دنیا کے مشکل ترین کاموں میں سے ایک کام اپنی ممدوح شخصیت پر تنقید ہے۔ یہ بات صرف وہ لوگ سمجھ سکتے ہیں جنہیں کبھی یہ ہمالیہ سر کرنا پڑا ہو۔
مولانا وحید الدین خاں‘ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کے ناقد ہیں۔ مولانا کے فکر پر سب سے جاندار اور پُراثر تنقید انہوں نے کی ہے۔ مولانا مودودی‘ ایک وقت تھا کہ اُن کی ممدوح شخصیات میں سرفہرست تھے۔ ''علمِ جدید کا چیلنج‘‘ مولانا وحید الدین خاں کی وہ کتاب ہے جو علم کی دنیا میں ان کا تعارف بنی اور جس نے اسلام کے طالب علموں کی ایک بڑی تعداد کو اپنی طرف متوجہ کیا۔ اس کتاب کو وہ جن دو شخصیات کا فیض قرار دیتے ہیں‘ ان میں ایک مولانا مودودی ہیں۔ اس کے دیباچے میں انہوں نے لکھا: ''اس کتاب کے ساتھ دو ایسی شخصیتوں کے نام وابستہ ہیں جو پچھلی چوتھائی صدی سے ہندو پاک میں خدمتِ دین کا نمایاں ترین نشان سمجھے جاتے ہیں۔ میری مراد مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی اور مولانا سید ابو الحسن علی ندوی سے ہے۔ یہ بالواسطہ طور پر مولانا مودودی ہی کا فیض ہے کہ پندرہ سال پہلے‘ اپنی زندگی کے ایک نازک ترین مرحلے میں میرے دل میں اس احساس نے غلبہ پایا کہ میں اپنی زندگی کو خدمتِ دین کے لیے وقف کروں‘ جس کا ایک با قاعدہ مظہر یہ کتاب ہے...‘‘۔
علم اور فکر کے سفر میں‘ پھر مرحلہ آیا جب مولانا وحید الدین خاں کو ''تعبیر کی غلطی‘‘ لکھنا پڑی۔ ان پر یہ منکشف ہوا کہ مولانا کے فکر میں ایک ایسا اساسی مسئلہ ہے جس سے پورے دین کی عمارت‘ ایک نئی صورت میں ڈھل گئی ہے۔ جب انہیں اس کا ادراک ہوا تو شدید پریشانی نے انہیں گھیر لیا۔ اس سفر میں وہ جن نفسیاتی مسائل اور اضطراب سے گزرے‘ اس کی روداد انہوں نے لکھ ڈالی ہے‘ جو اس کتاب میں بھی شامل ہے۔ اس اضطراب کی نوعیت کیا ہے‘ اس کا اندازہ کتاب کھولتے ہی ہو جاتا ہے۔ پہلے صفحے پر لکھا ہے: ''اس کتاب کی اشاعت میرے اوپر کتنی سخت ہے‘ اس کا اندازہ آپ اس سے کر سکتے ہیں کہ میرا جی چاہتا ہے کہ اس کے شائع ہونے کے بعد‘ میں کسی ایسی جگہ جا کر چھپ جاؤں جہاں کوئی شخص مجھے نہ دیکھے‘ اور پھر اسی حال میں مر جاؤں‘‘۔ یہ اہم بات ہے کہ جب انہوں نے ''علمِ جدید کا چیلنج‘‘ لکھی تو دیباچے کے آخر میں اس کی تاریخ درج کی۔ یہ ہے اگست 1964ء۔ ''تعبیر کی غلطی‘‘ جو نقد ہے‘ اس کی مذکورہ بالا تحریر کے نیچے اگست 1963ء کی تاریخ لکھی ہے۔ گویا ''تعبیر کی غلطی‘‘ کی اشاعت کے بعد بھی‘ مولانا مودودی کے بارے میں ان کے جذبات وہی تھے۔
میں اس کیفیت کو سمجھ سکتا ہوں کہ بارہا اس سے گزرا ہوں۔ مولانا مودودی میری ممدوح شخصیات کی پہلی صف میں ہیں۔ ان سے جو تعلقِ خاطر ہے‘ اس سے میں کبھی کمی نہیں آئی۔ اُن پر ہونے والی تنقید‘ جو اکثر روایتی علما کی طرف سے تھی‘ میری نظر سے گزری ہے۔ ان کی کسی دلیل نے مجھے متاثر نہیں کیا۔ پھر وہ مرحلہ آیا جب ''تعبیر کی غلطی‘‘ پڑھی۔ زمین پاؤں تلے سے سرکتی ہوئی محسوس ہوئی۔ بعد میں یہ فکری سفر‘ استاذِ گرامی جاوید احمد صاحب غامدی کی دہلیز تک لے گیا اور ان سے دین سمجھنا شروع کیا۔ میں بلامبالغہ عرض کرتا ہوں کہ میں راتوں کو سو نہیں سکتا تھا۔ دل یہ کہتا تھا کہ کاش فکرِ مودودی پر ہر تنقید‘ دیگر تنقیدات کی طرح‘ بے بنیاد ثابت ہو۔ غامدی صاحب کا مضمون ''تاویل کی غلطی‘‘ گویا اونٹ کی کمر پر آخری تنکا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ احساس ہوا کہ تنقید اور اختلاف اگر نیک نیتی اور اخلاص کے ساتھ ہو تو تعلقِ خاطر اور محبت پر اثر انداز نہیں ہوتا۔ ہم جن لوگوں سے استفادہ کرتے ہیں‘ یہ سب انسان ہیں۔ ان سے غلطی ہوتی ہے اور اس میں کچھ اچھنبے کی بات نہیں۔ ہمیں حکم یہ ہے کہ جسے حق سمجھیں‘ اس کے سامنے سرِ تسلیم خم کر دیں۔
پھر یہ بات سمجھ میں آئی کہ کسی شخصیت کے کسی ایک فکری پہلو سے اختلاف کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اس شخصیت میں کوئی خوبی تلاش نہیں کی جا سکتی یا یہ کہ اس سے دیگرعلمی استفادہ نہیں کیا جا سکتا۔ میں آج بھی جب قرآن مجید کے فہم تک رسائی کے لیے جن تفاسیر کی طرف رجوع کرتا ہوں‘ ان میں ''تفہیم القرآن‘‘ شامل ہے۔ آج بھی میرا احساس ہے کہ دین کا کوئی طالب علم اس تفسیر سے بے نیاز نہیں ہو سکتا۔ اس سے وہ علم اور فکری نشاط ملتا ہے کہ سبحان اللہ۔ اس علم پر مولانا کا اسلوبِ نگارش گویا سونے پر سہاگہ ہے۔
یہ بات میں نے اپنے استاد جاوید احمد غامدی صاحب سے سیکھی۔ وہ مولانا مودودی کے فکری ناقد ہیں۔ میرا عشروں کا مشاہدہ ہے کہ ان کی مجلس میں مولانا کا ذکر ہو تو ان کی آنکھوں میں ایک خاص چمک پیدا ہوتی ہے۔ وہ ان کے اوصاف بیان کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ دریا ہے جو بہہ رہا ہے اور اسے روکنا مشکل ہے۔ ایک دور تھا جب وہ تنقید لکھتے تھے تو اس کی تاب لانا محال ہوتا تھا۔ اس دور میں بھی مولانا مودودی کا معاملہ الگ ہی تھا۔ مولانا پر فکری تنقید کرتے وقت‘ ان کی زبان اور قلم‘ دونوں ایسے محتاط ہو جاتے تھے جیسے کسی بارگاہِ عقیدت میں قدم رکھ دیے ہوں۔ اب تو خیر انہوں نے اس اسلوب کو خیرباد کہہ دیا ہے۔ اب یہ انداز مولانا مودودی کے لیے خاص نہیں رہا‘ سب کے لیے ہے۔
ان جذبات کے باوصف‘ جہاں معاملہ علمی دیانت کا ہو تو اپنی بات کے اظہار میں وہ دوٹوک ہیں اور اپنا مؤقف کسی ابہام کے بغیر بیان کرتے ہیں۔ ہمیں بھی انہوں نے یہی سکھایا ہے کہ تنقید محبت اور احترام میں مانع نہیں ہوتی۔ اس باب میں وہ امام مالکؒ کے ہم مسلک ہیں کہ تنقید سے پاک اگر کوئی ہستی ہے تو وہ رسالت مآبﷺ کی ذاتِ والا صفات ہے۔ اسی طرح وہ امام ابوحنیفہؒ کے ہمنوا ہیں کہ ہم اسلاف کا احترام کرتے ہیں مگر اس احساس کے ساتھ کہ ''وہ بھی انسان تھے اور ہم بھی انسان ہیں‘‘۔ جاوید صاحب آج مولانا امین احسن اصلاحی پر تنقید کرتے ہیں‘ مگر ان کے احترام میں کوئی فرق نہیں لاتے۔ وہ آج بھی ان کے استاذ ہیں۔
مولانا مودودی کا اپنا طرزِ عمل بھی یہی رہا۔ ان کے کام کی نوعیت ہی مسلمانوں کی علمی و سیاسی روایت پر تنقید ہے۔ ایک محقق اور مجتہد کی حیثیت سے یہ ان کی مجبوری تھی۔ ''خلافت و ملوکیت‘‘ انہیں لکھنا پڑی‘ جب ان کا اس اہم سوال سے سامنا ہواکہ خلافت راشدہ جیسا ایک عظیم الشان سیاسی نظام‘ ملوکیت و بادشاہت میں کیسے بدلا۔ اپنے فکری امتیاز کو بیان کرتے ہوئے انہیں ''تجدید و احیائے دین‘‘ لکھنا پڑی تاکہ یہ معلوم ہو کہ امام غزالی اور شاہ ولی اللہ جیسوں کے علمی کام کی موجودگی میں‘ کسی نئے فکری کام کی ضرورت کیا ہے۔ اس تنقید کا مطلب یہ نہیں کہ مولانا مودودی کو ان بزرگوں سے محبت نہیں تھی یا وہ ان کی علمی خدمات کے معترف نہیں تھے۔
تنقید علمی دنیا کی ناگزیر ضرورت ہے۔ ہمیں ممدوح شخصیات سے محبت اور احترام کا رشتہ قائم رکھتے ہوئے‘ علم کی روایت کو آگے بڑھانا ہوتا ہے۔ ہر صاحبِ علم نے اپنے دور میں یہی کام کیا ہے۔ مولانا مودودی‘ مولانا اصلاحی‘ مولانا فراہی‘ جاوید احمد غامدی صاحب اور مفتی تقی عثمانی... ہم سب سے استفادہ کرتے ہیں اور سب کا احترام بھی کرتے ہیں۔ ان سے محبت بھی کرتے ہیں کہ یہ ہمارے بزرگ اور ہمارے تہذیبی و علمی سفر کا اہم پڑاؤہیں۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved