عملِ خیر کے خزانے لٹانے والی عظیم شخصیات کی پیشانیوں پر‘ بقول ڈاکٹر خورشید رضوی لکھا ہوتا ہے:نہ جانے کب نہ رہیں ہم، ہمیں غنیمت جان؍ حیات و موت میں کچھ ایسا فاصلہ بھی نہیں
کتنا فاصلہ؟ بس ایک قدم یا ایک لمحے کا فاصلہ۔ حافظ محمد ادریس سابق نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان سے درویش کا پرانا بلکہ بہت پرانا محبت و احترام کا رشتہ تھا۔ حافظ صاحب نے 1960ء کی دہائی کے اواخر اور 1970ء کی دہائی کے اوائل میں گورنمنٹ کالج لاہور اور پنجاب یونیورسٹی سے اعلیٰ ڈگریاں اس شان سے حاصل کیں کہ انہوں نے ہر امتحان میں پہلی پوزیشنیں اور گولڈ میڈل حاصل کیے۔ جناب حافظ محمد ادریس اُن خوش قسمت لوگوں میں سے تھے کہ جنہیں اوائلِ شباب بلکہ لڑکپن سے ہی اپنی منزل اور اس کی طرف جانے والے راستے کا شعور نصیب ہو جاتا ہے۔ آٹھ دہائیاں قبل گجرات کے ایک قصبے میں انہوں نے آنکھ کھولی تھی اور صرف نو سال کی عمر میں مکمل قرآن پاک حفظ کر لیا۔ تب سے لے کر دمِ واپسیں تک حافظ صاحب نے قرآنِ پاک کے ساتھ اپنی قلبی وابستگی قائم و دائم رکھی۔
بعض دوستوں کا کہنا ہے کہ مولانا شاہ احمد نورانی کے بعد حافظ محمد ادریس وہ خوش نصیب تھے کہ جو نو سال کی عمر سے لے کر 81سال کی عمر تک ہر رمضان المبارک میں نمازِ تراویح میں قرآن سناتے رہے۔ حافظ صاحب نے عربی زبان میں ماسٹرز کر رکھا تھا۔ عربی زبان و ادب کی لطافتوں کا شناور جب قرآن سمجھتے ہوئے پڑھتا ہے تو پیچھے مقتدی بھی وجد و کیف محسوس کرتے ہیں۔ حافظ صاحب نے زمانہ طالب علمی میں مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی کی کتب کے مطالعے اور ان کی شخصیت سے اکتسابِ فیض کرتے ہوئے دل و نگاہ سے اُن کی بیعت کرلی تھی۔ حافظ صاحب 1970ء میں پنجاب یونیورسٹی یونین کے صدر منتخب ہو گئے تھے مگر بوجوہ اس کا نوٹیفکیشن جاری نہیں ہو رہا تھا۔ حافظ صاحب تو احترامِ استاد ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے اس وقت کے وائس چانسلر علامہ علاء الدین صدیقی سے درخواست گزار تھے کہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا جائے مگر اس موقع پر اُن کے ہمراہ جانے والے بعض جوشیلے طلبہ نے کچھ احتجاجی لب و لہجہ اختیار کیا جب یہ خبر اخبارات میں شائع ہوئی تو ملک میں نئی نئی مارشل لاء حکومت نے اپنی دھاک بٹھانے کیلئے حافظ صاحب سمیت ان طلبہ کو پسِ دیوارِ زنداں بھیج دیا۔ حافظ صاحب نے الگ سے اپنی صفائی نہ دی اور اپنے دوستوں کے احتجاجی رویے کی ذمہ داری بھی قبول کی۔ حافظ محمد ادریس (مرحوم لکھنے کو دل نہیں مانتا) ایک نہیں کئی شخصیات کا امتزاج تھے۔ وہ رنگا رنگ پھولوں کا ایک حسین و جمیل گلدستہ تھے۔ حیرت تو یہ ہوتی ہے کہ بڑی بڑی جماعتی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ وہ تصنیف و تالیف کا اتنا بڑا خزانہ ساری زندگی لٹاتے رہے۔ ان کی 70سے زیادہ تصانیف ہیں۔ یوں تو ہر کتاب دینی علم و حکمت کا انمول اثاثہ ہے مگر سات جلدوں میں سیرتِ محمد مصطفیﷺ کی اثر انگیزی منفرد ہے۔ اُن کی زیادہ تر کتب سیرت صحابہ و صحابیات پر ہیں۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ حافظ صاحب کو حوضِ کوثر پر ساقیِ کوثر کے ہاتھوں سیراب ہونے کا شرف نصیب فرمائے‘ آمین!
1974ء کے اواخر میں سعودی وزارتِ تعلیم میں تدریسی فرائض کی انجام دہی کیلئے میں جدہ پہنچا۔ انہی دنوں حافظ محمد ادریس اسلامک فاؤنڈیشن کے صدر کی حیثیت سے نیروبی روانہ ہونے کیلئے جدہ آئے ہوئے تھے۔ راؤ محمد اختر صاحب نے مولانا مودودیؒ کی ہدایت کے مطابق 1960ء کی دہائی میں ہی‘ اس دور کے امیر جماعت اسلامی کراچی چودھری غلام محمد صاحب اور پروفیسر خورشید احمد کی رہنمائی میں افریقہ کی بلالی دنیا کو زیورِ تعلیم سے آراستہ کرنے اور وہاں کی نژادِ نو کو قرآنِ پاک کی تعلیمات سے روشناس کرانے اور عیسائی مشنریوں کے چنگل سے بچانے کیلئے فاؤنڈیشن قائم کی تھی۔ 1970ء میں فوت ہونے والے چودھری غلام محمد نے افریقہ میں قرآن پاک کو سواحلی زبان میں ترجمہ کروایا تھا۔ حافظ صاحب راؤ محمد اختر صاحب کے ساتھ مل کر ایک دہائی سے اوپر افریقہ میں انتھک خدمات انجام دینے اور رمضان المبارک میں وہاں قرآن پاک سنانے کے بعد 1985ء میں پاکستان واپس آئے تو پھر تقریباً 40برس تک یہاں جماعت اسلامی کی طرف سے سپرد کردہ ذمہ داریوں کو بطریق احسن انجام دیتے رہے۔ وہ 1991ء سے 2003ء تک امیر جماعت اسلامی صوبہ پنجاب رہے‘ اس کے بعد وہ دو مرتبہ نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان رہے۔ وہ جماعت اسلامی کے تحقیقی مرکز ادارۂ معارفِ اسلامی کے ڈائریکٹر بھی رہے۔ وہ ادب‘ تحقیق و تصنیف اور صحافت سے بھی گہرا شغف رکھتے تھے۔ روزنامہ دنیا کے ادارتی صفحات پر دس برس سے دینی‘ سیاسی‘ تاریخی اور سوانحی نوعیت کے اثر انگیز کالم لکھتے رہے۔ ان کے قارئین کا ایک وسیع حلقہ تھا۔ منصورہ میں اپنے خطباتِ جمعہ‘ جماعت اسلامی کے اجتماعات‘ اپنی تصنیفات کے صفحات اور اپنے کالموں میں حافظ صاحب ہمیشہ صبر و استقامت کی تلقین کرتے رہے۔
2015ء میں یہ درویش یونیورسٹی آف سرگودھا میں پروفیسری کے علاوہ کئی انتظامی ذمہ داریاں بھی ادا کر رہا تھا۔ اُس زمانے میں ڈاکٹر ہارون ادریس جرمنی سے پی ایچ ڈی کر کے اسی یونیورسٹی میں چیف لائبریرین تھے۔ ڈاکٹر ہارون اپنے حسن اخلاق و حسن تعاون کی بنا پر طلبہ و اساتذہ میں بے حد مقبول تھے۔ میرا وہ بہت احترام کرتے تھے۔ 2021ء میں ڈاکٹر ہارون کووڈ کی زد میں آ گئے۔ وہ تقریباً سوا ماہ تک پی اے ایف ہسپتال سرگودھا میں وینٹی لیٹر پر رہے۔ ڈاکٹر ہارون کی وفات سے صرف ایک روز پہلے چھ جولائی 2021ء کو ہسپتال کے کمرے میں حافظ صاحب نے بیمار بیٹے کا ماتھا چوما اور کہا: بیٹے! تم سے محبت کرنے والوں اور تمہاری صحت یابی کیلئے دعا کرنے والوں کی اتنی بڑی تعداد دیکھ کر میں اپنے رب کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ ہارون ہوش میں تھا مگر بول نہیں سکتا تھا۔ باپ کا اندازِ محبت و شفقت دیکھ کر اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اس نے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف اٹھائے۔ اسکے لب ہلنے لگے۔ گویا اپنے باپ کیساتھ مل کر وہ بھی اپنے رب کا شکر ادا کر رہا ہو۔ پھر ہونی ہو کر رہی۔ اگلے روز سات جولائی 2021ء کو ہارون اپنے رب کے حضور حاضر ہو گیا۔ بیٹے باپ کے جنازے کو کندھا دیں تو یہ ایک روٹین کی بات ہے مگر جب کسی باپ کو اپنے جوان بیٹے کے جنازے کو کندھا دینا پڑے تو حقیقی معنوں میں اس پر کئی قیامتیں ٹوٹ پڑتی ہیں۔ حافظ صاحب کو اس جان لیوا مرحلے سے گزرنا پڑا۔ میں نے منصورہ لاہور میں ہارون کے جنازے کے بعد حافظ ادریس صاحب سے تعزیت کی تو انہوں نے کہا میرے رب کی امانت تھی‘ اس نے واپس لے لی۔ ہم ہر حال میں اپنے رب کی حمد و ثنا بیان کرتے اور راضی برضا ہیں۔
یادِ رفتگاں حافظ صاحب کا خاص موضوع تھا۔ وہ جماعت اسلامی کی معروف ہی نہیں بعض غیر معروف شخصیات کے محاسن اُن کی وفات کے بعد اپنے مضامین میں بیان کرتے رہے۔ جماعت اسلامی کے مرکز منصورہ لاہور کے مرکزی دفاتر اور وہاں کی جامع مسجد میں حافظ ادریس صاحب کو ہر لحظہ مشغول و معروف دیکھ کر کبھی یہ گمان بھی نہ گزرتا تھا کہ وہ بھی اچانک کسی لمحے ''رفتگاں‘‘ ہو جائیں گے۔ میں نے گزشتہ نصف صدی کے دوران جب بھی حافظ صاحب کو دیکھا تو ہمیشہ اُن کے لبوں پر مسکراہٹ اور اُن کی زبان پر کسی ہلکے پھلکے مذاق کے ساتھ دیکھا۔ وہ اس حدیث کی عملی تصویر بھی تھے اور تفسیر بھی کہ تمہارے بھائی کیلئے تمہاری مسکراہٹ صدقہ ہے۔ ان کی شخصیت کا یہ مسکراتا پہلو سب کیلئے تھا۔ اسلامی عقیدے کے مطابق موت فنا کا نہیں زندگی کے دوسرے فیز کا نام ہے۔ حافظ ادریس صاحب اس دنیا سے چلے گئے ہیں مگر اُن کی باتیں‘ اُن کی تحریریں اور ان کی یادیں ہمیشہ ہمارے دلوں میں گلوں کی طرح مہکتی رہیں گی... رفتید ولے نہ از دل ما۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved