سوویت یونین کے انہدام کو تین دہائیاں گزرنے کے بعد عالمی منظر نامہ ایک بار پھر تبدیلی سے گزر رہا ہے۔ روس‘ یوکرین جنگ نے یورپ کی سلامتی کو براہِ راست متاثر کیا ہے۔ نیٹو کے مشرقی حصے پر دبائو بڑھا ہے۔ یورپ سے امریکی فوجی انخلا کا بڑا سبب واشنگٹن کا اپنی توجہ بحر الکاہل اور ایشیا کی جانب منتقل کرنے کی کوشش ہے جبکہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتے تنازعات نے عالمی طاقتوں کی صف بندی کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔ روس اور چین اس بدلتے تناظر میں نئے سفارتی‘ اقتصادی اور تزویراتی مواقع کی تلاش میں ہیں۔ ایران کے ساتھ کشیدگی نے یہ ثابت کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگیں صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں۔ خلیج فارس‘ آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے اہم راستوں میں سے شامل ہیں‘ ان میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ کا براہِ راست اثر یورپی معیشتوں پر بھی پڑتا ہے۔ اس لیے یہ محض امریکی خارجہ پالیسی کا معاملہ نہیں بلکہ توانائی‘ تجارت‘ آبی گزرگاہوں کی سلامتی‘ ہجرت اور دہشت گردی کے خطرات کے باعث یہ معاملہ یورپ کی سلامتی سے بھی جڑا ہوا ہے۔
روس یوکرین جنگ نے یورپ کے سامنے ایک بڑا سوال کھڑا کیا جسے سرد جنگ کے خاتمے کے بعد بڑی حد تک پس پشت ڈال دیا گیا تھا۔ وہ یہ کہ یورپ اپنے تحفظ کیلئے خود کتنا تیار ہے؟ نیٹو اب مشرقی حصار مضبوط کر رہا ہے‘ یورپی ممالک دفاعی بجٹ بڑھا رہے ہیں‘ دفاعی صنعت کو توسیع دی جا رہی ہے اور امریکہ یورپ میں اپنی فوجی موجودگی پر نظرِ ثانی کر رہا ہے۔ پہلے مرحلے میں اس نے رواں سال مئی میں جرمنی سے پانچ ہزار فوجیوں کی واپسی کا اعلان کیا اور پھر پولینڈ میں چار ہزار فوجیوں کی تعیناتی کے منصوبے کو مؤخر کر دیا۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یورپ کا نیا دفاعی نقشہ محض فوجی اڈوں اور سرحدوں تک محدود نہیں ہوگا۔ یہ عالمی طاقتوں کی بدلتی صف بندیوں‘ روس یوکرین جنگ‘ نیٹو کی نئی ترجیحات سمیت امریکہ کے بدلتے فوجی کردار پر مشتمل ہو گا۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد امریکہ نے یورپ کے مختلف ممالک میں نہ صرف اپنی فوجیں تعینات کیں بلکہ نیٹو کے دفاعی سٹرکچر کو اپنی عسکری قوت‘ انٹیلی جنس‘ فضائی صلاحیت اور لاجسٹک نظام سے سہارا دیا۔ اب منظر نامہ تبدیل ہو رہا ہے۔ آنے والے برسوں میں یورپ کیلئے صرف روسی خطرے کا چیلنج نہیں رہا بلکہ بڑا چیلنج یہ ہے کہ یورپ امریکہ کی ممکنہ فوجی واپسی سمیت دیگر ملٹری منصوبوں میں کمی کے تناظر میں اپنے دفاعی ڈھانچے کو کس حد تک مربوط کر سکتا ہے؟
یورپ کے نئے دفاعی نقشے میں اب ایک بنیادی تبدیلی یہ آئی ہے کہ مغربی یورپ کی نسبت مشرقی یورپ کے دفاع کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ پولینڈ‘ بالٹک ریاستیں‘ فن لینڈ اور بحیرہ اسود کا خطہ مستقبل کی دفاعی منصوبہ بندی میں مرکزی حیثیت اختیار کر رہا ہے۔ اگرچہ امریکہ اب بھی نیٹو کی عسکری بنیاد کا اہم حصہ ہے‘ مگر یورپی اتحادیوں پر فوجی اخراجات کے زیادہ حصے کیلئے دبائو بڑھ رہا ہے۔ یہی یورپ کے دفاعی نقشے کو سرد جنگ کے بعد کے نقشے سے مختلف بنا رہا ہے۔ یوکرین جنگ اب صرف ایک جنگی محاذ نہیں بلکہ مستقبل کی یورپ کی دفاعی حکمتِ عملی کا اہم حوالہ بن چکا ہے۔ اس جنگ نے یورپی ملکوں کو یہ سوچنے پر مجبور کیا ہے کہ اگر انہیں طویل عرصے تک کسی بڑے فوجی بحران کا سامنا کرنا پڑے تو انکے پاس کتنے وسائل‘ ذخائر اور کتنی پیداواری صلاحیت ہے۔ یوکرین کو فراہم کی جانے والی مغربی عسکری امداد بھی اسی وسیع تر دفاعی حکمت عملی کا حصہ ہے‘ جو اس بات کی بھی عکاس ہے کہ یوکرین کا مسئلہ صرف کیف اور ماسکو کے مابین کا تنازع نہیں بلکہ یورپ کی اپنی سلامتی بھی اس پر منحصر ہے۔ روس یوکرین جنگ نے یورپی سکیورٹی کے پرانے تصورات کو چیلنج کرنے کے ساتھ ساتھ نیٹو کے دفاعی ڈھانچے‘ یورپی ممالک کی عسکری ترجیحات اور امریکہ کے فوجی کردار کے بارے میں بھی نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ یوکرین جنگ کا مستقبل یورپ کے نئے دفاعی نقشے سے براہ راست جڑا ہوا ہے۔ جنگ کے دوران یورپی ممالک نے یوکرین کو ہتھیار‘ فوجی و مالی امداد اور وسائل فراہم کیے۔ نیٹو کے مطابق رواں برس اب تک اتحادی ممالک نے یوکرین کے لیے 70 ارب یورو کے ملٹری فنڈز کی فراہمی کا وعدہ کیا جبکہ یورپ اور کینیڈا اس فنڈز کا بڑا حصہ فراہم کر چکے ہیں۔
برسلز میں یورپی وزرائے دفاع کے اجلاس کے موقع پر یورپی کمیشن کی نائب صدر اور یورپی یونین کی خارجہ پالیسی چیف کایا کالاس نے خبردار کیا کہ یورپ کو 2030ء کے دفاعی اہداف کو پورا کرنے کیلئے خود کو تیزی سے اور زیادہ مؤثر انداز میں مسلح کرنے کی ضرورت ہے۔ انکے مطابق روس امن کے قیام میں دلچسپی نہیں رکھتا لہٰذا یورپ کو اپنے دفاعی نقطۂ نظر میں فیصلہ کن تبدیلی لانا ہو گی۔ کایا کالاس کا کہنا تھا کہ یورپی ممالک نے روس کی جانب سے درپیش خطرات کے پیشِ نظر ایک نئے 'ایمرجنسی سکیورٹی پروٹوکول‘ پر بات چیت کا آغاز کر دیا ہے۔ مجوزہ پروٹوکول کا مقصد ان واقعات پر فوری ردِعمل دینا ہے جو نیٹو کے آرٹیکل پانچ کے تحت مسلح حملے کے زمرے میں نہ آتے ہوں تاہم وہ یورپی سلامتی کیلئے خطرہ ہوں۔ لہٰذا اس صورتحال میں یہ دیکھا جائے گا کہ اس حملے کے خلاف فوری طور پر کون سے ذرائع اور اقدامات استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ کایا کالاس کا مزید کہنا تھا کہ یورپی یونین یوکرین کے مقبوضہ علاقوں میں انسانی امداد پہنچانے کی کوشش کر رہی ہے اور یوکرین کو اپنے دفاع میں مدد فراہم کرنے کا سلسلہ بھی جاری رکھے گی۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ یورپی یونین روس کے خلاف اب تک کی سب سے بڑی پابندیوں کی فہرست پر بھی کام کر رہی ہے۔
سرد جنگ کے بعد سے یورپ نے اپنی معاشی و سماجی ترقی کو ترجیح دی مگر حالیہ تنازع نے اس کو دوبارہ دفاع‘ عدم تحفظ اور فوجی تیاریوں کی طرف دھکیل دیا ہے۔ نیٹو کی موجودگی‘ فضائی نگرانی‘ میزائل و ڈرون ٹیکنالوجی اور دیگر اہم فوجی لاجسٹکس کو اب مرکزی حیثیت حاصل ہو گئی ہے۔ یہاں سوال یہ بھی ہے کہ کیا یورپ اب امریکہ کے سائے سے باہر نکل رہا ہے؟ کیا یورپ نئے دفاعی دور میں داخل ہو رہا ہے؟ گزشتہ سات دہائیوں سے نیٹو یورپ کی اجتماعی سکیورٹی کا ضامن رہا ہے اور اسکے آرٹیکل پانچ کے تحت اس اتحاد میں شامل کسی ایک رکن ملک پر حملہ تمام اتحادیوں پر حملہ تصور ہو گا۔ 2025ء کے ہیگ اجلاس میں نیٹو ممالک نے 2035ء تک دفاعی اخراجات جی ڈی پی کے پانچ فیصد تک لے جانے کا عہد کیا‘ جس میں 3.5 فیصد بنیادی ڈیفنس ضروریات کیلئے مختص کرنے کا ہدف مقرر کیاگیا۔ نیٹو کے مطابق یورپی اتحادیوں اور کینیڈا نے گزشتہ سال عسکری سرمایہ کاری بڑھائی اور مجموعی اخراجات میں 2024ء کے مقابلے میں 2025ء میں 139 ارب ڈالر سے زائد کا اضافہ ہوا۔ یہ اعداد وشمار اس بات کی علامت ہیں کہ یورپ اب امریکہ پر انحصار کم کرتے ہوئے اپنی فوجی صلاحیت بڑھانے کی کوشش میں ہے۔ دفاعی اخراجات کا مسئلہ اپنی جگہ اہم ہے مگر نیٹو کے حوالے سے یہ سوال زیادہ اہمیت رکھتا ہے کہ کیا موجودہ عالمی صورتحال میں یورپ اور امریکہ ایک مشترکہ سکیورٹی تصور پر متفق ہو سکتے ہیں؟ جہاں ایک طرف امریکہ میں نیٹو کے کردار پر سیاسی تقسیم بڑھ رہی ہے‘ وہیں یورپ میں واشنگٹن کی پالیسی خصوصاً مڈل ایسٹ اور روس کے حوالے سے پالیسی مختلف سطحوں پر اختلافات کا سبب بن رہی ہے۔ نیٹو کے سامنے اصل چیلنج یہی ہے کہ وہ ہرمز اور بحیرۂ اسود کو دو الگ الگ جغرافیائی مسائل سمجھنے کے بجائے ایک وسیع تر سکیورٹی کے تناظر میں دیکھے۔ یوکرین روس جنگ‘ ایران کی فوجی قوت‘ بحری تجارت‘ آبی گزرگاہوں میں کشیدگی‘ مشرق وسطیٰ میں نئی علاقائی صف بندی کو عالمی قوتوں کی مسابقت نے ایک دوسرے کیساتھ جوڑ دیا ہے۔ اب یورپ کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ وہ اپنی سکیورٹی کو امریکی ضمانت کیساتھ وابستہ رکھے یا اپنی سفارتی‘ عسکری و اقتصادی صلاحیتوں کو زیادہ منظم انداز میں استعمال کرے۔ ہرمز سے بحیرہ اسود تک بڑھتے بحران نے اس سوال کو مزید اہم بنا دیا ہے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved