تحریر : ڈاکٹر حسین احمد پراچہ تاریخ اشاعت     06-10-2026

استادوں اور شاگردوں سے کیا سیکھا

عمر بھر کوچۂ درس و تدریس کی سیاحی کے بعد اب پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو بہت سے دلچسپ مشاہدات سامنے آتے ہیں۔ والدین کے بعد اساتذہ ہی وہ قریب ترین ہستیاں ہوتی ہیں جن کیساتھ اعتماد‘ محبت اور احترام کا رشتہ استوار ہو جاتا ہے۔ ایسا صرف ہمارے ہاں ہی نہیں مشرق و مغرب میں ہر جگہ ہوتا ہے۔ مغرب میں تو اس موضوع پر کتابیں چھپتی اور فلمیں بنتی ہیں‘ جن سے معلوم ہوتا ہے کہ معاشرے میں یہ رشتہ کس قدر اہمیت کا حامل ہے۔ اسی لیے تو ہر سال ٹیچرز ڈے بڑے اہتمام سے منایا جاتا ہے۔
گزشتہ روز‘ پانچ اکتوبر کوعالمی سطح پر ٹیچرز ڈے منایا گیا۔مجھے بھی اپنے شاگردوں کی طرف سے 5 اکتوبر کو ٹیچرز ڈے کے پیغامات وصول ہوئے۔ وہ جہاں بھی ہوں شاد آباد رہیں۔
تاریخی شہر بھیرہ‘ ضلع سرگودھا کے چڑی چوگ سکول کے ماسٹر نذیر صاحب اپنی شفیق و مہربان شخصیت کی بنا پر ناقابلِ فراموش شخصیت ہیں۔ وہ ہمیشہ ہماری یادوں اور دعاؤں کا حصہ رہے ہیں۔ وہ سکول کے ہیڈ ماسٹر بھی تھے اور پرائمری سکول کی سب سے بڑی پانچویں جماعت کو پڑھاتے بھی تھے۔ ان کا طریقۂ تدریس بہت ہی دلکش تھا۔ ہمارا کمرۂ جماعت ان کا دفتر بھی تھا۔ گرمیوں میں استادِ محترم نہایت اُجلا‘ بے داغ سفید لباس زیب تن کرتے۔ سردیوں میں اوپر شیروانی پہنتے۔ ہر موسم میں سر پر قراقلی ٹوپی اوڑھتے تھے۔ کئی دہائیوں پر پھیلے ہوئے تدریسی تجربے کا ایک مشاہدہ یہ ہے کہ عام استاد محض پڑھاتا ہے‘ اچھا استاد تشریح بھی کرتا ہے۔ بہترین استاد تشریح کے ساتھ ساتھ مختلف مثالوں سے اپنے لیکچر کو سہل بناتا اور طلبہ و طالبات سے سوال جواب کے ذریعے اندازہ لگاتا ہے کہ درس کس حد تک کامیاب رہا ہے۔ اور عظیم استاد اپنے سٹوڈنٹس کو شاہراہِ زندگی پر آگے بڑھنے اور نئی نئی دنیائیں دریافت کرنے کیلئے انسپائر کرتا ہے۔ یہی عظیم استاد وہ حقیقی معلم ہوتا ہے جو طلبہ کے اندر کی روشنی کو باہر لاتا ہے۔ جو بلندیوں کی راہیں دکھاتا ہے‘ جو اقبال کے الفاظ میں دلوں کو سوز و سازِ آرزو اور ذوق و شوق کی حرارت سے بھر دیتا ہے۔ جو خود کسی مقصد کا دیوانہ ہوتا ہے اور اپنے طلبہ میں بھی ایسی ہی خوبصورت دیوانگی پیدا کر دیتا ہے۔
چھوٹے بچوں کا استاد ہو یا کالج و یونیورسٹی کا‘ ٹیچنگ کے قواعد و ضوابط کم و بیش یکساں رہتے ہیں۔ سب سے پہلی بات جو استاد کے پیشِ نظر رہنی چاہیے وہ یہ ہے کہ کلاس کے سامنے وہ ایک رول ماڈل ہے۔ وہ صاحبِ کردار ہی نہیں کردار ساز ہوتا ہے۔ کلاس چھوٹی ہو یا بڑی استاد کے ذہن میں ہی نہیں اس کے سامنے صفحۂ قرطاس پر درس کے اہداف لکھے ہوں۔ یہ اہداف قابلِ پیمائش ہونے چاہئیں جنہیں پس از درس ناپا بھی جا سکے۔ میں نے اپنے طلبہ سے سیکھا کہ ایک استاد کے اندر دوسری صفات کے علاوہ سب سے بڑی صفت صبر کی ہونی چاہیے۔ استاد کو طلبہ و طالبات کے سوالات سے ہرگز جھنجھلاہٹ محسوس نہیں کرنی چاہیے بلکہ ایک اچھے استاد کو درس میں طلبہ کی شرکت کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔ میں نے بالعموم کالجوں اور یونیورسٹیوں کے طلبہ کو ہی پڑھایا ہے‘ تاہم کبھی کبھی گھر پر چھوٹے بچوں کو بھی پڑھانے کا موقع ملا۔ میں نے استادِ محترم ڈاکٹر خورشید رضوی سے سن رکھا تھا کہ وہ اور گورنمنٹ کالج لاہور کے شعبۂ عربی کے سابق چیئرمین اور ممتاز محقق پروفیسر ڈاکٹر صوفی ضیا الحق مرحوم چھوٹی سے چھوٹی کلاس کو بھی بغیر تیاری کے پڑھانا تدریسی جرم گردانتے تھے۔ میں نے بھی زندگی بھر حتی الوسع اسی معمول کو اپنانے کی کوشش کی۔ ایک استاد کو اپنے موضوع پر مکمل عبور ہونا چاہیے۔ ٹیچر کو دورانِ تدریس لائق ترین اور کمزور ترین طلبہ کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے درس کو تازہ ترین معلومات اور مثالوں سے آراستہ کرنا چاہیے۔ ایک استاد دھمکیوں اور تنقیدی نشتر سے وہ نتائج ہرگز حاصل نہیں کر سکتا جو وہ اپنی شفقت اور تدریسی مہارت سے حاصل کر لیتا ہے۔ میں نے بارہا بہت سے طلبہ کو اپنے بعض اساتذہ کے دھمکی آمیز رویے سے نالاں دیکھا۔
ایک یونیورسٹی میں میری ایم فل کی ایک ہونہار طالبہ کئی روز سے کلاس میں نہیں آ رہی تھی۔ معلوم ہوا کہ کلاس کے اندر ایک محترم پروفیسر صاحب نے اس سٹوڈنٹ کا مڈٹرم پیپر سب کے سامنے ڈسکس کرتے ہوئے اس پر تندوتیز تنقید کی۔ طالبہ اس تنقید سے بہت رنجیدہ خاطر اور دل گرفتہ ہوئی اور اس نے کلاس میں ہی آنا چھوڑ دیا۔ بعض اوقات استاد کو اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ اس کا کوئی رویہ سٹوڈنٹس کی دل شکنی کا باعث بن رہا ہے۔ میں انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کے طالبات کیمپس کے کسی سینئر سمسٹر کو سیاسیات کا کورس پڑھا رہا تھا۔ ایک روز مجھے ڈاک سے ٹیچرز ڈے کا کارڈ ملا اور ساتھ ہی لکھا تھا کہ مجھے کلاس کے حوالے سے آپ سے بات کرنی ہے۔ اگرچہ میری کلاس فیلوز نے منع کیا ہے کہ پروفیسر لوگ اپنے اوپر تنقید برداشت نہیں کرتے اور نمبر کاٹ لیتے ہیں۔ میں نے کلاس کی نمائندہ سے اس بچی کا نمبر لے کر اسے کال کیا تو اس نے بتایا کہ آپ کلاس میں سوالات پوچھتے ہوئے مجھے نظر انداز کرتے ہیں اور لیکچر میں شمولیت کے کم نمبر دیتے ہیں۔ مجھے بہت افسوس ہوا کہ مجھے معلوم ہی نہیں اور ایک طالبہ کی دل شکنی ہوئی۔ میں نے اسے کہا کہ اپنے والدین کیساتھ اگلے روز میرے دفتر میں ملاقات کرو۔ بچی کی اعلیٰ تعلیم یافتہ والدہ تشریف لائیں۔ انہوں نے بتایا کہ کئی روز سے وہ بہت پریشان تھی۔ میں نے وضاحت کی کہ میری طرف سے ایسا دانستہ بھی نہیں ہوا۔ بہرحال میں نے اپنے رویے کو ریویو کیا اور کلاس میں ایک ایک سٹوڈنٹ کو سوال جواب کے ذریعے شریکِ درس کیا۔ آج وہ بچی ایک مشہور وکیل ہے۔ میں نے طلبہ سے سیکھا کہ ان کی بروقت دلجوئی اور رہنمائی ان کے مستقبل پر نہایت مثبت اثرات مرتسم کرتی ہے۔ چھوٹے بچے ہوں یا بڑی عمر کے طالبعلم‘ ان کے دلوں کے آبگینے بہت نازک ہوتے ہیں۔ مدرسین و مدرسات کو کسی بھی سٹوڈنٹ کی دل شکنی سے مکمل اجتناب کرنا چاہیے۔
تدریسی تجربات کا ایک دلچسپ اور سبق آموز واقعہ یاد آیا۔ طائف کالج کے ایک بااثر پرنسپل مجھے اپنی چاہت کے مطابق شہر کے ایک دوسرے کالج سے اپنے ہاں لائے۔ دو چار روز کے بعد وہ میری کلاس میں دوران لیکچر آئے اور بہت مطمئن ہوئے۔ کئی ہفتوں کے بعد انگریزی اساتذہ کی ایک میٹنگ میں انہوں نے مجھ سے پوچھا ''کیف طلاب؟‘‘ (طلبہ کیسے ہیں)۔ میں نے کہا کہ سائنس سیکشن کے طلبہ تو بہترین ہیں مگر آرٹس کے طلبہ کمزور ہیں۔ اس پر وہ بہت برہم ہوئے اور کہا کہ ایک اچھے استاد کو معلوم ہونا چاہیے کہ طلبہ درس میں دلچسپی کیوں نہیں لیتے۔ مزید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں تمہیں فلاں دشوار گزار پہاڑی علاقے میں ٹرانسفر کرا دوں گا۔ ''فلاں‘‘ علاقے کا مطلب آپ یوں سمجھیں کہ 1980ء کی دہائی میں سرگودھا کے سر سبز و شاداب شہر سے بے آب و گیاہ بھوچال کلاں میں تبادلہ۔ طائف کالج میں ہمارے وائس پرنسپل استاد شاکر العبدی معاملہ فہمی کی شہرت رکھتے تھے۔ ان سے پرنسپل کیساتھ میٹنگ کی کتھا بیان کی۔ ان کے حکیمانہ مشورے سے آرٹس سٹوڈنٹس کی انگریزی مضمون کے بارے میں ذہنی و نفسیاتی کیفیت کا از سر نو جائزہ لیا گیا۔ اس کلاس میں عربی ٹرانسلیشن کیساتھ اپنے طریقۂ تدریس میں تبدیلی کی گئی۔ طلبہ میرے نئے طریقۂ تدریس کے گرویدہ ہو گئے۔ پرنسپل کو بتایا تو وہ بہت خوش ہوئے۔ کچھ عرصے کے بعد میں کان کی ایک تکلیف کیلئے ہسپتال میں داخل ہوا۔ دو تین دنوں کے بعد گھر آیا تو عیادت کیلئے آنے والے طلبہ میں آرٹس کے طلبہ پیش پیش تھے۔ بتانے کا مقصد یہ ہے کہ استاد کو طلبہ کی استعداد اور اپنے طریقِ تدریس کا گاہے گاہے جائزہ لیتے رہنا چاہیے۔ تدریسی سفر کے دوران ایک اہم نکتہ یہ سمجھا ہے کہ کبھی الزام طلبہ کو نہ دیں‘ خود احتسابی سے کام لیں۔سچی بات یہ ہے کہ استادوں سے ہی نہیں شاگردوں سے بھی بہت کچھ سیکھا ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved