تحریر : امیر حمزہ تاریخ اشاعت     02-10-2026

انسان اور فوٹون

اللہ تعالیٰ نے آخری الہامی کتاب قرآن مجید میں یمن کی ایک قوم کے نام سے ایک سورۃ نازل فرمائی۔ اس قوم کا نام ''سبا‘‘ تھا۔ اسی نام سے جو سورۃ نازل فرمائی اس کا آغاز ''الحمدللہ‘‘ سے ہوتا ہے۔ اس کے بعد ساتوں آسمانوں اور زمینوں کا ذکر فرمایا اور ذکر سے قبل ''لہٗ‘‘ کا لفظ استعمال فرمایا۔ یہاں ''ل‘‘ کا حرف عربی گرامر کے اعتبار سے ملکیت کے معنوں میں بھی ہے اور سبب کے معنی میں بھی ہے۔ یعنی ساری کائنات اللہ ہی کی ملکیت میں ہے اور اس کے قائم رکھنے ہی کی وجہ سے قائم اور موجود ہے۔ قارئین کرام! اسی سورۃ کی دوسری اور تیسری آیات میں اللہ تعالیٰ نے ذرات کا تذکرہ فرمایا ہے۔ پہلے دونوں آیات کا ترجمہ ملاحظہ ہو‘ اس کے بعد ہم ذرات کی سائنس کا رخ کریں گے۔ فرمایا: ''جو کچھ زمین میں جاتا ہے اور جو کچھ اُس سے نکلتا ہے اور جو کچھ آسمان سے اُترتا ہے اور جو کچھ اُس میں چڑھتا ہے‘ ہر چیز کو وہ جانتا ہے‘ وہ رحیم ہے (سر کشی کے باوجود) درگزر سے کام لیتا ہے (اور معافی کا موقع دیتا ہے)۔ منکر لوگ کہتے ہیں کہ قیامت کیوں نہیں آ رہی؟ (میرے حبیب) بتلا دوکہ مجھے اپنے رب کی قسم ہے وہ بہرصورت تم پر آکر رہے گی۔ وہ غیب کا جاننے والا ہے۔ ذرہ برابر بھی کوئی شے نہ آسمانوں میں اس سے چھپی ہوئی ہے اور نہ زمین میں۔ ذرے سے چھوٹی شے ہو یا اس سے بڑی ہو‘ سب کچھ ایک روشن کتاب میں درج ہے‘‘۔
دنیاوی آسمان میں موجود لاتعداد گلیکسیاں‘ ان گلیکسیوں کے لاتعداد جھرمٹ اور ان جھرمٹوں کے لاتعداد سپر جھرمٹ کے اندر جو لاتعداد سورج یعنی ستارے ہیں‘ ان سے نکلنے والے روشنی کے ذرات کو ''فوٹون‘‘ کہا جاتا ہے۔ زمین پر انسانوں کی آبادی اس وقت آٹھ ارب کے لگ بھگ ہے۔ اگر ہر شخص کمپیوٹر سائنس کا سائنسدان بن جائے اور پھر یہ سب انسان اربوں سالوں تک فوٹونز کو شمار کرتے رہیں تو یہ شمار نہیں کر سکتے۔ قارئین کرام! لاتعداد ذرات میں سے فوٹون محض ایک قسم (نوع) ہے۔ فزکس کی دنیا میں ذرات کی لاتعداد اقسام میں فوٹون ایک بنیادی ذرہ ہے جو روشنی اور تمام برقی مقناطیسی شعاعوں (Electromagnetic Radiation) کی سب سے چھوٹی اکائی ہے‘ جس کا وزن یا ماس نہیں ہوتا۔ فوٹون کی دو حالتیں ہوتی ہیں۔ یہ ذرہ بھی ہوتا ہے اور لہر (Wave) بھی ہوتا ہے۔ ہماری زمین کو روشنی دینے والا سورج ہے۔ یہ روشنی فوٹونز سے بھری ہوتی ہے۔ انہی فوٹونز کو پودے جذب کرتے ہیں۔ قدرتی گھاس جس سے ہماری زمین بھری پڑی ہے‘ وہ بھی ایک خصوصی نظام کے تحت فوٹونز کو جذب کرتی ہے۔ گھاس اور پودوں کو جب مویشی کھاتے ہیں تو یہ فوٹونز انرجی بن کر مویشیوں کے خون میں دوڑتے ہیں۔ اسی خون سے دودھ بنتا ہے۔ دودھ سے دہی بنتا ہے اور پھر اس سے مکھن اور گھی بنتا ہے۔ ان سب میں فوٹونز دوڑ رہے ہوتے ہیں۔ آگے چل کر وہ شوگر اور کاربوہائیڈریٹ میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ پودے جب فوٹونز کو جذب کرتے ہیں تو آکسیجن چھوڑتے ہیں‘ ہم انسانوں سمیت تمام جاندار اس آکسیجن کے سہارے زندگی گزارتے ہیں۔ جی ہاں! سانس میں فوٹون ہر جگہ اپنی کرشماتی صلاحیت کا اظہار کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے سورۂ سبا کے شروع میں ذرے کیلئے ''اصغر‘‘ کا لفظ استعمال فرمایا ہے۔ عربی میں اصغر اپنے چھوٹے پن کے لحاظ سے ''سپر لیٹو‘‘ ڈگری ہے۔ عربی گرامر میں تفصیل کے لحاظ سے اس کی درجہ بندی ہے۔ بڑی ضخامت کی طرف اس کو لے جائیں تو ''اکبر‘‘ یعنی ہمالیہ پہاڑ سے بھی آگے لے جائیں۔ نیچے آنا چاہیں تو ایٹم کے اندر کے عناصر سے مزید نیچے ''کوارکس‘‘ تک آ جائیں۔ کوارکس جوڑا جوڑا ہوتے ہیں‘ یعنی ایک کوارک اَپ ہوتا ہے تو دوسرا ڈائون ہوتا ہے۔ اس طرح بات اصغر سے اکبر تک جاتی ہے۔ سورۂ سبا بتاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اصغر کو بھی جانتا ہے اور اکبر کو بھی جانتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ پر جو آخری کتاب نازل فرمائی‘ اس میں واضح کر دیا کہ ہر شے ذرات یعنی ایٹم سے بنی ہے اور ایٹم سے آگے بھی بہت کچھ ہے۔ تحقیق کرتے جائو اور حاصل کرتے جائو۔ ان سب میں فوٹون بھی ملے گا جو روشنی کا سرچشمہ ہے۔
دیکھا جائے تو فوٹون ایک مادی نور ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتے ہیں کہ اس مادی نور کی کتنی اقسام ہیں۔ فوٹون کے نام سے جو مادی نور ہے‘ یہ ایٹم کے ساتھ مل کر برقی مقناطیسی قوت میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہ وہ قوت ہے جو ایٹم میں موجود عناصر کو باندھ کر رکھتی ہے۔ اس قوت کا کردار ختم ہو جائے‘ فوٹون کا کردار ختم ہو جائے تو ساری کائنات تحلیل ہو جائے۔ پہاڑ روئی کے گالوں کی طرح اڑنے لگ جائیں۔ جی ہاں! اسی لیے تو اللہ تعالیٰ نے قیامت کا ذکر کیا اور پھر چھوٹے سے چھوٹے ذرے کا ذکر فرمایا۔ ''لہٗ‘‘ کا مطلب جیسے پہلے بتایا کہ یہ ہے کہ کائنات اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے وہ ''القیوم‘‘ ہے یعنی ہر شے کے وجود کو بکھرنے سے اس نے بچا رکھا ہے۔ کائنات کی بنیادی اینٹ یعنی ایٹم کے ذرات کو اسی نے باندھ کے رکھا ہوا ہے۔ وہ باہم باندھنے کے اس سبب کو ختم کر دے تو ایک لمحے کے اربویں‘ کھربویں حصے میں کائنات ایسے ہو جائے جیسے یہاں کبھی کچھ تھا ہی نہیں۔ اللہ اللہ! یہ ہے اُس عظیم رب کریم کا اقتدار جس کا جلال قیامت کے دن ہر ایک کو نظر آئے گا۔ موجودہ کائنات اپنے وجود کیلئے ہر لمحہ اپنے خالق کی نظر کرم کی محتاج ہے۔
فوٹون کے بارے میں سائنسی ریسرچ یہ بھی بتاتی ہے کہ یہ معلومات سے بھرا ہوتا ہے۔ جی ہاں! اس کے پاس جو معلومات ہیں وہ دیگر ذرات‘ ذیلی ذرات اور لہروں (Waves) وغیرہ کے ساتھ شیئر بھی ہوتی ہیں۔ یوں ہر جاندار کے کردار کا کھاتہ تیار ہو رہا ہے۔ ہر انسان کی زندگی کا لمحہ لمحہ فوٹونز کے پاس محفوظ ہورہا ہے۔ آگے ٹرانسفر بھی ہو رہا ہے۔ جس طرح اربوں انسانوں کی معلومات کا ڈیٹا موبائلز اور سافٹ ویئرز کے ذریعے مرکزی سسٹم میں جا رہا ہے اسی طرح نجانے کتنی انواع کے ذرات ہر انسان کا ڈیٹا ایک مرکز میں جمع کروا رہے ہیں۔ سورۃ الزلزال میں اس کا تذکرہ یوں کیا گیا ہے: ''جب زمین پوری شدت کے ساتھ (زلزلے کی صورت میں) ہلا دی جائے گی تو تب زمین اپنے سارے بوجھ (باہر) نکال دے گی۔ انسان (حیرت و پریشانی میں) کہہ اٹھے گا: اس زمین کو کیا ہو گیا ہے؟ (اصل بات یہ ہے کہ) اُس (قیامت کے) روز وہ اپنے اندر کی خبریں بیان کرنا شروع ہو جائے گی۔ ایسا اس لیے ہوگا کہ آپ کے رب نے اس کو ایسا کرنے کا حکم دیا ہو گا‘‘۔ (آیات: 1 تا 5)
قارئین کرام! آج ہم اے آئی کو دیکھیں تو مشین لرننگ کے ذریعے زمینی دھاتوں کا سسٹم انسانی ڈیٹا کو کام میں لا کر اپنے فیصلے کرنے کے قابل ہوتا جا رہا ہے۔ یہ سارا کچھ ذرات ہی کا کھیل ہے۔ سورۃ الزلزال کا اختتام یہاں ہوتا ہے کہ جو شخص ذرہ برابر خیر کا کام کرے گا‘ انسانی بھلائی کا کام کرے گا‘ انسانیت کو جوڑنے کا کام کرے گا تو وہ اپنی ساری نیکیاں دیکھ لے گا۔ اس کے برعکس جو شر اور فساد پھیلاتا رہے‘ اپنے مفاد کی خاطر بھائیوں کی کردار کشی کرتا رہے‘ وہ بھی اپنے بدبودار‘ گندے اور تعفن زدہ بوجھ کو دیکھ لے گا۔ جی ہاں! فوٹون جو اربوں کھربوں کی تعداد میں ہر انسان کی آنکھوں میں آ جا رہے ہیں‘ ان کا اپنا تو کوئی وزن نہیں مگر انسان کے اعمال کو اٹھا کر مرکز میں ضرور منتقل کر رہے ہیں۔ خیر والا آدمی اپنی موت کے وقت بھی اور قیامت کے روز بھی جب اپنے اعمال کو دیکھے گا تو بہت خوش ہوگا۔ اس کے برعکس برے کاموں والا اس دنیا میں بھی نامراد ہو گا اور آخرت میں بھی خسارہ اٹھانے والوں میں شامل ہو گا۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved