تحریر : نسیم احمد باجوہ تاریخ اشاعت     06-10-2026

ایسی اٹھان، ایسا زوال

میں 1960ء میں خالصہ کالج لائلپور (اب میونسپل کالج فیصل آباد) میں علم سیاسیات پڑھاتا تھا۔ میں نے گورنمنٹ کالج (نزد دھوبی گھاٹ) تعلیم حاصل کرنے کے دوران لائلپور میں دو سال (1951-52ء) گزار ے تھے۔ خالصہ کالج میں پرنسپل جناب تاج محمد خیال تھے اور اساتذہ میں افتخار چشتی‘ ظہیر الدین‘ بدر الدین‘ آئی اے بٹ‘ عبدالقادر کیانی‘ منظور حسین شور اور یعقوب صاحب ۔ 1961ء میں مجھے یونیورسٹی کے ایک ہم جماعت افضل باجوہ (مرحوم) کا غیر متوقع فون آیا۔ وہ گورنمنٹ کالج لیہ میں پڑھاتا تھا۔ اُس نے بتایا کہ اُس کے کالج میں انگریزی کے ایک لیکچرر کو تخریبی سرگرمیوں کے جرم میں ملازمت سے برطرف کر دیا گیا ہے۔ وہ بھلا آدمی ہے اور ہمارا فرض ہے کہ اُس کی ہر ممکن مدد کریں۔ (یہ تخریبی سرگرمی کسانوں کے حق میں آواز بلند کرنا تھی)۔ اگر اُسے لائلپور میں انگریزی پڑھانے کی ملازمت مل جائے تو وہ اس کیلئے بڑی پُرکشش ہوگی کہ زیر عتاب دوست کی بیوی چنیوٹ (جو لائلپور کے قریب ہے) میں لیڈی ڈاکٹر ہے۔ میں نے اپنے کالج کے پرنسپل سے بات کی‘ حسن اتفاق سے انگریزی لیکچرر کی اسامی خالی تھی۔ میونسپل کالج کو میونسپل کارپوریشن چلاتی تھی۔ تعلیمی کمیٹی کے سربراہ میرے ایک پرانے ہم جماعت تھے‘ نام تھا یٰسین۔ اُن کا گھر شہر کی دوسری جانب تھا۔ میں سائیکل چلاتے اُن کے پاس پہنچا۔ اُن کی مہربانی کہ مدد کا وعدہ کیا اور ایک دو دن کے اندر میرے اَن دیکھے دوست کی ملازمت کا حکم نامہ جاری کر دیا۔ چند دنوں بعد وہ صاحب چنیوٹ سے لائلپور آئے‘ پہلے مجھے اور پھر پرنسپل صاحب سے ملے۔ میں نے انہیں سٹاف روم لے جا کر تمام اساتذہ سے متعارف کرایا۔ اگلے دن سے انہوں نے پڑھانا شروع کر دیا۔ یہ تھے مختار رانا۔
ہم دونوں کو قریبی دوست بننے میں زیادہ دیر نہ لگی۔ اکثر شام کو ہم دونوں کمپنی باغ میں اکٹھے سیر کرتے تھے۔ ہمیں ہرگز معلوم نہ تھا کہ خفیہ پولیس کی آنکھیں بھی ہمیں دیکھ رہی ہیں۔ نجانے وہ کسی درخت پر چڑھے ہوتے یا کسی گھنی جھاڑی میں مگر وہ ہمیں دیکھ سکتے تھے۔ اگر ذرا ہمت کر کے نگرانی پر مامور شخص ہمیں مل لیتا تو ہم اپنی گفتگو اُس کے سامنے کرتے اور اُسے چائے بھی پلاتے۔ یہ راز اس طرح کھلا کہ یوگو سلاویہ کے سفارتخانے نے ایک وظیفے کا اعلان کیا۔ اس کے حصول کیلئے ایک مضمون کی شرط رکھی گئی جس کا عنوان تھا ''زرعی نظام کو اشتراکی اصولوں پر چلانا کیوں مفید ہے‘‘۔ میں نے بھاگ دوڑ کر کے مواد اکٹھا کیا اور کئی راتیں جاگ کر مضمون لکھا اور سفارتخانے کو بھیج دیا۔ ایک دن غیر متوقع طور پر خط ملا جس میں یہ نوید سنائی گئی تھی کہ میرا مضمون بہت اچھا قرار دیا گیا لہٰذا وظیفہ مجھے دیا جائے گا بشرطیکہ حکومتِ پاکستان اس کی منظوری دیدے۔ مجھے اس میں کوئی دشواری نظر نہ آئی۔ میں نے روز وشب یوگو سلاویہ اور وہاں سے دوسرے سوشلسٹ ممالک میں سیر وسیاحت کے خواب دیکھنے شروع کر دیے۔ ایک ماہ بعد ایک اجنبی شخص مجھے ملنے آیا۔ اس نے اپنا تعارف سی آئی ڈی انسپکٹر کے طور پر کرایا۔ میں نے آمد کا مقصد پوچھا تو جواب ملا‘ چونکہ آپ کمیونسٹ ہیں‘ اس لیے آپ کو ایک کمیونسٹ ملک نے وظیفہ دیا ہے اور ہمیں یہ بھی پتا ہے کہ آپ اپنے ایک کمیونسٹ دوست (اشارہ مختار رانا کی طرف تھا) کے ساتھ اکثر شام کو کمپنی باغ کے کسی کونے میں چھپ کر ملک کے خلاف سازشیں کرتے ہیں۔ اس نے بتایا کہ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ آپ نے ہی اپنے ہم خیال شخض کو کالج میں لگوایا ہے۔ میں آپ کو بتانے آیا ہوں کہ میں آپ کے خلاف رپورٹ متعلقہ سرکاری محکمے کو بھیجوں گا‘ اب فیصلہ وہ کریں گے کہ آپ کو وظیفہ دیے جانے کو منظوری دیں یا نہ دیں۔ بعد ازاں وہی ہوا۔ وزارتِ تعلیم اور وزارتِ داخلہ‘ دونوں نے مجھے وظیفہ دینے کو ویٹو کرتے ہوئے نامنظور کر دیا۔ یوگو سلاویہ جانے کے میرے حسین خواب دھرے کے دھرے رہ گئے اور یوگوسلاویہ دیکھنے کیلئے مجھے تیرہ برس کا انتظار کرنا پڑا اور یہ خواب تب پورا ہوا جب میں نے لندن سے لاہور تک کار چلاتے ہوئے سفر کیا اور آتے جاتے ہوئے اس ملک سے دو بار گزرا۔
مختار رانا کے ساتھ لائلپور میں ایک سال گزار کر میں لاہور چلا گیا۔ جہاں میری نوبیاہتا بیوی کالج میں پڑھاتی تھیں۔ اسی دوران چودھری ظہور الٰہی نے بکمال مہربانی مجھے ملک کے سب سے بڑے اخباری ادارے میں اعلیٰ عہدے پر فائز کر دیا جہاں میں صرف ڈیڑھ برس رہ سکا۔ اس دوران رانا صاحب کا لاہور آنا جانا لگا رہتا تھا۔ وہ مجھے ملنے آتے اور اپنی مزدور دوست سرگرمیوں کی تفصیلات بھی بتاتے۔ دو تین بار ایسا بھی ہوا کہ مہینے کی پہلی تاریخوں میں آئے اور میری تنخواہ کا چیک بھی یہ کہتے ہوئے لے گئے کہ ہڑتالیوں کو مالی مدد درکار ہے۔ میں گھر جا کر اپنی بیوی کو یہ ماجرا سناتا تو وہ ہنس کر کہتیں: آپ نے اچھا کیا کہ اپنی تنخواہ انہیں دے دی‘ اب ایک ماہ گھر میں اپنی تنخواہ سے چلائوں گی۔ تنخواہ ان کی بھی بڑی قلیل تھی۔ یہ کرشمہ کس طرح ہوتا تھا‘ یہ وہ جانتی ہیں یا خداوند تعالیٰ۔ مئی 1966ء میں ہم نے لاہور میں پیپلز کنونشن کا انعقاد کیا جو بڑا کامیاب رہا۔ رانا مختار نے ہی بابائے سوشلزم شیخ محمد رشید سے تعارف کرایا۔ وہ اور کشمیر کے سردار محمد ابراہیم خان سمیت ممتاز رہنمائوں نے اس میں شرکت کی۔
شیخ محمد رشید نے رانا صاحب کا پیپلز پارٹی کی قیادت سے تعارف کرایا اور اُن کو اتنی قدر و منزلت دلوائی کہ پارٹی نے اُنہیں الیکشن میں قومی اسمبلی کا ٹکٹ جاری کر دیا۔ رانا صاحب لائلپور کے ایک صنعتی تنازع‘ جس میں مزدوروں کے ہاتھوں مل مالک مارا گیا تھا‘ میں حصہ لینے اور اشتعال انگیز تقریر کرنے کے جرم میں گرفتار ہوئے اور عدالت سے قید کی سزا پائی۔ قومی اسمبلی کا الیکشن اُنہوں نے جیل سے لڑا۔ پارٹی کے کارکنوں کی زبردست مہم نے اُنہیں کامیابی دلائی۔ بعد ازاں وہ قومی اسمبلی کی رکنیت سے محروم ہوئے تو اُن کی جگہ ان کی بہن نے ضمنی انتخاب لڑا مگر وہ ہار گئیں۔ آئندہ سالوں میں جب بھی میں پاکستان گیا‘ اُنہیں ملے بغیر واپس نہ آیا۔
جن دنوں بھٹو صاحب کے خلاف احتجاجی تحریک اپنے عروج پر تھی اُنہی دنوں لندن کے نواحی شہر Slough میں ہمارے گھر کے دروازے پر دستک ہوئی۔ دروازہ کھولا تو سامنے مختار راناکھڑے تھے۔ بلااطلاع اچانک آمد کا مقصد پوچھا تو جواب یہ تھا کہ پولیس نے (بھٹو صاحب کے حکم پر) زبردستی لندن جانے والے ہوائی جہاز پر بٹھا کر ملک بدر کر دیا۔ ہم نے پوچھا کہ اُنہیں برطانوی ویزا کب اور کس طرح ملا؟ معلوم ہوا کہ وہ لندن ایئرپورٹ پر پہنچ کر لینا پڑا۔ اب وہ ہمارے گھر رہنے لگے۔ چند ماہ بعد اُن کی اہلیہ کا ہمارے گھر کے نمبر پر فون آیا۔ اس وقت رانا صاحب باہر گئے ہوئے تھے۔ جب میری بیوی نے ان سے ہمدردی ظاہر کی کہ حکومت نے اُنہیں ملک بدر کر کے کتنی زیادتی کی ہے تو وہ دنگ رہ گئیں۔ انہوں نے بتایا کہ رانا صاحب حکومت کے ساتھ دوستانہ معاہدہ کر کے بخوشی لندن آئے ہیں۔ اُن کو برطانوی ویزا حکومتِ پاکستان نے دلوایا ہے۔ رانا صاحب گھر واپس آئے تو ہم نے اُنہیں ان کی اہلیہ کے فون اور ان کے انکشافات کے بارے میں بتایا ۔ یہ سن کر وہ طیش میں آگئے اور بلند آواز میں کہنے لگے کہ میں آپ کا پرانا دوست ہوں یا میری بیوی؟ ہم دونوں میں سے آپ کس پر اعتبار کرتے ہیں؟ اگلے دن لندن سے الطاف گوہر صاحب کے دفتر سے فون آیا اور بتایا گیا کہ رانا صاحب کو بتا دیں کہ ہم اُنہیں ایک ہزار نہیں بلکہ صرف پانچ سو پائونڈ عطیہ دے سکتے ہیں اور اس رقم کا چیک اُنہیں کل مل جائے گا۔ یہ اُونٹ کی کمر پر آخری تنکا تھا۔ ہم نے جی کڑا کر کے اپنے مہمان کو یہ بتا دیا کہ بداعتمادی کی خلیج اتنی چوڑی ہو چکی ہے کہ اب اُن کا ہمارے پاس رہنا مشکل ہے‘ بہتر ہو گا کہ وہ کوئی متبادل انتظام کر لیں۔ اُنہوں نے نئی رہائش گاہ جا کر نہ کوئی فون کیا اور نہ رابطہ رکھا۔ یوں 1961ء میں جو دوستی کا رشتہ قائم ہوا تھا وہ 1979ء میں ٹوٹ گیا۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved