وہ یکم جون 1996ء کو جنوبی لندن کے ایک متوسط گھرانے میں پیدا ہوا۔ سات سال کی عمر میں اس کے والدین کو سکول سے بلایا گیا اور کہا گیا کہ آپ کے بچے کا دماغ دوسرے بچوں کی طرح نہیں چلتا۔ اسے ڈسلیکسیا ہے جس کے باعث حروف اس کیلئے سیدھی لکیر نہیں تھے‘ وہ اس کیلئے رقص کرتی ہوئی شکلیں تھیں۔ الفاظ اس کیلئے سیڑھی نہیں‘ دیوار تھے۔ سپیلنگ اور الفاظ کا جوڑ توڑ اس کیلئے سب سے بڑا پہاڑ تھا‘ جس پر چڑھتے ہوئے اس کے پاؤں ہر بار پھسل جاتے تھے۔ آج اس کی عمر 29سال ہے اور وہ دنیا کا مہنگا ترین نوجوان اداکار ہے۔ اس کی ایک فلم ڈیڑھ ارب ڈالر سے زیادہ کماتی ہے‘ اس کی تصویر دنیا بھر کے لاکھوں بچوں کے بستوں پر لگی ہوتی ہے۔ لیکن اس کامیابی کی فائل کا پہلا صفحہ بڑا تکلیف دہ ہے۔ وہ خود جے شیٹی کے پوڈ کاسٹ میں اعتراف کرتا ہے‘ میری ڈسلیکسیا صرف میرے سپیلنگ ہیں۔ میرے سپیلنگ میری زندگی کی سب سے بڑی رکاوٹ تھے۔ میں نے سکول میں بہت محنت کی لیکن میں کبھی بہت اچھا طالبعلم نہیں تھا۔ ذرا تصور کریں‘ وہ بچہ جس کی پوری زندگی کا دارومدار سکرپٹ یاد کرنے پر ہے‘ وہی بچہ لفظوں سے خوف کھاتا تھا۔ اسے ہر لفظ کو یاد کرنے کیلئے دوسرے بچوں سے پانچ گنا زیادہ وقت لگانا پڑتا تھا۔
پھر وقت نے ایک اور گرہ لگائی۔ 2025ء میں ٹام نے دنیا کو بتایا کہ اسے اے ڈی ایچ ڈی بھی ہے۔ یعنی توجہ کی کمی‘ بے چینی اور ایک ایسا دماغ جس میں ایک ہی لمحے میں تیس خیالات بیک وقت دوڑتے ہیں لیکن کسی ایک خیال پر ٹھہرنا ناممکن ہو جاتا ہے۔ اب آپ سوچیں ہالی وڈ ہے کیا؟ ہالی وڈ ایک خالی کینوس ہے جہاں ہر صبح نیا کردار ہر شام نیا سکرپٹ‘ ہر گھنٹے دو سو لوگوں کی نظریں‘ کیمرے‘ لائٹس اور ڈائریکٹر کا وہ جملہ‘ ایکشن کانوں میں گونج اٹھتا ہے۔ اس خالی کینوس سے وہ لڑکا ڈرتا تھا جس کیلئے ایک لفظ یاد رکھنا جوئے شیر لانے کے برابر تھا۔ لیکن اس نے خوف سے اس قدر طاقت سے پنجہ آزمائی کی کہ اسی خوف نے اسے ہالی وڈ کا بے تاج بادشاہ بنا دیا‘ ٹام ہالینڈ جسے پوری دنیا سپائڈر مین کے روپ میں دیکھتی ہے۔
ٹام کی حیرت انگیز کامیابیوں کے پیچھے اس کے والدین کا کلیدی کردار رہا ہے۔ اس کے والد ڈومینک ہالینڈ خود ایک مزاح نگار تھے جبکہ والدہ نکی ایک فوٹوگرافر تھی۔ انہوں نے اپنے بیٹے کو کبھی نمبروں کے ترازو میں نہیں تولا۔ جب وہ کم نمبر لاتا تو وہ اسے ڈانٹتے نہیں تھے‘ وہ صرف ایک جملہ کہتے تھے جو ہر پاکستانی ماں باپ کو اپنے گھر کی دیوار پر سنہری حروف میں لکھ لینا چاہیے۔ جب تک تم اپنی پوری کوشش کرتے ہو‘ ہمیں تم پر فخر ہے۔ اس ایک جملے نے ٹام کو سکول کی دوڑ سے نکال کر زندگی کی دوڑ میں ڈال دیا۔ اس نے وہ کرنا شروع کیا جو اس کا دماغ کر سکتا تھا۔ حرکت‘ ناچ‘ کھیل کود‘ چھلانگ۔ اس نے لندن کے مشہور علاقے ومبلڈن کے قریب ایک سکول میں جمناسٹکس سیکھنا شروع کی۔ اس کی کمر میں اتنی لچک تھی کہ دوست اسے بلی کہتے تھے۔ اسے بلی کہنا اس کیلئے گالی نہیں‘ اس کی پہچان بن گیا۔ اسی لچک‘ اسی بلی جیسی پھرتی نے اسے نو سال کی عمر میں لندن کے ویسٹ اینڈ تھیٹر میں دنیا کے مشہور میوزیکل بلی ایلیٹ میں مرکزی کردار دلا دیا۔ دو سال تک ہر شام آٹھ بجے سٹیج‘ ہر صبح سکول۔ وہ بچہ جو ایک پیراگراف کے صحیح سپیلنگ نہیں کر سکتا تھا وہ تین سو صفحات کی ڈانس کوریوگرافی اپنی سانسوں میں یاد کر لیتا تھا کیونکہ اس کا دماغ لفظوں سے نہیں‘ حرکت سے سیکھتا تھا۔ یوں اس کی کمزوری ہی اس کی طاقت بن گئی اور راستے کے پتھر اس کی کامیابی کا راستہ بن گئے۔ 2012ء میں فلم دی امپاسیبل میں اس نے سونامی میں بہتے ہوئے بچے کا کردار ادا کیا اور دنیا نے پہلی بار اس کی آنکھوں میں وہ خوف دیکھا جو وہ بچپن سے اپنے اندر لیے پھر رہا تھا۔ پھر مارول کا وہ تاریخی آڈیشن آیا‘ کیپٹن امریکہ۔ سول وار کیلئے سپائڈر مین کی تلاش میں پندرہ سو بچوں نے ٹیسٹ دیا۔ ٹام آڈیشن روم میں داخل ہوا‘ بیک فلپ لگائی‘ اپنا جوتا اتارا اور رابرٹ ڈاؤنی جونیئر سے کہا‘ دیکھیں‘ میں اصلی سپائڈر مین ہوں۔ وہ منتخب ہو گیا لیکن یہ اس کی کہانی کا اختتام نہیں‘ یہ اس کے امتحان کا اصل آغاز تھا۔
ٹام نے 2023ء میں دی کراؤڈڈ روم نامی سیریز میں ایک ایسے شخص کا کردار ادا کیا جو کئی ذہنی بیماریوں کا شکار ہے۔ وہ کردار اتنا بھاری تھا کہ اس نے خود ٹام کو توڑ دیا۔ شوٹنگ کے بعد اسے تھراپسٹ کی مدد لینی پڑی۔ لیکن اسی ٹوٹنے نے اسے جوڑ دیا۔ اسے پہلی بار سمجھ آیا کہ ذہنی صحت کیا ہوتی ہے اور اس کا اپنا دماغ کیسے کام کرتا ہے۔ وہ آج کھل کر اپنی بیماریوں پر بات کرتا ہے تاکہ دنیا کا کوئی اور بچہ جو کلاس میں اپنے سپیلنگز کی وجہ سے شرمندہ ہے وہ خود کو اکیلا نہ سمجھے۔ ذرا سوچیں‘ وہ لڑکا جو سات سال کی عمر میں اپنا نام تک صحیح سپیل نہیں کر سکتا تھا آج دنیا کے سب سے بڑے ہدایت کار کے مہاکاوی ڈائیلاگ بول رہا ہے۔ یہ کرشمہ کیسے ہوا؟ یہ قسمت کا کھیل نہیں بلکہ اس کامیابی کے یہ تین اصول ہیں جو ٹام ہالینڈ کی زندگی سے ہر بڑے خواب دیکھنے والے کو سیکھنے چاہئیں۔
پہلا اصول‘ اپنی کمزوری کو اپنی طاقت اور مؤثر ترین ہتھیار بنائیں۔ مشکلات سے آنکھیں چرانے کے بجائے ان سے لڑنا سیکھیں۔ ٹام نے اپنی ڈسلیکسیا کو کبھی چھپایا نہیں۔ اس نے کہا‘ میرا دماغ مختلف ہے‘ تو میں مختلف طریقے سے سیکھوں گا۔ اگر میں لفظوں سے نہیں سیکھ سکتا تو میں حرکت سے سیکھوں گا‘ کھیل سے سیکھوں گا۔ ہم میں سے اکثر اپنی کمزوریوں کو چھپاتے چھپاتے اپنی طاقت کو بھی دفن کر دیتے ہیں۔ دوسرا اصول‘ محنت قسمت سے بڑی ہوتی ہے۔ ٹام کا اپنا قول ہے‘ تم کسی بھی چیز کیلئے جتنی بہتر تیاری کرو گے‘ اتنے ہی شاندار کام کر سکو گے۔ وہ آج بھی اپنا ہر سٹنٹ خود کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے‘ کیمرہ جھوٹ پکڑ لیتا ہے۔ تم جتنی محنت کرو گے اتنا ہی سچ سکرین پر نظر آئے گا۔ تیسرا اور سب سے اہم اصول‘ بہترین ہونا ضروری نہیں‘ اپنی پوری کوشش کرنا ضروری ہے۔ اس کے والدین کا وہ جملہ اس کی پوری زندگی کا محور ہے۔ ہم اکثر اس لیے ہار مان لیتے ہیں کہ ہم کلاس میں اول نہیں آ سکے۔ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ زندگی کلاس نہیں‘ ایک طویل سفر ہے۔ یہ سو میٹر دوڑ نہیں بلکہ میراتھن ریس ہے۔ ٹام نے کبھی اول آنے کی کوشش نہیں کی‘ اس نے صرف اپنا بہترین دینے کی کوشش کی اور وہی اسے اول پوزیشن پر لے گیا۔
ٹام ہالینڈ کی زندگی دراصل پیٹر پارکر کی ایک کہانی کا وہ حصہ ہے جس میں پیٹر بُری طرح زخمی ہو کر گرتا ہے اور وہ اُٹھ نہیں پا رہا۔ تب وہ خود سے کہتا ہے‘ میں اس لیے نہیں اُٹھ رہا کہ میں طاقتور ہوں‘ میں اس لیے اُٹھ رہا ہوں کہ مجھے اٹھنا ہے۔ ٹام ہالینڈ کی پوری زندگی اسی ایک فقرے کی عملی تفسیر ہے۔ وہ سپائڈر مین اس لیے نہیں بنا کہ وہ کامل یا سب سے بہترین تھا‘ وہ سپائڈر مین اس لیے بنا کہ وہ نامکمل ہوتے ہوئے بھی ہار ماننے کیلئے تیار نہیں تھا۔ ولیم شیکسپیئر نے کہا تھا کہ دنیا میں ہیرو کی تین اقسام ہیں۔ ایک وہ جو آسمان سے اترتے ہیں‘ جن کے ماتھے پر پیدائش سے ہی قسمت کا ستارہ چمک رہا ہوتا ہے‘ جن کے بازوؤں میں خدائی طاقت ہوتی ہے۔ دوسرے وہ جو گلیوں میں پلتے ہیں‘ جو ٹھوکر کھاتے ہیں‘ جو گرتے ہیں اور پھر اپنے ہی ہاتھوں سے مٹی جھاڑ کر دوبارہ کھڑے ہو جاتے ہیں۔ تیسرے وہ جو حادثاتی طور پر مسندِ توقیر پر بٹھا دیے جاتے ہیں جبکہ ان کی اہلیت یا قابلیت کار فرما نہیں ہوتی۔ پہلی قسم کے ہیرو سے دنیا متاثر ہوتی ہے لیکن دوسری قسم کے ہیرو سے دنیا محبت کرتی ہے۔ سپائڈر مین اسی دوسری قسم کا ہیرو ہے جس نے اپنے عزم و استقلال اور جہدِ مسلسل سے زیرو سے ہیرو تک سفر طے کیا ہے اور ہار نہیں مانی کیونکہ ہارتا وہ ہے جو ہار مان لیتا ہے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved