تحریر : مفتی منیب الرحمٰن تاریخ اشاعت     03-10-2026

بَیْتُ الْجِنّ

ج اور ن کی تشدید کے ساتھ ''جِنّ‘‘ اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ ایک ناری مخلوق ہے‘ اس کی بابت اللہ تعالیٰ نے فرمایا: (1) ''اور جنّ کو آگ کے خالص شعلے سے پیدا کیا‘‘ (الرحمن: 15)۔ (2) ''اللہ نے فرمایا: (ابلیس!) جب میں نے تمہیں حکم دیا تھا تو تجھے (آدم کو) سجدہ کرنے سے کس چیز نے منع کیا‘ اس نے کہا: میں اُس سے بہتر ہوں‘ تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا ہے اور اسے مٹی سے پیدا کیا ہے‘‘ (الاعراف: 12)۔ ج اور ن مشدّد کے مادّے سے جو بھی الفاظ بنتے ہیں‘ ان میں ستر اور پوشیدگی کا معنی پایا جاتا ہے جیسے اَلجَنَّۃ: ''گھنا باغ جس کے نیچے زمین چھپ جاتی ہے ‘‘۔ جَنِیْن: '' ماں کے پیٹ میں بچہ جو مستور ہوتا ہے‘ اس کی جمع اَجِنَّۃٌہے‘‘۔ اَلْجُنَّۃ: '' ڈھال کو کہتے ہیں کہ اس کی آڑ میں انسان اپنا دفاع کرتا ہے‘ اس کی جمع مَجَانٌّ ہے‘‘۔ جَنَن: قبر کو کہتے ہیں‘ اس کی جمع ''اجنان‘‘ ہے۔ پاگل پن کو جنون کہتے ہیں‘ کیونکہ جسے جنون لاحق ہو جائے اُس کے دماغ پر ایک غیر مرئی پردہ پڑ جاتا ہے۔ جِنَانٌ: دل کو کہتے ہیں کہ وہ سینے میں مستور ہوتا ہے۔ رات کی تاریکی کو بھی قرآن نے ''جَنَّ‘‘ سے تعبیر کیا ہے: '' جب ابراہیم پر رات کی تاریکی چھا گئی‘‘ (الانعام: 76)۔ قرآنِ کریم میں 22 مرتبہ لفظ ''جِن‘‘ اور 7 مرتبہ لفظ ''جانّ‘‘ آیا ہے۔ سورۃ الاحقاف اور سورۃ الجن میں جنات کا رسول اللہﷺ کی بارگاہ میں آمد کا ذکر ہے اور اس امر کا بھی بیان ہے کہ ان میں مومن بھی ہیں اور کافر بھی۔ جنّات کے بارے میں قرآنِ کریم میں ہے: ''اے بنی آدم! کہیں شیطان تم کو فتنے میں مبتلا نہ کر دے جس طرح وہ تمہارے ماں باپ کے جنت سے اخراج اور ان کے لباس اترنے کا سبب بنا تھا تاکہ انجامِ کار انہیں ان کی شرمگاہ دکھائے‘ بے شک وہ اور اس کا قبیلہ تمہیں وہاں سے دیکھتے ہیں‘ جہاں سے تم انہیں نہیں دیکھ پاتے‘‘ (الاعراف: 27)۔
ابلیس کو راندۂ درگاہ کرتے ہوئے اللہ نے فرمایا: ''تو اس (جنت) سے نکل جا‘ بے شک تو دھتکارا ہوا ہے اور بے شک تجھ پر قیامت کے دن تک میری لعنت ہے‘ ابلیس نے کہا: اے میرے رب! پھر مجھے حشر کے دن تک مہلت دے‘ فرمایا: بے شک تو اُس دن تک مہلت پانے والوں میں سے ہے‘ جس کا وقت (ہمیں) معلوم ہے‘ اس نے کہا: تیری عزت کی قسم! میں تیرے منتخب بندوں کے سوا ضرور ان سب کو گمراہ کروں گا‘‘ (ص: 77 تا 83)۔ (2) ''اور یاد کرو! جب ہم نے فرشتوں سے کہا: آدم کو سجدہ کرو تو ابلیس کے سوا سب نے سجدہ کیا‘ اس نے کہا: میں اُس کو سجدہ کروں جسے تُو نے مٹی سے پیدا کیا‘ اُس نے کہا: ذرا بتائیے! یہ ہے وہ شخص جس کو تُو نے مجھ پر فضیلت عطا کی ہے‘ سو اگر تُو نے مجھے قیامت کے دن تک مہلت دی تو ایک قلیل تعداد کے سوا میں اس کی اولاد کو جڑ سے اکھیڑ دوں گا‘‘ (بنی اسرائیل: 61 تا 62)۔
کہاوت ہے: ''ویران گھر آسیب اور جنّات کا بسیرا ہوتا ہے‘‘۔ پس دلوں کی دنیا کو بھی اللہ تعالیٰ کے ذکر وفکر سے آباد رکھنا چاہیے‘ ورنہ وہ بھی افکارِ پریشاں اور فاسد خیالات کا مرکز بن جاتے ہیں۔ کچھ یہی صورتحال ہمارے اقتدار کے ایوانوں کی ہے کہ جب ہمارے سیاستدان اقتدار سے باہر ہوتے ہیں تو انہیں عوام کے دکھ درد بھی یاد آتے ہیں‘ اُن کے غم میں گھلتے بھی رہتے ہیں‘ اُن کی ہمدردی حاصل کرنے کیلئے ٹسوے بھی بہاتے ہیں‘ اُن کے مصائب ومشکلات کا ادراک بھی رکھتے ہیں۔ لیکن جب وہ ان کے کندھوں پر سوار ہو کر اقتدار کے ایوانوں میں پہنچتے ہیں تو اُن کے دل ودماغ کی کیفیت بدل جاتی ہے‘ عوام سے کیے گئے وعدے بھول جاتے ہیں‘ اپنی عشرتوں میں محو ہو جاتے ہیں۔ الغرض ایوانِ اقتدار اُن کیلئے ''بیتُ الجِنّ‘‘ بن جاتا ہے‘ پھر قرآنِ کریم کے الفاظ میں اُن کی کیفیت یہ ہو جاتی ہے: ''اُن کے لیے دل ہیں‘ مگر وہ اُن سے سوچتے نہیں اور اُن کی آنکھیں ہیں‘ (مگر) وہ ان سے دیکھتے نہیں اور اُن کے کان ہیں‘ (مگر) وہ ان سے سنتے نہیں‘‘ (الاعراف: 179)۔ (2) ''کہہ دیجیے! اُسی نے تم کو پیدا کیا ہے‘ تمہارے (سننے کے لیے) کان‘ (دیکھنے کے لیے) آنکھیں اور (سمجھنے کے لیے) دل بنائے ہیں‘ (مگر) تم بہت ہی کم شکر کرتے ہو‘‘ (الملک: 23)۔ حقیقی شکر گزاری یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ان نعمتوں کو اُس کی بندگی اور اس کے بندوں کی فلاح کیلئے استعمال کیا جائے‘ مگر ایسا ہوتا نہیں ہے۔ پس فرمایا: ''حقیقت یہ ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں‘ بلکہ دل اندھے بن جاتے ہیں جو سینوں میں ہیں‘‘ (الحج: 46)۔
شہباز شریف کو اقتدار میں آئے کم وبیش چارسال ہو گئے ہیں‘ مگر اس پورے عرصے میں عوام کی مشکلات میں اضافہ ہی ہوتا چلا گیا اور مہنگائی ناقابلِ تصور ہوگئی‘ بیروزگاری کا المیہ اس کے علاوہ ہے۔ کئی عالمی فرنچائز‘ برانڈ اور صنعتی ادارے پاکستان کو خیرباد کہہ چکے ہیں۔ حکومت تاجروں اور صنعتکاروں کی ناز برداری میں لگی رہتی ہے‘ مگر صنعتیں سمٹتی چلی جا رہی ہیں۔ دنیا بھر میں فلاحی ریاست کا تصور یہ ہے کہ مالداروں سے ٹیکس لیا جائے اور ناداروں کی فلاح پر خرچ کیا جائے‘ مگر حکومت امیروں اور جاگیرداروں سے براہِ راست ٹیکس لینے میں ناکام ہے‘ اس لیے بالواسطہ ٹیکسوں کا نظام پھیلتا چلا جا رہا ہے۔ پٹرول پر ٹیکس اور جنرل سیلز ٹیکس یہ سب بالواسطہ ٹیکس ہیں‘ ان کی زَد غریب عوام پر پڑتی ہے۔ وزیراعظم نے اس عرصے میں اتنی بڑی تعداد میں مختلف ممالک کے ساتھ مفاہمتی یادداشتوں (MOU's) پر دستخط کیے ہیں کہ شاید عالمی ریکارڈ ہو‘ مگر اُن کے بطن سے کچھ بھی برآمد نہیں ہوا۔ ملک کے اندر بیرونی سرمایہ کاری کی جو نویدیں سنائی جاتی رہی ہیں‘ وہ سَراب ثابت ہوئیں۔
جب ہمارے اپنے سرمایہ دار اپنا سرمایہ دبئی اور دیگر ممالک میں منتقل کر رہے ہیں تو کوئی پاگل ہے جو باہر سے آکر پاکستان میں سرمایہ کاری کرے گا۔ حکمرانوں کے غیر ملکی دوروں پر ہونے والے اخراجات کی تفصیلات بھی ہوشربا ہیں۔ وہ اخراجات کم کرنے کی نوید سناتے رہتے ہیں‘ مگر جب اعداد وشمار کو دیکھا جائے تو حقیقت اس کے برعکس نظر آتی ہے۔ ہم نے گزشتہ کچھ عرصے میں عالمی سفارتکاری میں بڑا نام کمایا ہے‘ امریکی صدر ٹرمپ بھی ہمارے وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی تحسین کرتے رہتے ہیں‘ لیکن ہم اپنے داخلی وسرحدی تنازعات اور دہشت گردی کے مسائل کو حل کرنے میں قطعاً ناکام ہیں۔ ہمارے دو صوبے بلوچستان اور خیبر پختونخوا نفرتوں کی آگ میں جل رہے ہیں‘ مگر اس آگ کو بجھانے کی کوئی تدبیر ہمارے اربابِ حلّ وعقد کو سجھائی نہیں دے رہی۔ ہمارے بین الاقوامی کاروباری معاہدات استحصال پر مبنی ہیں‘ ان میں آئی پی پیز سرِفہرست ہیں‘ اُن کو ہر سال حقیقی پیداوار پر نہیں‘ بلکہ پیداواری استعداد پر کھربوں روپے دیے جا رہے ہیں اور حکومتیں اتنی نااہل ہیں کہ اُن سے نجات کی کوئی تدبیر انہیں سمجھ میں نہیں آتی۔ بیرونی سرمایہ کاروں کو کے الیکٹرک اور پی ٹی سی ایل اس وعدے پر بیچے گئے کہ وہ باہر سے زرِ مبادلہ لاکر یہاں سرمایہ کاری کریں گے‘ ان اداروں کو جدید بنائیں گے؛ چنانچہ محض 26 فیصد شراکتی حصص کے عوض انہیں مکمل کنٹرول دے دیا گیا‘ مگر بجائے اس کے کہ باہر سے زرِ مبادلہ آتا‘ کے الیکٹرک نے پاکستانی بینکوں سے پرانی مشینری پر اجارہ صکوک کے نام پر ارب ہا روپے لیے اور منافع کماکر باہر لے گئے۔ یہی صورتحال اتصالات کی ہے کہ اب تک انہوں نے 80 کروڑ ڈالر پاکستان کو ادا نہیں کیے‘ حالانکہ ان کا معاہدہ شوکت عزیز کے زمانے میں ہوا تھا۔ ان کو بھی 26 فیصد شراکتی حصص کے عوض ادارے پر پورا کنٹرول دے دیا گیا اور اصل سرمائے کا کئی گنا منافع کما کر باہر لے گئے۔ اگر پٹرول لیوی کی طرح بالواسطہ ٹیکس ختم کر دیے جائیں یا انہیں ایک کم از کم مناسب شرح پر منجمد کر دیا جائے تو عوام کوکچھ نہ کچھ ریلیف مل سکتا ہے۔ عالمی سطح پر پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں جو اضافہ ہورہا ہے‘ اس کا ہر ایک کو ادراک ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved