تحریر : رؤف کلاسرا تاریخ اشاعت     27-09-2026

سیانڑے پاکستانی اور عالمی لٹیرے

بہت کم سرکاری افسران گزرے ہیں جو ادب لکھتے تھے‘ انہوں نے اپنا نام بنایا اور انہیں آج بھی پڑھا جاتا ہے۔ ان کی کتابیں آج بھی بیسٹ سیلر سمجھی جاتی ہیں۔ اب بیوروکریٹس کی وہ کلاس‘ جو کتاب پڑھتی اور لکھتی تھی‘ تقریباً ختم ہو چکی ہے۔ اب کوئی سرکاری افسر آپ کو کتاب پڑھتا یا لکھتا نہیں ملے گا۔ اگر ملے گا تو صرف نوٹ گنتا‘ یا بقول خواجہ آصف پرتگال میں جائیدادیں خریدتا ملے گا۔ لہٰذا جب کوئی سرونگ افسر کوئی ایسی تحریر لکھے جس میں ملکی معیشت پر تبصرہ اس انداز میں کیا گیا ہو کہ آپ کو لگے آپ معیشت پر ایک ادبی شاہکار پڑھ رہے ہیں تو آپ کو خوشگوار حیرت ہوتی ہے۔
چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال نے کچھ عرصہ سے ملکی معیشت پر لکھنا شروع کیا ہے تو ان کی تحریروں میں ادبی رنگ نے سب کو متاثر کیا ہے۔ ان سے پہلی دفعہ تعارف قائمہ کمیٹی کے اجلاسوں میں ہوا تھا‘ جب وہ وفاقی سیکرٹری برائے پانی اور بجلی تھے۔ وہاں کئی دفعہ ان کی بریفنگز سنیں اور وہ سیدھی بات کرتے تھے چاہے کسی کو اچھی لگے یا بری۔ ان کے ساتھ ارکان کی کئی دفعہ شدید بحث بھی ہو جاتی تھی۔ بجلی کے مہنگے بلز اور اوپر سے آئی پی پیز کی لوٹ مار کی کہانیاں۔ ان سے سخت سوالات ہوتے تھے تو وہ بعض دفعہ سخت جوابات بھی دیتے تھے۔ تاہم ایک چیز ان کے اندر ضرور تھی جو بعد میں سینیٹ کی فنانس کمیٹی میں کھل کر سامنے آئی‘ وہ ہے ان کی حسِ مزاح اور برجستہ خوبصورت جملہ کسنے کی صلاحیت۔ جب وہ چیئرمین ایف بی آر بنے اور انہوں نے سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیرِ صدارت ہونے والے فنانس اجلاس میں شرکت کرنی شروع کی تو وہاں ان کے برجستہ جملوں سے کمیٹی میں چھائے سنجیدہ یا خشک ماحول میں قہقہوں کی آوازیں گونج اٹھتیں۔ یوں وہ کمیٹی اجلاسوں کو سنجیدہ گفتگو کے ساتھ ساتھ اپنی حسِ مزاح کے تڑکے کے ساتھ خوشگوار رکھتے ہیں۔
میں تقریباً سب کمیٹیوں کے اجلاسوں میں جاتا رہتا ہوں اور مجھے ہر وفاقی سیکرٹری کے حوالے سے کچھ نہ کچھ اندازہ ہے کہ کون کس مزاج کا ہے۔ بعض سیکرٹریز تو اجلاس میں ایساسنجیدہ منہ بنا کر بیٹھتے ہیں کہ لگتا ہے اگر وہ تھوڑا سا بھی کسی بات پر مسکرائے تو جو آسمان انہوں نے اپنے کندھوں پر اٹھا رکھا ہے‘ وہ گر پڑے گا۔ خیر‘ لنگڑیال صاحب کی بات ہو رہی تھی‘ جن سے ایک دفعہ میری آئی فون پر لگنے والے پونے دو لاکھ ٹیکس پر لمبی بات ہوئی تھی۔ اس وقت تو مجھے لگا کہ وہ میری باتوں سے قائل ہو گئے ہیں کہ یہ ٹیکس نہیں ہونا چاہیے لیکن شاید میری ہاں میں ہاں اس لیے ملا دی ہو گی کہ کرنی تو اپنی مرضی ہے۔ انہوں نے سینیٹ کمیٹی میں اس ٹیکس کا یہ کہہ کر دفاع کیا کہ جو پانچ لاکھ کا فون لے سکتا ہے وہ دو لاکھ ٹیکس بھی دے سکتا ہے۔ میرا کہنا تھا کہ پھر تو یہ جدید ٹیکنالوجی صرف امیر طبقات اور ان کے بچوں تک ہی محدود رہے گی۔ لوئر مڈل یا مڈل کلاس تو اسے خریدنے کا سوچ بھی نہیں سکتی۔
انڈیا میں اس وقت ایک ڈالر ستانوے روپے تک پہنچ چکا ہے۔ آج جو فون وہاں ایک لاکھ روپے کا ہے ہمیں سات لاکھ روپے کا ملتا ہے۔ اب اندازہ کریں‘ آپ انڈیا کی نوجوان نسل کا کیسے آنے والے زمانوں میں جدت اور تخلیق میں مقابلہ کر سکیں گے۔ اب جو نئے فونز میں جدید ٹیکنالوجی آ رہی ہے‘ آپ کو تو چاہیے تھا کہ لیپ ٹاپ سکیم کی طرح مفت نہیں تو کم از کم رعایتی قیمت پر یہ فون فراہم کرتے کہ اگلے چند برسوں میں دنیا بدلنے والی ہے۔ بدلنے والی بات شاید پرانی ہو گئی ہے‘ اب تو دنیا اے آئی کے ہاتھوں تباہ ہونے کی باتیں ہونا شروع ہو گئی ہیں۔ ویسے تو پوری قوم‘ خصوصاً اوورسیز پاکستانی عمران خان کے دیوانے ہیں لیکن کسی کو یاد ہے کہ آئی فونز پر دو لاکھ کا ٹیکس ان کا ہی فیصلہ تھا جو شہباز شریف حکومت نے چار سال سے سینے سے لگا رکھا ہے کہ پیسہ مل رہا ہے۔ الٹا جو اوورسیز پاکستانی اپنا فون پی ٹی اے کے ساتھ رجسٹرڈ کراتے یا ایئرپورٹ پر پہلے پاسپورٹ کے ساتھ این او سی لیتے تھے‘ ان کا ڈیٹا بھی چوری ہو کر رجسٹریشن کیلئے پی ٹی اے کے پاس استعمال ہو رہا تھا۔
عمران خان دور میں ڈالر مہنگا ہوا اور ساتھ ہی تقریباً سبھی درآمدی اشیا مہنگی ہوئیں۔ سوا سے ڈیڑھ لاکھ کا فون پانچ لاکھ کا ہو گیا اور اُس پر دو لاکھ مزید ٹیکس لگا دیا گیا۔ سارے نہیں تو زیادہ تر سیاستدانوں‘ وزیروں اور وفاقی سیکرٹریز کو فون تحفے میں ملتے ہیں‘ لہٰذا ان کی بلا سے فون سات لاکھ کا ہو جائے یا سترہ لاکھ کا۔ اب راشد لنگڑیال صاحب کی تازہ تحریر پڑھ رہا تھا جو ڈالر کے بارے میں تھی کہ وہ کیسے اس عام آدمی کو بھی روز متاثر کرتا ہے جس نے آج تک ڈالر کی شکل بھی نہیں دیکھی۔ ان کے کہنے کا مطلب ہے کہ ڈیزل‘ پٹرول اور گیس درآمد تو ڈالروں میں ہوتے ہیں لیکن پاکستان میں یہ روپوں میں بیچے جاتے ہیں۔ اگر 2018ء میں عمران خان سے پہلے ڈالر ایک سو پانچ روپے یا ایک سو دس روپے کا تھا ‘ اورعمران خان کی حکومت جاتے وقت 182 روپے کا تھا تو اس وقت پٹرول کی قیمت بھی کم ہو گی۔ لیکن آج ڈالر تقریباً 280روپے کا ہے تو بے شک تیل کی قیمت پچاس ڈالر فی بیرل ہی کیوں نہ ہو‘ پاکستان میں پھر بھی تیل مہنگا ہو گا ۔پاکستان کی معیشت کو ڈالر کے ساتھ جوڑنے کا کام شوکت عزیز نے پرویز مشرف دور میں کیا تھا کہ اب عالمی مارکیٹ کی جو قیمت ہو گی‘ وہی پاکستانیوں کو بھی دینی پڑے گی۔ اب وہ سلسلہ ختم ہوا کہ پورا سال پٹرول‘ ڈیزل کی قیمت ایک ہی رہے گی اور سال کے بعد بجٹ میں اضافہ ہو گا۔ اُس وقت بجٹ کی بڑی کشش یہی پٹرول‘ ڈیزل کی قیمت یا سرکاری ملازمین کی تنخواہ اور پنشن میں اضافہ تھا۔ پھر دھیرے دھیرے یہ سلسلہ سہ ماہی‘ پھر ماہوار‘ پھر پندرہ روز‘ پھر ہفتہ واراور اب روزانہ تک آ گیا ہے۔ جب ملک میں بجلی بھی درآمدی تیل اور ایل این جی سے بنے گی‘ اور اربوں ڈالر کی غذائی اجناس بشمول گندم بھی باہر سے منگوائیں گے تو پھر بیشک کسی نے ڈالر دیکھا ہے یا نہیں‘ سبھی ان اجناس کی یکساں قیمت ادا کریں گے۔ اندازہ کریں کہ ہم جو ڈالرز ادھار قرض پر لا رہے ہیں اور ان پر سات‘ آٹھ فیصد سود بھی دے رہے ہیں‘ وہ کہاں جا رہا ہے۔
ابھی سینیٹ کی ایک کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی میں ایف آئی اے نے انکشاف کیا کہ دنیا بھر سے پاکستان کا وزٹ ویزہ لگوا کرچین‘ برما‘ انڈونیشیا‘ ویت نام‘ افریقی ممالک‘ ملائیشیا وغیرہ سے سینکڑوں فراڈیے پاکستان میں کال سینٹرز قائم کر کے 172 ارب روپے لوٹ کر نکل گئے ہیں‘ تقریباً ساڑھے چھ سو ملین ڈالر۔ یہ سب پیسہ کرپٹو کرنسی کے ذریعے پاکستان سے نکالا گیا۔ ہم دنیا بھر سے سات‘ آٹھ فیصد سود پر ڈالرز لا رہے ہیں اور یہ فراڈیے وزٹ ویزے لے کر پاکستانیوں کو جعلی سکیموں‘ بینک فراڈ‘ سم فراڈ‘ سرمایہ کاری سکیموں‘ شناختی کارڈ فراڈ‘ واٹس ایپ ہیک فراڈ کر کے نکل گئے ہیں۔ فراڈ کرنے کیلئے انہوں نے پاکستانی لڑکوں کو ان کال سینٹرز میں چند ہزار کی نوکری دی ہوئی تھی‘ جو رات بھر جاگ کر کام کرتے اور والدین کو بڑے فخر سے بتاتے تھے کہ ہمیں امریکہ کی کمپنیوں نے سیلز اور مارکیٹنگ کیلئے بھاری معاوضے پر ہائر کر رکھا ہے۔ یہ امریکی کمپنیوں کیلئے سیلز مین کے طور پر یہیں پنڈی کی ہاؤسنگ سوسائٹیز میں واقع کال سینٹرز میں اپنے ہی پاکستانیوں کے ساتھ ساری رات فراڈ کرتے ہیں۔ فراڈ کرنے کے سب جدید طریقے یہ غیرملکی فراڈیے باہر سے آ کر سمجھاتے اور ساتھ میں جدید آلات بھی لاتے ہیں۔ اور والدین خوش ہیں کہ ہمارا میٹرک پاس بچہ امریکی کمپنی میں جاب کرتا ہے۔ہر پاکستانی خود کو بڑا سیانڑا سمجھتا ہے۔ اگلے برما اور افریقہ سے آ کر ان سے اربوں لوٹ گئے ہیں۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved