تحریک انصاف کے احتجاج کا اصل مقصد عمران خان کی رہائی ہے‘ اس مقصد کیلئے خیبر پختونخوا کی حکومت سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور کی قیادت میں کئی بار کوشش کر چکی ہے۔ ماضی میں کیے گئے احتجاج اور اس کے نتائج اس وقت ہمارا موضوع نہیں‘ تاہم ایک بات واضح ہے کہ احتجاج کی ناکامی کی ذمہ داری سابق وزیراعلیٰ علی امین پر بھی ڈالنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔ پی ٹی آئی کے اندر یہ باتیں بھی زبان زدِعام رہیں کہ علی امین گنڈا پور ''اُن‘‘ کا آدمی ہے۔ علی امین گنڈا پور کو ہٹانے کے پیچھے یہی عوامل کارفرما تھے۔ جبکہ سہیل آفریدی کو وزارتِ اعلیٰ کا عہدہ سونپنے کی بڑی وجہ ان کے خان صاحب کیلئے جذبات کے ساتھ ساتھ یہ بھی مقصود تھا کہ علی امین گنڈا پور کے دور میں ہونے والے ناکام احتجاج کے داغ کو دھویا جائے اور ثابت کیا جائے کہ پی ٹی آئی اب بھی کامیاب احتجاج کی پوزیشن میں ہے۔ سو اسی خیال کے پیش نظر اگست 2026ء کے اوائل میں اعلان کیا گیا کہ پی ٹی آئی 27 ستمبر کو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کرے گی۔ احتجاج کے اعلان کے ایک ہفتہ بعد ہی سپریم کورٹ سے خان صاحب کو علاج کے نام پر بظاہر ریلیف ملا تو حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان ممکنہ ڈیل کے خبریں گردش کرنے لگیں۔ سپریم کورٹ نے 18اگست 2026ء کو حکم نامہ جاری کیا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کو اڈیالہ جیل سے اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے۔ اس عدالتی حکم نامے کی رو سے عمران خان کو 16ستمبر 2026ء یعنی کیس کی اگلی سماعت تک شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں ہی زیر علاج و زیرِ نگہداشت رکھا جانا تھا۔ توقع کی جا رہی تھی کہ خان صاحب کی ہسپتال میں موجودگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے سیاسی سرگرمیاں بڑھیں گی اور کشیدگی میں خاتمے کی راہ ہموار ہو گی۔ مگر حکومت کے اقدام نے ان تاثرات پر پانی پھیر دیا کیونکہ خان صاحب کو پمز ہسپتال میں چیک اَپ کے بعد دوبارہ اڈیالہ جیل بھیج دیا گیا اور سیاسی ملاقاتوں کیلئے ایک دو روز بھی میسر نہ آ سکے۔ ظاہر ہے یہ صورتحال پی ٹی آئی کی توقع کے خلاف تھی۔ پی ٹی آئی نے عدالتی حکم کی خلاف ورزی پر احتجاج ریکارڈ کرایا اور توہین عدالت کا سہارا لیتے ہوئے سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کی مگر اسے کوئی کامیابی نہ مل سکی۔ نئی پیدا شدہ صورتحال نے پی ٹی آئی میں پائی جانے والی اس سوچ کو تقویت دی کہ اپنا حق احتجاج سے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اس مقصد کیلئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے مہم تیز کر دی اور پہلے سندھ کا دورہ کیا۔ کہا جا سکتا ہے کہ سندھ کی سرزمین پر انہیں سیاسی سرگرمیوں کا موقع ملا اور پی ٹی آئی سوشل میڈیا پر یہ تاثر دینے میں کامیاب ہو گئی کہ سندھ کے لوگوں نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا صرف اس وجہ سے بھرپور استقبال کیا کیونکہ وہ خان صاحب کی رہائی کیلئے لوگوں میں بیداری پیدا کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔
سندھ کے کامیاب دورے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ انہیں کسی بڑی رکاوٹ کا سامنا نہیں کرنا پڑا‘ سب کچھ فرینڈلی انداز میں ہوا۔ اسی زعم میں مبتلا سہیل آفریدی نے پنجاب کا دورہ کیا‘ چونکہ لاہور ماضی میں پی ٹی آئی کا گڑھ سمجھا جاتا رہا ہے اور لاہور میں پی ٹی آئی اپنے مضبوط ووٹ بینک کا دعویٰ بھی کرتی رہی ہے اس لیے پی ٹی آئی کو توقع تھی کہ سہیل آفریدی کے پہنچتے ہی پورا لاہور خان صاحب کی محبت میں اُمڈ آئے گا۔ زمینی حقائق مگر اس کے برعکس تھے۔ سہیل آفریدی کو شکوہ ہے کہ انہیں لاہور میں مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا مگر اس سے بھی انکار کی گنجائش نہیں کہ پی ٹی آئی کے لاہوریوں نے سہیل آفریدی کو مایوس کیا۔ سہیل آفریدی لاہور سے واپس لوٹے تو ان کے پاس اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا ہی واحد راستہ بچا تھا تاکہ انہوں نے کارکنوں اور پارٹی سے خان صاحب کی رہائی کیلئے جو وعدہ کر رکھا ہے‘ اسے عملی شکل دی جا سکے۔ یا کم از کم پارٹی کے سامنے سرخرو ہو سکیں کہ ان کے بس میں جو تھا وہ کیا اور کسی مصلحت کا شکار نہیں ہوئے۔ جب سہیل آفریدی اپنے مؤقف پر ڈٹ گئے تو یہاں سے ان کا اصل امتحان شروع ہوا۔ سب سے پہلا امتحان انہیں پارٹی کے اندر شدید مزاحمت‘ اندرونی اختلافات اور احتجاج کے معاملے پر مختلف آرا کی شکل میں کرنا پڑا۔ ذرا تصور کریں کہ احتجاج کی تاریخ سر پر آن کھڑی تھی اور تحریک انصاف کی احتجاج کیلئے کوئی تیاری نہ تھی۔ پھر نہ چاہتے ہوئے بھی انہیں احتجاج کی تاریخ 4اکتوبر تک مؤخر کرنا پڑی۔ احتجاج کی تاریخ میں چند روز کی توسیع تو ہو گئی مگر سہیل آفریدی کے امتحان ابھی باقی تھے۔ صوبے میں تبدیلی کیلئے ممکنہ طور پر گورنر راج یا وزیراعلیٰ کیلئے پی ٹی آئی کی کوئی قابلِ قبول شخصیت کی صورت سہیل آفریدی کا امتحان جاری رہا۔ بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت نے صوبے میں سکیورٹی وجوہات کی بنیاد پر آئین کی حدود میں رہتے ہوئے تبدیلی کی تمام تر تیاری کر لی تھی۔ پھر مذاکرات کی راہ ہموار ہوئی۔ حکومت اور اپوزیشن کی 6‘6 رکنی مذاکراتی کمیٹی کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور جمعہ کو ہوا۔ مذاکرات کے پہلے دور کو خوشگوار قرار دیا گیا۔ مذاکرات کا دوسرا دور تادم تحریر شروع نہیں ہوا۔ ادھر جمعہ کے روز کور کمانڈر کانفرنس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کیلئے داخلی استحکام انتہائی اہم ہے‘ کسی بھی جواز پر پُرتشدد انتشار یا 9 مئی جیسے حالات پیدا کرنے کی کوشش سے فیصلہ کن طاقت اور قانون کے ساتھ بلاامتیاز اور بلا جھجھک نمٹا جائے گا۔ اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ مقتدرہ پی ٹی آئی کو پُرتشدد احتجاج کی اجازت دینے کیلئے کسی قیمت پر بھی آمادہ نہیں ہے۔ یہاں یہ بھی ملحوظ خاطر رہے کہ جیسے کسی شہری کو احتجاج کے بنیادی حق سے روکا نہیں جا سکتا ہے اسی طرح کسی بھی گروہ یا جتھے کو پُرتشدد احتجاج کی اجازت نہیں دی جا سکتی ہے۔ پی ٹی آئی کیلئے لمحہ فکریہ ہونا چاہیے کہ اس نے کون سی لکیر عبور کی ہے جس کی وجہ سے وہ احتجاج کے حق سے محروم ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ اسی طرح رانا ثناء اللہ سے منسوب ایک بیان گردش کر رہا ہے کہ عسکری اور سیاسی قیادت نے طے کیا ہے کہ دھرنے اور لانگ مارچ اسلام آباد سے دور ہونے چاہئیں۔ رانا ثناء اللہ نے برملا کہا کہ پی ٹی آئی کو مطالبات کیلئے احتجاج ہی کرنا ہے تو پشاور اور مردان میں کرے۔ اگر کسی کو کوئی مسئلہ ہے تو وہ پشاور‘ کراچی‘ لاہور میں احتجاج کرے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو بطور جماعت پی ٹی آئی کی آزمائشیں کسی حد تک کم ہوئی ہیں مگر سہیل آفریدی کی بطور وزیراعلیٰ مشکلات ختم نہیں ہوئی ہیں۔ یہ اہم پیش رفت ہے کہ اپوزیشن حکومت کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھی ہے‘ ظاہر ہے اس موقع پر دیگر سیاسی امور بھی زیر بحث آئیں گے جیسے مذاکرات کے پہلے دور میں پی ٹی آئی سے احتجاج ختم کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ جبکہ پی ٹی آئی مذاکرات کار عمران خان کیلئے ریلیف حاصل کرنے کے خواہاں ہیں۔ اگر کوشش کے باوجود پی ٹی آئی عمران خان کیلئے ریلیف حاصل کرنے میں ناکام رہتی ہے تو بطور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی مشکلات مزید بڑھ جائیں گی۔ سہیل آفریدی کیلئے ایک طرف عمران خان کی رہائی کا چیلنج ہو گا جبکہ دوسری طرف کارکنوں اور پارٹی قیادت کو اعتماد میں لینا ہو گا۔ وہ اس صورتحال سے کیسے نمٹتے ہیں یہ اہم ہو گا۔ اگر سہیل آفریدی کی حکمت عملی ریاست سے ٹکرانے والی ہوئی تو وہ کھیل کے میدان سے باہر بھی ہو سکتے ہیں‘ یہ فیصلہ انہوں نے کرنا ہے کہ کھیل کے میدان میں موجود رہتے ہوئے حالات کا مقابلہ کرنا ہے یا کھیل کے میدان سے باہر رہ کر محض تماشائی بننا ہے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved