تحریر : کنور دلشاد تاریخ اشاعت     28-09-2026

احتجاج اور گورنر راج

اٹھارہویں آئینی ترمیم کی بدولت صوبائی حکومتیں مالی و انتظامی طور پر خودمحتاری کی وجہ سے شتر بے مہار ہو چکی ہیں۔یہ سرکاری وسائل کے ضیاع‘ قومی سلامتی اوراحتساب کا بھی سوال ہے۔وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے 30 جولائی اور بعد ازاں 5 ستمبر کو گورننس کے بارے میں حکومت کو آئینہ دکھایا اور جرأت مندانہ انداز میں قوم کی ترجمانی کرتے ہوئے آگاہ کیا کہ سسٹم ناکام ہو چکا ہے اور تمام ادارے ناکام سسٹم کی علامت بن چکے ہیں۔ اداروں میں کرپشن کس نہج پر ہے‘ اس کیلئے وزارتِ خارجہ کی اندرونی رپورٹ کے انکشافات پر نظر ڈالنا کافی ہے جس کے مطابق کاغذات کی تصدیق کیلئے شہریوں سے ایک سال کے دوران مبینہ طور پر 12 ارب روپے کی رشوت وصول کی گئی اور اس مبینہ کرپشن میں سیکرٹری آفس سمیت اہم افسران ملوث تھے۔ بتایا جا رہا ہے کہ تحقیقاتی رپورٹ تیار کرنے والی ٹیم کے سربراہ ڈائریکٹر جنرل آڈٹ کو ہی گزشتہ تاریخوں میں معطل کر دیا گیا‘ یعنی جس نے کرپشن کی نشاندہی کی‘ اسے ہی معطل کر دیا گیا۔ کیا اس معاملے میں وزیراعظم اور نائب وزیراعظم‘ جو وزیر خارجہ بھی ہیں‘ کوئی ایکشن لیں گے؟ رولز آف بزنس کے تحت گریڈ 20 کے افسر کی معطلی کے احکامات وزیراعظم آفس سے ہی آ سکتے ہیں۔ وزارتِ خارجہ حساس ترین وزارتوں میں سے ہے‘ اس ادارے میں 12 ارب روپے کی کرپشن کی روداد رپورٹ کی صورت میں پیش کر دی گئی‘ اب وقت کا تقاضا یہ ہے کہ اس معاملے کی جامع انکوائری کرائی جائے تاکہ حقیقت سامنے آ سکے۔ اقتدار کی راہداریوں میں یہ خبر گردش کر رہی ہے کہ گورننس کا سسٹم فلاپ ہو چکا ہے اور اس کا اعتراف چونکہ وزیرداخلہ کر چکے لہٰذا معاملہ اب متبادل سیٹ اپ کی طرف جا تا نظر آرہا ہے۔
اس وقت ملک میں سیاسی تنائو عروج پر ہے۔ ایک طرف آزاد کشمیر میں کالعدم ایکشن کمیٹی کا احتجاج جاری ہے دوسری طرف پاکستان کسان اتحاد سڑکوں پر نکلنے کا عندیہ دے رہی ہے جبکہ جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کے لانگ مارچ بھی مختصر وفقے کے لیے موخر کئے گئے ہیں۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ ملک کا سسٹم کیسے چلے گا اور کون چلائے گا؟ خبریں گردش کر رہی ہیں کہ صدر مملکت بھی سسٹم سے نالاں ہیں۔بہرحال بہتر تو یہی ہے کہ لانگ مارچ کی نوبت نہ آئے‘ تمام فریق کوئی ایسا درمیانی راستہ نکالیں جو شخصیات‘ انا اور سیاسی ضد سے بالاتر ہو کر ملک کے وسیع تر مفاد میں ہو۔ ملک سیاسی تقسیم سے پہلے ہی بہت نقصان اٹھا چکا‘ اب تمام فریقین کو اپنی انا کی تسکین کے بجائے ملک کے مفاد کو ترجیح دینا ہوگی۔ دوسری طرف اسلام آباد کے حالات دیکھیں تو یہاں کے شہری تنگ آ چکے ہیں۔ پورا شہر سیاسی احتجاجوں کے حصار میں ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ اس بار دارالحکومت کی طرف ایک نہیں بلکہ مختلف سیاسی اور سماجی گروہوں کے مارچ متوقع ہیں۔ حکومت اور انتظامیہ نے اس صورتحال کے پیش نظر سکیورٹی انتظامات نہایت سخت کر رکھے ہیں۔ کنٹینرز کے ذریعے اہم شاہراہوں اور داخلی و خارجی راستوں کو بند کیا جا چکا ہے۔ یہ صورتحال اس سوال کو دوبارہ سامنے لے آتی ہے کہ آخر سیاسی احتجاج کو روکنے‘ راستے بند کرنے اور ہزاروں سکیورٹی اہلکار تعینات کرنے پر ریاست کو کتنی قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔ 20 نومبر 2024ء کی ایک معاصر کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد پولیس کے افسران نے بتایا کہ جولائی سے نومبر 2024ء کے دوران تقریباً پانچ ماہ میں تحریک انصاف کے مختلف احتجاجوں‘ جلسوں اور سیاسی سرگرمیوں سے نمٹنے پر قومی خزانے سے ایک ارب گیارہ کروڑ روپے سے زائد خرچ ہوئے۔ رقم کا ایک بڑا حصہ کنٹینرز کے کرائے کی مد میں ادا کیا گیا جو 24 کروڑ 77 لاکھ 30 ہزار 500 روپے تھا۔ پولیس‘ فرنٹیئر کانسٹیبلری اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی نقل و حرکت اور ایندھن کیلئے 87 کروڑ روپے خرچ ہوئے جبکہ تعینات اہلکاروں کے کھانے کیلئے 32 کروڑ روپے مختص کیے گئے۔ 600 کنٹینرز کا صرف ایک دن کا کرایہ دو کروڑ 40 لاکھ روپے تھا جبکہ 60 گاڑیوں کا کرایہ 12 لاکھ روپے اور 6 ہزار اہلکاروں کے دو وقت کے کھانے کا خرچ 24 لاکھ روپے تھا۔ آنسو گیس اور انسدادِ ہنگامہ آرائی کے دیگر سامان کی لاگت اس رقم میں شامل نہیں۔ کنٹینرز لگانے کے باعث نہ صرف اسلام آباد اور راولپنڈی کے درمیان آمد و رفت شدید متاثر ہوتی ہے بلکہ مریض‘ طلبہ‘ مزدور اور روزانہ اجرت پر کام کرنے والے افراد کے علاوہ کاروباری سرگرمیاں بھی شدید متاثر ہوتی ہیں جبکہ بعض علاقوں میں اشیائے خور و نوش کی سپلائی متاثر ہوتی ہے۔ایک سوال یہ بھی ہے کہ جب ایک احتجاج کو روکنے کیلئے شہر کے داخلی راستے بند کیے جاتے ہیں تو اس کا بوجھ کس پر پڑتا ہے؟ اگرچہ یہ حقیقت ہے کہ مختلف ممالک میں سکیورٹی کی صورتحال‘ احتجاج کی نوعیت اور مقامی قوانین کے مطابق راستوں کی عارضی بندش اور پولیس رکاوٹیں استعمال ہوتی ہیں تاہم ایسی بدحواسی کا مظاہرہ کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔ اب حالات کافی بدل چکے ہیں۔ اگر نومبر 2024ء میں احتجاج کو روکنے کے انتظامات پر ایک ارب روپے سے زیادہ اخراجات ہوئے تو سوچیں آج یہ اخراجات کہاں پہنچ چکے ہوں گے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہر نئے احتجاج کے موقع پر اسی طرز کی بھاری تعیناتی اور بڑے پیمانے پر کنٹینرز بندی طویل مدت میں قابلِ عمل حکمت عملی ہے؟ اگر سڑکیں بند کرنے‘ کنٹینرز لگانے اور اہلکاروں کی تعیناتی پر عوام کا پیسہ خرچ ہوتا ہے تو اس خرچ کی شفاف تفصیلات بھی عوام کے سامنے رکھی جانی چاہیے۔
ملکی حالات اور بین الاقوامی کشیدگی کو دیکھتے ہوئے تمام فریقین کو جذبات کے بجائے بردباری اور تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ سیاسی مذاکرات کے ذریعے ہی فیصلہ کن راستہ کھلے گا۔ ہمیں ملک و قوم کو تقسیم سے بچانا اور ذاتی انا سے باہر آنا ہو گا۔ مشرق وسطیٰ کے حالات سنگین تر ہوتے جا رہے ہیں اس کے اثرات دیگر ممالک تک بھی پھیل سکتے ہیں۔ پاکستان بھی اس صورتحال کے اثرات کی زد میں ہے۔ان حالات میں پاکستان میں اندرونی انتشار کو ختم کرنے کے لیے جامع مذاکرات کا آغاز کرنا ہو گا تاکہ سیاسی امور و مسائل حل ہو سکیں۔خیبر پختونخوا حکومت کی احتجاجی تحریک کے تناظر میں آج کل ہر جگہ گورنر راج کی گردان سنائی دے رہی ہے۔ آئین کے آرٹیکل 234 کے تحت گورنر کی رپورٹ پر صدرِ پاکستان یہ سمجھتے ہوئے کہ صوبائی حکومت آئین کے مطابق نہیں چل سکتی‘ صدارتی فرمان جاری کر کے گورنر کو صوبے کے حکومتی اختیارات سنبھالنے کی ہدایت کر سکتے ہیں۔ اس صدارتی فرمان کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے سامنے منظوری کے لیے پیش کرنا ہوتا ہے۔ تاہم ملکی تاریخ سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ گورنر راج عموماً بحران کے فوری انتظام کے لیے استعمال ہوا مگر مستقل سیاسی حل نہیں بن سکا۔ اسے ایک غیر معمولی اور عارضی آئینی اقدام سمجھا جاتا ہے نہ کہ معمول کے حکومتی نظام کا متبادل۔پاکستان میں گورنر راج کے نفاذ کی بات کی جائے تو 1973ء میں بلوچستان میں صدرِ پاکستان ذوالفقار علی بھٹو نے گورنر راج نافذ کیا۔ 1976ء میں آئین کے آرٹیکل 234 کے تحت وفاق نے بلوچستان کے حکومتی اختیارات سنبھالے۔ 1993ء میں صدرلغاری نے وزیراعلیٰ سرحد صابر علی شاہ کو سبکدوش کرنے کیلئے گورنر راج نافذ کیا اور بعد ازاں آفتاب شیرپاؤ کواسمبلی میں اکثریت حاصل کرنے اور وزیراعلیٰ منتخب ہونے کاموقع ملا۔ جسٹس افتخار چودھری اور عدلیہ کی بحالی کی تحریک کے دوران فروری 2009ء میں پنجاب میں صدر آصف علی زرداری نے آرٹیکل 234 کے تحت پنجاب میں گورنر راج نافذ کیا جو چیف جسٹس افتخار چودھری کی بحالی پر ختم کر دیا گیا۔ آخری بار 2013ء میں اسمبلیوں کی مدت پوری ہونے سے چند ماہ قبل بلوچستان میں گورنر راج نافذ کر کے نواب اسلم رئیسانی کی حکومت کو معزول کیا گیا تھا۔لیکن یہ سبھی گورنر راج عبوری بندوبست تھے‘ کسی مسئلے کا مستقل سیاسی حل فراہم نہ کر سکے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved