تحریر : شاہد صدیقی تاریخ اشاعت     30-09-2026

راولپنڈی کا ریلوے سٹیشن: ایک قدیم رومانس …(3)

باہر زوروں کا مینہ برس رہا تھا اور میں راولپنڈی کے ریلوے سٹیشن کے ویٹنگ روم میں بیٹھا ریل گاڑی سے جڑی یادوں کے سحر میں کھویا ہوا تھا۔ تب مجھے ''شعلے‘‘ فلم یاد آگئی۔ جس نے بالی وُڈ کی فلموں کا رخ بدل دیا تھا۔ یہ اردو کے معروف شاعر جاں نثار اختر کے بیٹے جاوید اختر اور سلیم خان کی لکھی ہوئی کہانی تھی۔ شعلے فلم کا آغاز ایک ٹرین کے سفر سے ہوتا ہے جس پر ڈاکو حملہ کردیتے ہیں۔ اس ٹرین میں دو قیدی بھی سفر کر رہے ہوتے ہیں جن کی نگرانی پر مامور پولیس افسر اُن کی ہتھکڑیاں اس شرط پر کھول دیتا ہے کہ وہ ڈاکوؤں سے مقابلہ کریں گے اور فرار نہیں ہوں گے۔ دونوں قیدی ڈاکوؤں سے دیوانہ وار لڑتے ہیں حتیٰ کہ حملہ آور پسپا ہو جاتے ہیں۔ اس دوران قیدی چاہتے تو بھاگ بھی سکتے تھے لیکن دونوں نے پولیس افسرسے کیے گئے وعدے کا پاس رکھا اور واپس اسی ڈبے میں آکر اپنی سیٹ پر بیٹھ گئے۔''چنائی ایکسپریس ‘‘فلم کا تو نام ہی ایک ٹرین کے نام پر تھا۔ اس فلم کا بڑا حصہ ٹرین کے سفر پر مشتمل تھا۔ ہالی وڈ کی کئی فلموں کی کہانیوں میں ٹرین ایک مرکزی کردار ہے۔ پھر مجھے وہ دن یاد آ یا جب میں نے راولپنڈی کے سیروز سینما میں Von Ryan's Expressفلم دیکھی تھی۔ فلم کا آخری سین مجھے ابھی تک ہانٹ کرتا ہے۔
ریل‘ ریل کی پٹری اور ریلوے سٹیشن تو اردو میں استعارے بن گئے ہیں۔ امجد اسلام امجد کے اس شعر میں ریل کے سفر کے تجربے کو کس خوبصورتی سے خیال کی تفہیم کیلئے استعمال کیا گیا ہے: جیسے ریل کی ہر کھڑکی کی اپنی اپنی دنیا ہے؍ کچھ منظر تو بن نہیں پاتے کچھ پیچھے رہ جاتے ہیں
امجد اسلام امجد ہی کے ان اشعار میں ریل زندگی کا استعارہ بن کر ابھرتی ہے: ٭تھے خواب ایک ہمارے بھی اور تمہارے بھی؍ پر اپنا کھیل دکھاتے رہے ستارے بھی٭ پہ جیسے ریل میں دو اجنبی مسافر ہوں؍ سفر میں ساتھ رہے یوں تو ہم تمہارے بھی
ریل اور ریل کی پٹری میں ایک عجیب پُراسرار کشش ہے۔راولپنڈی کے ریلوے سٹیشن کے ویٹنگ روم میں بیٹھے مجھے اردو کے جواں مرگ شاعر شکیب جلالی کا خیال آرہا ہے۔ کیا البیلا شاعر تھا۔تازہ خیال‘ جدید ڈکشن‘ منفرد تشبیہات اور استعارے۔ اسکی موت کے بعد احمد ندیم قاسمی نے اسکی شاعری کی کتاب''روشنی اے روشنی‘‘ شائع کی۔ کہتے ہیں شکیب جلالی کی زندگی معاشی مجبوریوں سے بہت مشکل ہو گئی تھی‘ اتنی مشکل کہ ایک دن اس نے موت کو گلے لگانے کا فیصلہ کر لیا۔ موت کا طریقہ اسکے ذہن میں واضح تھا۔ شکیب کے ایک شعر میں آئندہ کے منظر کی جھلک دیکھی جا سکتی ہے۔
فصیلِ جسم پہ تازہ لہو کے چھینٹے ہیں؍ حدودِ وقت سے آگے نکل گیا ہے کوئی
شکیب نے جب موت کا گلے لگانے کا فیصلہ کیا تو اس کی عمر محض 33 برس تھی۔ یہ 1966ء کا سال تھا جب سرگودھا کے ریلوے سٹیشن پر شکیب جلا لی چیختی چلاتی ٹرین کے سامنے آگیا اور حدود ِ وقت سے آگے نکل گیا۔
پھر مجھے سارہ شگفتہ کا خیال آیا‘ جدید نظم کی منفرد شاعرہ جسکے شعری مجموعے ''آنکھیں‘‘میں اس کے تخلیقی جوہر کھلتے ہیں۔ نئے موضوعات اور اچھوتا اندازِبیاں۔ سارہ شگفتہ کی اپنی زندگی بھی کسی افسانے سے کم نہیں تھی۔ یہ 1986ء کا سال تھا جب منفرد لہجے کی اس خوبصورت شاعرہ نے ٹرین کے سامنے ا ٓکر اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا ۔اُس وقت اُس کی عمر صرف 30 برس تھی۔تب مجھے اردو کے ایک اور جواں مرگ شاعر آنس معین کا خیال آیا۔ اُن دنوں میں راولپنڈی کے گورڈن کالج میں پڑھتا تھا اور ہم دوست کلاسز کے بعد زمزم ہوٹل پہ بیٹھا کرتے تھے۔وہیں میں آنس کی شاعری سے پہلی بار متعارف ہوا۔ اس کی کے اسلوب کا بانکپن سب سے جدا تھا:
انجام کو پہنچوں گا میں انجام سے پہلے
خود میری کہانی بھی سنائے گا کوئی اور
یہ 1986ء کا سال تھا جب 27 سالہ آنس معین نے ریل کی پٹری پر ٹرین کے سامنے ا ٓکر موت کو گلے لگا لیا۔
اور پھر ثروت حسین جس کے بغیر اردو غزل کی تاریخ مکمل نہیں ہوتی۔ ثروت کو بھی ریل کی پٹری میں ایک عجیب سی کشش نظر آئی‘ اتنی کشش کہ موت زندگی سے حسین نظر آنے لگی۔ ثروت حسین کے ایک شعر میں آنے والے واقعات کی چاپ صاف سنائی دیتی ہے۔
موت کے درندے میں اک کشش تو ہے ثروت
لوگ کچھ بھی کہتے ہوں خودکشی کے بارے میں
یہ 1993ء کی بات ہے جب ثروت کراچی سے حیدرآباد جانے کیلئے ریلوے سٹیشن پر کھڑا تھا۔ جونہی شالیمار ایکسپریس آئی پتا نہیں اس کے جی میں کیا آیا کہ وہ ٹرین کے سامنے آ گیا۔ آخری وقت میں لوگوں نے اسے پٹری سے دوسری طرف کھینچ لیا۔ ثروت کی جان تو بچ گئی لیکن اس کے پاؤں ٹرین کے نیچے آ کر کچلے گئے۔ موت کے درندے کی کشش اس کے رگ و پے میں سما گئی تھی۔ تین سال بعد پھر ستمبر کا مہینہ آیا اور ثروت حسین ایک بار پھر کراچی سے کوئٹہ جانے والی بولان میل کے سامنے آگیا۔ اس بار کوئی اسے نہ بچا سکا۔ موت کے درندے کی کشش کا اسیر اجل کی وادی میں اتر گیا۔ ثروت حسین کی کہانی کی تفصیل ڈاکٹر عدنان بشیر کی ثروت پر لکھی کتاب میں ملتی ہے۔
راولپنڈی کے ریلوے سٹیشن کے ویٹنگ روم میں بیٹھے بیٹھے مجھے جھر جھری سی آگئی‘ میرے سامنے میز پر چائے تھی اور باہر زوروں کا مینہ برس رہا تھا۔ میں نے ویٹنگ روم کے دروازے سے باہر دیکھا۔ پلیٹ فارم پر رکی ٹرین چلنے کو تیار تھی۔ مسافر اپنی اپنی سیٹوں پر بیٹھ رہے تھے۔ میں نے استقبالیہ والی لڑکی کا شکریہ ادا کیا اور ویٹنگ روم سے باہر نکل آیا۔ میں ایک ستون کے ساتھ کھڑے ہو کر یہ منظر دیکھنے لگا۔ لوگ اپنے اپنے پیاروں کو الوداع کہہ رہے تھے۔ تب ریل کی سیٹی بجی تو ٹرین آہستہ آہستہ چلنے لگی۔ اتنی آہستہ کہ مسافر اس چلتی ٹرین پر سوار ہو رہے تھے۔ اپنے پیاروں کو رخصت کرنے والے ڈبوں کے ساتھ ساتھ چل رہے تھے۔ پھر ٹرین کی رفتار تیز ہونے لگی اور چند ہی لمحوں بعد ٹرین ہماری نظروں سے اوجھل ہو گئی۔ سٹیشن یکلخت خالی ہو گیا ۔چپ چاپ‘ حیران۔ میں سوچتا ہوں وقت بھی کیسے دبے پاؤں گزر جاتا ہے یہی سٹیشن تھا جب ہم گورڈن کالج سے یہاں وقت گزارنے کیلئے آیا کرتے تھے۔ میں نے سوچا اس وقت گورڈن کالج کے دوست شاہد مسعود‘ پرویز رشید اور شعیب بن عزیز کہاں ہوں گے؟ شاہد مسعود تو پی ٹی وی کی ملازمت سے ریٹائر ہو کر اسلام آباد کے گوشے میں بیٹھا بارش کا منظر دیکھ رہا ہو گا۔ پرویز رشید لاہور اور اسلام آباد کے درمیان سفر میں ہو گا۔ تب میں نے فیصلہ کیا کہ شعیب بن عزیز کو فون کیا جائے۔ کسی زمانے میں اس کا گھر راولپنڈی کے ریلوے سٹیشن کے پہلو میں تھا۔ میں نے شعیب کا نمبر ڈائل کیا۔ فون کی گھنٹی بج رہی تھی کچھ ہی دیر بعد شعیب بن عزیز کی مانوس آواز سنائی دی۔ میں نے کہا: شعیب میں راولپنڈی کے ریلوے سٹیشن پر کھڑا ہوں۔ میرا خیال تھا وہ کہے گا ''تم ادھر ہی ٹھہرو‘ میں ابھی آتا ہوں‘‘ لیکن اس نے بتایا کہ وہ اس وقت راولپنڈی سے بہت دور امریکہ کی ایک ریاست میں ہے۔ سٹیشن پر کھڑے مجھے یوں لگا میں یکلخت تنہا ہو گیا ہوں۔ میں نے سوچا بیتا ہوا وقت بہت پیچھے رہ گیا ہے اورتیز قدم زندگی بہت آگے نکل گئی ہے۔ مجھے اردو کے معروف شاعر شوکت واسطی کا شعر یاد آگیا:
شوکت ہمارے ساتھ بڑا حادثہ ہوا
ہم رہ گئے، ہمارا زمانہ چلا گیا
میں نے آخری بار پلیٹ فارم پر نگاہ ڈالی اور آہستہ آہستہ سٹیشن کی سیڑھیاں اتر کر باہر آنے لگا جہاں زوروں کا مینہ برس رہا تھا۔(ختم)

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved