تحریر : جویریہ صدیق تاریخ اشاعت     26-09-2026

نظام، عوام اور تبدیلی

کچھ لوگ تبدیلی کے خمیر کے ساتھ جنم لیتے ہیں اور کسی جدوجہد کا حصہ بن کر اس کو کامیاب بنا دیتے ہیں۔ کچھ خوش نصیب اس تبدیلی کو دیکھنے کیلئے زندہ رہتے ہیں اور کچھ امید کی لو جلا کر دنیا سے چلے جاتے ہیں۔ مگر ان کے افکار اور نقش قدم پر چلتے ہوئے دوسرے لوگ انقلاب کا سورج دیکھ ہی لیتے ہیں۔ ان کا کیا ہوا کام صدیوں تک لوگوں کے کام آتا ہے اور آنے والی نسلوں کیلئے مشعلِ راہ ثابت ہوتا ہے۔ کچھ میدان میں عملاً جدوجہد کرتے ہیں‘ کچھ لکھ کر اور بول کر لوگوں کے ذہنوں میں انقلاب برپا کر تے ہیں۔ ہمارے سامنے بہت سی مثالیں موجود ہیں۔ علامہ اقبال عظیم شاعر اور فلسفی جنہوں نے اپنے کلام سے مسلمانانِ برصغیر میں بیداری کی لہر پیدا کی۔ انہوں نے ہی پاکستان کا خواب دیکھا حالانکہ اس وقت بظاہر یہ ناممکن تھا مگر ایک طویل جدوجہد کے بعد آج ہم انہی کے خواب کی تعبیر میں جی رہے ہیں۔
کارل مارکس ایک فلسفی اور انقلابی تھے۔ انہوں نے برملا کہا کہ انسانی تاریخ دو مخالف طبقات پر مشتمل ہے؛ جس میں ایک طرف بورژوا (سرمایہ دار) ہیں جو استحصال کرتے ہیں اور دوسری طرف پرولتاریہ (محنت کش) جن کا استحصال ہوتا ہے۔ اسی طرح چے گویرا انقلاب کی ایک بڑی علامت بنے‘ جن کی ٹوپی والی تصویر آج بھی بہت مشہور ہے۔ انہوں نے فیدل کاسترو کے ساتھ مل کر کیوبا میں آمر باٹسٹا کی حکومت گرائی اور بعد ازاں جنگ کے دوران بولیویا میں مارے گئے۔ دوسری طرف نیلسن منڈیلا کو دیکھیں۔ ان کی جدوجہد جنوبی افریقہ میں نسل پرستی کے خلاف تھی۔ انہوں نے 27 سال تک جیل کاٹی۔ رہائی کے بعد انہوں نے کسی سے کوئی بدلہ نہیں لیا بلکہ امن کا پرچار کیا۔ وہ اپنے ملک کے پہلے سیاہ فام صدر بنے اور امن کا نوبیل انعام بھی جیتا۔ کچھ لوگوں کی جدوجہد پُرامن تھی اور کچھ کی خون آلود۔
بھگت سنگھ کو کون بھول سکتا ہے‘ جو صرف 23سال کی عمر میں پھانسی چڑھ گیا۔ وہ پنجاب کا بیٹا تھا ‘ لائل پور کے قریب ایک گاؤں میں پیدا ہوا۔ آزادی کی تمنا اور انقلاب اس کے خون میں تھا۔ سانحہ جلیانوالا باغ نے اس کی زندگی بدل دی۔ وہ گاندھی جی کے عدم تشدد کے فلسفے سے متفق نہیں تھا۔ 1928ء میں بھگت سنگھ نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر برطانوی سامراج کے افسر جان سینڈرز کو قتل کیا تھا اور 1929ء میں دہلی کی اسمبلی میں بم پھینکے۔ اس وقت وہاں ہندوستانی مزدوروں کے خلاف ایک کالا قانون بن رہا تھا۔ بم پھینکے کے بعد تمام افراد نے خود گرفتاری پیش کی اور انہیں 1931ء میں پھانسی دے دی گئی‘ تاہم وہ تاریخ میں امر ہوگئے۔ روزا لکسمبرگ ایک لکھاری اور انقلابی تھیں۔ انہوں نے مزدوروں کے حقوق اور جمہوریت کیلئے جدوجہد کی اور ان کو پہلی عالمی جنگ کے دوران قتل کر دیا گیا۔ مائوزے تنگ نے چین میں کسانوں کو ساتھ ملا کر 20 سال تک جدوجہد کی اور 1949ء میں انقلاب برپا کرکے چین کو سپر پاور بنانے کی بنیاد رکھی۔
اگر ہم اسلامی تاریخ کی بات کریں تو ایک طرف شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے قرآن کریم کا پہلی بار فارسی میں ترجمہ کر کے اور اپنے خطوط‘ خطبات اور کتب کے ذریعے لوگوں میں انقلاب کی فکر کی شمع جلائی وہیں ان کی طرف سے احمد شاہ ابدالی کو ہندوستان بلانے کیلئے خط لکھنا بھی تاریخی حلقوں میں ایک معروف بحث ہے۔ شاہ ولی اللہ کو ہندوستان میں اسلامی انقلاب کا فکری بانی سمجھا جاتا ہے۔ ٹیپو سلطان‘ میسور کے فرمانروا‘ جنہوں نے انگریزوں کو ناکوں چنے چبوائے وہ بھی ہندوستان میں اسلامی انقلاب کے خواہاں تھے۔ وہ بہادری سے لڑتے ہوئے سرنگاپٹم میں شہید ہوئے اور انگریزوں کو ان کا اتنا خوف تھا کہ شہادت کے بعد ان کے جسدِ خاکی کے قریب جانے سے بھی کتراتے رہے۔ 1979ء میں امام خمینی اور ان کے ساتھی ایران میں اسلامی انقلاب لائے جو اب تک برقرار ہے۔
حالیہ تاریخ میں بھی بہت سے ممالک کو تبدیلی کی تحریکوں کا سامنا کرنا پڑا اور اکثر تحریکیں آمر حکمرانوں یا ان کی پالیسیوں کے خلاف تھیں۔ تیونس میں 2011ء سے عرب بہار کی شروعات ہوئی جب ایک ریڑھی بان بوعزیزی نے پولیس کے ظلم سے تنگ آکر خود سوزی کر لی۔ اس کے بعد احتجاج کا ایک سلسلہ شروع ہو گیا اور 23 سال تک حکومت کرنے والے آمر زین العابدین کو ملک چھوڑ کر بھاگنا پڑا۔ تیونس کے بعد مصر میں انقلاب آیا اور حسنی مبارک کو استعفیٰ دینا پڑا۔ اس کے بعد یوکرین میں بھی ایک انقلاب آیا جس کے بعد 2014ء میں روس اور یوکرین کی جنگ شروع ہو گئی۔ سوڈان میں روٹی کی قیمت بڑھنے پر ایک لڑکی آلاء صلاح سفید کپڑوں میں ملبوس‘ ایک گاڑی پر کھڑے ہوکر نعرے لگا رہی تھی۔ وہ انقلاب کی علامت بن گئی اور 30 سال سے حکومت کرنے والا عمر البشیر 2018ء میں حکومت سے محروم ہوگیا۔ اسی طرح 2019ء میں ہانگ کانگ میں چھتری والا انقلاب آیا جس میں بیس لاکھ افراد نے شرکت کی۔ 2022ء میں سری لنکا میں پٹرول‘ بجلی کی قلت اور ملک کے دیوالیہ ہونے پر عوامی انقلاب آیا اور صدر راجا پاکسے کو ملک چھوڑنا پڑا۔ جولائی 2024ء میں بنگلہ دیش کے طالبعلم سڑکوں پر نکل آئے اور انہوں نے حسینہ واجد کی طویل آمریت کا خاتمہ کیا۔ 2025ء میں نیپال میں جین زی کا انقلاب آیا اور وزیراعظم اولی شرما کو استعفیٰ دینا پڑا۔ 2026ء میں بھارت میں چیف جسٹس سوریا کانت نے بیروزگار نوجوانوں کو کاکروچ اور پیراسائٹ کہا۔ انہوں نے کہا کہ کچھ نوجوانوں کو نوکری نہیں ملتی اور وہ سوشل میڈیا پر انقلابی بن کر سب پر حملہ کرنے لگتے ہیں۔ اگلے روز ایک نوجوان ابھیجیت دیپکے نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ اگر سارے کاکروچ اکٹھے ہو جائیں تو کیا ہو گا۔ اس نے سوشل میڈیا پر ہی کاکروچ جنتا پارٹی کی بنیاد رکھی اور اس کے فالوورز کی تعداد چند ہفتوں میں ہی دو کروڑ سے تجاوز کر گئی۔ جب یہ مظاہرہ کرنے بیٹھے تو بی جے پی کے وزیر تعلیم کا استعفیٰ لے کر ہی اٹھے۔
بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ حالات سے تنگ ایک طبقہ پاکستان میں بھی بڑی تبدیلی چاہتا ہے مگر ایسا ہو نہیں پا رہا۔ پاکستانی نوجوان نسل بہت ہوشیار ہے لیکن یہاں تبدیلی کیوں نہیں آتی؟ اس کی وجہ بظاہر یہ ہے کہ پاکستان کے حالات قدرے مختلف ہیں۔ مہنگائی بڑھتی جارہی ہے‘ لیوی اور ٹیکس عوام کی کمر توڑ رہے ہیں لیکن تنقیدی پوسٹ کرنے پر حکومت کے بنائے ہوئے قوانین جیل کی سیر کروا دیتے ہیں۔ جمہوری معاشروں میں یہ نہیں ہوتا کہ وسائل کی تقسیم کرنے کے بجائے بجٹ اپنی نمود و نمائش پر لگا دیے جائیں۔ نہ ہی جمہوریت اس رعونت کی اجازت دیتی ہے کہ جس میں آپ کسی کو جوابدہ نہ ہوں۔ تمام عوامی نمائندے عوام کو جوابدہ ہوتے ہیں مگر ہمارے ہاں آئی ایم ایف کے نام سے ہر چیز کا بوجھ عوام پر ڈالا جا رہا ہے لیکن حیران کن طور پر آئی ایم ایف کو ٹیکس دہندگان کے خرچے پر اشرافیہ کے لائف سٹائل پر اعتراض نہیں۔ حکمران امیر تر ہو رہے اور عوام غریب تر اور ملک کو چلانے کیلئے قرض لیا جا رہا ہے۔ اس حال میں نظام میں بہتری کی کیا امید کی جا سکتی ہے۔ پمز ہسپتال میں چودہ بچے زندہ جل گئے‘ کسی نے ذمہ داری قبول کرتے ہوئے استعفیٰ دیا؟

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved