تحریر : عمران یعقوب خان تاریخ اشاعت     27-09-2026

بڑا شور سنتے تھے پہلو میں دل کا

یقین نہیں آتا کہ کوئی سیاسی پارٹی اس طرح بھی اپنی بھد اڑا سکتی ہے جس طرح پاکستان تحریک انصاف اڑا رہی ہے۔ پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے احاطے سے القادر ٹرسٹ کیس کے تناظر میں نو مئی 2023ء کو گرفتار کیا گیا تھا۔ اس کے بعد انہیں پانچ اگست 2023ء کو ان کی لاہور میں زمان پارک میں واقع رہائش گاہ سے توشہ خانہ کیس میں دوبارہ گرفتار کیا گیا۔ تب سے اب تک بانی پی ٹی آئی جیل میں ہیں اور ان کی پارٹی کی جیل سے باہر قیادت احتجاجی مظاہروں اور لانگ مارچ کی کم و بیش درجن بھر کالیں دے چکی ہے لیکن ہوتا یہ ہے کہ لانگ مارچ کا اعلان کیا جاتا ہے‘ تاریخ طے کی جاتی ہے‘ لانگ مارچ کے غبارے میں اتنی ہوا بھری جاتی ہے کہ دیکھنے‘ سننے والے سوچنا شروع کر دیتے ہیں کہ پتا نہیں کیا ہونے والا ہے لیکن پھر اچانک اس پھولے ہوئے غبارے کا وہ سرا ہاتھ سے نکل جاتا ہے یا از خود چھوڑ دیا جاتا ہے جہاں دبا کر ہوا کو روکا گیا ہوتا ہے اور اس میں سخت دباؤ کے تحت بھری گئی ہوا شوں شوں کر کے نکلنا شروع ہو جاتی ہے۔ لانگ مارچ مؤخر کرنے سے اس بار تو غبارہ یوں سمجھیں پھٹ ہی گیا ہے۔ وجہ کیا ہے؟ یہ کسی کو معلوم نہیں اور لگتا ہے‘ یہ ایسی راکٹ سائنس ہے کہ کسی کو معلوم ہو بھی نہیں سکتی۔ ہر بار نتیجہ خواجہ حیدر علی آتش کے اس شعر جیسا نکلتا ہے:
بڑا شور سنتے تھے پہلو میں دل کا
جو چیرا تو اک قطرۂ خوں نہ نکلا
اور اس بار نتیجہ کچھ زیادہ ہی نکلا ہے۔
سابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کے دور میں بڑے بلند بانگ دعوے سننے کو ملتے رہے اور موجودہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا بھی ان سے کم نہیں ہیں‘ لیکن خان صاحب کے شاید وہ مقاصد پورے نہیں ہو سکے جن کو پیشِ نظر رکھ کر انہوں نے گزشتہ برس صوبے کا حکمران تبدیل کیا تھا۔ جو معاملات پہلے تھے‘ وہی اب بھی ہیں۔ جیسی چال پہلے تھی‘ اب بھی ہے۔ خان صاحب پہلے بھی جیل میں تھے‘ اب بھی جیل میں ہیں۔ ان کے حق میں کوئی دبنگ تحریک نہ پہلے چلائی جا سکی نہ اب چل پا رہی ہے۔ تحریک‘ احتجاج اور لانگ مارچ پی ٹی آئی کیلئے ایک ایسا گولہ بن چکے ہیں جو چھوٹنے سے پہلے ہی ایک ہلکی سی جھرجھری لے کر ٹھس ہو جاتا ہے۔ جس گولے سے زوردار دھماکے کے ساتھ پھٹنے کی توقع باندھی گئی ہوتی ہے اس میں سے ہلکا سا دھواں نکلتا ہے اور بس پھر اس کا The End ہو جاتا ہے۔ 27 ستمبر کے لانگ مارچ کا مکمل دی اینڈ ہو چکا ہے یا آئندہ ماہ اس کے تن مردہ میں نئی روح پھونکی جائے گی‘ پھر سے ہوا بھری جائے گی‘ اس بارے میں وثوق کے ساتھ کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ میرا ذاتی اندازہ یہ ہے کہ اگلی کوئی کوشش بھی کامیاب نہیں ہو سکے گی کیونکہ لانگ مارچ کا جو مومینٹم اب بن چکا تھا‘ ویسا بنانا آئندہ ماہ شاید ممکن نہ ہو۔ وہ جو آنند بخشی نے کہا تھا:
مجھے تیری محبت کا سہارا مل گیا ہوتا
اگر طوفاں نہیں آتا کنارا مل گیا ہوتا
یہاں تو نہ طوفان آ رہا ہے نہ کوئی کنارا مل رہا ہے اور محبت کا سہارا ملتا بھی کہیں نظر نہیں آتی۔ صورتحال بالکل ایران امریکہ جنگ جیسی بن چکی ہے۔ نہ جنگ ہو رہی ہے‘ نہ امن قائم ہو رہا ہے۔ پھنسے ہوئے نزلہ و زکام کی مثال بھی دی جا سکتی ہے جس میں ناک نہ پوری طرح بہتی ہے‘ نہ ہی خشک ہوتی ہے۔ بس بندہ شوں شوں کرتا رہتا ہے۔ عرصے سے اب بس ایسی شوں شوں ہی سننے کو مل رہی ہے۔
بے دلی کے ساتھ کیا گیا کوئی بھی کام نتیجہ خیز نہیں ہوتا۔ اگست کے آغاز میں جب وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے لانگ مارچ کیلئے 27 ستمبر کا دن دیا تو سب کو حیرت ہوئی تھی کہ ڈیڑھ پونے دو ماہ بعد کی تاریخ دینے میں پتا نہیں کیا منطق ہے۔ دو تین ہفتے گزرے تو یہ آوازیں اٹھنا شروع ہو گئیں کہ تیاری مکمل نہیں ہے اس لیے لانگ مارچ ملتوی یا مؤخر کیا جائے‘ اور یا للعجب یہ آوازیں خود پی ٹی آئی کے اندر سے اٹھ رہی تھیں‘ تاہم پارٹی کی اعلیٰ قیادت ڈٹی رہی کہ لانگ مارچ ضرور ہو گا۔ پھر جمعۃ المبارک کی سہ پہر اچانک پتا نہیں کیا ہو گیا کہ احتجاج مؤخر کر دیا گیا‘ اور یہ پہلا موقع نہیں کہ پلان ٹھس ہوا ہے‘ ایسا پی ٹی آئی کے ورکر اس سے پہلے کئی بار ہوتا دیکھ چکے ہیں۔ ہم بھی۔
اور پی ٹی آئی پر ہی موقوف نہیں‘ اپنی جماعت اسلامی کو دیکھ لیں۔ پہلے احتجاج کیا گیا‘ پھر گورنر ہاؤسز کے باہر دھرنے دیے گئے‘ پھر اسلام آباد لانگ مارچ کا اعلان کیا گیا‘ لانگ مارچ شروع بھی ہو گیا لیکن جب میلہ جما‘ جب مومینٹم بنا تو وزیر اعظم کی ایک فون کال پر سب کچھ ہالٹ کر دیا گیا۔ پتا نہیں حکمرانوں کے پاس کون سی گیدڑ سنگھی ہے کہ اپوزیشن کا کوئی احتجاج جم ہی نہیں پا رہا‘ کوئی لانگ مارچ رنگ ہی نہیں پکڑ رہا۔ عین وقت پر غبارے سے ہوا شوں شوں کر کے نکل جاتی ہے اور پھر ایک نئی تاریخ کا اعلان کر دیا جاتا ہے۔ میں تو اسے وزیر اعظم شہباز شریف کی خوش بختی ہی قرار دوں گا ورنہ کون سا معاملہ ہے جس پر احتجاج نہیں کیا جا سکتا‘ لانگ مارچ منعقد نہیں کیا جا سکتا۔
باقی چیزیں اپنی جگہ لیکن میں اپنے مہربان وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ کا پی ٹی آئی کی جانب سے لانگ مارچ مؤخر کیے جانے کے بعد دیا گیا یہ بیان سن کر زیر لب ضرور مسکرا دیا ہوں جس میں انہوں نے پی ٹی آئی کی جانب سے لانگ مارچ کو مؤخر کرنے کے فیصلے پر ردِ عمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ دھرنوں سے بھاگ گئے‘ ہمت ہے تو آؤ۔ انہوں نے کہا کہ ان کی لانگ مارچ اور دھرنے کی کوئی تیاری بھی نہیں تھی۔ یعنی ایک طرف لانگ مارچ کے تناظر میں پورا اسلام آباد سیل کیا گیا اور دوسری طرف چیلنج بھی دیا جا رہا ہے کہ ہمت ہے تو آؤ اور لانگ مارچ کر کے دکھاؤ۔ ایک تو اپوزیشن کی لانگ مارچ کی بیل منڈھے نہیں چڑھ پا رہی اوپر سے عطا صاحب پی ٹی آئی والوں کو اشتعال دلا رہے ہیں۔میرا خیال ہے جتنی بار پی ٹی آئی کے ورکرز کو لانگ مارچوں اور احتجاجوں کی کالیں دی جا چکی ہیں اس سے تو اب تک وہ تھک چکے ہوں گے۔ شاید لانگ مارچوں میں شرکت کرنے سے وہ اتنا نہ تھکتے جتنا وہ اب تھک چکے ہوں گے۔ لیڈرشپ اور پھر سیاسی لیڈرشپ وہ ہوتی ہے جو اپنے فیصلوں پر قائم رہے۔ ٹھیک ہے کبھی کبھی یو ٹرن لے لینے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں لیکن زیادہ تر کیے گئے فیصلوں پر عمل درآمد ہونا چاہیے کہ یہ کسی سیاسی جماعت‘ کسی سیاسی لیڈر کے وقار اور ساکھ کا معاملہ ہوتا ہے۔
کہا جا رہا ہے کہ اب پی ٹی آئی چار اکتوبر کو مارچ کرے گی۔ جب کالم لکھ رہا تھا تو ایک دوست پاس بیٹھا تھا۔ یہاں تک لکھ لینے کے بعد اسے سنایا تو وہ بولا کہ پی ٹی آئی کو اب بھی سوچ لینا چاہیے‘ ایک ہفتے میں تیاری تھوڑی ہو جاتی ہے‘ تیاری نہیں ہے تو پھر سوچ لیں‘ پہلی بار قطرۂ خوں نہیں نکلا تو ایک ہفتے بعد کیسے نکل آئے گا؟

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved