تحریر : شاہد صدیقی تاریخ اشاعت     07-10-2026

عرفان بھا ئی اور میں

میں نے اپنے بھائی اور معروف کالم نگار عرفان صدیقی کی رحلت پر روزنامہ دنیا کے انہی صفحات پر اُن سے جڑی یادوں کا تذکرہ ''عرفان بھائی: اک دھوپ تھی کہ ساتھ گئی آفتاب کے‘‘ کے عنوان سے لکھنا شروع کیا تھا۔ یہ سلسلہ آٹھ قسطیں لکھنے کے بعد موقوف ہو گیا۔ میں شاید غمِ روزگار کی بھول بھلیوں میں گم ہو جاتا اور یادوں کا یہ تذکرہ ادھورا ہی رہ جاتا لیکن مجیب الرحمن شامی صاحب نے یہ کہانی لکھنے کی ترغیب دلائی اور مسلسل اسے مکمل کرنے کی یاد دہانی کراتے رہے۔ آج میرے لیے اطمینان اور مسرت کا دن ہے کہ عرفان بھائی کے حوالے سے میری کتاب ''عرفان بھائی اور میں‘‘ شائع ہو گئی ہے۔ یہ 271صفحات پر مشتمل دستاویز ہے جس کے دو حصے ہیں۔ پہلا حصہ عرفان بھائی سے متعلق میری یادوں پر مشتمل ہے جس کا آغاز راولپنڈی کے قریب ایک گاؤں کے کچے صحن سے ہوتا ہے جہاں ہم بہن بھائی کھیلا کرتے تھے۔ مالی وسائل کی عدم موجودگی کی وجہ سے عرفان بھائی نے میٹرک کے بعد پرائمری سکول لال کُرتی میں بطور استاد ملازمت کا آغاز کیا۔ اتفاق سے میں اسی سکول میں پڑھتا تھا۔ سکول کے بالکل سامنے ایوب ہال تھا جہاں قومی اسمبلی کے اجلاس ہوا کرتے تھے۔ یہ اُن دنوں کی بات ہے جب قومی اسمبلی کے سپیکر مولوی تمیزالدین ہوا کرتے تھے‘ جن کا نام آج بھی پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں احترام سے لیا جاتا ہے۔
سکول میں ملازمت کے دوران ہی عرفان بھائی نے ایف اے‘ بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ امیدوار کے طور پر اعلیٰ درجوں میں پاس کیے۔ انہوں نے بی ایڈ سینٹرل ٹریننگ کالج سے کیا اور گولڈ میڈل کے حقدار ٹھہرے۔ تب سرسید سکول مال روڈ راولپنڈی کے پرنسپل عبدالقادر قریشی ہوا کرتے تھے۔ انہوں نے عرفان بھائی کو سر سید سکول میں ملازمت کی پیشکش کی۔ یہ راولپنڈی کا ایک اہم تعلیمی ادارہ تھا جہاں اشرافیہ کے بچے پڑھتے تھے۔ کچھ ہی عرصہ بعد بطور لیکچرر اُن کا انتخاب سرسید کالج مال روڈ میں ہو گیا۔ یہیں پر عرفان بھائی نے ایک پندرہ روزہ نیوز لیٹر ''دی رپورٹر‘‘ کا اجرا کیا‘ جس میں طلبہ کو اپنی رائے کے اظہار کا آزادانہ موقع ملتا۔ اسی دوران انہیں ریڈیو پاکستان میں مختلف موضوعات پر لکھنے کی پیشکش ہوئی۔ اس عرصے میں انہوں نے ریڈیو کیلئے بہت لکھا۔ ریڈیو کیلئے لکھے گئے ڈراموں کی تعداد سو سے زیادہ ہے۔ ان کے منتخب ڈراموں کی کتاب ''بھید بھری آواز‘‘ شائع ہوئی۔ تب ان کی زندگی میں ایک اور دریچہ کھلا جب مجیب الرحمن شامی صاحب نے انہیں اپنے ہفت روزہ رسالے زندگی اور ماہنامہ قومی ڈائجسٹ میں لکھنے کی دعوت دی۔ یہ صحافت کی وادی میں ان کے سفر کا آغاز تھا۔ کچھ عرصے کے بعد انہوں نے اس وقت کے معروف ہفت روزہ تکبیر میں لکھنا شروع کیا جس کے مدیر صلاح الدین صاحب تھے جنہیں بعد میں سچ لکھنے کی پاداش میں شہید کر دیا گیا۔ اسی رسالے میں عرفان بھائی نے جسٹس محمد رفیق تارڑ کا انٹرویو کیا جس کا عدالتی ایوانوں سے شدید ردِ عمل آیا اور بعد میں یہی انٹرویو رفیق تارڑ صاحب کے صدارتی امیدوار کے کاغذات مسترد ہونے کا باعث بنا۔ اپیل کرنے پر رفیق تارڑ صاحب کو عدالت سے ریلیف مل گیا۔ انہوں نے صدارتی انتخاب لڑا اور کامیابی حاصل کی۔ اس عرصے میں عرفان بھائی سر سید کالج سے قبل از وقت ریٹائرمنٹ لے چکے تھے۔
رفیق تارڑ صاحب صدر بنے تو انہوں نے عرفان بھائی کو ایوانِ صدر میں پریس سیکرٹر ی کے طور پر کام کرنے کی پیشکش کی۔ اس سے پیشتر عرفان بھائی نقشِ خیال کے نام سے کالم لکھنے کا آ غاز کر چکے تھے۔ پریس سیکرٹری کا عہدہ سنبھالنے کے بعد انہوں نے کالم لکھنا بند کر دیا۔ ایوانِ صدر میں قیام کے دوران وہ بہت سے تاریخی واقعات کے شاہد رہے۔ جب 2001ء میں پرویز مشرف نے صدر رفیق تارڑ کو سبکدوش کیا تو عرفان بھائی نے بھی اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ یہ افغانستان میں امریکہ اور طالبان کے درمیان جنگ کا زمانہ تھا جس میں پرویز مشرف کی حکومت طالبان کے خلاف امریکہ کا ساتھ دے رہی تھی۔ اس عرصے میں عرفان بھائی نے ایسے کالم لکھے جنہیں قبولِ عام ملا۔ بعد میں وہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت میں وزیراعظم نواز شریف کے مشیر برائے قومی امور اور قومی تاریخ و ادبی ورثہ کے سربراہ بنے۔ اس دور کو آج بھی ادبی اور ثقافتی اداروں کی تاریخ میں ایک سنہری دور کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ 2019ء میں انہیں ایک نام نہاد کرایہ داری مقدمے میں گرفتار کر کے اڈیالہ جیل کی قصوری چکی میں بند کر دیا گیا۔ میڈیا کے شدید ردِعمل کے بعد انہیں رہائی ملی۔ 2021ء میں وہ مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر سینیٹر بن گئے اور سینیٹ میں اپنی پارٹی کے پارلیمانی لیڈر کے طور پر خدمات سر انجام دیں۔ ان سب واقعات کی تفصیل کتاب کے پہلے حصے میں ہے۔
کتاب کا دوسرا حصہ عرفان بھائی کے کالموں‘ شاعری اور ڈراموں کے انتخاب پر مشتمل ہے۔ ان کی زندگی اور شخصیت کے تذکرے کے بعد یہ صفحات ان کے فن سے براہِ راست آشنائی کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ ان تحریروں میں ان کے افکار کی جھلک بھی ملتی ہے اور اسلوب کی دلکشی بھی جو اُن کی تخلیقات کو انفرادیت بخشتی ہے۔ ان کے کالموں میں اپنے عہد کے سیاسی و سماجی مسائل پر گہری نظر‘ منطقی تجزیہ اور نثر کی شعری لطافت ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ نظر آتے ہیں۔ ان کی شاعری محبت اور مزاحمت کی شاعری ہے‘ جو ذاتی دکھوں سے آگے بڑھ کر اجتماعی محرومیوں کی آواز بن جاتی ہے۔ منتخب ڈرامے میں معاشی مجبوریوں‘ آسودگی کے خوابوں اور اپنی مٹی سے وابستگی کے درمیان انسان کی کشمکش نمایاں ہے۔ یوں اظہار کی ان مختلف صورتوں (کالم‘ شاعری‘ ڈرامہ) میں لفظ سے ان کی وابستگی اور انسانیت سے محبت ایک مسلسل رشتے کی طرح موجود ہے۔ میرے لیے یہ انتخاب مرتب کرنا عرفان بھائی کی مانوس آواز کو ایک بار پھر سے سننے کے مترادف تھا۔ میری خواہش ہے کہ پڑھنے والے بھی ان تحریروں میں ان کے فن کی خوبصورتی کے ساتھ ان کے دل کی دھڑکن محسوس کر سکیں اور عرفان بھائی کی شخصیت کے ان گوشوں سے آشنا ہوں جو اُن کی تحریروں میں آشکار ہوتے ہیں۔یہ میرے بھائی عرفان صدیقی سے جڑی یادوں کی کہانی ہے جو اُن شب و روز کے گرد گھومتی ہے جو کبھی لوٹ کر نہیں آئیں گے۔ یہ ایک ماں کے خواب کی تعبیر کی داستان ہے جس کی خواہش تھی کہ اس کے بچے اعلیٰ تعلیم حاصل کریں اور اپنے اپنے شعبوں میں نام کمائیں۔ یہ اس بچے کی زندگی کے سفر کا احوال ہے جس نے گاؤں کے ایک کچے گھر کے آنگن میں آنکھ کھولی اور سخت محنت سے زندگی میں اپنا مقام بنایا۔ یہ اس عشقِ جنوں پیشہ کا بیان ہے جس نے ایک محفوظ سرکاری نوکری سے استعفیٰ دینے کا خطرہ مول لیا اور اپنے قلم کے معجزے پر اعتبار کیا۔ یہ قلم کے اس مزدور کا تذکرہ ہے جس نے اپنی زندگی میں بلا تکان لاکھوں صفحات تحریر کیے۔ یہ اس کالم نگار کی حکایت ہے جس نے اپنی سحر انگیز نثر سے مقبولیت کی بلندیوں کو چھوا۔ یہ اس حساس پاکستانی کا قصہ ہے جس نے آمریت کے کڑے عہد میں صدائے حق بلند کی اور جسے سچ لکھنے کی پاداش میں ہتھکڑیاں پہنا کر جیل کی قصوری چکی میں ڈالا گیا... کتاب لکھنے کے اس سفر میں بہت سے لوگ میرے ہمراہ رہے ان سب کا شکریہ۔ روزنامہ دنیا کا خصوصی شکریہ جس کے صفحات پر اس کہانی کی ابتدا ہوئی۔ یہ عرفان بھائی کی باضابطہ سوانح حیات نہیں‘ یہ تو بس ایک بھائی کی محبت بھری یادوں کا مجموعہ ہے۔ وہ یادیں جن کی چاندنی ان کے چلے جانے کے بعد بھی ہر دم ان کے وجود کا احساس دلاتی رہتی ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved