تحریر : محمد حسن رضا تاریخ اشاعت     07-10-2026

چار صوبے، ایک سوال!

چار صوبے‘ چار حکومتیں‘ کھربوں روپے کے وسائل اور عوام کے سامنے دعوؤ ں کا انبار‘ مگر اصل سوال یہ ہے کہ زندگی کس کی بدلی؟ فروری اور مارچ 2024ء میں قائم ہونے والی حکومتوں کو ڈھائی سال سے زیادہ گزر چکے۔ احتجاجی قافلے‘ اسمبلیوں سے واک آؤٹ اور مخالفین پر الزام تراشی کارکردگی کا متبادل نہیں ہوسکتے۔ حکمران کا اصل تعارف اس کی تقریر نہیں گورننس کی صلاحیتیں ہیں۔ جس گھر میں چولہا مشکل سے جلتا ہو وہاں سیاسی نعرے پیٹ نہیں بھرتے۔ آئی ایم ایف کی 2026ء کی رپورٹس چاروں وزرائے اعلیٰ سے جوابدہی کا تقاضا کرتی ہیں۔ وفاق ہو یا صوبے‘ عوام کے ٹیکس کے پیسوں پر سوال سے کوئی بالاتر نہیں۔ چاروں حکومتوں کیلئے چارج شیٹ یہی ہے کہ انہیں اختیار ملا‘ وسائل ملے لیکن شہریوں کو حقوق کیوں نہیں ملے؟ مالی سال 2026-27ء کیلئے پنجاب نے تقریباً 5903‘ سندھ نے 3562‘ خیبرپختونخوا نے 2170 اور بلوچستان نے 1089 ارب روپے کا بجٹ منظور کیا۔ یہ مختص وسائل ہیں مکمل خرچ نہیں؛ ان میں وفاقی حصے کے ساتھ صوبائی آمدن اور دیگر ذرائع بھی شامل ہیں۔ لیکن مالی اختیار اتنا بڑا ہو تو ہر ناکامی کو پیسے کی کمی کے پیچھے چھپانا بھی انصاف نہیں۔ کرپشن کی شکایات ہر صوبے میں ہیں۔ کبھی مہنگی خریداری‘ کبھی ٹھیکوں‘ کبھی بھرتیوں اور کبھی بیرونِ ملک رقم منتقل ہونے کی باتیں سامنے آتی ہیں۔ مہنگے جوتے‘ گھڑیاں اور گاڑیاں حکمرانوں کی ترجیحات کو واضح کرتی ہیں مگر کسی الزام کو ثبوت کے بغیر جرم نہیں کہا جاسکتا۔ ہمارا مطالبہ واضح ہے کہ فائل‘ بولی‘ ادائیگی اور آڈٹ دکھائیے۔ سو روپے کے منصوبے سے عوام کو کچھ فائدہ مل بھی جائے تو باقی رقم کی بے ضابطگی معاف نہیں ہوجاتی۔
اسی سخت پیمانے پر پنجاب کو دیکھیں تو بہتری نظر آتی ہے۔ پانچ اکتوبر 2026ء کو مسقط میں وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے ''اپنی چھت اپنا گھر‘‘ کیلئے اقوام متحدہ کے ادارے یو این ہیبی ٹیٹ کا سکرول آف آنر اعزاز وصول کیا۔ عالمی یومِ رہائش پر پاکستان سمیت پانچ ممالک کے اقدامات کو سراہا گیا۔ یہ صوبائی تشہیر سے ایک قدم آگے بین الاقوامی اعتراف ہے۔ عالمی اداروں کی رپورٹس پر ہم اپنی حکومتوں پر بہت تنقید بھی کرتے ہیں‘ ایک عالمی ادارے نے اگر پنجاب کے ایک منصوبے کو اس قابل سمجھ کر ایوارڈ دیا ہے تو اس کا بھی کھلے دل سے اعتراف کرنا چاہیے۔ مریم نواز نے ایک عوامی ضرورت سے متعلق منصوبے کے ذریعے پاکستان کا نام روشن کیا؛ سیاسی اختلاف اس حقیقت کو مٹا نہیں سکتا۔ روٹی‘ کپڑا اور مکان بھٹو کا نعرہ تھا؛ آج مکان کے ایک اقدام پر پنجاب کی وزیراعلیٰ عالمی اعزاز وصول کررہی ہیں۔ سندھ کی قیادت سے سوال بنتا ہے کہ اپنے طویل اقتدار میں اس وعدے کو ہر ضرورت مند کی زندگی تک کیوں نہ پہنچایا؟ عمران خان بھی فلاحی ریاست کی بات کرتے تھے؛ ان کے صوبائی جانشینوں کو عوامی فلاح کی ایسی نمایاں مثالیں قائم کرنی چاہئیں۔ بلوچستان کی قیادت بھی دعوؤ ں سے آگے نتائج دکھائے۔ پنجاب کی دوسری مثال سیف سٹیز اتھارٹی کا ''میرا پیارا‘‘ منصوبہ ہے‘ جوITU کے WSIS پرائزز 2026ء میں چیمپئن منصوبوں میں شامل ہوا۔ گمشدہ بچے اور خاندان کو ملانے کا یہ نظام انسانی ضرورت کو انتظامی ترجیح بناتا ہے۔ ان کامیابیوں سے پنجاب بازی ضرور لے گیا لیکن گورننس ماڈل مزید نتائج مانگتا ہے۔ مریم نواز کی قیادت میں کام کی رفتار‘ نگرانی اور عوامی منصوبوں کی موجودگی نظر آتی ہے۔ سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب سمیت سیاسی ٹیم اور رزلٹ دینے والے افسران کا کریڈٹ بھی تسلیم ہونا چاہیے۔
پنجاب پر تنقید بھی اتنی ہی کھلی ہونی چاہیے۔ ستھرا پنجاب اور دیگر ترقیاتی کاموں کے بارے میں اٹھنے والے کرپشن کے سوالات کا جواب عالمی اعزاز نہیں دے سکتا۔ متعلقہ ٹھیکوں کی قیمت‘ معیار‘ نگرانی اور ادائیگیوں کی تفصیل سامنے آنی چاہیے۔ کسی شکایت کو بلاتحقیق ثابت شدہ جرم کہنا غلط ہے مگر اسے بلا تحقیق مخالفین کی سازش کہنا بھی غلط ہے۔ کامیابی مکمل معلومات چھپانے سے نہیں شفافیت سے ہوتی ہے۔ پنجاب واقعی آگے رہنا چاہتا ہے تو کام کے ساتھ حساب بھی دے۔میری معلومات کے مطابق پنجاب کے ایک اعلیٰ افسر نے اجلاس میں بڑھتی کرپشن شکایات پر تشویش ظاہر کرکے اینٹی کرپشن کو کارروائی کی ذمہ داری دی ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ کارروائی نائب قاصد‘ پٹواری‘ کلرک اور چھوٹے عملے سے آگے کہاں پہنچی؟ بڑے ٹھیکوں اور منظوریوں کے پیچھے بڑے دستخط ہوتے ہیں‘ کیا احتساب ان تک پہنچا ہے؟ چھوٹی رشوت پکڑنا ضروری مگر بڑے مالی اختیار کو چیک نہ کرنا احتساب نہیں۔ حکومت نتائج‘ وصولیاں اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی سامنے لائے۔ پیرا پر میرا اختلاف واضح ہے۔ قانون نافذ کرنا ضروری‘ شہریوں کو خوف میں مبتلا رکھنا ناقابلِ قبول ہے۔ کاروباری افراد نے پیرا کے رویے اور پریشانی کی شکایات کی ہیں‘حکومت کو ان کا جواب دینا چاہیے۔ تجاوزات اور ناجائز منافع کے خلاف کارروائی کے ساتھ عزتِ نفس‘ جائز کاروبار کی اجازت اور داد رسی ہونی چاہیے۔ کسی فورس کی کامیابی جرمانوں کی تعداد نہیں منصفانہ سلوک اور شہریوں کا اعتماد حاصل کرنا ہے۔
کے پی میں سہیل آفریدی اور سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور سے بنیادی سوال امن اور خدمت کا ہے۔ عمران خان کی مقبولیت اور قید پر بحث اپنی جگہ پولیس اہلکار وں کی جان اور شہریوں کی حفاظت اپنی جگہ۔ وفاق‘ قانون نافذ کرنیوالے اداروں اور صوبے کی مشترک ذمہ داری کو سیاسی مقابلے کی نذر نہیں ہونا چاہیے۔ چار اکتوبر کو وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے سکیورٹی معاہدے اور بہتر گھنٹوں کے منصوبۂ عمل سے صوبائی حکومت کے پیچھے ہٹنے کا دعویٰ کیا تھا؛ اس حوالے سے صوبے کا واضح جواب بھی آنا چاہیے۔ پولیس ایکٹ 2026ء پر نظرثانی‘ سیاسی مداخلت سے تحفظ‘ دہشت گردوں کی کارروائیوں اور پناہ گاہوں کی روک تھام‘ ٹی ٹی پی‘ تحریک طالبان افغانستان اور دیگر گروہوں کی واضح مذمت اور ان کے خلاف سخت کارروائی ضروری ہے۔ افغان شہریوں کی واپسی اور کیمپوں کا خاتمہ قانون کے مطابق ہو؛ عبوری افغان حکومت سے صوبائی رابطے بند ہوں۔ پولیس اور انسدادِ دہشت گردی کو وسائل ملیں‘ صوبہ ذمہ داری لے‘ مسلح افواج سے تعاون کرے اور سابق فاٹا کے ضم شدہ اضلاع میں قومی لائحہ عمل نافذ ہو۔ پھر کوہستان کی تقریباً دس برس پرانی 37 ارب روپے سے زائد مبینہ خوردبرد کا حساب بھی دیجیے۔اسی طرح سندھ میں پیپلز پارٹی کو طویل اقتدار کا حساب دینا چاہیے۔ کراچی کا شہری پانی‘ نکاسی اور محفوظ سفر کو کیوں ترستا رہے؟ دیہی خاندان استاد‘ علاج اور روزگار کیلئے سیاسی سفارش کا محتاج کیوں ہو؟روٹی‘ کپڑا اور مکان کا نعرہ نسلوں تک ووٹ دلائے اور شہری کا بنیادی حق پھر بھی بااثر شخص کی مرضی سے ملے تو قیادت کو اپنی ترجیحات دیکھنی چاہئیں۔ سندھ کو نعروں کے بجائے روزمرہ زندگی کا حساب دینا ہوگا۔ بلوچستان میں بھی دعوؤں سے آگے جواب چاہیے۔محکمہ تعلیم کے سروے کے مطابق صوبے میں پانچ سے سولہ برس کے 45 فیصد بچے سکول سے باہر ہیں۔ وسیع جغرافیہ‘ بدامنی اور فاصلے ہیں؛ انہی مسائل کے حل کیلئے حکومت ہوتی ہے۔ پانی‘ علاج‘ تعلیم اور روزگار غائبانہ مدد سے نہیں آئیں گے۔ عوام کو فیصلوں میں شریک کیجیے۔ چاروں صوبوں میں مسائل ہیں مگر پنجاب کو جو پذیرائی حاصل ہوئی وہ بھی ایک مثال ہے۔لیکن یہ پائیدار تب ہوگی جب کارکردگی اور شفافیت ساتھ ساتھ چلیں گی۔ کرپشن اور لوٹ مار کی کہانیاں پنجاب‘ سندھ‘ بلوچستان اور خیبرپختونخوا ہر صوبے میں موجود ہیں۔ ایسی ایسی کہانیاں کہ سامنے رکھی جائیں تو عوام گھروں سے باہر آجائیں لیکن امید ہے کہ ایک وقت آئے گا کہ سب عوام کے سامنے آئے گا۔ جس گھر میں نومولود کو دودھ پلانے کے پیسے نہ ہوں وہاں حکمران کی مہنگی گھڑی‘ اربوں روپے بیوروکریسی اور حکمرانوں کی رہائشگاہوں‘ دفاتر اور دیگر اخراجات ترقی کا ثبوت نہیں بلکہ عوام سے دوری کی علامت ہیں۔ عوام کو خدمت چاہیے حکمرانوں کے بہانے نہیں۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved