حکومت کی جانب سے ہر سال دعویٰ کیا جاتا ہے کہ پاکستان کا ٹیکس نظام جدید‘ آسان اور ڈیجیٹل ہو رہا ہے۔ اربوں روپے خرچ کرکے نظام کو بہتر بنانے کی بات کی جاتی ہے مگر زمینی حقیقت یہ ہے کہ آج بھی ہزاروں ٹیکس دہندگان معمولی تکنیکی غلطیوں کی وجہ سے اپنے گوشوارے جمع کرانے سے محروم رہ جاتے ہیں۔ اس وقت جب ریٹرنز فائل کرنے میں صرف چند دن باقی رہ گئے ہیں‘ انکم ٹیکس ریٹرن میں خیبر پختونخوا کے ضلع کرم کے صدر مقام پارا چنار کا نام موجود نہ ہونے کی وجہ سے وہاں جائیداد رکھنے والے افراد ریٹرنز میں اپنی پراپرٹی ظاہر نہیں کر پا رہے۔ یہ بظاہر ایک چھوٹی سی غلطی نظر آتی ہے‘ لیکن اس کے اثرات بہت بڑے ہیں۔ ریٹرن لیٹ فائل کرنے پر 25 ہزار روپے تک جرمانہ ادا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اصل مسئلہ صرف پارا چنار کا نہیں بلکہ پورے ملک میں ٹیکس ریٹرن فائلنگ کے دوران سامنے آنے والی تکنیکی خرابیوں کا ہے۔ رواں سال ریٹرن فارم میں سینکڑوں تکنیکی خامیوں کی نشاندہی کی گئی۔ ٹیکس بارز نئے ریٹرن فارم میں اب تک تقریباً 500 سسٹم بگز اور خامیوں کی نشاندہی کر چکے ہیں‘ جس سے فائلنگ کا عمل متاثر ہوا۔ ایسے مسائل میں اثاثوں کی درست میپنگ نہ ہونا‘ سابقہ معلومات کا ظاہر نہ ہونا‘ جائیدادوں اور بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات اَپ ڈیٹ نہ ہونا اور پورٹل کی سست رفتاری سرفہرست ہیں۔ حکومت کا ہدف ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح بڑھانا ہے۔ مالی سال 2025-26ء میں ایف بی آر نے تقریباً 14 ہزار ارب روپے سے زائد محصولات اکٹھے کیے جبکہ رواں مالی سال کیلئے 17 ہزار ارب روپے سے زیادہ کا ہدف رکھا گیا ہے۔ اتنا بڑا ہدف حاصل کرنے کیلئے نئے ٹیکس دہندگان کو نظام میں لانا ضروری ہے‘ لیکن اگر موجودہ فائلرز ہی سسٹم کی خرابیوں سے پریشان ہوں تو نئے لوگ اس نظام پر کیسے اعتماد کر سکتے ہیں؟ ورلڈ بینک نے ایف بی آر کے Pakistan Raises Revenue منصوبے کے تحت ابتدائی طور پر 400 ملین ڈالر فراہم کیے تھے جس میں 80 ملین ڈالر ایف بی آر کے آئی ٹی نظام‘ سافٹ ویئر اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی بہتری کیلئے مختص تھے۔ 2025ء میں مزید 70 ملین ڈالر کی منظوری کے بعد منصوبے کی مجموعی رقم 470 ملین ڈالر ہو گئی۔ اس منصوبے کا مقصد ایف بی آر کے آئی ٹی نظام‘ ڈیٹا اینالیٹکس اور ٹیکس کمپلائنس کو بہتر بنانا تھا۔ سوال یہ ہے یہ پیسہ کہاں استعمال کیا گیا؟ اگرکروڑوں روپے کے محصولات دینے والا ایک پورا شہر سسٹم سے غائب ہو سکتا ہے تو دیگر معلومات کی درستی کی کیا ضمانت ہے؟
پاکستان کی معیشت کیلئے خلیجی ممالک صرف تجارتی شراکت دار نہیں بلکہ توانائی‘ ترسیلاتِ زر اور سرمایہ کاری کے حوالے سے بھی انتہائی اہم ہیں۔ تاہم خلیجی ممالک کے ساتھ پاکستان کا تجارتی توازن مسلسل ہمارے خلاف جا رہا ہے۔ رواں مالی سال کے پہلے دو ماہ میں خلیجی ممالک کے ساتھ پاکستان کا تجارتی خسارہ تین ارب 45 کروڑ ڈالر رہا جو گزشتہ سال اسی عرصے کے تین ارب 36 کروڑ ارب ڈالر کے مقابلے میں 2.61 فیصد زیادہ ہے۔ رواں سال جولائی تا اگست پاکستان کی مجموعی برآمدات تقریباً پانچ ارب 46 کروڑ ڈالر جبکہ درآمدات 12 ارب 58 کروڑ ڈالر رہیں‘ جس کے نتیجے میں تجارتی خسارہ سات ارب 12 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا۔ گزشتہ سال اسی عرصے میں تجارتی خسارہ تقریباً چھ ارب 30 لاکھ ڈالر تھا یعنی محض دو ماہ میں تجارتی خسارے میں تقریباً ایک ارب 90 ڈالر کا اضافہ ہوا۔ جولائی اور اگست میں مشرق وسطیٰ کیلئے پاکستانی برآمدات 7.4 فیصد بڑھ کر 550 ملین ڈالر ہو گئیں جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں یہ تقریباً 512 ملین ڈالر تھیں۔ لیکن دوسری طرف خطے سے درآمدات 3.2 فیصد بڑھ کر تقریباً چار ارب ڈالر ہو گئیں۔ یعنی برآمدات میں اضافہ ہونے کے باوجود درآمدات کا حجم کہیں زیادہ رہا۔ اگر پاکستان اپنی برآمدات میں ویلیو ایڈیشن بڑھاتا ہے‘ خلیجی مارکیٹ کیلئے خصوصی مصنوعات تیار کرتا ہے‘ شپنگ کے متبادل راستے بناتا اور پاکستانی کمپنیوں کو ان منڈیوں تک براہ راست رسائی دیتا ہے تو تجارتی خسارہ کم کرنے کی گنجائش پیدا ہو سکتی ہے۔
ایشیائی ترقیاتی بینک کی تازہ رپورٹ نے پاکستان کی معیشت کے بارے میں ایک مرتبہ پھر یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ کیا پاکستان کی معاشی رفتار اتنی ہے کہ بڑھتی ہوئی آبادی‘ روزگار‘ مہنگائی اور حکومتی اخراجات کے مسائل کو حل کر سکے؟ اے ڈی بی نے ستمبر 2026ء کی اپنی ایشین ڈویلپمنٹ آئوٹ لُک میں پاکستان کی مالی سال 2026-27ء کی معاشی ترقی کا اندازہ 3.7 فیصد رکھا ہے‘ اس کے ساتھ ہی مہنگائی کی شرح 8.3 فیصد رہنے کا تخمینہ لگایا ہے۔ 3.7 فیصد کی معاشی ترقی بظاہر ایک مثبت شرح ہے‘ لیکن پاکستان جیسے ملک کیلئے اصل سوال یہ ہے کہ یہ ترقی روزگار اور عام آدمی کی آمدنی میں کتنی بہتری لا سکتی ہے۔ حکومت نے بجٹ میں مالی سال 2026-27ء کا معاشی ترقی کا ہدف چار فیصد رکھا تھا‘ جبکہ اے ڈی بی کا اندازہ اس سے 0.3 پوائنٹ کم ہے۔ افراطِ زر کا 8.3 فیصد کا تخمینہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب تازہ سرکاری اعداد وشمار میں قیمتوں کا دباؤ دوبارہ بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔ اس کے علاوہ علاقائی ممالک کے مقابلے میں پاکستان میں معاشی ترقی کی رفتار خاصی کم ہے۔ ستمبر 2026ء میں بھارت کی ترقی کی رفتار 7 فیصد بتائی گئی ہے جبکہ جنوبی ایشیا کی مجموعی ترقی 2026ء میں 6.4 فیصد اور 2027ء میں 6.5 فیصد رہنے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔ پاکستان میں 3.7 فیصد کی شرح علاقائی رفتار سے نمایاں طور پر کم ہے۔ پاکستان کی معیشت کیلئے یہ مالی سال ایک مشکل امتحان ہو سکتا ہے۔ 3.7 فیصد ترقی‘ 8.3 فیصد متوقع مہنگائی‘ 15.264 کھرب روپے کا ایف بی آر ٹیکس ہدف‘ 18.771 کھرب روپے کے وفاقی اخراجات اور 8.207 کھرب روپے کی سودی ادائیگیاں‘ یہ وہ اعدادوشمار ہیں جنہیں الگ الگ نہیں بلکہ ایک دوسرے سے جوڑ کر دیکھنے کی ضرورت ہے۔ اگر ٹیکس وصولی مقررہ ہدف سے کم رہتی ہے‘ مہنگائی پیشگوئی سے اوپر چلی جاتی ہے اور توانائی کی عالمی قیمتیں بلند رہتی ہیں تو حکومت کے مالی اختیارات مزید محدود ہو سکتے ہیں۔
حکومت نے سوشل میڈیا سے آمدنی حاصل کرنے والے کانٹینٹ کریئیٹرز پر بھی ٹیکس عائد کرنے کا فیصلہ کیاہے۔ ایف بی آر نے سوشل میڈیا آمدنی کے حساب کیلئے ویوز اور آر پی ایم کا خصوصی طریقہ نافذ کیا ہے۔ ایک ہزار ویوز پر 195 روپے کا آر پی ایم بینچ مارک رکھا گیا ہے۔ 10 لاکھ ویوز ہوں تو اس فارمولے سے آمدنی ایک لاکھ 95 ہزار روپے بنتی ہے‘ تاہم 195 روپے ٹیکس نہیں بلکہ قابلِ ٹیکس آمدن ہے۔ اصل وصول شدہ آمدنی اور آر پی ایم سے بننے والی رقم میں سے زیادہ رقم کو دیکھا جائے گا جبکہ زیادہ سے زیادہ 30 فیصد تک مخصوص اخراجات منہا کیے جا سکتے ہیں۔ سرکار نے کس حساب سے یہ فارمولا نافذ کیا ہے‘ اس بارے میں خاصی تشویش پائی جاتی ہے کیونکہ پاکستانی کانٹینٹ کریئیٹرز کی حقیقی آمدنی فی ہزار ویوز 195 روپے سے کہیں کم ہے۔ مزید پیچیدگی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب یوٹیوب چینل کسی سوشل میڈیا ایجنسی کے ایڈسنس اکاؤنٹ سے منسلک ہو۔ ایسی صورت میں ایجنسی اپنی سروس فیس یا کمیشن کاٹ کر ہی باقی رقم کریئیٹر کو دیتی ہے۔ ایسے معاملات میں یہ کیسے واضح ہو گا کہ مجموعی آمدنی کتنی تھی‘ ایجنسی نے کتنی فیس لی اور کریئیٹرز کو حقیقت میں کتنی رقم ملی؟ ڈیجیٹل معیشت کو ٹیکس نیٹ میں لانا اپنی جگہ ضروری ہے لیکن محض ویوز کو حقیقی آمدنی کا معیار نہیں بنایا جا سکتا کیونکہ ایک جیسے ویوز رکھنے والے دو چینلز کی آمدنی قدرے مختلف ہو سکتی ہے۔ اس لیے ٹیکس نظام میں حقیقی وصولی‘ پلیٹ فارم کی کٹوتیوں‘ ایجنسی کمیشن اور پہلے سے ادا کیے گئے ٹیکس کو واضح طور پر مدنظر رکھنا ضروری ہے تاکہ ٹیکس نیٹ وسیع بھی ہو اور کانٹینٹ کریئیٹرز پر غیرضروری بوجھ بھی نہ پڑے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved