ان دنوں بھارت کی جانب سے پاکستان کے خلاف جاری میڈیا مہم میں زیادہ زور سندھ طاس معاہدے کی بندش پر دیا جا رہا ہے اور کہا یہ جا رہا ہے کہ بھارت پاکستان کے حصے کا پانی بند کرکے اسے بنجر بناکر گزشتہ سال ہونے والی شکستِ فاش کا بدلہ لے گا۔ سندھ طاس معاہدے کے خاتمے کا اعلان اس نے دس مئی 2025ء کے بعد کیا تھا اور اس کا خیال تھا کہ جنگی محاذ پر پاکستان سے شکست کھانے کے بعد سندھ طاس معاہدے کے خاتمے کی صورت میں پاکستان کو پانی کے تنازع میں اُلجھائے گا۔ لیکن پاکستان نے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی کو اس معاہدہ کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے نہ صرف اس کی پُرزور مذمت کی بلکہ اسے متعلقہ عالمی فورمز پر چیلنج بھی کیا۔ بعد ازاں عالمی بینک‘ جو اس معاہدے کا ثالث ہے‘ نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی کو غیرقانونی قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ اس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل یا ختم نہیں کیا جا سکتا۔ اس ضمن میں ہیگ میں قائم عالمی ثالثی عدالت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے سنایا جانے والا فیصلہ بہت اہم ہے‘ جس میں عالمی عدالت نے بھارت کی جانب سے 1960ء کے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کیے جانے کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ یہ معاہدہ اب بھی مکمل طور پر نافذالعمل ہے۔ عدالت نے اس سال 31اگست کو معاہدے کی حیثیت پر حتمی فیصلہ جاری کرنے کے ساتھ ساتھ بھارت کی جانب سے دریائے چناب پر تعمیر کیے جانے والے رتلے ہائیڈرو الیکٹرک پلانٹ سے متعلق مابعد عبوری اقدامات کا حکم بھی جاری کیا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ بھارت بین الاقوامی وعدوں کا پابند ہے‘ وہ یکطرفہ طور پر معاہدے سے دستبردار یا اپنی ذمہ داریوں سے فرار حاصل نہیں کر سکتا۔ بھارت کو سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنا ہوں گی‘ جن میں مغربی دریاؤں پر اس کے پن بجلی منصوبوں کے ڈیزائن سے متعلق شرائط بھی شامل ہیں۔ اس فیصلے کے بعد سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے بھارت کے یکطرفہ اقدامات کو قانونی چیلنجز کا سامنا ہے۔ لیکن عالمی اداروں خصوصاً ثالثی عدالت کے واضح فیصلے کے باوجود بھارتی حکومت اور میڈیا سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی اورپاکستان کے پانی کی بندش پر مسلسل پروپیگنڈا مہم شروع کیے ہوئے ہے۔ بھارت کی اس آبی جارحیت کے حوالے سے پاکستان کی لیڈرشپ کے بیانات ریکارڈ پر ہیں جنہوں نے سندھ طاس معاہدے کو قومی سلامتی کی بنیاد قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ اس حوالے سے بھارت کو اس کی ضد‘ ہٹ دھرمی اور انتہا پسندی کو منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔
حالیہ جنرل اسمبلی اجلاس میں وزیراعظم شہبازشریف نے عالمی و علاقائی مسائل کے حوالے سے پاکستان کے واضح مؤقف کا اظہار کرتے ہوئے ایک مرتبہ پھر پانی کے ایشو کو اجاگر کیا اور سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے واضح کیا کہ کوئی فریق اسے یکطرفہ طور پر غیرمؤثر نہیں کر سکتا‘ دریاؤں کے پانی کو سیاسی یا معاشی دباؤ کے ذریعے روکنا خطے کے امن کیلئے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ جنرل اسمبلی میں پانی جیسے اہم ایشو کو اٹھانے کا مقصد دنیا کو یہ پیغام دینا تھا کہ پاکستان اپنے حصے کے پانی کو بین الاقوامی قوانین کے تحت محفوظ سمجھتا ہے۔ پاکستان نے پانی کے معاملے کو بھارت مخالف جذباتی بیانیہ بنانے کے بجائے اسے عالمی امن کے تناظر میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے‘ تاہم اس کا عملی اثر اس بات پر منحصر ہوگا کہ پاکستان عالمی حمایت کو کس حد تک قانونی‘ سفارتی اور آبی مذاکرات میں تبدیل کر پاتا ہے۔ آبی جارحیت کا بھارتی طرزِ عمل نیا نہیں ‘تاریخ اس امر کی گواہ ہے کہ جب بھی کوئی بین الاقوامی فورم بھارت کے خلاف کوئی فیصلہ دیتا ہے تو وہ اسے تسلیم کرنے کے بجائے اس کی ساکھ اور اختیار کو ہی مشکوک بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ یہی ضد اور ہٹ دھرمی مسئلہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے حوالے سے بھی دیکھنے میں آئی۔ سیاچین اور سرکریک کے ایشوز کے بعد اب سندھ طاس معاہدے پر بھی وہ اسی حکمتِ عملی پر قائم ہے اور یہ اس امر کا غماز ہے کہ بھارت خود کو بین الاقوامی قانون اور اصولوں سے بالاتر سمجھتا ہے اور بین الاقوامی اداروں کو نظرانداز کرنے کی پالیسی پر گامزن ہے۔ یہاں بڑا سوال یہ ہے کہ اگر بھارت جیسا ملک‘ جو دنیا کی بڑی جمہوریت ہونے کا دعویدار ہے‘ عالمی عدالت کے فیصلوں کو محض اس بنیاد پر مسترد کرتا ہے کہ وہ اس کے مفادات سے مطابقت نہیں رکھتے تو پھر بین الاقوامی قوانین اور عالمی عدالتی نظام کا کیا مقصد رہ جاتا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں حقِ خود ارادیت کے حوالے سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادیں دہائیوں سے موجود ہیں مگر بھارت کشمیریوں کو حقِ خود ارادیت دینے کے بجائے طاقت سے ان کی آواز کو دبانے کی پالیسی پر کاربند ہے۔ اب اگر وہ پانی جیسے اہم ایشو پر عالمی اداروں کے فیصلوں پر عملدرآمد کیلئے تیار نہیں تو پھر جو حال اقوام متحدہ کی کشمیر پر قراردادوں کا ہوا‘ یہ نہ ہو کہ سندھ طاس معاہدے سے متعلق عالمی اداروں کے فیصلوں کو بھی بھارت یونہی نظر انداز کر دے۔ ایسا اقدام نہ صرف پاکستان اور خطے کے امن کیلئے خطرناک ہوگا بلکہ عالمی قانونی نظام کی ساکھ کیلئے بھی ایک سخت ضرب ثابت ہوگا۔ بھارت کی طرف سے بین الاقوامی قانونی عمل کو بار بار مسترد کیے جانے سے اس کا سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا عمل جائز نہیں ہو جائے گا بلکہ اس طرزِ عمل سے بھارت کی بین الاقوامی قوانین کی پابندی اور اس تعاون پر مبنی نظام سے وابستگی کے بارے میں سنگین سوالات اٹھتے ہیں۔ سندھ طاس معاہدے کی اصل روح ہی یہ ہے کہ بھارت اور پاکستان اپنے آبی تنازع کو افہام و تفہیم سے طے کریں۔ لیکن جب ایک فریق اس سے یکطرفہ طور پر دستبردار ہو جائے تو دوسرے فریق کے پاس اس کے سوا کیا چارہ رہ جاتا ہے کہ وہ تمام دستیاب قانونی اور سفارتی ذرائع استعمال کرے۔
پاکستان کیلئے اپنے حصے کے پانی کا تحفظ ملکی بقا اور سلامتی کا مسئلہ ہے‘ جس پر لچک کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ وزیراعظم شہبازشریف ہر پلیٹ فارم پرپانی کو ریڈ لائن قرار دے چکے ہیں۔ لاکھوں پاکستانی زراعت کیلئے دریائی پانی پر انحصار کرتے ہیں۔ وزیراعظم شہبازشریف بار بار یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ پانی کو بطور ہتھیار استعمال نہیں کیا جانا چاہیے اور نہ ہی اسے کسی دوسرے پر ملک دباؤ کیلئے بروئے کار لانا چاہیے۔ ان کا یہ کہنا کہ بین الاقوامی معاہدوں کو سیاسی سہولت کے مطابق یکطرفہ طور پر معطل نہیں کیا جا سکتا‘ زمینی حقائق کی عکاسی کرتا ہے۔ عالمی برادری کو بھارت پر دباؤ ڈالنا ہوگا کہ وہ خطے میں کشیدگی کے خاتمے کیلئے اپنے طرزِ عمل میں تبدیلی لائے‘ ضد اور ہٹ دھرمی کا وتیرہ ترک کرے‘ ورنہ اس کا یہ طرزِ عمل خود اُس کی وحدت کیلئے خطرناک ہو سکتا ہے۔ پاکستان ہمیشہ سے اس مؤقف پر قائم رہا ہے کہ دونوں ملکوں کے مابین تنازعات کا پُرامن حل نکالا جائے اور بین الاقوامی قوانین کا احترام ہونا چاہیے۔ پاکستان کا یہ مؤقف اس کے ذمہ دارانہ کردار کا ثبوت ہے۔ اگر بھارت یہ سمجھتا ہے کہ وہ اپنی ضد اور ہٹ دھرمی پر کاربند رہ کر علاقائی محاذ پر اپنی چودھراہٹ قائم رکھ پائے گا تو دنیا دیکھ چکی ہے کہ پاکستان پر مسلط کی جانے والی جارحیت کے جواب میں پاکستان کے ردعمل نے اسے ایک ایسی نفسیاتی کیفیت میں مبتلا کر دیا ہے جس سے اس کی فوجی و سیاسی قیادت اب تک نکل نہیں پائی۔ پانی جیسے اہم ایشو پر پاکستان کا طرزِ عمل ذمہ دارانہ ہے اور اس حوالے سے عالمی برادری کو اپنے کردار کی ادائیگی کی اپیل کی جا رہی ہے۔ اگر بھارت ضد اور ہٹ دھرمی پر قائم رہتا ہے تو اس کا مؤثر جواب پاکستان کے پاس ہے‘ جو مناسب وقت دیا جائے گا۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved