تحریر : جویریہ صدیق تاریخ اشاعت     03-10-2026

ایک اور کنٹینر کا سامنا تھا مجھے …

زندگی میں بہت سے مشکل مراحل دیکھے ہیں‘ بہت سی رکاوٹیں دیکھی ہیں لیکن جتنی رکاوٹیں اب جگہ جگہ کنٹینرز لگا کر اسلام آباد میں کھڑی کر دی گئی ہیں‘ اس کی مثال نہیں ملتی۔ اپنا شہر اپنا نہیں لگ رہا۔ ایسا لگ رہا ہے جیسے میں کسی بندرگاہ پر گھوم رہی ہوں۔ ہر چوک‘ ہر موڑ پر ایک کنٹینر کھڑا ہے۔ کسی بھی جگہ جانا آسان نہیں ہے‘ ہر جگہ کنٹینرز کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ یہاں تک کہ میری پسندیدہ ‘ مارگلہ روڈ پر بھی کنٹینرز کھڑے ہیں۔ سڑکوں پر کنٹینرز پڑے ہیں‘ گرین بیلٹس پر کنٹینرز موجود ہیں‘ شہر کے داخلی راستوں کی بھی یہی صورتحال ہے۔ یہاں تک کہ ریڈ زون بھی ان کی وجہ سے بندرگاہ کا منظر پیش کر رہا ہے۔ ٹریفک کی روانی میں بھی اس سبب مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
میں راولپنڈی سے اسلام آباد آ رہی تھی‘ راستے میں دو جگہ سڑکوں کی کھدائی ہو رہی تھی۔ اب نئے انڈر پاسز بن رہے ہیں۔ اس ملک میں جتنی سڑکیں بنتی ہیں‘ شاید ہی کسی اور ملک میں ایسا ہوتا ہو۔ یہاں ہسپتال اَپ گریڈ نہیں کیے جاتے‘ وہاں آگ بجھانے والے آلات نہیں نصب کیے جاتے‘ اشرافیہ کو صرف کنکریٹ پسند ہے۔ تعمیراتی کام کی وجہ سے ہر طرف دھول مٹی اڑ رہی تھی اور حدِ نگاہ بہت کم تھی۔ اس دھول مٹی میں سانس لینا مشکل ہو رہا تھا۔ اوپر سے بے ہنگم ٹریفک اور دونوں اطراف تین تین‘ چار چار منزلہ کنٹینرز کی قطاریں۔ راولپنڈی میں تو ٹریفک پولیس بھی نظر نہیں آتی۔ جس مرکزی سڑک پر تعمیرات ہو رہی ہیں‘ وہاں بھی اہلکار نظر نہیں آئے۔ جب آپ پشاور روڈ کی طرف سے اسلام آباد داخل ہونے کی کوشش کریں تو ٹرک‘ بسیں‘ ویگنیں سب لائن توڑ کر بائیک اور گاڑیوں کے اوپر آ رہے ہوتے ہیں۔ اس جگہ پر تو ہر وقت آیت الکرسی پڑھتے رہنا چاہیے۔ نہ ہی اس جگہ پر کوئی انڈر پاس ہے‘ نہ اوور ہیڈ برج‘ جہاں پر ان کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔
اسی طرح سیکٹر جی15 اور بی17 والی سڑک کا بھی یہی حال ہے۔ بڑی سواری والے ٹریفک قوانین کی پابندی نہیں کرتے اور ٹریفک جام روز کا معمول ہے۔ پی ٹی آئی کا لانگ مارچ اب تک غیریقینی صورتحال کا شکار ہے لیکن وفاقی دارالحکومت میں گزشتہ کئی ہفتوں سے کنٹینرز کی دیواریں بنا کر شہریوں کو محصور کر دیا گیا ہے۔ ایک کنٹینر رکھ دینے سے بھی راستہ بند ہو جاتا ہے لیکن یہاں تو تین تین‘ چار چار منزلیں بنا کر شہر کو کنٹینرز کی فصیلوں میں بند کر دیا گیا ہے۔ اس سے شہر خاصا بدصورت ہو گیا ہے اور سڑکیں اور گرین بیلٹس تباہ ہو رہی ہیں۔ شہر میں پہلے سارا سال سجاوٹ کی جاتی ہے‘ پودے لگائے جاتے ہیں‘ عوامی بجٹ لگایا جاتا ہے‘ پھر اسی خوبصورتی پر لا کر ٹنوں وزنی کنٹینر رکھ دیے جاتے ہیں۔ ایک بار شہر سجانے پر بجٹ لگتا ہے‘ پھر کنٹینرز رکھنے پر عوامی ٹیکس خرچ ہوتا ہے‘ اور کنٹینرز اٹھانے کے بعد گرین بیلٹس کی بحالی پر ایک بار پھر عوام کا ٹیکس خرچ کیا جاتا ہے۔ کاش یہ سب پیسہ عوام کی فلاح پر خرچ ہو۔
مجھے یاد ہے‘ مرحوم رحمان ملک کے دور میں جب بھی کوئی احتجاج ہوتا تھا تو موبائل سروس معطل کر دی جاتی تھی۔ اس طریقۂ کار سے حکومت مظاہرین کو کنٹرول کرنے کی کوشش کرتی تھی۔ خیر‘ اس سے بھی عوام کی مشکلات میں اضافہ ہوتا تھا۔ اس کے بعد بھی وزرائے داخلہ اپنے اپنے طور پر اقدامات کرتے رہے اور پھر احتجاج روکنے کیلئے کنٹینرز کا استعمال عام ہو گیا۔ اس کی وجہ سے عام شہری پریشانی کا شکار ہوتے ہیں۔ ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کیلئے ان کو طویل روٹ لینا پڑتے ہیں‘ کئی گھنٹوں کا ٹریفک جام جھیلنا پڑتا ہے‘ اس سے فیول بھی زیادہ خرچ ہوتا ہے جو جیب پر اضافی بوجھ ہے۔ اس سے طالبعلم اور اساتذہ بھی متاثر ہوتے ہیں۔ درس و تدریس سے وابستہ لوگ اس کشمکش میں پھنسے رہتے ہیں کہ ہم نے آج درسگاہ جانا ہے یا یہ احتجاج کی وجہ سے تعلیمی ادارے بند ہیں۔ اکثر ایسے مواقع پر تعلیم آن لائن شفٹ ہو جاتی ہے مگر آج کل انٹرنیٹ بھی بہت سست ہے۔ اس سے طالبعلموں کا بہت حرج ہوتا ہے‘ وہ اپنا نصاب مکمل نہیں کر پاتے۔ موٹرویز بند ہونے کی وجہ سے تمام لوگ جی ٹی روڈ کا رخ کرتے ہیں‘ جہاں منٹوں کا سفر گھنٹوں میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ اس وقت اسلام آباد کے اطراف کا چکر لگائیں تو جگہ جگہ خندقیں کھدی ہوئی ہیں۔ خاردار تاریں‘ سیمنٹ کے بلاکس‘ مٹی کے ڈھیر اور ریت کی بوریاں پڑی ہیں۔ اس وقت جو شہر کی صورتحال ہے اس سے حکومت‘ انتظامیہ یا مظاہرین کو کوئی فرق نہیں پڑ رہا‘ صرف عام شہری پریشانی کا شکار ہیں۔ اسلام آباد میں کے پی‘ کشمیر اور پنجاب سے بھی مریض آتے ہیں‘ وہ تذبذب کا شکار ہیں کہ نجانے کب راستہ کھلے اور کب دوبارہ بند ہو جائے۔ ان کنٹینرز کو دیکھ کر مجھے بہت خوف آتا ہے۔ اگر ان کی وجہ سے کوئی حادثہ ہو جائے‘ خدانخواستہ یہ کسی پر گر جائیں‘ یہ سوچ کر ہی مجھے جھرجھری آ جاتی ہے۔
ملک میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ سڑکوں سے کنٹینرز ہٹائے جائیں اور اپوزیشن سے مذاکرات کیے جائیں۔ جن کے کنٹینرز سڑکوں پر پڑے ہیں‘ وہ بھی پاکستانی ہیں۔ کروڑوں روپے کا مال ان کنٹینرز میں ہے۔ مظاہرین بھی پاکستانی ہیں اور جو اس صورتحال سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں‘ عام شہری وہ بھی پاکستانی ہیں۔ اس تمام معاملے کا واحد حل بات چیت ہے۔ ٹرانسپورٹرز حکومت پر واضح کر چکے ہیں کہ اس احتجاج کیلئے جو کنٹینرز پکڑے گئے ہیں‘ اگر ان کی ادائیگیاں نہ ہوئیں تو وہ بندرگاہوں پر کام بند کر دیں گے۔ اس وقت اسلام آباد میں ہزاروں کی تعداد میں کنٹینرز لگائے گئے ہیں‘ جن کا یومیہ کرایہ بلامبالغہ کروڑوں میں ہو گا‘ اور اب تک اس کی ادائیگی مالکان کو نہیں ہوئی۔پولیس کے اخراجات اس کے علاوہ ہیں۔ اٹک سے اسلام آباد تک کا راستہ ایک فصیل کی مانند لگ رہا ہے۔ اتنی سکیورٹی‘ اتنے اہلکار‘ اتنے ناکے اور سینکڑوں کنٹینرز۔ کیا آئی ایم ایف کی مدد سے چلنے والی معیشت کو ایسے خرچے زیب دیتے ہیں؟ اگر لانگ مارچ‘ احتجاج‘ دھرنوں سے کوئی ایشو ہے تو مذاکرات سے مسئلے کا حل نکالا جانا چاہیے۔ اس وقت جارحانہ رویے کے بجائے سیاسی بردباری کی ضرورت ہے۔سیاسی انتقام کا سلسلہ اب ختم ہونا چاہیے اور انتقام کی غرض سے قید کیے گئے سبھی سیاسی قیدیوں کو رہا کرنا چاہیے۔ اس ضمن میں سینئر سیاستدان اور اہم قومی شخصیات اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ ایسے معاملات طاقت اور جبر کے بجائے افہام و تفہیم سے ہی حل ہوتے ہیں۔
پی ٹی آئی لانگ مارچ کے حوالے سے اب بھی تذبذب کا شکار ہے‘ لیکن انتظامیہ نے پورے اسلام آباد کو بندرگاہ میں تبدیل کر دیا ہے۔ یہ صورتحال شہریوں پر نفسیاتی دباؤ ڈال رہی ہے کہ پتا نہیں کیا ہونے والا ہے۔ کنٹینرز کو صرف مال برداری کیلئے رہنے دیں‘ ان کو سڑکوں کی بندش کیلئے مت استعمال کریں۔ نہ یہ احتجاج روکنے کا ذریعہ ہیں‘ نہ ہی سڑکیں بند کرنے کیلئے بنے ہیں۔راستے بند کرنے سے پہلے متبادل راستوں کا پلان بھی جاری کرنا چاہیے۔ مسافروں‘ مریضوں اور طالب علموں کو پیش آنے والی مشکلات کو بھی مدنظر رکھا جانا چاہیے۔ میں نے اپنے بزرگ والدین کو لے کر ہسپتال جانا ہے‘ نجانے کتنے کنٹینرز کا سامنا کرکے میں منزل تک پہنچ سکوں گی۔اس صورتحال کا حل صرف مذاکرات میں ہے۔ اس وقت ہم اپنے مشرقی اور مغربی ہمسایوں کی طرف سے مشکلات کا شکار ہیں‘ اس لیے ہمیں اپنے اندرونی مسائل کو خوش اسلوبی سے حل کرنا چاہیے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved