سیاسی دھوبی گھاٹ پر جہاں گندے کپڑوں کی دھلائی جاری ہے وہاں ایک دوسرے پر چھینٹے اُڑانے کا مقابلہ بھی زوروں پر ہے۔ ایک طرف حکمرانوں کے بھاشن جاری ہیں کہ ملک بدترین معاشی بحران سے گزر رہا ہے‘ عوام سے قربانیاں طلب کی جارہی ہیں‘ دوسری طرف پٹرولیم مصنوعات کی بھاری قیمتیں‘ جبکہ حکمرانوں کے نمائشی دورے اور سرکاری بابوؤں کے تام جھام اور آنیوں جانیوں کا پہیہ بھی خوب چل رہا ہے۔ یہ کیسے مشکل حالات ہیں؟ یہ کس طرح کی گرانی ہے؟ یہ کون سا نازک موڑ ہے؟ یہ کیسا توانائی کا بحران ہے؟ یہ کیسا کڑا وقت ہے؟ معیشت کو کون سے چیلنجز درپیش ہیں؟ جن کی قیمت چکاتے چکاتے عوام ٹکے ٹوکری ہو چکے ہیں۔ شوقِ حکمرانی کے ماروں پر اعتبار کی خطا وہ ناکردہ گناہ بن چکا ہے جس کی سزا نہ صرف نسل در نسل منتقل ہوتی چلی آرہی ہے بلکہ سزاؤں میں روز بروز اضافہ بھی مزید عذابوں اور عتابوں کا باعث ہے۔ یہ حکمرانی کا کیسا دیوتا ہے جو اَن گنت قربانیوں کے باوجود راضی ہونے کو تیار نہیں‘ جوں جوں بھینٹ بڑھتی چلی جاتی ہے توں توں یہ دیوتا مزید غضبناک ہوتا چلا جاتا ہے۔
یہ کون سی بری گھڑی ہے‘ یہ کون سی آزمائش ہے کہ جسے ٹالنے کیلئے ہمیشہ عوام کی قربانی ہی درکار ہوتی ہے۔ کبھی نازک موڑ کا تاوان تو کبھی کڑے وقت کا‘ کبھی توانائی کے بحران کی وصولی تو کبھی پالیسیوں اور فیصلوں کی‘ کبھی قرض اُتارو ملک سنوارو کی آڑ میں دن اور نسلیں سنواری جاتی رہیں تو کبھی روٹی‘ کپڑا اور مکان کے جھانسے دے کر ووٹ کی سیاہی عوام کے منہ پر ملتے رہے۔ کبھی سب سے پہلے پاکستان کے نام پر غیرتِ قومی اور احترامِ آدمیت کے معانی الٹاتے رہے‘ تو کبھی جمہوریت بہترین انتقام کا نعرہ لگا کر جمہوریت سے ہی انتقام لیتے رہے۔ کبھی تبدیلی کا سونامی سب کچھ بہا لے گیا تو کبھی ریفارمز کے نام پر ڈیفارمز کے ڈھیر لگاتے رہے۔ کوئی نگران بن کر ماضی کے سبھی ریکارڈ توڑ گیا تو کوئی مہمان بن کر وبالِ جان بن بیٹھا۔ کبھی اچھے دنوں کے خواب دکھا کر تعبیر میں دھتکار اور پھٹکار سے دوچار کرتے رہے۔ کوئی معیشت کی کشتی کو بحرانی بھنور سے نکالنے کا کریڈٹ لے رہا ہے تو کوئی اقتصادی اصلاحات پر نازاں اور اترائے پھرتا ہے۔ کوئی ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کا سہرا سجائے پھر رہا ہے تو کوئی جان لیوا قیمتوں پر پٹرول کی فراہمی کو اپنی جادوگری گردانتا ہے۔ توہینِ انسانیت سے لے کر تذلیلِ آدمیت تک‘ شرمسار گورننس سے لے کر تار تار میرٹ تک‘ آئین کے انحراف سے لے کر ضابطوں اور قانون کی پامالی تک‘ خرد برد سے لے کر بندر بانٹ تک‘ لوٹ کھسوٹ سے لے کر مار دھاڑ تک‘ بندہ پروری سے لے کر شکم پروری تک‘ وزرا اور مشیروں سے لے کر مصاحبین اور رفقائے کار تک‘ سرچڑھے بابوؤں سے لے کر سہولت کاروں تک‘ تھانہ ہسپتال اور پٹوار سے لے کر دیگر سبھی سرکاری اداروں تک‘ ہر طرف ادھم کا سماں ہے۔ ہر طرف حکمرانی کے یہی روپ بہروپ چہروں کی تبدیلی کے ساتھ باریاں لگاتے چلے آرہے ہیں۔ عوام سے تاوان اور قربانیوں کے بدلے آسانیوں اور فراوانیوں کے اسباب ہی حکمرانی کا اعجاز رہا ہے۔
اقتدار اور وسائل کے بٹوارے کے تحت راج نیتی کے سبھی دیوتا تاوان اور خراج کے ساتھ ساتھ عوام کے مستقبل پر بھی ہاتھ صاف کر چکے ہیں۔ ملک کبھی مشکل حالات سے دوچار رہا ہے نہ اس پر کوئی کڑا وقت آیا ہے‘ نازک موڑ کا ڈھکوسلہ بھی بیانیہ سازوں کی اختراع ہے۔ دراصل جب جب یہ مشکل حالات اور کڑے وقت سے دوچار ہوتے ہیں اسے ملک سے منسوب کر کے عوام سے قیمت اور تاوان طلب کرتے ہیں۔ ملک کے غلّے پر جب یہ سبھی بیٹھے ہیں تو خسارہ عوام کے کھاتے میں کس طرح ڈالا جا سکتا ہے؟ حکمرانی آپ کی‘ فیصلے آپ کے‘ اصلاحات آپ کی‘ اقدامات آپ کے‘ نیت اور ارادے بھی آپ کے تو نفع یا نقصان کے ذمہ دار بھی تو آپ ہی ہیں۔ سیاست کو دھندا بنانے والوں نے راج نیتی کو بھی بیوپار بنا ڈالا ہے۔ سبھی بیوپاری اپنی اپنی وصولیاں اس طرح کر رہے ہیں کہ عوام بنیادی ضرورتوں سے عاجز اور محتاج ہو چلے ہیں۔ کہیں دو وقت کی روٹی کے لالے ہیں تو کہیں فیسوں اور یوٹیلٹی بلوں کے‘ کوئی گھر کے کرایہ سے مجبور ہے تو کوئی علاج معالجے اور شادی بیاہ سے۔ یہ کیسی ریاست ہے‘ یہ کیسی مملکت ہے‘ یہ کیسا نظام ہے کہ ملک کی اقلیتی اشرافیہ کے طرزِ زندگی سے لے کر ٹھاٹ باٹ اور مال اسباب سمیت وسیع و عریض کاروبار اور جائیداد سے لے کر غیر ملکی اثاثوں اور دھن دولت تک شمار ممکن نہیں۔ دوسری طرف اکثریتی عوام کہیں دن کے چین سے محروم ہیں تو کہیں رات کی نیند اُچاٹ ہے۔ حالاتِ پریشاں اس قدر بھیانک اور ناقابلِ بیان ہیں کہ حالات کی عکاسی کیلئے ڈھونڈے سے الفاظ نہیں ملتے۔ اقتدار اور وسائل کے بٹوارے کا ماڈل اس قدر اٹوٹ ہے کہ عوام روز بروز بکھرتے اور ریزہ ریزہ ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ خوابوں سے لے کر آسوں اور اُمیدوں کی کرچیاں چنتے چنتے عوام کے ہاتھ لہولہان ہو چکے ہیں لیکن حکمران اشرافیہ کہیں حال مست ہے تو کہیں چال مست۔ اعتبار کی پاداش میں سزاوار ٹھہرائے جانے والے عوام بھی جھوٹے وعدوں‘ دلاسوں اور جھانسوں کی لت میں اس قدر لت پت ہیں کہ نسل در نسل لٹنے اور دھوکے کھانے کے باوجود ہر بار تازہ دم ہو کر باآسانی دھوکہ کھا لیتے ہیں۔ عوام کو ملک دیوالیہ ہونے کے خطرات سے ڈرانے والے بخوبی جانتے ہیں کہ اصل دیوالیہ تو عوام کا نکلتا ہے۔ ملکی وسائل سے لے کر نت نئے محصولات سمیت بھاری قرضوں کے بینی فشری تو براہِ راست خود حکمران ہی ہیں۔ کنبہ پروری سے لے کر اللّوں تللّوں سمیت سیر سپاٹوں اور شاہانہ حکمرانی کے سبھی لوازمات تو قومی خزانے کے مرہونِ منت ہیں۔ قوم کا تو بس نام ہی بدنام ہے خزانہ تو اسی کا ہے جو خزانے پر بیٹھا ہے۔ وزیرداخلہ تو یہ بات کہہ چکے ہیں کہ یہ نظام اور طرزِ حکمرانی ناکام ہو چکا‘ جس پر چھوٹے بڑے وزیروں اور مشیروں تک سبھی کونے جھانک کر رہ گئے۔ کسی نے اس بیان کی تردید نہیں کی اگرچہ نجی محفلوں میں لگے لپٹے لفظوں میں اختلافِ رائے کرتے رہے۔ یعنی حکومت نظام کے انہدام کے بیان پر کوئی واضح پوزیشن لینے سے گریزاں رہے۔ اگر نظام واقعتاً مفلوج ہے تو حکومت کے تسلسل اور جواز پر پہلے سے موجود سوالات مزید کڑے ہو جاتے ہیں‘ اور اگر حکومت اس نقطہ نظر سے متفق نہیں تو اس کی بھی وضاحت کرے کہ نظام کہیں نہیں گرا‘ حکومت بھی کھڑی ہے اور نظام بھی ۔ تعجب ہے اس بیان کے آگے حکمران چھوٹے کیوں پڑ گئے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved