خیبر پختونخوا حکومت کو لے کر اس وقت شدید تحفظات پیدا ہو چکے ہیں۔ اگر ایک صوبائی حکومت وفاق کیلئے دردِ سر والی صورتحال پیدا کر دے اور آئین کے مطابق نہ چلے تو آئین کا آرٹیکل 247 صوبائی اسمبلی اور حکومت کے اختیارات سلب کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ صوبائی حکومت اسے کسی طور چیلنج نہیں کر سکتی۔ اسی آرٹیکل کے سہارے مئی 1993ء میں صدر غلام اسحاق خان نے پنجاب حکومت کے خلاف ایکشن لیتے ہوئے گورنر چودھری الطاف حسین کو پنجاب میں ایڈمنسٹریٹر مقرر کر کے رینجرز کو اختیارات سونپ دیے تھے۔ آئین کے آرٹیکل 232 میں ایمرجنسی کے نفاذ کیلئے جو شرائط بیان کی گئی ہیں‘ فی الحال صوبے میں ایسا ماحول نظر نہیں آ رہا۔پاکستان میں ایمرجنسی کی تاریخ بڑی کربناک رہی ہے۔ 1971ء میں جنگ اور مشرقی پاکستان کے بحران کے حوالے سے 30 نومبر 1971ء کو ملک میں ایمرجنسی کا اعلان کیا گیا تھا جو جنگی حالات کے تناظر میں تھی۔ 1973ء کے آئین میں آرٹیکل 280 کے ذریعے اس پرانی ایمرجنسی کو نئے آئینی نظام کے تحت جاری تصور کیا گیا۔ 28 مئی 1998ء کو ایٹمی دھماکوں کے بعد قومی سلامتی اور بیرونی دباؤ کے تناظر میں آرٹیکل 232 کے تحت ملک میں ایمرجنسی نافذ کی گئی تھی۔ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس نے20 جون 1998ء کو اس کی منظوری دی تھی۔ 12 اکتوبر 1999ء کو مشرف کے مارشل لاء کے بعد 14 اکتوبر کو ایمرجنسی کا اعلان کیا گیا مگر یہ آرٹیکل 232 والی آئینی ایمرجنسی نہیں تھی۔ عبوری دستور آرڈر کے ذریعے آئین کو عملاً معطل کر دیا گیا تھا‘ لہٰذا 1998ء کی ایمرجنسی کو ہی 1999ء کے احکامات کے تحت جاری رکھا گیا۔ نومبر 2007ء میں صدر پرویز مشرف نے دہشت گردی‘ ریاستی اداروں پر حملوں اور عدلیہ کے ساتھ شدید کشیدگی کی وجوہات بیان کرتے ہوئے ایمرجنسی نافذ کی۔ اس اقدام کے ساتھ آئین کو معطل کر دیا گیا اور پی سی او جاری ہوا جس کے تحت عدلیہ کے ججز سے نئے حلف لیے گئے۔ یہ ایمرجنسی 15 دسمبر 2007ء کو ختم کی گئی۔ اس ایمرجنسی کے دوران 14 نومبر کو قومی اسمبلی اور چاروں صوبائی اسمبلیاں اپنی آئینی مدت پوری کرنے پر تحلیل کر دی گئیں اور الیکشن کمیشن آف پاکستان نے عام انتخابات کرانے کے لیے 22 نومبرکو الیکشن شیڈول جاری کیا۔
آئین کا آرٹیکل 232 جنگ یا بیرونی جارحیت کی صورت میں ایمرجنسی کے نفاذ کی اجازت دیتا ہے۔ اگر داخلی بدامنی صوبائی حکومت کے قابو سے باہر ہو تو موجودہ آئین کے تحت متعلقہ صوبائی اسمبلی کی قرارداد بھی درکار ہے؛ البتہ اگر صدر خود اقدام کریں تو معاملہ مقررہ مدت میں پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے سامنے منظوری کیلئے پیش کرنا ہوتا ہے۔ ایمرجنسی کے دوران وفاق کو صوبائی معاملات میں معمول سے زیادہ قانون سازی کے اختیارات مل جاتے ہیں جبکہ آرٹیکل 233 بعض بنیادی حقوق کو مخصوص حالات میں محدود یا معطل کرنے کی گنجائش دیتا ہے۔ تاہم ایمرجنسی‘ گورنر راج یا صدارتی راج کے بجائے سیاستدانوں اور مقتدرہ کو ماضی کی غلطیوں سے سیکھ کر آگے بڑھنا ہوگا۔ جو غلط ہوا‘ اسے تسلیم کیا جائے۔ جو درست کرنا ہے اسے مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہیے۔ آئین کو بنیاد بنا کر عوام کے حالات اور معیشت کو پہلی ترجیح دی جائے اور ایک نئے سیاسی و معاشی سفر کا آغاز کیا جائے۔اس وقت وزارت اطلاعات و نشریات میں تجربہ کار تجزیہ کاروں کا فقدان ہے اور موجودہ افراد ماضی کے تجربات سے نابلد نظر آتے ہیں۔ الطاف گوہر‘ قدرت اللہ شہاب‘ جمیل الدین عالی اور 1965ء کی جنگ کے دوران سیکرٹری اطلاعات منیر حسین جیسی شخصیات عنقا ہیں۔ ڈس انفارمیشن سے عوام میں حکومت کے خلاف بداعتمادی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
گورنر راج یا ایمرجنسی کا نفاذ اگر آئین کے آرٹیکل 232 کے مطابق ہوتا ہے تو پھر آئین کے آرٹیکل 233 کو بھی نافذ کرنا پڑے گا جس کے تحت بنیادی حقوق پر مشتمل آرٹیکلز اور شقیں معطل ہو جائیں گی۔ اس سے وزیراعلیٰ بھی معطل ہو جائے گا‘ تمام انتظامی اختیارات اس سے واپس لے لیے جائیں گے‘ صوبائی اسمبلی بھی معطل تصور کی جائے گی اور اس دوران اسمبلی کا اجلاس بلانے کے اختیارات بھی معطل ہو جائیں گے۔ گورنر؍ سپیکر صوبائی اسمبلی کا اجلاس طلب کرنے کے اختیارات سے محروم ہو جائیں گے۔ صوبائی اسمبلی برقرار رہے گی لیکن اجلاس طلب نہیں کیا جا سکے گا۔ انتظامی اختیارات وفاقی حکومت کا نامزد گورنر ہی استعمال کر سکے گا۔ گورنر راج کے بعد عملاً تمام اختیارات صدرِ مملکت کو منتقل ہو جاتے ہیں جیسا کہ مارچ 1973ء‘ 1976ء اور فروری 2009ء سمیت دیگر مواقع پر ہوا جب گورنر راج نافذ ہوتے رہے۔ لیکن اٹھارہویں ترمیم نے صوبوں کو مکمل خود مختاری دی ہے‘ جس کی وجہ سے آرٹیکل 234 کے تحت گورنر راج لگانا نہایت پیچیدہ عمل ہے۔ البتہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے حالات کے پیش نظر آرٹیکل 232 کے تحت ملک میں ایمرجنسی لگانے کا راستہ کھلا ہے۔ مختصراً یہ کہ آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت وفاق اپنی جانب سے گورنر نامزد کرے گا اور موجودہ گورنر فارغ ہو جائیں گے۔
دیکھا جائے تو اس وقت ملک میں نیشنل ایمرجنسی کا جواز نہیں بنتا۔ صدر پرویز مشرف نے 3 نومبر 2007ء کو بطور آرمی چیف‘ کور کمانڈرز کانفرنس کی منظوری کے بعد ملک میں نیشنل ایمرجنسی لگائی تھی اور اس اقدام نے آئین کے آرٹیکل چھ کے تحت ان پر مقدمہ چلانے کی راہ ہموار کر دی تھی۔ حالانک بعد ازاں بطور صدر انہوں نے کابینہ سے منظوری لی تھی‘ قومی اسمبلی سے بھی توثیق کرائی تھی اور سپریم کورٹ نے بھی اس کی توثیق کر دی تھی لیکن ان کے زوال کے بعد وزارتِ داخلہ کی سفارش پر مشرف کے خلاف آئین کے آرٹیکل چھ کے تحت مقدمہ دائر کر دیا گیا۔ چودھری نثار علی خان مشرف کو محفوظ راستہ دینے کیلئے کوشاں رہے اور بعد ازاں مشرف خاموشی سے ملک سے باہر چلے گئے۔ ان کی عدم موجودگی میں مقدمہ کی کارروائی جاری رہی اور دسمبر 2019ء میں جسٹس وقار احمد سیٹھ کی سربراہی میں خصوصی عدالت نے سزائے موت کا فیصلہ سنایا تاہم جنوری 2020ء میں لاہور ہائیکورٹ نے یہ سزا معطل کر دی۔ جنوری 2024ء میں قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم کورٹ نے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کو معطل کر کے سزائے موت کے فیصلے کو بحال کر دیا‘ تاہم اس وقت تک طبعی طور پر مشرف وفات پا چکے تھے۔
حقیقت یہ ہے کہ 18ویں ترمیم کے بعد وزرائے اعلیٰ آئینی طور پر مضبوط ہوئے ہیں اور وفاق کا اثر و رسوخ برائے نام رہ گیا ہے۔ تاہم وفاقی وزرا کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ صوبائی حکومت کی رخصتی کا فیصلہ ہو چکا ہے۔ خیال کیا جا رہا تھا کہ مذاکرات میں کوئی بریک تھرو ہو جائے گا اور معاملات اس نہج تک نہیں پہنچیں گے مگر یکایک صورتحال تبدیل ہو گئی ہے۔ وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتوں میں ایسے افراد موجود ہیں جو اشتعال پھیلا کر اپنے مفادات کا تحفظ چاہتے ہیں۔ اگر گرینڈ مذاکرات ہوں تو تمام معاملات سلجھ سکتے ہیں لہٰذا مثبت فیصلوں سے عوام کو سیاسی بحران سے نکالنا ہوگا۔ بعض وزرا اپنے سیاسی بیانیے سے مقتدرہ کیلئے پریشانی کا باعث بن رہے ہیں۔ مقتدرہ مارچ 2027ء سے پہلے صوبوں کا معاملہ حل کرنا چاہتی ہے جبکہ اندرونی خبروں کے مطابق محسن نقوی اب تک صدر زرداری کو قائل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ زرداری صاحب نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے حوالے سے اپنے موقف پر قائم ہیں اور سندھ کے قوم پرستوں کی تحریک انہیں خائف کیے ہوئے ہے۔ ان حالات میں لانگ مارچ تحریک انصاف اور ریاست سمیت کسی کے مفاد میں نہیں ہے۔ وزیراعظم کو خود پشاور جا کر مفاہمت کی راہ نکالنا ہو گی۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved