تحریر : رسول بخش رئیس تاریخ اشاعت     02-10-2026

’’رہائی‘‘ اور چین کا ہاتھ

نظریاتی اور پھر تزویراتی کشمکش ہمارے ملک کی آزادی کے چند برسوں بعد شروع ہو چکی تھی۔ دوسری عالمی جنگ نے سب کچھ بدل کر رکھ دیا تھا۔ اس کے نتائج سے ہمارے جیسے ملکوں میں آزادی کی تحریکوں نے زور پکڑا۔ اس وقت پوری سامراجی طاقتیں اتنی بے جان اور تھک ہار چکی تھیں کہ انہیں ہمیں آزاد کرنے میں اب کچھ ہی دیر باقی تھی۔ برطانیہ تو یہاں سے ایسا بھاگا کہ بے شمار وسائل ہمارے لیے چھوڑ گیا۔ ایسا کرتے ہوئے اسے اپنی اخلاقی اور ریاستی ذمہ داریاں بھی یاد نہ رہیں۔ وہ بڑی طاقت اب واجبی طور پر تھا۔ یورپ کی ماضی کی ایسی سبھی طاقتیں اب نام کی رہ گئی تھیں۔ ان کی جگہ سوویت یونین اور امریکہ نے لے لی تھی۔ دنیا کا تزویراتی نقشہ تبدیل ہو رہا تھا۔ مشرقی یورپ کی ریاستوں اور جرمنی کے آدھے حصے پر سوویت یونین کا قبضہ تھا‘ جہاں راتوں رات کمیونسٹ جماعتیں اقتدار میں آئیں اور ایسے سبھی دھڑے جو روسی فوج کی سرپرستی اور سائے میں تیار ہوئے تھے انہوں نے وہی کچھ کیا جو لینن اور سٹالن نے روس میں کیا تھا۔ آہستہ آہستہ اشتراکی نظریے اور انقلابی تحریکوں نے بعد از نوآبادیاتی ممالک میں پڑھے لکھے لوگوں‘ خصوصاً دانشوروں‘ ادیبوں‘ شاعروں اور نوجوانوں کو بہت متاثر اور متحرک کر رکھا تھا۔ روسی انقلاب کا اثر چین میں ماؤزے تنگ کی انقلابی تحریک پر بھی پڑا تھا مگر چیئرمین ماؤ کا اپنا نظریہ اور اپنا انداز تھا۔ ان میں قدرِ مشترک صرف کارل مارکس اور لینن تھے جن کے نظریات میں ماؤ نے ترمیم اور اضافہ کیا تھا۔ پہلی عالمی جنگ کے بعد روس میں انقلاب سے مغرب بہت ناخوش تھا۔ اس کے خلاف کئی خفیہ اور پُرتشدد تحریکیں چلائی گئیں‘ معاشی اور سفارتی پابندیاں عائد کی گئیں اور یہاں تک کہ نئی انقلابی حکومت کو کم از کم دو دہائیوں تک تسلیم نہیں کیا‘ نہ سفارتی روابط رکھے۔ دوسری عالمی جنگ اور جرمنی کی لشکر کشی اور توسیع پسندی جب ایک مشترکہ خطرہ بن کر ابھری تو سوویت یونین اور امریکہ نے ایک دوسرے کا اتحادی بننے کیلئے عہد و پیمان کر لیے۔ مگر جنگ میں فتح کے بعد امریکہ نے محسوس کیا کہ جرمنی کا خطرہ ٹلنے کے بعد اب اس کے عالمی غلبے کی راہ میں اشتراکیت سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
عالمی سیاست میں جنگ‘ امن اور اتحاد‘ قومی مفاد‘ جس کا تعین کسی بھی ریاست کے حکمران کرتے ہیں‘ سفارت کاری کے بنیادی عقائد اور اس کی مرکزی اخلاقیات میں سے ہیں۔ باقی سب کہانیاں ہیں۔ اپنے مقاصد کو حاصل کرنے کیلئے ریاستیں وہ حربے استعمال کرتی ہیں جو اگر کوئی عام آدمی کرے تو جرائم کے زمرے میں آئیں گے۔ یہاں تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں۔ جیتی جاگتی مثال ہم سب کے سامنے ہے۔ غزہ میں نسل کشی اور ایران کے خلاف ظالمانہ اور غیر انسانی جنگ ہم سب نے گھر بیٹھے سکرینوں پر بے بسی کے ساتھ دیکھی ہے۔ جب اشتراکی بلاک اور مغربی بلاک‘ جس کی قیادت امریکہ کے ہاتھ میں تھی‘ نے بعد از نوآبادیاتی ممالک میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کیلئے تگ و دو شروع کی تو ان کے درمیان تناؤ کی ایسی کیفیت پیدا ہوئی جسے آپ نہ امن کہتے ہیں نہ جنگ‘ اور اس کا نام سرد جنگ پڑ گیا۔ دونوں جانب پروپیگنڈا کیلئے ہمارے ملکوں کی قومی زبانوں میں وہ اپنے نظریے‘ تاریخ‘ شناخت اور ترقی کے کارناموں کو اجاگر کرنے کیلئے ترجمے کراتے‘ سستے داموں اور اکثر مفت تقسیم کرتے۔ لاہور میں اپنے طالب علمی کے زمانے میں انارکلی کی دوسری جانب پیپلز پبلشنگ ہاؤس تھا جو روس میں شائع ہونے والی کتابیں بیچا کرتا تھا۔ وہاں ہمیں لینن اور سٹالن کے بڑے بڑے رنگین پوسٹر بھی مل جاتے۔ گورکی کی کتاب ''ماں‘‘ کا ترجمہ اور دیگر کچھ کتب وہاں سے خریدی تھیں۔ چین بھی اس میں پیچھے نہ تھا۔ انارکلی بازار کے پچھلے حصے‘ نیلا گنبد کی طرف‘ ایک چھوٹی سی دکان تھی جہاں ماؤزے تنگ کی تحریریں، ''چین با تصویر‘‘ اور ماؤ کی ٹوپی بھی مل جاتی تھی۔ چین اور روس کی کتابیں ان کے ملکوں میں ترجمہ ہوتیں اور وہاں سے چھپ کر یہاں تقسیم ہوتیں۔ روس اور چین کے مقابلے میں امریکہ نے کام بہت منظم اور خفیہ طریقے سے کیا۔ آج تک لوگوں کو‘ حتیٰ کہ بڑے بڑے پڑھے لکھے لوگوں کو بھی معلوم نہیں کہ عالمی نظریاتی پروپیگنڈا جنگ میں اس نے کیا کیا حربے استعمال کیے اور وطنِ عزیز میں کون کون سا ادیب‘ شاعر اور لکھاری اس کی خدمت پر مامور تھا۔ اس بارے میں میری اپنی معلومات بھی واجبی سی رہیں کہ یہ میرا کبھی موضوعِ تحقیق نہ تھا۔ اب ملک میں نئی نسل کے ایسے چند محققین سے ملاقات ہوئی ہے۔ ایک بہت بڑی عالمی کانفرنس‘ جو لاہور میں منعقد ہوئی‘ میں ان کی باتیں سنیں تو امریکی پروپیگنڈا کے طریقۂ کار کے پردے تحلیل ہو گئے۔ یہاں ادبی دنیا کے بڑے بڑوں کے نام معلوم ہونے کے باوجود ان کے بارے میں یہ درویش خاموش رہے گا‘ اس لیے کہ یہ اُس کھوجی کا کام ہے جس نے امریکہ کے آرکائیوز ٹٹول کر ثبوت نکالے ہیں۔ یہ اُس کا حق بنتا ہے۔ جب وہ اپنی کتاب تحریر اور شائع کریں گے تو پھر اس پر بات ہو گی۔
نظریاتی پروپیگنڈا سے میری پہلی واقفیت اُس وقت ہوئی جب امریکی جامعہ میں پہلے ہی سمسٹر میں مجھے تائیوان کے ایک پروفیسر کے ساتھ معاون استاد نامزد کر دیا گیا۔ وہ چین کی سیاست پر کورس پڑھا رہے تھے۔ میری معاونت یہ تھی کہ ہر ہفتے کلاس کے تین چار گروپ بنا کر میں مزید تفصیل میں بات کرتا اور وہ نکات‘ جو طلبہ مشکل سمجھتے تھے‘ ان کی مزید تشریح کر دیتا۔ ایک کتاب انہوں نے لازمی مطالعے کیلئے مقرر کر رکھی تھی جس کا عنوان تھا ''ماؤزے تنگ کا قیدی‘‘۔ اگر آپ پڑھیں تو یہ تاثر پیدا کرتی ہے کہ ہٹلر تو کچھ بھی نہیں تھا۔ پاکستان میں ایسی کتابوں کا‘ جو اشتراکیت کو ایک ظالمانہ اور غیر انسانی نظام اور نظریہ سمجھنے کا تاثر پیدا کرتی تھیں‘ امریکہ نے بہت ہی رازداری سے بڑے بڑے ناموں اور مقاموں کے ادیبوں کے قلم سے ترجمہ کروایا‘ اور مطبع خانوں سے معاہدہ کر کے شائع کروایا‘ اور لاکھوں کی تعداد میں مفت سرکاری کتب خانوں اور بازاروں میں رکھوا دیں۔ ایک کتاب کا عنوان تھا ''رہائی‘‘ مگر وہی کتاب اصل عنوان کے ساتھ اردو میں ہی بھارت میں شائع ہوئی: ''سرخ چین سے فرار‘‘ جو ایک سابق چینی سفیر کی داستان ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہاں یہ کتاب اصل عنوان کے ساتھ 1951ء میں کیوں نہ چھپی؟ تب پاکستان کی ایجنسیوں اور سیاستدانوں نے فیصلہ کر لیا تھا کہ انقلابِ چین کو ناراض ہرگز نہیں کرنا۔ دوسری جانب وہ امریکہ کی ان کارستانیوں سے واقف ہونے کے باوجود اسے بھی ناراض نہیں کر سکتے تھے۔ ''رہائی‘‘ میں کچھ ابہام تھا اور ایسا محسوس ہوا کہ یہ سب ادیبوں کے اپنے اپنے رجحانات ہیں‘ جس کے مطابق دنیا کے عظیم ادب کے ترجمے کر کے وہ پاکستانیوں کی نذر کر رہے ہیں۔ اب بھی وہی دھندا جاری ہے‘ جس کے بارے میں بہت کچھ معلوم ہے مگر راوی خاموش رہنے کا رجحان رکھتا ہے۔ آپ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ ڈرا ہوا ہے۔ میرا خیال ہے کہ چین کے بارے میں جو فیصلے ابتدائی برسوں میں ہوئے‘ ان پر ہمیں فخر کرنا چاہیے اور اپنے قائدین کی بصیرت کو سلام کرنا چاہیے۔ چند دن پہلے ایک بہت بڑے بابے سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ عام بابا نہیں تھا۔ اس ملاقات پر پوری زندگی مشکور رہوں گا۔ جہاں دیدہ ہے اور ایسا انسان جو اَب پہاڑ کی چوٹی پر بیٹھ کر پوری دنیا کو دیکھ رہا ہے۔ ان سے نصیحت کی درخواست کی تو دعا کے علاوہ فرمایا: ''چین کا ہاتھ نہ چھوڑنا۔ امریکہ ناقابلِ اعتماد ہے۔ آپ کا مستقبل چین کے ساتھ ہے‘‘۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved