تحریر : نسیم احمد باجوہ تاریخ اشاعت     28-09-2026

اعجاز صاحب کا اعجازِ بیان

اُن کی تحریروں کے مجموعہ کا نام بجا طور پر ''اعجازِ بیان‘‘ رکھا۔ بڑے سائز کی کتاب! آپ نے ضرور ملاحظہ فرمایا ہوگا کہ دنیا کے (خصوصاً ہندو پاک کے) کئی علاقے وہاں پیدا ہونے والے ادیبوں اور شہروں کے نام کا حصہ بن جاتے ہیں۔ جالندھر کے حفیظ۔ لدھیانہ کے ساحر۔ بٹالہ کے اعجاز حسین اور عاشق حسین۔ مراد آباد کے جگر۔ مچھلی شہر کے سلام۔ کشمیر کے آغا حشر اور شورش۔ پانی پت کے الطاف حسین حالی۔ دہلی کے شاہد احمد۔ فتح پور کے نیاز۔ تھانہ کے شوکت۔ لائل پور کے بخش۔ (اچھا شاعر جس نے ساری زندگی لندن گزار کر یہیں وفات پائی)۔ میرٹھ کے اسماعیل۔ انبالہ کے وقار۔ جہلم کے حمید (اپنے وقت کے بڑے صحافی)۔ مثالیں تو اور بھی دی جا سکتی ہیں۔
1991ء میں برطانیہ کی ایک اچھی یونیورسٹی (Nottingham) سے قانون کی اعلیٰ تعلیم (ایل ایل ایم) حاصل کرنے کے بعد میں نے برطانیہ میں وکالت شروع کی تو پھر لاہور کا خیال آیا۔ میرا دوست شہر جسے میں 1967ء میں دل پر جبر کرکے چھوڑ آیا تھا مگر اُس کی یاد نے میرے دل کو نہیں چھوڑا۔ میں اولین فرصت میں لاہور گیا اور بار کا رکن بن کر لائسنس حاصل کر لیا۔ یہ مرحلہ طے ہوا تو میں ہائیکورٹ کے احاطے میں گھوما پھرا۔ جج صاحبان کی عدالتوں میں جھانکا۔ دو جج صاحبان (مقدمہ کی سماعت کے دوران) نے آخری قطار میں کھڑے (صرف پندرہ منٹ پہلے وکیل بنے ہوئے) شخص کو پہچان لیا۔ وہ تھے میاں نذیر احمد اور سجاد احمد سپرا۔ اُنہوں نے مسکراتے ہوئے دوستانہ ہاتھ ہلایا اور اپنے مددگار کے ذریعے مجھے چائے کے وقفہ میں اُن سے ملنے کی دعوت دی‘ جو میں نے بصد خوشی قبول کر لی۔ یونیورسٹی میں یہ دونوں صاحبان میرے دوست تھے اور ہم عصر بھی۔ تجدیدِ ملاقات 32 برس بعد ہوئی تو رشتہ بدل چکا تھا۔ وہ عدالت عالیہ میں منصف کی کرسی پر بیٹھے ہوں گے اور میں ان کے سامنے پیش ہو کر اور ان سے 'مائی لارڈ‘ کے الفاظ میں مخاطب ہو کر اور بطور نو آموز وکیل اپنے موکل کا موقف ادب و احترام سے بیان کروں گا۔ جب یہ صورتحال نظر آئی تو دل کچھ کبیدہ خاطر اور بوجھل ہو گیا ۔ اس کا ایک ہی علاج تھا اور وہ تھا ہائیکورٹ سے متصل سڑک‘ ٹرنر روڈ کی سیر۔ وہاں ایک صدی سے وکلا کے دفاتر ہیں۔ فی مربع گز دنیا میں سب سے زیادہ گنجان وکیلوں کے چیمبرز وہاں پائے جاتے ہیں۔ یہ بھی امید تھی کہ شاید کوئلوں پر بھونے ہوئے مکئی کے بھٹے یا برف میں لگی ہوئی گنڈیریاں بھی کسی ریڑھی سے مل جائیں تو اپنی کم مائیگی کا غم غلط ہو جائے گا۔ خوش قسمتی سے مطلوبہ ریڑھی مل گئی مگر اس سے کہیں بڑی خوش قسمتی میری منتظر تھی۔ اعجاز بٹالوی اپنے دفتر میں کھڑے اپنے پڑوسی (اور بہت اچھے وکیل) رحمان صاحب سے (ریڑھی سے شاپنگ کرتے ہوئے) باتیں کر رہے تھے۔ وہ مجھے نہ جانتے تھے مگر میں نے انہیں پہچان لیا۔ آگے بڑھ کر اپنا تعارف کرایا تو وہ مجھے اپنے دفتر کے اندر مزیدار چائے پلانے اور چائے سے زیادہ مزیدار باتیں سنانے لے گئے۔ وہ اچھی اور دلچسپ گفتگو کرنے میں کمال رکھتے تھے۔ پہلی ملاقات میں ہی ایک گرمجوش دوستانہ رشتہ قائم ہوا مگر جب اُن کے دفتر سے اُٹھا تو مجھے یہ خیال بار بار آتا تھا کہ جس شخص کیلئے میرے دل میں اتنا احترام تھا اور ہے‘ وہ بھٹو صاحب پر قتل کے چلائے جانے والے مقدمے میں استغاثہ کے وکیل بنے۔ اس مقدمہ کے قانونی پہلوئوں پر اس کا سیاسی پہلو (جنرل ضیا الحق کی بدنیتی اور بھٹو صاحب کو اپنے راستہ سے ہٹانے کی مذموم کوشش) اتنا زیادہ حاوی تھا کہ ان جیسے معزز اور اعلیٰ درجے کے وکیل کو بھٹو صاحب کو قتل کے مقدمہ میں مجرم ثابت کرنے اور پھانسی لگوانے کی ذمہ داری نہیں لینی چاہیے تھی۔ میری نظر میں یہ ان کے دامن پر واحد داغ ہے اور ایک بڑا داغ۔ بڑی مشکل سے میں نے اپنے مندرجہ بالا تحفظ پر قابو پایا۔ یہ سوچ کر کہ کوئی انسان بھی فرشتہ نہیں ہوتا۔ جب اپنی کوتاہیوں‘ لغزشوں اور گناہوں پر نظر پڑی تو دل سے اعجاز بٹالوی صاحب کیلئے ساری شکایت دور ہوگئی۔
1991ء کے بعد میں جب بھی لاہور جاتا‘ ہائیکورٹ میں پیشہ ورانہ مصروفیات سے فارغ ہو کر ہمیشہ بٹالوی صاحب کی خدمت میں حاضری دیتا۔ ملاقات مختصر ہوتی یا طویل‘ چائے پلائی جاتی یا نہیں‘ اُن کو دیکھ کر ہی اور اُن کے منہ سے الفاظ بڑی عمدگی سی ادا ہوتے سُن کر دل خوش ہو جاتا۔ گاہے گاہے جب میں لندن میں لبِ دریا سیر کرتا ہوں تو اُن کی مدھر آواز میرے کانوں میں آتی ہے۔ ایک بار حاضر ہوا تو میرے ہاتھ میں تازہ خریدی ہوئی کتاب دیکھی۔ مجھ سے مانگی اور صفحۂ اول پر میر تقی میر کا شعر لکھا اور پھر اُسے بار بار پڑھا کر سنایا۔ برطانیہ میں میرے دوستوں کی بڑی تعداد کتاب خریدنے کی قائل نہیں۔ وہ اپنے ملنے والوں سے کتابیں اُدھار لے کر پڑھتے ہیں اور پھر واپس بھی نہیں کرتے۔ مذکورہ بالا کتاب‘ جس پر اعجاز صاحب کے ہاتھ کا لکھا ہوا میرؔ کا شعر تھا‘ کوئی مہربان لے گیا۔ کئی سال گزر گئے مگر مجھے یہ قیمتی کتاب واپس نہیں ملی۔ ہمارے ادبی اور ثقافتی اُفق پر ایسی بہت کم شخصیات نظر آتی ہیں جو ہمہ جہت ہوں (سید عابد علی عابد کی طرح)۔ اعجاز صاحب نہ صرف چوٹی کے وکیل تھے بلکہ بہت اچھے افسانہ نگار‘ نقاد‘ شاعر‘ معلم اور براڈ کاسٹر بھی تھے۔ آخری لفظ لکھ کر یاد آیا کہ میرے اور میرے مرحوم مہربان دوست میں وکالت سے قطع نظر ایک قدر اور بھی مشترک تھی۔ ہم دونوں نے برطانوی نشریاتی ادارے (BBC) میں (بطور براڈ کاسٹر) چار سال جز وقتی ملازمت کی۔
اعجاز صاحب کے دونوں بھائیوں (آغا بابر) اور (عاشق حسین بٹالوی) نے بھی نام کمایا۔ پہلے نے ڈرامہ میں اور دوسرے نے تاریخ نویسی میں۔ میں نے 1960ء میں ریگستان تھل کے کنارے نئی آبادی (جوہر آباد) میں لائبریری سے ایک کتاب لے کر بڑے ذوق و شوق سے پڑھی۔ نام تھا ''آگ کا دریا‘‘۔ ناول نگار تھیں قرۃ العین حیدر۔ پڑھتا پڑھتا جب اُس صفحہ پر پہنچا جہاں اس کمال کی خاتون نے اعجاز بٹالوی کا نام لکھ کر ان کا تعریفاً ذکر کیا تو سچ جانیے کہ میں رشک کے مارے دم بخود ہو گیا۔ آگے پڑھنا مشکل ہو گیا تو وہی دل دکھانے والی سطور بار بار پڑھتا رہا۔ بٹالوی صاحب ایک روشن‘ خوشبودار‘ چمکتے دمکتے تخلیقی عہد کی پیداوار تھے اور نشانی۔ یہ عہد سرسّید اور مولانا الطاف حسین حالی سے چلتا ہوا اقبال تک پہنچا۔ وہاں سے آگے بڑھا تو فیض‘ صوفی تبسم‘ عابد علی عابد‘ سجاد باقر رضوی‘ شہزاد احمد‘ محمد حسن عسکری‘ قرۃ العین حیدر اور اس درجے کے درجنوں بلند پایہ ادیبوں تک پہنچا۔ آخر ی پڑائو پر انتظار حسین‘ احمد فراز‘ ناصر کاظمی‘ منیر نیازی اور افتخار عارف نظر آتے ہیں جنہوں نے اس نشاۃ ثانیہ کے دور کو زندہ و تابندہ رکھا۔ صد افسوس کہ اب یہ دور آخری سانسیں لے رہا ہے۔
امریکہ میں رہنے والے اُن کے دو دیرینہ دوستوں (دائود راہبر اور شمیم احمد) نے ان کی وفات کے بعد ان پر بہت عمدہ اور دل کے تار ہلا دینے والے تعزیتی مضامین لکھے جو ''اعجازِ بیان‘‘ میں شامل کئے گئے۔ اعجاز بٹالوی مذکورہ بالا تمام بڑے ادیبوں کی طرح ہمارا قیمتی سرمایہ تھے جو ہماری بدقسمتی سے ہم سے چھن گیا۔ ہم اُن جیسا کہاں سے لائیں؟ وہ تہذیبی سانچہ ہی ٹوٹ گیا جو ایسے ذہین اور باغ و بہار قسم کے لوگ پیدا کرتا ہے۔ ٹرنر روڈ کی وہ عمارت جہاں وہ اپنے دفتر میں اتنے سال بیٹھے‘ وہ ہائیکورٹ جس میں انہوں نے پریکٹس کی‘ وہ لاء کالج جس میں اُنہوں نے اتنے برس پڑھایا‘ سب اُسی جگہ جہاں ہیں جہاں وہ پہلے تھے مگر اب وہاں اعجاز حسین بٹالوی نہیں۔ میں ایک اور کتاب لے کر ٹرنر روڈ کا رُخ کیوں کروں جہاں میرکا شعر لکھنے والا نہیں رہا۔ 80 سال کی عمر پا کر آٹھ مارچ 2004ء کو وہ دنیا سے رخصت ہوئے تو لاہور سے فلوریڈا تک صفِ ماتم بچھ گئی۔ درمیان میں لندن آتا ہے‘ جہاں اُن کا ایک مداح اپنی پُرنم آنکھوں کے ساتھ رہتا ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved