے ہیں جو مظاہرین تو شاید کر بھی نہ پاتے۔ ایسے میں تحریک انصاف کو تو شکرگزار ہونا چاہیے کہ احتجاجی کال سے جڑے آدھے سے کہیں زیادہ کام جو ڈنڈے‘ لاٹھیاں اور آنسوگیس کے شیل استعمال کر بھی ان سے نہ ہو پاتے وہ حکومت نے خود ہی کر ڈالے ہیں۔ شہر بند کر ڈالا‘ راستے مسدود کر ڈالے‘ تعلیمی ادارے بند کر کے کاروبارِ زندگی بھی معطل کر ڈالا۔ اب رہی بات تقریروں‘ بیانوں اور اعلامیوں کی‘ اس کیلئے تو ٹیکنالوجی سے بھی استفادہ کیا جا سکتا ہے۔ جو پیغام ٹیکنالوجی کے ذریعے گھر گھر پہنچایا جا سکتا ہے اس کیلئے عوام کے جان و مال کو خطرے میں ڈالنا کہاں کی عقلمندی ہے۔ جب حکومت انہیں غیرمعمولی طور پر سنجیدہ لے رہی ہے تو پھر خود کو ہلکے میں لینا کفرانِ نعمت ہے‘ اس مرتبہ احتجاجی کال کو ''سمارٹ کال‘‘ کا نام دے کر حکومتی وسائل سے بصد شکریہ اہداف دریافت کریں۔ سرکار خود تعاون پر آمادہ ہو تو مارچ کی کیا ضرورت ہے؟ نو مئی سمیت دیگر احتجاجی کالز کی جمع تفریق کریں تو حاصل ناقابلِ تلافی خسارہ ہی نکلتا ہے۔ مزید خساروں کے بجائے حکومتی تعاون کی قدر کرتے ہوئے سلیقے اور مہارت سے لگائے گئے ڈھیروں کنٹینرز کو ویلیو ایڈیشن سمجھیں‘ ملک بھر میں جہازی سائز سکرینوں پر پشاور سمیت کسی محفوظ مقام سے وہ سبھی کچھ دکھایا اور سنایا جا سکتا ہے جو احتجاجی کال کے دوران ہرگز ممکن نہیں۔ ایسے میں تحریک انصاف کارکنوں کو ایک بار پھر اپنے مفادات کا ایندھن کیوں بنانے جا رہی ہے۔ حکومتی وسائل اور نفری مخصوص مقامات پر اکٹھی کی جا رہی ہے‘ انہیں اپنے انتظار کی سولی پہ لٹکائے رکھنا ہی بہترین آئینہ ہے۔ میدان سڑکوں‘ چوراہوں اور گلیوں کا نام نہیں ہوتا اصل میدان عوام کا ذہن اور توجہ ہے جو کم و بیش فتح ہو چکے ہیں۔ قتل و غارت‘ مارکٹائی کے بعد لاشوں اور زخمیوں پر سیاست اور پوائنٹ سکورنگ کی بدعت کے بینی فشری سبھی نیتا کارکن فروش ہی ثابت ہوئے ہیں۔
ماضی قریب و بعید کے سبھی واقعات کے نقطے ملائیں تو بننے والی اشکال میں سبھی کے چہرے واضح اور بخوبی پہنچانے جا سکتے ہیں۔ کس کی قربانیوں کا تاوان کس نے وصول کیا؟ دورِ ایوبی کے خلاف تحریک ہو یا بھٹو کے خلاف پاکستان قومی اتحاد‘ ضیا آمریت میں ایم آر ڈی کی جدوجہد ہو یا نواز شریف تحریک نجات اور بینظیر کا لانگ مارچ‘ مشرف دور میں وکلا تحریک ہو یا سانحہ کارساز اور لیاقت باغ‘ تحریک انصاف کے طویل دھرنے ہوں یا سانحہ ماڈل ٹاؤن‘ مجھے کیوں نکالا مارچ اور ریلیاں ہوں یا تحریک انصاف کی حالیہ چار سالہ مزاحمت اور جدوجہد کا جائزہ لیں تو منزل انہیںملی جو شریکِ سفر نہ تھے اور جو شریکِ سفر رہے انہیں منزل سے پہلے ہی بھٹکا دیا گیا یا لڑھکا دیا گیا۔ اکثر کیسز میں تو سنگِ میل آنکھ کا دھوکا بنا کر نشانِ منزل بھی بدلا جاتا رہا۔
راج نیتی کی اس جادو نگری میں آج بھی ایسے کئی چہرے اور کردار ماضی کی بدعتوں کا تسلسل اور توسیع بنے نت نئے کرتب دکھا رہے ہیں۔ ان بازی گروں کے گرد کہیں تماش بین اکٹھے ہیں تو کہیں شائقین‘ اپنی موجودگی کا احساس دلانے کیلئے کوئی تالیاں بجا بجا کر نہال ہے تو کوئی بغلیں بجا بجا کر بے حال۔ نامعلوم اہلیت اور صفر کارکردگی کا یہ کوٹہ ہر دور میں کوٹ کوٹ کر پورا کیا جاتا رہا ہے۔ ماضی کے سبھی ادوار سے لے کر لمحۂ موجود تک حکمران اپنے سر چڑھے مصاحبین کے علاوہ ان سبھی کرداروں کا بوجھ بھی بخوشی اٹھاتے رہے ہیں جو بوجوہ اور بہ امر مجبوری ان پر لادے جاتے رہے ہیں۔ میرٹ اور گورننس کے پرچارک عمران خان کی کابینہ میں دو درجن سے زائد غیر منتخب ارکان امورِ مملکت میں پیش پیش رہے۔ حکمرانی کا محور انتقام‘ بغض‘ عناد کو اس طرح بنا ڈالا کہ صبح شام زبانوں سے شعلے اگلتے دکھائی دیتے تھے۔ مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی کو دورِ زوال میں زندہ رکھنے سے لے کر دوبارہ اقتدار میں لانے کے سبھی اسباب و جواز کا کریڈٹ بھی بجا طور پر تحریک انصاف کی سابقہ حکومت کو جاتا ہے۔ وفاقی حکومت سے نکالے جانے کے بعد پنجاب اور کے پی کی حکومتیں عمران خان کیلئے بہت بڑی ڈھال اور طاقت کی حیثیت رکھتی تھیں لیکن موصوف نے بھری تھالی کو ایسی لات ماری کہ آج بھی اس کی قیمت چکا رہے ہیں۔
تعجب ہے! حکومتِ وقت ماضی کے ادوار کے نشیب و فراز سے لے کر تغیر و تبدل کے سبھی واقعات اور زندہ مناظر سے بدستور نظریں چرا رہی ہے۔ نو مرتبہ وزارتِ اعلیٰ اور چھ مرتبہ وزارتِ عظمیٰ جیسے عالمی ریکارڈ کی حامل جماعت سے بہتر کون جانتا ہے کہ ایوان سے زندان اور زندان سے ایوان کا سفر چٹکیوں میں طے ہوتا ہے‘ یعنی سوتے ایوان میں ہیں تو اٹھتے زندان میں ہیں۔ یہ سفر اس جماعت نے کتنی بار جھیلا ہے‘ قید و بند کی صعوبتوں سے لے کر جلاوطنی اور پیاروں کے جنازوں کو کندھا دینے سے بھی ترسا دیے گئے۔ ان سبھی تلخ تجربات کے باوجود یہ مان اور گمان ناقابلِ فہم ہے۔ راج نیتی کا بے رحم کھیل پل بھر میں نصیب اس طرح بدل ڈالتا ہے کہ صبح کے تخت نشیں شام کو مجرم بھی ٹھہرا دیے جاتے ہیں۔ یاد رہے! عمران خان کی غلطیوں کا بینی فشری ہونا خوش قسمتی تو ہو سکتا ہے لیکن ان غلطیوں کو دہرا کر ہمیشہ بینی فشری بنے رہنا ہرگز ممکن نہیں۔ خیال رہے! ریلیف اور انصاف سے گریز اور انکار کہیں تقویت کا باعث تو نہیں بن رہا‘ ایسے میں بزرگوار ظفر اقبال کا شعر پیش خدمت ہے:
خود کو ترتیب دیا آخرِ کار ازسرِ نو
زندگی میں تیرا انکار بہت کام آیا

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved