دنیا اخبار میں دو خبریں ایک ساتھ چھپی ہیں۔ ایک خبر میں لکھا ہے کہ وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ ''سسٹم ری سیٹ ہونے والا ہے‘‘۔ پھر کہتے ہیں کہ ہم نے ایران سے کیا سیکھا ہے۔ وہ پچھلے کئی ماہ سے مسلسل ایران جا رہے ہیں‘ لہٰذا ان کو ایران کے بارے میں کچھ علم ہے جو شاید ہمیں نہیں ہے۔ اس خبر کے اوپر ایک اور خبر شائع ہوئی: کنٹینرز کی پکڑ دھکڑ سے ملکی معیشت کا پہیہ رک گیا۔ کنٹینرز ڈرائیورز کا پنجاب آنے سے انکار۔ بندرگاہ پر کنٹینروں کا ڈھیر لگ گیا۔ سینکڑوں کی تعداد میں جو کنٹینرز اس وقت اسلام آباد کی ہر سڑک‘ گلی اور نکڑ پر حکومت نے کھڑے کر دیے ہیں‘ ان کا خرچہ ایک ارب روپے سے اوپر نکل گیا ہے۔ اب کراچی کے بجائے اسلام آباد بندرگاہ شہر بن چکا ہے۔ ان دونوں خبروں کا ایک دوسرے سے گہرا تعلق ہے۔ ایک طرف وزیر داخلہ ملکی سسٹم کو ری سیٹ کرنے کی بات کر رہے ہیں اور معاشی ترقی کے سنہرے اصول سمجھا رہے ہیں‘ دوسری طرف ان کی سکیورٹی پالیسی کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ اب کوئی ڈرائیور اپنا ٹرک یا کنٹینر پنجاب کی طرف نہیں لے جانا چاہتا۔ اگرچہ وزیر داخلہ یقینا اس سکیورٹی پالیسی کو پی ٹی آئی کے احتجاج اور دھرنوں سے جوڑیں گے کہ وہ پچھلے تین برسوں سے ملکی صورتحال کو بگاڑے ہوئے ہیں۔ اب تک کئی دفعہ اسلام آباد پر چڑھائی کر چکے ہیں‘ جس میں کئی قیمتی جانیں بھی جا چکی ہیں۔ لہٰذا ملک کے دارالحکومت کو کسی جتھے کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ اگر چہ حالات نارمل کرنے ہوں تو عمران خان کو ہسپتال میں علاج کی سہولتوں کے علاوہ ان کی بہنوں کو ملاقات کی اجازت دی جا سکتی ہے تاکہ لاء اینڈ آرڈر کا مسئلہ نہ بنے۔ لیکن حکومت کی وہی ضد کہ یہ پی ٹی آئی کی بلیک میلنگ ہو گی اور اگلی دفعہ وہ کوئی اور مطالبہ منوانے کیلئے نکل پڑیں گے اور یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ یوں دو بڑوں کی اَنا کا کھیل چل رہا ہے۔ کچھ کا کہنا ہے کہ یہی غلطی کشمیر میں بھی کی تھی‘ جب وہاں سب مطالبات ایک ہی دفعہ تسلیم کر لیے تھے۔ اسکے بعد مظاہرین نے اپنے مطالبات کی نئی فہرست پیش کر دی‘ جو پورے کشمیر میں تحریک کا سبب بنی۔ لہٰذا حکومت وہی کام اب پی ٹی آئی کے ساتھ نہیں کرنا چاہتی کہ وہ ہر دفعہ سڑکوں پر نکلے تاکہ حکومت کو جھکایا جا سکے۔
جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے‘ میکاولی نے اپنی کتاب ''دی پرنس‘‘ میں شہزادے کو یہی مشورہ دیا تھا کہ اگر رعایا آپ سے مطالبات کرے تو فوراً ان مطالبات کو تسلیم مت کریں۔ پہلے تو مطالبات اکٹھے ہونے دیں اور وقت گزرنے دیں۔ لوگ جب زیادہ احتجاج کریں تو پھر اُن مطالبات میں سے ایک دو‘ جو زیادہ سنگین نہ ہوں‘ وہ مان لیں‘ لوگ احتجاج ختم کر کے گھروں کو لوٹ جائیں گے اور وہ بڑے عرصے تک دوبارہ مطالبہ نہیں کریں گے کہ ابھی تو بڑی مشکل سے ایک دو مطالبے مانے گئے ہیں۔ اس کا شہزادے کو کہنا تھا کہ اگر تم نے فوراً ان کے سب مطالبات مان لیے تو رعایا ایک دو ہفتوں بعد کچھ اور مطالبات لے کر محل کے باہر مظاہرے کر رہی ہو گی۔ انسانوں کے مسائل اور ایشوز بھلا کب ختم ہوتے ہیں۔ خیر‘ میکاولی کے دور اور آج کے جدید جمہوری ادوار میں بہت فرق ہے۔ لوگ اب رعایا نہیں رہے بلکہ وہ اپنے حکمران خود چنتے ہیں‘ جنہیں وہ اپنے سامنے جوابدہ سمجھتے ہیں‘ ورنہ انہیں نکال پھینکتے ہیں۔ جمہوریت میں احتجاج اور مظاہرے کو وہ آئینی حق سمجھتے ہیں۔ اگرچہ پاکستان یا بھارت جیسے ملکوں میں جمہوریت اب کمزور پڑتی جا رہی ہے‘ جہاں حکمرانوں کا احتساب مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ چلیں‘ پاکستان میں تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہاں چار مارشل لاء لگے جس کی وجہ سے سیاست اور سیاستدان‘ اور سب سے بڑھ کر ہمارے ادارے کمزور ہوئے‘ اور یوں دھاندلی اور ووٹ چوری کا رواج شروع ہوا۔ لیکن بھارت کے بارے میں کیا کہیں گے جہاں کوئی مارشل لاء نہیں لگا۔ ہاں‘ دو سال اندرا گاندھی نے ایمرجنسی ضرور لگائی تھی اور اسکے بعد ہونے والے الیکشن میں اپنی سیٹ‘ وزیراعظم ہوتے ہوئے بھی‘ ہار گئی تھی۔ لیکن اس وقت انڈیا میں بھی پُرتشدد مظاہرے ہو رہے ہیں کہ اب وہاں بھی ووٹ چوری اور دھاندلی معمول بن چکی ہے۔ وہاں بھی الیکشن کمیشن پر اب وہی الزامات لگ رہے ہیں جو پاکستان کے الیکشن کمیشن پر ہر دفعہ لگتے رہے ہیں۔ ہمارے ہاں یہ سب کچھ ہو تو سمجھ میں آتا ہے کہ چھوٹا ملک ہے‘ مقتدرہ کی گرفت مضبوط ہے‘ سیاستدانوں کے سیاسی کردار کمزور ہیں‘ چند سیاسی خاندانوں کا کنٹرول ہے اور وہ اداروں کیساتھ مل کر باری باری ووٹ چوری کر لیتے یا کرا لیتے ہیں۔ لیکن انڈیا میں ووٹ کیسے چوری ہو رہے ہیں؟ وہاں یہ رواج کب اور کیسے پڑا؟
ایک وقت تھا جب انڈیا کا الیکشن کمیشن اتنا طاقتور تھا کہ وزیراعظم ہوتے ہوئے بھی اندرا گاندھی اپنی سیٹ ہار گئی تھیں۔ بڑے بڑے وزیراعظم وہاں الیکشن ہارے اور کبھی نہ سنا کہ وہاں دھاندلی ہوئی ہو۔ ہم بھارتی جمہوریت اور سیکولرازم کی مثالیں دیا کرتے تھے لیکن وہاں جب نریندر مودی کے دور میں ہر ریاستی الیکشن بھارتیہ جنتا پارٹی نے جیتنا شروع کیا تو لوگوں کو شک ہونے لگا۔ بھارت میں یہ طنزیہ شعر بڑا مشہور ہوا کہ سرحدوں پر کشیدگی بڑھ گئی ہے‘ کیا کسی ریاست میں چناؤ تو نہیں ہو رہا؟ جب بھی بھارت میں الیکشن ہوا‘ پاکستان انڈیا کے حالات ضرور بگڑے۔
ایک دفعہ وزیراعظم عمران خان نے صحافیوں کو بلایا‘ میں بھی شریک تھا۔ کسی نے پاک بھارت مذاکرات کی بات کی تو خان صاحب کہنے لگے کہ ہمارے درمیان جو صلح کرانے کی کوششیں کر رہے ہیں‘ ان کا پیغام ہے کہ ابھی بھارت میں الیکشن ہونے والا ہے‘ وہ ہونے دیں‘ پھر بات چیت کرتے ہیں۔ عمران خان کو یقین تھا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی جیتے گی۔ اگر آپ کو یاد ہو تو انہوں نے وزیراعظم مودی کی پارٹی کیلئے ایک ٹویٹ بھی کیا تھا اور امید ظاہر کی تھی کہ ان کی جیت سے پاکستان اور انڈیا کے مسائل مل بیٹھ کر حل ہوں گے۔ مسائل کیا حل ہونے تھے‘ مودی صاحب نے الٹا آئینی تبدیلیاں کر کے کشمیر کو بھارتی وفاق کا حصہ بنا لیا۔ اب تین دفعہ وزیراعظم بننے کے بعد مودی صاحب کا دل ہی نہیں چاہتا کہ وہ الیکشن ہاریں۔ لہٰذا اب جو ریاستوں میں حالیہ الیکشن ہوئے ہیں‘ خصوصاً بہار اور بنگال میں ان میں انکی پارٹی پر بہت الزامات لگے ہیں۔ اب ٹائمز آف انڈیا کی ایک رپورٹر نے جو تحقیقاتی سٹوری الیکشن کمیشن آف انڈیا کے بارے میں بریک کی ہے‘ اس نے پورے بھارت کو ہلا کر رکھ دیا ہے کہ کیسے بی جے پی کیلئے چیف الیکشن کمشنر ووٹرز کو دھوکا دے رہے تھے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ اب بھارتی نوجوان طالبعلم دوبارہ جنتر منتر پر احتجاج کر رہے ہیں۔ ان طالبعلموں پر پولیس تشدد ہو رہا ہے۔ مظاہرین کو ڈنڈے‘ لاٹھی اور آنسو گیس اور گرفتاریوں سے ڈیل کیا جا رہا ہے۔ میں دوستوں کو ہمیشہ سے کہتا آیا ہوں کہ جب جمہوری ملکوں میں کوئی وزیراعظم کرسی سے چمٹ جائے اور اس کیلئے دھاندلی کرانے پر بھی تل جائے تو تسلی رکھیں‘ پھر وہ زیادہ دیر وزیراعظم نہیں رہ سکتا۔ پاکستان کے علاوہ بنگلہ دیش میں حسینہ واجد کی مثال دی جا سکتی ہے اور اب مودی بھی وہی کچھ کر رہے ہیں۔ حیران ہوں کہ ہم بھارت سے کچھ سیکھ سکے یا نہ سیکھ سکے‘ لیکن بھارتیوں نے ہم سے الیکشن میں دھاندلی ضرور سیکھ لی۔
جمہوریت کا اصلی تصور وہی ہے جو 1796ء میں جارج واشنگٹن نے دیا اور تیسری دفعہ امریکہ کا صدر بننے سے انکار کر دیا تھا۔ یاد رکھیں‘ جو سیاستدان ہر قیمت پر دوسری اور تیسری مدت کیلئے وزیراعظم بننے کیلئے مرنے مارنے پر تل جائے گا‘ وہ جمہوریت کی کمزوری اور دھاندلی کا سبب بنے گا۔ ریاست میں تشدد بڑھتا جائے گا۔ اس وزیراعظم کا اپنا انجام بھی اچھا نہیں ہوگا۔ بھٹو صاحب اور حسینہ واجد اس کی کلاسک مثالیں ہیں۔ مجھے تو اب مودی صاحب بھی اسی قطار میں کھڑے نظر آ رہے ہیں۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved