یہ مان بھی لیں کہ پاکستانیوں کو آئین نے یہ حق دیا ہے کہ جس موسم‘ مہینے‘ سال اور دن کو چاہیں وہ اسلام آباد پر یلغار کر سکتے ہیں تو اس سے انہیں حاصل ہی کیا ہو گا؟ پہلی بات تو یہ ہے کہ اگر سیاسی جماعت یا کسی اور نوعیت کا گروہ دھاوا بولے تو آپ دوسروں کو بھی ایسے ہی دھاووں کی اجازت دیں گے؟ سب یہ کہتے ہیں‘ اور یہ سب کچھ کہنے کی حد تک ہے کہ وہ پُرامن احتجاج کریں گے۔ سبھی سیاسی جماعتوں اور دیگر گروہوں کے دعوے ہم نے پوری زندگی دیکھے ہیں‘ وہ کبھی پُرامن نہیں رہے۔ تشدد صرف یہ نہیں ہوتا کہ آپ پولیس کے اہلکاروں پر گولیاں چلائیں۔ کیا یہ کم ہے کہ بچوں کے سکول بند اور شفا خانوں کا راستہ مریضوں کے لیے روک دیں اور وہ جو بیچارے دیہاڑی دار ہیں وہ فاقے کریں۔ میں کئی ایسے مظاہروں‘ جلوسوں اور مارچوں کا عینی شاہد رہا ہوں۔ یہ بھی مان لیتے ہیں کہ جماعتوں اور گروہوں کی ایسی کوئی منصوبہ بندی نہیں ہوتی مگر شرپسند عناصر کہیں سے ان کے جلوسوں میں گھس آتے ہیں۔ اگر ایسا ہے تو پھر شرپسند عناصر کو یہ موقع کیوں دیا جانا چاہیے؟ جماعتوں اور گروہوں کو تشدد کرتے دیکھ کر اب عام شہریوں نے بھی احتجاج کرنے کے لیے تشدد کا راستہ اختیار کر لیا ہے۔ اگر کہیں سڑک پر کوئی ٹریفک حادثہ ہو جائے اور کوئی راہ گزرتا دیہاتی یا گنجان آباد شہروں کا کوئی محلے دار اس کا نشانہ بنے تو اب یہ بات عام ہو چکی ہے کہ لوگ جتھوں کی صورت گھروں سے نکلتے ہیں اور اس گاڑی کوآگ لگا دیتے ہیں۔ اگر کوئی ڈرائیور ان کے ہتھے چڑھ جائے تو خوش قسمتی ہی ہو گی کہ وہ ان کے تشدد سے اپنی جان بچا سکے۔ کچھ شہروں میں تو اب یہ معمول کی بات بن چکی ہے کہ اگر کوئی ڈاکو پکڑا جائے تو اسے تشدد سے مار دیا جاتا ہے۔ یہ رویے اتنے عام ہو چکے ہیں کہ ان کے خلاف نہ کوئی لکھ سکتا ہے نہ بول۔ لوگ کہیں گے کہ آخر ڈاکو ایسا کام کیوں کر رہا تھا؟ بات یہ نہیں کہ کوئی ڈاکو یا چور ہے تو لوگ خود عوامی انصاف کر کے موقع پر ہی اس کی جان لے لیں۔ یہ معاشرے میں تشدد پسندی اور لاقانونیت کی علامتیں ہیں۔ اصل بات تو ملک کے اندر سیاسی کشمکش کی ہے کہ اسے یوں رہنے دیا جائے یا اس کا کوئی پائیدار حل نکالا جائے۔ ملک کے اندر کسی سے بات کریں تو وہ اس کے حل کے علاوہ اور کوئی دوسری بات نہیں کرے گا۔ اس قومی اتفاق کے باوجود پھر کیوں مفاہمت نہیں ہوتی؟ اگر ہم اپنی تاریخ پر نظر ڈالیں‘ شروع سے لے کرآج تک کتنے مواقع ہمیں ملے جو ہم نے ضائع کر دیے۔ مفاہمت ہو سکتی تھی مگر باہمی ضد اور کشمکش کی فضا میں بحران گہرے اور وسیع ہوتے چلے گئے۔ پھر جو نتائج نکلے‘ ان کی طرف کوئی دھیان کر کے دیکھ لیں اور کچھ تجزیہ کریں تو حکمرانوں کی کوتاہ نظری اور محدود مفادات کی سیاست کے علاوہ کچھ نظر نہیں آئے گا۔ یہاں نہ کوئی عوامی انقلاب لا سکتا ہے اور نہ ہی کھلی آمریت۔ ہماری تاریخ اور سیاسی روایات ان سے بہت مختلف ہیں۔ برصغیر کی شناخت کی علمی‘ ثقافتی اور سماجی تحریکوں کی صدیوں پر محیط تاریخ ہے۔ نیز ہماری سیاست‘ جمہوری اداروں‘ آئین‘ قانون اور ریاستی ڈھانچے پر برطانوی راج اور اس کی تاریخی روایات کا اثر ہے۔ اسی لیے تو یہاں ہر نوع کی آمریتوں کے خلاف تحریکیں چلی ہیں اور آئندہ بھی ایسا ہو گا۔ مغرب کی طرف خطے میں بہارِ عرب کی تاریخی تحریک چلی اور فلسطینیوں نے 80 کی دہائی میں انتفاضہ‘ یعنی ''جاگو اور جگائو‘‘ کی تحریک چلائی۔ میرا نظریہ سماجی تحریکوں کے بارے میں کچھ مختلف ہے‘ شاید آپ سے مختلف نہ ہو۔ میرے نزدیک کوئی بھی پُرتشدد تحریک کامیاب نہیں ہو سکتی۔ ایک زمانہ تھا جب کچھ ملکوں میں مسلح جدوجہد ہوئی مگر وہ صرف بیرونی اور سامراجی طاقتوں کے خلاف کسی حد تک کامیاب ہوئی۔ نیلسن منڈیلا جو 30 سال سے زیادہ عرصے تک اذیت ناک قید میں رہے‘ آخرکار انہوں نے عدمِ تشدد کا راستہ اختیار کیا اور سفید فام اقلیت سے جنوبی افریقہ کو آزادی دلائی۔ دنیا پُرتشدد تحریکوں اور ان کے وسیع قبرستانوں سے بھری پڑی ہے۔ اس طرف چلے تو بات لمبی ہو جائے گی۔ ہمارا تو مسئلہ یہ ہے کہ ہم پُرامن مفاہمت اور سیاسی مذاکرات سے بحرانوں سے اپنا راستہ نکالنے کی قومی سکت کھوتے چلے جا رہے ہیں۔ اب قابلِ احترام لوگ بھی گنے چنے رہ گئے ہیں جو مختلف طاقتوں اور سیاسی رہنماؤں سے بات کر کے مفاہمت کی ترغیب دیں یا مشورہ دیں‘ تو شاید کوئی سُن لے۔
ایک اور بات بھی مان لیتے ہیں کہ اس وقت کی حکومت کی جائزیت کی بنیاد کمزور ہے۔ گزشتہ انتخابات کے بارے میں بھی سوال اٹھا سکتے ہیں اور یہ بھی کہ سرپرستی بھی ہے۔ تو کیا اسلام آباد پر چڑھائی اور لانگ مارچوں سے راستہ نکل سکتا ہے؟ جذباتی سیاست اور مدبرانہ حکمتِ عملی میں بہت فرق ہے۔ اگر کسی تدبیر میں حکمت نہیں تو یوں سمجھیں کہ آپ جان بوجھ کر کوئی حادثہ کرنا چاہتے ہیں جس میں لوگوں کی جانیں جا سکتی ہیں۔ میں خود چونکہ جوانی میں انقلابی رہ چکا ہوں تو انقلابی نعروں کی گروہی نفسیات سے کچھ آگاہی ہے۔ بہت اچھا لگتا ہے کہ اکٹھے ہو جاؤ‘ آگے بڑھو‘ جو طاقت میں ہیں ان کے خلاف یہ کر دو‘ وہ کر دو۔ اسلام آباد میں ایسے واقعات اب اکثر ہوتے ہیں۔ کبھی آپ کو موقع ملا تو سرینگر ہائی وے‘ جناح ایونیو اور دیگر سڑکوں کو اینٹوں‘ پتھروں اور ہر طرح کے عوامی ہتھیاروں سے اس طرح اٹا دیکھا ہو گا گویا ابھی آسمان سے آفت برسی ہے۔ گزشتہ ایک مضمون میں کچھ لانگ مارچوں کی تاریخ کا مختصر ذکر کر چکا ہوں۔ 15 لانگ مارچ ہو چکے ہیں اور 27ویں کی تاریخ‘ جو کل تھی‘ شاید ناموافق حالات کی وجہ سے اب تبدیل ہو چکی ہے۔ جب بھی وہ آئیں گے‘ کنٹینر ان کے استقبال کے لیے شہر کے سب داخلی راستوں پر موجود ہوں گے اور یہاں تک پہنچنے کے لیے انہیں کئی دریا‘ پہاڑ اور خندقیں عبور کرنی پڑیں گی۔ ایسی سیاست میں مجھے کوئی حکمت‘ تدبیر یا دور اندیشی نظر نہیں آتی۔ عوام‘ اسلام آباد کے شہریوں اور ملک کی تو بات ہی نہ کریں۔ اگر اس سے پہلے اسلام آباد میں 15 لانگ مارچ ناکام ہو چکے ہیں تو یہ نتیجہ نکالنا مشکل تو نہیں ہونا چاہیے کہ اگلے کا انجام کیا ہو گا۔ یہ مارچ صرف ہمارے ملک میں ہوتے ہیں۔ کبھی سنا ہے کہ افغانستان‘ ایران‘ عراق سے آگے سب ممالک شامل کر لیں‘ کبھی کوئی مارچ ہوا ہو؟ آزادی ہے تو ہم مارچ کرتے ہیں‘ اور اس آزادی کو سیاسی کشیدگی اور تناؤ میں تبدیل کرنے سے کوئی مقصد حاصل نہیں ہو سکتا۔ ہزاروں افراد‘ خصوصاً نو جوانوں کو ترغیب دے کر یہ راستہ دکھانا‘ ان کی زندگیوں سے کھیلنے کا گھناؤنا کھیل ہمارے ہر نوع کے سیاستدان نہ جانے کب سے کھیل رہے ہیں‘ اور ہم ہیں کہ ان کی چال بازیوں سے کوئی سبق سیکھنے کے لیے تیار نہیں۔
انقلابوں کا زمانہ گزر گیا۔ پُرتشدد تحریکوں کا انجام دیکھا ہے اور ان کے بارے میں بہت کچھ لکھا جا چکا ہے۔ اپنے ملک میں جو رجحانات دیکھ رہے ہیں‘ عدمِ تشدد کی بات کرنا ہمارے اکثر متمول مگر فطری طور پر ناخوش لوگوں کو ناگوار گزرتا ہے۔ ہمیں اپنی لولی لنگڑی جمہوریت کو اگر بیساکھیوں پر بھی چلانا پڑے تو اسے چلتے رہنا چاہیے کہ اگر ہمارے بزرگوں کی طرح یہ بیٹھ گئی تو پھر شاید کبھی نہ اُٹھ سکے۔ ہماری قومی بقا‘ سالمیت‘ ہم آہنگی اور امن بھی جمہوری اداروں اور رویوں کو مضبوط کرنے میں ہے۔ سیاسی کشمکش کسی بھی جواز سے ہو‘ ملک کے مفاد میں نہیں۔ مسائل ہمارے ایسے نہیں جو حل نہیں ہو سکتے۔ بات فقط یہ ہے کہ ہمارے حکمران سیاست کا پہلا سبق بھول چکے ہیں‘ یا پھر کبھی پڑھا ہی نہیں۔ یہ سیاست کچھ لے اور دے کی بنیاد پر‘ درمیانی راستے پر چلتی ہے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved