تحریر : مفتی منیب الرحمٰن تاریخ اشاعت     26-09-2026

شیخ عبدالقادر جیلانی نوّراللہ مرقدہٗ… (2)

(2) آپ لکھتے ہیں: ''اولیاء اللہ کے نزدیک اللہ کے سوا کو ئی حاکم ہے اور نہ کوئی قادر ہے‘ وہی عطا کرنے والا اور وہی روکنے والا ہے‘ وہی بالذات ضرر دینے والا ہے اور وہی نفع دینے والا ہے‘ اس کے سوا موت وحیات دینے والا کوئی نہیں ہے‘ پس اللہ کے نیک بندے شرک کے بوجھ اور مشقت سے آزادی اور راحت میں ہوتے ہیں‘‘ (الفتح الربانی)۔
(3) ارشاد فرمایا: ''اے فرزند! تو ہر عمل صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کیلئے کر‘ کیونکہ غیر اللہ کیلئے تیرا عمل کرنا (باطنی) کفر ہے اور مخلوق کی خاطر کسی چیز کو ترک کر دینا محض ریاکاری ہے۔ جو انسان اس باریک حقیقت سے ناآشنا ہے اور غیر کیلئے دوڑ دھوپ کر رہا ہے‘ وہ اپنی نفسانی ہوس کا اسیر ہے۔ افسوس ہے تجھ پر! تو اپنی زبان سے لا الٰہ کا اقرار کرکے غیر اللہ کی مکمل اور حتمی نفی کرتا ہے اور پھر اِلا اللہ کہہ کر صرف اللہ کی ذاتِ واحد کا مطلق اثبات کرتا ہے‘ لیکن جب تیرا دل اللہ کو چھوڑ کسی دوسرے پر تکیہ اور بھروسا کر بیٹھتا ہے تو تُو اپنے اس اثبات میں جھوٹا ثابت ہو جاتا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ اللہ کے سوا جس پر تُو نے تکیہ کیا‘ وہی تیرا معبود بن گیا‘‘ (الفتح الربانی)۔
(4) تیری اُمیدوں کا محور مخلوق ہے اور تجھے خوف بھی اُسی سے لاحق ہے‘ یاد رکھ! یہی تیرا اپنے رب کے ساتھ شرک (خفی) ہے‘ اگر تجھے کچھ ملے تو تُو بندوں کے قصیدے پڑھتا ہے اور اگر محرومی ہو تو انہی کا شکوہ کرتا ہے‘ یہ روش بھی شرک کا شاخسانہ ہے۔ افسوس! مخلوق کے ہاتھ میں تو کچھ بھی نہیں‘ عطا کرنے اور روکنے کا اصل مالک تو کوئی اور ہے‘ مگر تو توحید کی دولت سے یکسر محروم ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ابتدائی مراحل میں اسباب کا پردہ ہوتا ہے مگر سفر کی انتہا پر صرف مُسبِّب الاسباب کی ذاتِ واحد ہی جلوہ گر نظر آتی ہے۔ تو بس خدا کی توحید پر ثابت قدم رہ‘ وہ تیرے تمام معاملات کی حفاظت فرمائے گا اور تمام بلائوں کا رخ موڑ دے گا۔ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کو گوپھن کے ذریعے آگ میں پھینکا جا رہا تھا تو انہوں نے تمام ظاہری واسطوں اور وسیلوں سے منہ موڑ لیا اور رب کے سوا کسی کی طرف التفات نہ فرمایا‘ اسی لیے رب تعالیٰ نے نمرود کی آگ کو حکم دیا: ''اے آگ! تو ابراہیم پر ٹھنڈک اور سلامتی والی ہو جا‘‘ (الانبیاء: 69)۔ اے اسباب کے پجاریو! تمہارا نفع ونقصان پہنچانے والا‘ تمہارا حاکمِ مطلق اور تمہارا معبودِ برحق صرف ایک ہی ہے‘ کیا تم نے اپنے پروردگار کا یہ فرمان نہیں سُنا: ''پس جو شخص (قیامت کے دن) اپنے رب سے ملاقات کی امید رکھتا ہے‘ اسے چاہیے کہ نیک عمل کرے اور اپنے رب کی عبادت میں کسی ایک کو بھی شریک نہ بنائے‘‘ (الکہف: 110)۔
(5) ''اے نورِ نظر! اللہ ہی کی ذات سے لو لگا اور غیر اللہ سے تعلق توڑ دے‘ یہ کائنات اسی کا گھر ہے‘ رزق عطا کرنے والا وہی ہے اور ہر مخلوق کی روزی اسی کے علم میں مقدر ہے۔ ملائکہ تیرے رزق کی حفاظت پر مامور ہیں اور خیر و شر کے تمام فیصلے اسی کے دربار سے ہوتے ہیں۔ بندے پر آزمائشوں کے تیر اسی کے حکم سے چلتے ہیں اور جب بندہ تسلیم و رضا کے ساتھ اپنی آنکھیں بند کر کے صبر کا دامن تھام لیتا ہے تو طبیبِ حقیقی قریب آ کر خود اس کے زخمی دل پر مرہم رکھتا ہے اور اس کے تمام مصائب کو راحت سے بدل دیتا ہے‘‘ (الفتح الربانی)۔
(6) مرض الموت کے آخری لمحات میں آپ نے اپنے صاحبزادے کو وصیت فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا: ''اے میرے بیٹے! اپنے اوپر اللہ کا تقویٰ اور اس کی اطاعت و بندگی لازم کر لے‘ اس کی ذات کے سوا کائنات میں نہ کسی کا خوف اپنے دل میں بسا اور نہ کسی سے تمنّا و امید رکھ‘ اپنے دل کی ہر حاجت کو اسی کے حضور پیش کر اور اپنی تمام ضرورتیں صرف اور صرف اسی سے مانگ‘ ربِ قدّوس کے سوا کسی غیر پر ہرگز تکیہ نہ کرنا اور تیرا کامل اعتماد اور بھروسا صرف اور صرف اسی کی ذات پر ہونا چاہیے۔ آپ نے تین بار فرمایا: توحید کو لازم پکڑ! کائنات کی تمام عبادتوں کا نچوڑ اور حقیقی روح صرف اور صرف توحید ہی ہے‘‘ (الفتح الربانی)
(7) آپ فرماتے ہیں: شرک فقط بت پرستی کا نام نہیں‘ بلکہ خواہشاتِ نفس کی اتباع اور خدائے عزوَجل کے سوا دنیا و آخرت کی کسی چیز کو مطلوبِ حقیقی بنا لینا بھی شرک کے دائرے میں آ جاتا ہے‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ جو کچھ بھی ہے وہ اس کا غیر ہے۔ لہٰذا جب تو اس کے سوا اس کے غیرکی طرف مائل ہو گا تو بلاشبہ تُو نے غیرکو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرایا‘‘ (فتوح الغیب)۔ اے انسان! جب تک مخلوق سے تیرا یہ رشتہ قائم ہے یعنی تو ان کے دستِ بخشش و عطا پر اپنی نگاہیں لگائے ہوئے ہے اور اپنی ضرورتوں کیلئے ان کے دروازوں کے طواف کر رہاہے تو تُو اللہ کے ساتھ مخلوق کو شریک ٹھہرانے کے جرم کا ارتکاب کر رہا ہے‘‘ (فتوح الغیب)۔ فرماتے ہیں: ''اللہ کے سوا ہر شے غیر اللہ ہے‘ خبردار! اللہ کے مقابلے میں کسی غیر کو قبول نہ کرنا‘ کیونکہ اُس نے تجھے خاص اپنے وصال اور بندگی کیلئے پیدا کیا ہے‘ غیر کے ساتھ دل لگا کر اور رب سے منہ موڑ کر اپنے نفس پر ظلم نہ کرو‘ ورنہ تجھے اُس دہکتی ہوئی آگ میں جھونک دے گا جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں‘‘ (فتوح الغیب)۔
(8) آپ کا فرمان ہے: ''توحیدِ اِلٰہی کو اپنے قلب وجاں میں اس طرح راسخ کر لے کہ تیرے دل سے مخلوق کا نام ونشان تک مٹ جائے‘ نہ کوئی ایک فرد نظر آئے نہ پوری کائنات‘ کہ توحید کا جلال ما سوا اللہ کے ہر وجود کو فنا کر دیتا ہے اور شفا کا کامل سرچشمہ صرف اور صرف اللہ کی توحید میں ہے‘‘۔ اسی مجلس میں مزید فرماتے ہیں: ''اے فرزند! تیرے باطن کی صفائی کیونکر ممکن ہے جب تُو نے دل میں مخلوق کا شرک بسا رکھا ہے‘ تو کیسے فلاح پائے گا‘ جب تیری ہر رات مخلوق کے در پر سجدہ ریز ہوتی ہے‘ تو اسی سے فریاد کرتا ہے اور اسی کے آگے دامنِ سوال پھیلایا کرتا ہے۔ تیرے دل میں طہارت کیسے آئے جبکہ وہ توحید کی روشنی سے خالی ہے۔ توحید محض نور ہے اور شرک محض تیرگی اور تیرا دل تقویٰ کے ایک ذرے سے بھی محروم ہے۔ افسوس! تو مخلوق کا ہو کر خالق سے محجوب (Veiled) ہو گیا‘ اسباب کا بندہ بن کر سبب بنانے والے سے غافل ہو گیا اور بندوں پر تکیہ کر کے اپنے رب سے دور ہو گیا‘‘ (الفتح الربانی)۔
(9) نام نہاد متصوفین کے مکر و فریب کی قلعی کھولتے ہوئے اور شریعت کی سچی اتباع کی بابت آپ فرماتے ہیں: ''صاحبو! (غور کرو) اسلام رو رہا ہے اور ان فاسقوں‘ بدعتیوں‘ گمراہوں اور فریب کا لبادہ اُوڑھنے والے دجّالوںاور ایسی باتوں کا دعویٰ کرنے والوں کے ظلم سے کہ جو اُن میں موجود نہیں ہیں‘ اپنے سر کو تھامے ہوئے فریاد کر رہا ہے۔ذرا اپنے متقدّمین اور نظر کے سامنے والوں کی طرف غور کر جو امر بالمعروف اور نہی عن المنکرکا فریضہ بھی ادا کرتے تھے‘ کھاتے پیتے بھی تھے‘ پھر اچانک اُنہیں اجل نے آ گھیرا اور وہ ایسے ہوگئے گویا کبھی تھے ہی نہیں۔ تیرا دل کس قدر سخت اور پتھر ہو چکا ہے‘ کتا بھی شکار کرنے اور کھیتی‘ مویشی کی نگہبانی ومالک کی حفاظت کرنے میں اپنے مالک کی خیر خواہی کیا کرتا ہے اور اسے دیکھ کر خوشی کے مارے کھلاڑیاں کرتا ہے‘ حالانکہ کہ وہ اس کو شام کے وقت صرف ایک دو نوالے یا ذرا سی مقدار کھانا دیا کرتا ہے اور تو ہر وقت اللہ کی گوناگوں نعمتیں شکم سیر ہوکر کھاتا رہتا ہے‘ مگر ان نعمتوں کے دینے سے جو اس کو مقصود ہے‘ نہ تو اس کو پورا کرتا ہے اور نہ اس کا حق ادا کرتا ہے؛ بلکہ اس کے برعکس اس کا حکم رد کرتا ہے اور اس کی حدودِ شریعت کی حفاظت نہیں کرتا‘‘ (فیوضِ یزدانی)۔ (جاری)

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved