عجیب بہادر شخص ہے۔
اسمبلی کی ''جتوائی‘‘ ہوئی سیٹ ٹھکرا دی۔ دھرنے دیے جا رہا ہے۔ جلوس نکالے جا رہا ہے۔ پٹرول کی قیمت سے لیوی کا جگا ٹیکس ہٹوانے کیلئے‘ بجلی کی قیمت میں ریلیف کیلئے۔ جنون نیا نہیں‘ پرانا ہے۔ کبھی کراچی الیکٹرک کے ظلم کے خلاف سینہ سپر ہوا۔ کبھی پانی کے نکاس اور واٹر سپلائی کیلئے لڑا۔ عجیب شخص ہے۔ اپنے ہم چشموں سے یکسر مختلف!! ٹوپی ٹیڑھی کر کے اوڑھی نہ اپنے علاقے میں خواتین ووٹروں کی حوصلہ شکنی کی۔ مغربی تعلیم کے خلاف اور مدرسہ کی تعلیم کے حق میں تقریر کی‘ نہ بچوں کو اعلیٰ تعلیم کیلئے امریکہ کینیڈا بھیجا۔ اولاد کو دوسری سیاسی جماعتوں میں بھی پلانٹ نہ کیا۔ کسی سکہ رائج الوقت کو ہوا میں اچھالا نہ اس سے خریداری کی۔ نہ ہاؤسنگ سوسائٹیاں بنائیں۔ ملک کا واحد سیاستدان ہے جو عوام کیلئے لڑ رہا ہے۔ پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ پٹرول لیوی اور آئی پی پیز کے خلاف کیسے بول سکتی ہیں جبکہ وہ حکمرانی میں حصہ دار ہیں۔ امرا کی حکومت (Oligarchy) کی اگلی صفوں میں کھڑی ہیں۔ جو خود مسئلے کاحصہ ہوں وہ کیسے مسئلہ حل کریں گے! اے بادِ صبا ایں ہمہ آوردۂ تست! (یہ باغ کا جو حال ہو رہا ہے وہ بادِ صبا نے خود ہی تو کیا ہے)۔ رہی تحریک انصاف تو وہ بیچاری اپنے زخم چاٹ رہی ہے۔ ان کا رہنما زنداں میں ہے‘ وہ اس کے بغیر کیا کر سکتے ہیں! یہ بھاری پتھر اس بہادر شخص ہی نے اٹھانا تھا‘ سو اٹھا لیا اور اٹھائے ہوئے ہے! اکیلا! اس کے ساتھ اس کے لوگ ہیں مگر کوئی ایسا نہیں جو اس کی طرح پیش قدمی کرے‘ للکارے اور طاقت کی آنکھوں میں آنکھ ڈال کر بات کرے۔ ریاض مجید یاد آ رہے ہیں:
میرا دکھ یہ ہے میں اپنے ساتھیوں جیسا نہیں
میں بہادر ہوں مگر ہارے ہوئے لشکر میں ہوں
اس ہارے ہوئے جمود زدہ لشکر میں وہ اَن فِٹ ہے! مکمل طور پر اَن فِٹ!! رومی نے کہا تھا: زیں ہمرہانِ سست عناصر دلم گرفت!! سست الوجود ہمراہی!! لیکن قدرت کے اور قسمت کے کھیل عجیب ہیں۔ ہیرا کنکروں میں اور چنگاری راکھ میں ہوتی ہے!
دیکھیے اس بحر کی تہہ سے اچھلتا ہے کیا
گنبدِ نیلوفری رنگ بدلتا ہے کیا
پس نوشت!! کیا مضافات میں بڑے شہروں کی نسبت بہتر شاعری ہو رہی ہے؟ یہ بحث پرانی ہے اور ایسی بحث ہے جس کا کوئی نتیجہ آج تک نکلا ہے نہ نکلے گا۔ شاعری کا شہر‘ قصبے یا گاؤں سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ شاعری کا تعلق صرف شاعر سے ہے۔ ظفر اقبال صاحب کی زندگی کا بیشتر حصہ اوکاڑہ میں گزرا۔ پہلا شعری مجموعہ ''آبِ رواں‘‘ آیا تو دھماکا ہوا اور یہ دھماکا کسی بڑے شہر سے نہیں‘ اوکاڑہ جیسے قصبے سے ہوا۔ رستم نامی ایک ایسا شاعر ہے جو مضافات میں نہیں بلکہ مضافات کے بھی مضافات میں رہتا ہے؛ یعنی شنکیاری میں! عمر محکمۂ جنگلات میں بسر کی۔ یعنی مضافات سے بھی دور! مگر شعر کمال کے کہے۔ مختلف! یکسر مختلف! اردو ادب میں ہزارہ کا حصہ بہت بڑا ہے۔ رستم نامی ایسا شاعر ہے جس پر اردو شاعری کو بھی ناز ہے اور ہزارہ کو بھی۔ اس کی شاعری گل و بلبل کی ہے نہ زلف و رخسار کی۔ اس میں زندگی کی تلخیاں ہیں اور پیچیدگیاں مگر رستم نامی نے یہ شاعری رو کر نہیں‘ ہنس کر کی ہے۔ کبھی معصومیت سے سوال کرتا جاتا ہے۔ کبھی بھگو بھگو کر لگاتا ہے۔ یہ مختلف ذائقے کی شاعری ہے۔ ذرا چند اشعار چکھ کر دیکھیے:
رک بھی سکتا ہے کسی دن چند سانسوں کا نظام
یہ عمل ہر وقت جاری ہو‘ ضروری تو نہیں
بے ضمیری بھی تو آخر کار کوئی چیز ہے
لغزشوں پر شرمساری ہو ضروری تو نہیں
لیتے ہیں چند لوگ وطن اپنا لوٹ کر
اس پار کے مزے کبھی اس پار کے مزے
ادا ہو گا نہ جب تک چائے پانی
ہمارا کام بابو تک رہے گا
بقدرِ اختیار و ظرف اس کو لوٹتے ہیں سب
سلامت ہے مگر تاحال پاکستان تقریباً
فقط چالیس نمبر شاعری کے ہیں
بقایا ساٹھ اس کی افسری کے ہیں
کیا ہے کارنامہ ایسا کیا تُو نے؟
بہت چرچے تری دو نمبری کے ہیں
ہمارے رابطے ہیں سارے ملکوں سے
کہ رشتے سب سے دریوزہ گری کے ہیں
فالتو اشیا سے ہو کس واسطے گھر زیرِ بار
بس گزر اوقات کا سامان ہونا چاہیے
ہم جدھر بھی جائیں ہونی چاہیے اردو زباں
ہم جہاں بھی جائیں پاکستان ہونا چاہیے
دیدنی ہے یہاں کا ہر موسم
کتنے خوش بخت ہیں ہزارے وال
عمر ساری گزار کر نامیؔ
چاہیے ہیں مزید بھی کچھ سال
شجر جب صحن میں پھلدار ہو گا
کہیں سے آئیں گے پتھر وغیرہ
ستم سہنے کے عادی ہو گئے لوگ
نہیں ہے کوئی شورو شر وغیرہ
وہ قیامت کو آئے گا یعنی
ایک دو دن ہیں اس کے آنے میں
اس گرانی میں کون پوچھے گا
کیا پکایا ہے آج کھانے میں
منسلک ہیں پار سے سب مقتدر
سب کو ملتی ہے ہدایت پار سے
کام لیں گے کیا یہ بد عنوان لوگ
حشر میں بھی درہم و دینار سے؟
آرام سے رہتے ہیں یہ لوگ پہاڑوں کے
جو ساتھ کبھی لے کر اخبار نہیں جاتے
اس ملک سے کرتے ہیں جو لوگ محبت وہ
بیمار پڑیں بھی تو اس پار نہیں جاتے
کون پھر دے مجھے میرے حقوق
میں ریاست میں کہیں ہوں ہی نہیں
اٹھاؤ منصب و دولت سے کچھ تو فائدہ آخر
دباؤ زیر دستوں کے علاقہ جات بسم اللہ
مرے بھائی !مرا حصہ بھی سب تجھ کو مبارک ہو
نہ ہو تقسیم بے دردی سے یہ آبائی گھر تاکہ
دس دن سے اوپر چل سکتی
اتنی بھی تنخواہ نہیں تھی
کہیں سے سانپ آ جاتے ہیں اس میں
ہماری آستیں کا مسئلہ ہے
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved