14 ستمبر 2026ء کو برطانیہ کے معتبر جریدے ''گارڈین‘‘ کے صفحہ اول پر جو خبر مین لیڈ کے طور پر چھپی اُس سے برطانیہ میں ایک قسم کا زلزلہ آگیا۔ صحافیوں کی ایک تفتیشی ٹیم نے (کنگز کالج لندن کے پروفیسر William Pettigrew کی سربراہی میں) برسوں کی چھان بین اور تحقیق کے بعد ایک تہلکہ خیز رپورٹ مرتب کی جو ہمیں یہ بتاتی ہے کہ کس طرح صدیوں تک برطانوی پارلیمنٹ کے اراکین‘ برطانیہ کا شاہی خاندان‘ اشرافیہ اور کلیسا کے بڑے پادری افریقہ سے لاکھوں افراد کو جبری غلام بنا کر انہیں جبری مشقت کیلئے امریکہ اور جزائر غرب الہند لے جاتے رہے۔ یہ رپورٹ مرتب کرنے میں تین سال لگے ہیں۔ غلاموں کو افریقہ سے امریکہ؍ جزائر غرب الہند (ویسٹ انڈیز) زبردستی پہنچانے کا مکروہ اور ننگ انسانیت کاروبار 1560ء سے لے کر 1807ء (میں خلافِ قانون قرار دیے جانے) تک جاری رہا۔ افریقہ کے مغربی ساحلی ممالک مثلاً گھانا اور نائیجیریا سے جن مردوں‘ عورتوں اور بچوں کو گرفتار کر کے غلام بنایا گیا اور اٹلانٹک سمندر کے دوسری جانب پہنچایا گیا اُن کی کل تعداد 30 لاکھ سے زائد تھی۔ حیرت اور شرم کا مقام یہ ہے کہ ڈھائی سو سالہ اس دور میں متعدد برطانوی بادشاہ اور ملکائیں غلاموں کی نقل و حمل کرنے والی برطانوی کاروباری کمپنیوں کے بڑے حصہ دار تھے۔ برطانوی پارلیمان کے 100 سے زائد اراکین کے نام حصہ داروں کی فہرست میں شامل ہیں۔ بینک آف انگلینڈ (جو برطانوی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے) کے درجنوں ڈائریکٹر مذکورہ کمپنیوں کے حصہ دار تھے۔ اس فہرست میں ایک ہزار سے زیادہ ''معزز‘‘ اور اشرافیہ سے تعلق رکھنے والی خواتین کے نام بھی شامل ہیں۔ جس انکشاف نے سب لوگوں کے سر شرم سے جھکا دیے وہ یہ کہ چرچ آف انگلینڈ کے 45 عالی مرتبت پادری بھی اس کاروبار میں بڑے حصہ دار تھے۔ مذکورہ رپورٹ میں تمام مغربی یورپی ممالک (مثلاً فرانس‘ ہالینڈ‘ سپین اور پرتگال) سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ بھی غلاموں کے کاروبار میں ملوث افراد کی تفصیلات برسرِ عام لائیں تاکہ پتا چل سکے کہ ان کی مجرمانہ کارروائی کا دائرہ کتنا وسیع تھا۔ جزائر غرب الہند میں لائے گئے ان غلاموں کے پڑپوتوں نے ایک انجمن بنائی ہے جو سالہا سال سے برطانوی حکومت سے ہرجانے کا مطالبہ کرتی چلی آ رہی ہے۔ برطانوی حکومت ہرجانے کی ادائیگی سے اب تک اس بے حد کمزور بنیاد پر انکار کرتی آئی ہے کہ جب غلاموں کی نقل و حمل کا کاروبار ہو رہا تھا اس وقت یہ بالکل قانونی تھا اور کسی قانونی کاروباری کارروائی کو کسی طور پر جرم قرار نہیں دیا جا سکتا۔ رواں سال ستمبر کے آغاز میں بھی برطانیہ کے بادشاہ (چارلس دوم) کے سامنے ایک عرضداشت پیش کی گئی جس میں یہ مطالبہ کیا گیا کہ پریوی کونسل (جو برطانیہ میں ایک اعلیٰ ترین قانونی اپیلوں کی سماعت کا مجاز ادارہ ہے) ہرجانے کی ادائیگی کے مسئلہ پر غور کرے اور منصفانہ فیصلہ کرے۔
غلاموں کا کاروبار کرنے والے کئی لوگ اس انسانیت سوز کارروائی سے اتنے امیر ہو گئے کہ انہوں نے بڑی رقوم تعلیمی اداروں کو بطور عطیہ دیں اور ان کا شکریہ ادا کرنے کیلئے تعلیمی اداروں سمیت مختلف مقامات پر ان کے مجسمے ایستادہ کیے گئے۔ برطانیہ کی کئی بندرگاہیں‘ جہاں سے غلاموں کو امریکہ لے جانے کیلئے بحری جہاز روانہ ہوتے تھے‘ وہاں بھی ان 'مہربان‘ اور 'سخی‘ افراد کے مجسمے نصب ہیں اور آج بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔ گزشتہ چند سالوں میں ایسے کئی مجسمے غضبناک مظاہرین کے احتجاج کا نشانہ بھی بنے ہیں۔ لوگوں کو زبردستی غلام بنانے اور پھر فروخت کرنے کی کارروائی کی ذمہ دار تجارتی کمپنیوں کے بڑے حصہ داروں میں برطانیہ کے بادشاہ جیمز دوم (آخری رومن کیتھولک بادشاہ)‘ موسیقی کی دنیا کے بے تاج بادشاہ جارج فریڈرک ہینڈل‘ انسانی حقوق کے بڑے علمبردار اور فلاسفر جان لاک کے علاوہ لندن کے شاہکار گرجا گھر سینٹ پال کا نقشہ تیار کرنے والے ماہرِ تعمیرات سر کرسٹوفر وارن کا نام بھی شامل ہے۔ محققین نے اس راز سے بھی پردہ اٹھایا ہے کہ انگلینڈ کی ملکہ الزبتھ اول اور اس کے قریبی مشیر Plymouth بندرگاہ سے بحری سفر کرنے والے ملاحوں کے سردار جان ہاکنز کو برطانیہ کی سرکاری بحریہ (رائل نیوی) کے جہاز فراہم کرتے تھے تاکہ وہ غلاموں کو افریقہ سے پکڑ کر امریکہ پہنچائے اور ملنے والے منافع میں سے انہیں بھی حصہ دے۔
غلاموں کی تجارت کرنے والے سولہویں صدی میں ایک قدم آگے بڑھ کر جزائر غرب الہند میں گنے کی وسیع پیمانے پر کاشت کرنے لگے‘ جہاں ان غلاموں سے جبری مشقت لی جاتی تھی۔ غلام پکڑنے اور منزل پر پہنچانے کے کاروبار میں ملوث لوگوں کی کل تعداد ساڑھے دس ہزار تھی اور ان کے سردار کا نام ایڈورڈ کولسٹن تھا۔ کچھ سال قبل تک اس شخص کو برطانیہ میں ایک انسان دوست اور رفاہی کام کرنے والے شخص کی حیثیت سے جانا جانا تھا۔ اس نے اتنے تعلیمی اداروں کو عطیات دیے کہ برسٹل کے شہریوں نے عقیدت کے اظہار کے طور پر بندرگاہ پر اس کا مجسمہ نصب کر دیا‘ جو 2020ء میں ایک زبردست مظاہرے کے دوران سمندر میں گرا دیا گیا۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ فروخت شدہ غلاموں کے ہاں جب بچے پیدا ہوتے تو وہ پیدائشی طور پر غلام سمجھے جاتے تھے اور بڑے ہو کر اپنے ماں باپ کی طرح جبری مشقت کرنے میں اپنی زندگی گزار دیتے تھے۔ ان غلاموں سے جو دو فصلیں اُگانے کیلئے بیگار میں کام لیا جاتا تھا وہ تھیں تمباکو اور گنا۔ تمباکو سے سگریٹ اور گنے سے چینی بنانے کیلئے فصلوں کی پیداوار کو برطانیہ کے کارخانوں میں لایا جاتا تھا۔ برطانیہ کی سرکاری بحریہ اس مکروہ دھندے میں ملوث بحری جہازوں کی حفاظت کرتی تھی۔ غلاموں کے ایک بڑے تاجر‘ جس کا نام رابرٹ Heysham تھا‘ وہ تقریباً نو ہزار افراد کو غلام بنا کر سفر پر روانہ ہوا مگر 1350 افراد سفر کی صعوبتوں کی تاب نہ لا کر راستے میں مر گئے۔ جونہی جہاز کے کپتان کو کسی غلام کی موت کی خبر ملتی تو وہ حکم دیتا کہ اس کی میت کو اُٹھا کر سمندر میں غرق کر دیا جائے۔ جب برطانوی پارلیمنٹ کے Wilber Force جیسے انسان دوست اور نیک دل شخص کی اَنتھک کوششوں سے غلاموں کی تجارت کو خلافِ قانون قرار دیا گیا تو غلاموں کی تجارت سے منسلک امیر تاجروں کو (1833ء میں) 20 کروڑ پائونڈ کی خطیر رقم بطور معاوضہ سرکاری خزانے سے ادا کی گئی۔ یہ رقم آج کے حساب سے ڈھائی ارب پائونڈ بنتی ہے۔ تاریخی ریکارڈ میں ایک شیطان صفت شخص کا بھی ذکر ہے‘ جس کا نام James Laroche تھا جو 1770ء میں اپنی وفات تک 105 بحری جہازوں کا مالک تھا‘ اور ان جہازوں کا واحد کام افریقہ سے غلاموں کو پکڑکر امریکہ پہنچانا تھا۔ اس نے 30 ہزار سے زائد افراد کو غلام بنا کر فروخت کیا۔ مارچ 2026 ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے گھانا کے صدر کی پیش کردہ قرارداد کو منظور کرتے ہوئے فیصلہ سنایا کہ ڈھائی سو سال تک جاری رہنے والی یہ کارروائی انسانیت کی سب سے بڑی توہین اور سنگین جرم تھا۔ برطانوی حکومت نے بہانہ بنا کر اس ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔
بھلا ہو پروفیسر Brooke Newman کا کہ جنہوں نے سب سے The Crown's Silence نامی کتاب لکھ کر لوگوں کی آنکھیں کھولنے کی کوشش کی۔ کالم نگار نے برطانیہ میں دس برس اعلیٰ تعلیمی اداروں میں پڑھایا اور 30 سال قانون کی پریکٹس کی۔ ان ساٹھ برسوں میں یہ دیکھا ہے کہ انگریزوں میں نہ فرشتوں کی کمی ہے اور نہ شیطانوں کی۔ برطانوی تاریخ کے تمام بڑے جرائم پر انگریز مؤرخین نے بہت اچھی تحقیقی کتابیں لکھ کر حق گوئی کا فرض ادا کیا ہے۔ ان میں سب سے بڑا نام ایرک Hobsbawm کا ہے۔ علوم مشرق کے ماہرین میں بھی بہت سے نام ستاروں کی طرح جگمگاتے ہیں‘ جن میں پچھلی صدی میں پروفیسر آربری اور پروفیسر آرنلڈ بڑے ممتاز تھے۔ پروفیسر آرنلڈ علامہ اقبال کے استاد بھی تھے اور ان کی وفات پر اقبال نے ''نالۂ فراق‘‘ کے نام سے ایک کمال کی نظم لکھی ۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved