معشوقیے‘ جسے ترکی میں Masukiye لکھتے ہیں۔ ہے نا پیارا نام؟ یہ خوبصورت نام اگر پہاڑی دریا کنارے بسی ہوئی ایک چھوٹی سی بستی کا ہو تو؟ پھر تو نام رکھنے والے کو داد دینی چاہیے۔ معشوقیے کا وہی مطلب ہے جو عربی‘ فارسی اور اردو میں معشوق کا ہے۔ یعنی یہ الہڑ پہاڑی حسینہ اسم بامسمیٰ ہے۔ اس تحریر کے وقت میں معشوقیے میں ہوں۔ معشوقیے ہے کہاں اوریہاں کیوں ہوں‘ بیان کرتا ہوں لیکن پہلے گزشتہ چند دنوں کی روداد‘ جو ترکی میں گزرے۔
پبلشرز کی ایک کانفرنس میں آیا تھا‘ اس میں تینوں دن بہت مصروف گزرے۔ 70 ملکوں کے 260 پبلشرز نے کانفرنس میں شرکت کی اور کانفرنس کے ایجنڈے کے علاوہ اصل قدر وقیمت ان سب سے ملاقاتیں تھیں۔ اس اجتماع کے سارے سیشنز جامعہ صباح الدین زعیم میں ہوئے جو ترکی میں سباحتین زائم یونیورسٹی کے نام سے معروف ہے۔ صباح الدین زعیم معروف ترک رہنما نجم الدین اربکان کے قریبی ساتھیوں میں سے تھے لیکن وہ سیاسی نہیں علمی میدان کے آدمی تھے۔ پیدائشی طور پر مقدونیہ سے تعلق تھا جو ایک زمانے میں سلطنت عثمانیہ کا حصہ تھا۔ پروفیسر ڈاکٹر صباح الدین مشہور ماہر تعلیم تھے اور نجم الدین اربکان کے اسلامی ذہن رکھنے والے قریبی ساتھیوں میں شمار ہوتے تھے۔ ان کے ذہن میں ایک خاص جامعہ کا تصور تھا جہاں کے نصاب ونظام میں اسلامی تشخص موجود ہو۔ 2007ء میں ان کا انتقال ہوا اور انہی کے نام پر یہ وسیع اور خوبصورت پرائیویٹ یونیورسٹی قائم ہے۔ بظاہر انہی خطوط پر‘ جو سوچے گئے تھے۔کانفرنس سے ہٹ کر دو اہم باتیں تھیں‘ ایک اتوار 27 ستمبر کو فجر کی نماز کیلئے آیا صوفیہ کی تاریخی مسجد میں مندوبین کیلئے شرکت کا انتظام تھا اور اس نماز کا عجیب لطف تھا۔ آیا صوفیہ ایک عظیم عمارت ہے اور میں پچھلے سفروں کے دوران آیا صوفیہ کے بارے میں کئی تحریریں لکھ چکا ہوں۔ یہ میرے سفرنامے ''مسافر‘‘ میں شامل ہیں۔دوسری یادگار چیز باسفورس کروز ڈنر تھا۔ عظیم عثمانی سلطان سلیمان اعظم کے حکم پر مشہور معمار اور حساب دان استاد معمار زینان نے 1550ء میں جامع سلیمانی کے نام سے استنبول کی سب سے بڑی مسجد بنائی۔ اسے زینان کے فن کا شاہکار بھی کہا جاتا ہے۔ ہم نے جامع سلیمانی میں عصر کی نماز پڑھی اور پہاڑی بلندی سے اترتے اترتے بے دم ہونے لگے تو امینونو آ گیا۔ ایک بات سیاحوں کو معلوم رہنی چاہیے۔ ترکی‘ خاص طور پر استنبول آنا ہے تو مکمل فٹ ہونا بہت ضروری ہے۔ روزانہ پانچ سے چھ میل پیدل چلنے کیلئے تیار رہیے‘ وہ بھی پہاڑی میل۔ مزید یہ کہ کچھ نہ کچھ سامان اٹھا کر۔ اگر آپ ارب پتی نہیں اور کوئی سربراہِ مملکت بھی نہیں تو پیدل چل چل کر تھکنے کا ذہن بنا کر آئیں۔ ہمیشہ یہی ہوتا ہے اور اس بار بھی تجربہ کوئی مختلف نہیں تھا۔ امینونو سے ہمیں بڑی کشتی پر سوار ہونا تھا۔ سلطنت عثمانیہ میں اس علاقے میں خزانچی کا دفتر تھا جسے امین کہتے تھے۔ امین اونو کا مطلب امین کے سامنے۔ اب یہی امینونو ہے۔ میں بڑی کشتی پر باسفورس کے کنارے عمارتیں گزرتے دیکھتا تھا اور تاریخ میرے اندر سے گزرتی تھی۔ دولما باشے سرائے جگمگ کرتا گزرا تو آخری چھ عثمانی سلاطین کے چہرے سامنے سے گزرنے لگے۔ اسی محل میں آخری سلطان عبدالمجید آفندی سے مصطفی کمال پاشا نے خلافت چھین کر ترکی کا رخ بدلا تھا۔ اسی محل کے ایک کمرے میں دیوار پر لگی ہوئی گھڑی کی سوئیاں صبح نو بج کر پانچ منٹ پر رکی ہوئی ہیں۔ یہ وہ وقت ہے جب 10 نومبر 1938ء کو اسی کمرے میں کمال اتا ترک نے تکلیف دہ بیماری میں مبتلا رہنے کے بعد آخری سانسیں لیں۔ باسفورس نے کیا کیا زمانے دیکھے۔ ہم کراکوئے کے ساحل پر اترے اور غلاطہ ٹاور سامنے روشن تھا۔ کراکوئے شاخِ زریں پر امینونو کے مقابل دوسرا کنارہ ہے۔
باسفورس یعنی مرمرا سے ملا ہوا سمندری اہم راستہ‘ یہ استنبول کو ایشیائی اور یورپی حصوں میں تقسیم کرتا ہے۔ پھر اسی باسفورس سے ایک اور شاخ پھوٹتی ہے جو یورپی ساحل کو دو حصوں میں تقسیم کرتی ہوئی آگے جاکر بند ہو جاتی ہے۔ اس کو شاخِ زریں یا گولڈن ہارن کہا جاتا ہے۔ اسی شاخ زریں پر میزبانِ رسول حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کا مزار ہے۔ شاخِ زریں کے ایک طرف قدیم قسطنطنیہ کا وہ حصہ تھا جس پر بازنطینیوں کی حکومت تھی۔ امینونو کا گھاٹ یہیں ہے۔ شاخ کے دوسری طرف برج غلاطہ (Galata) اور تقسیم (Teksim) کا علاقہ ہے۔ یہاں کراکوئے کا گھاٹ ہے اور اب ان دونوں یورپی حصوں کو ملاتا ہوا معروف گولڈن ہارن کا پُل ہے۔ قدیم فصیل کے اندر آیا صوفیہ کی عبادت گاہ موجود تھی اور یہیں بازنطینی بادشاہ قسطنطین کا محل تھا۔ باقی شہری آبادی بھی یہیں تھی۔ اسی علاقے کو آگے پیچھے تین دیواروں پر مشتمل فصیل گھیرے ہوئے تھی۔ تھیوڈوسین فصیل سمیت تین دیواروں کا یہ حصار اتنا مضبوط تھا کہ ہر حملہ آور لشکر ناکام ہو جایا کرتا تھا۔ فصیل کے بائیں طرف شاخِ زریں کی قدرتی سمندری رکاوٹ بھی ایک طرح فصیل کا کام کرتی تھی۔ اس کے دہانے پر بازنطینیوں نے لوہے کی بہت بڑی اور نہایت مضبوط زنجیر لگا رکھی تھی۔ اس زنجیر کے ہوتے ہوئے کوئی کشتی یا جہاز شاخِ زریں میں داخل نہیں ہو سکتا تھا۔ شاید اس تفصیل سے یہ واضح ہو سکے کہ قدیم قسطنطنیہ کی حدود کیا تھیں اور کیوں اس کی فتح اتنی دشوار تھی۔ گولڈن ہارن کے ایک طرف اصل شہر تھا اور دوسرا کنارا شہر اور فصیل سے باہر تھا۔ گویا جو قسطنطنیہ سلطان محمد فاتح نے 29 مئی 1453ء کو فتح کیا‘ اس کا اس دوسرے کنارے سے جہاں غلاطہ برج ہے‘ کوئی تعلق نہیں تھا۔ اس زمانے میں یہاں جینویز (جنیوا سے منسوب ایک قوم اور شاید یہودی مذہب کی ایک شاخ) آباد تھے۔ غلاطہ کا مینار سمندر کی نگرانی کیلئے واچ ٹاور کے طور پر پہلے سے موجود تھا۔
میں 2016ء میں عم مکرم مفتی محمد تقی عثمانی کے ساتھ استنبول میں موجود تھا۔ ان کے ترک شاگرد خیری دمرجی نے قاسم پاشا کی ایک طعام گاہ میں دعوت کر رکھی تھی۔ ایک نئی بات چچا جان نے بتائی اور ایک خیری دمرجی نے۔ سلطان فاتح کیلئے گولڈن ہارن کی زنجیر بڑی رکاوٹ تھی‘ اسی سے بچ کر شاخ زریں میں جہاز پہنچانے کیلئے سلطان نے خشکی پر جہاز چلانے کا منصوبہ بنایا۔ چچا جان نے بتایا ''یہ جہاز تقسیم کی طرف سے پہاڑی پر چڑھائے گئے اور قاسم پاشا پر پانی میں اتارے گئے‘‘۔ چچا جان کی یہ بات نئی تھی۔ کتابوں میں پڑھا تھا کہ سیاہ رات میں فصیل کے ادھر بازنطینی جنگل میں جینویز کی آبادی اور بر ج غلاطہ کے پیچھے مشعلیں جلتے دیکھتے اور آوازیں سنتے تھے اور سمجھ نہیں آتا تھا کہ اُس پا رکیا ہو رہا ہے۔ خیری دمرجی نے بتایا کہ قاسم پاشا کا علاقہ لڑاکوں اور جنگجوئوں کیلئے مشہور ہے۔ حریف کو ڈرانا ہو تو کہا جاتا ہے کہ ''میں قاسم پاشا کا ہوں‘‘۔ صدر رجب طیب اردوان قاسم پاشا ہی کے ہیں۔ اس واقعے کے کچھ دن بعد ہی ترکی میں بغاوت ہوئی اور اس وقت اردوان نے جس بہادری اور ہمت کا ثبوت دیا‘ لگتا تھا کہ وہ بتا رہے ہیں کہ ''میں قاسم پاشا کا ہوں‘‘۔ اردوان نے بغاوت کے خلاف بغاوت کر دی اور انہی کی بغاوت کامیاب رہی۔
اس بار عام زندگی میں کافی تبدیلیاں محسوس ہوئیں جس پر تفصیلی تحریر کی ضرورت ہے۔ ترک دوستوں سے ملاقات اور گپ شپ میں مکہ دفاعی معاہدے سے لے کر پاک ترک تعاون پر بات ہوئی‘ سبھی اس پر خوش ہیں اور سمجھتے ہیں کہ یہ دونوں ممالک کیلئے فائدہ مند ہوگا۔ بات معشوقیے سے شروع ہوئی تھی اور ابھی وہاں پہنچنا تھا کہ الفاظ کی گنجائش ختم ہو گئی۔ میر کا کیا شعر ہے:
موقوف غمِ میر کہ شب ہو چکی ہمدم
اب اور کسی روز یہ افسانہ کہیں گے
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved