تحریر : علامہ ابتسام الہٰی ظہیر تاریخ اشاعت     07-10-2026

حسد کے نقصانات

اللہ تبارک وتعالیٰ نے مختلف انسانوں کو مختلف طرح کی صلاحیتیں اور نعمتیں عطا کی ہیں۔ بعض لوگوں کو اللہ تبارک وتعالیٰ نے ذہانت‘ فطانت اور علم جبکہ بعض لوگوں کو مال ودولت سے نوازا ہوتا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ کی اس تقسیم کو کھلے دل سے قبول کرنا ہی انسان کیلئے بہتر ہے لیکن بعض لوگ اللہ تبارک وتعالیٰ کی اس تقسیم پر غضبناک ہوتے ہیں اور جس شخص کو نعمت ملی ہوتی ہے‘ اس کیلئے زوالِ نعمت کی تمنا کرنے لگتے ہیں۔ ایسی کیفیت کو حسد کہا جاتا ہے۔
قرآن مجید میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے ایسے واقعات بیان کیے ہیں جن کو پڑھ کر حسد کی سنگینی کا اندازہ ہوتا ہے۔ قرآن مجید میں کئی مقامات پر ابلیس کا واقعہ موجود ہے جو آدم علیہ السلام کو ملنے والی عزت اور ان کے برتر مقام کی وجہ سے حسد کا شکار ہو گیا۔ نتیجتاً اللہ تبارک وتعالیٰ نے اس کو راندۂ درگاہ بنا دیا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ الاعراف کی آیات: 11 تا 13 میں اس واقعے کو کچھ یوں بیان فرماتے ہیں: ''اور ہم نے تم کو پیدا کیا‘ پھر ہم ہی نے تمہاری صورت بنائی‘ پھر ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو‘ سو سب نے سجدہ کیا بجز ابلیس کے‘ وہ سجدہ کرنے والوں میں شامل نہ ہوا۔ (حق تعالیٰ نے) فرمایا: تو جو سجدہ نہیں کرتا تو تجھ کو اس سے کون امر مانع ہے‘ جبکہ میں تجھ کو حکم دے چکا‘ کہنے لگا: میں اس سے بہتر ہوں‘ آپ نے مجھ کو آگ سے پیدا کیا ہے اور اس کو آپ نے خاک سے پیدا کیا ہے۔ (حق تعالیٰ نے) فرمایا: آسمان سے اتر‘ تجھ کو کوئی حق حاصل نہیں کہ تو آسمان میں رہ کر تکبر کرے‘ سو نکل بیشک تو ذلیلوں میں سے ہے‘‘۔ ان آیاتِ مبارکہ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ ابلیس کے زوال کی وجہ تکبر کے ساتھ ساتھ حضرت آدم علیہ السلام کو ملنے والے مقام کا حسد بھی تھا جس کی وجہ سے اللہ تبارک وتعالیٰ نے اس کو ذلیل و رسوا کر دیا۔
اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآن مجید میں حضرت یوسف علیہ السلام کے واقعے کو بھی بیان کیا کہ ان کو اپنے والد حضرت یعقوب علیہ السلام سے جو محبت اور شفقت مل رہی تھی‘ ان کے بھائی اس کی وجہ سے حسد کا شکار ہو گئے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ اس حوالے سے سورۂ یوسف کی آیات: 7 تا 9 میں حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائیوں کی بات کو کچھ یوں بیان کرتے ہیں: ''یقینا یوسف اور اس کے بھائیوں (کے قصے) میں دریافت کرنے والوں کیلئے (بڑی) نشانیاں ہیں۔ جبکہ انہوں نے کہا کہ یوسف اور اس کا بھائی بہ نسبت ہمارے‘ باپ کو بہت زیادہ پیارے ہیں حالانکہ ہم (طاقتور) جماعت ہیں‘ کوئی شک نہیں کہ ہمارے ابا صریح غلطی میں ہیں۔ یوسف کو تو مار ہی ڈالو یا اسے کسی (نامعلوم) جگہ پھینک دو کہ تمہارے والد کا رخ صرف تمہاری طرف ہی ہو جائے۔ اس کے بعد تم نیک ہو جانا‘‘۔ ان آیاتِ مبارکہ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ حسد انسان کو اس حد تک گرا دیتی ہے کہ انسان محسود (جس سے حسد کی جائے) کی جان لینے تک پر آمادہ و تیار ہو جاتا ہے۔
اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآن مجید میں اہلِ کتاب کے ایک طبقے کی حسد کا بھی ذکر کیا کہ جو اہلِ ایمان کو حسد کی وجہ سے کفر میں دھکیلنا چاہتے ہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ البقرہ کی آیت: 109 میں ارشاد فرماتے ہیں: ''ان اہلِ کتاب کے اکثر لوگ باوجود حق واضح ہوجانے کے‘ محض حسد وبغض کی بنا پر تمہیں بھی ایمان سے ہٹا دینا چاہتے ہیں‘ تم بھی معاف کرو اور چھوڑو یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم لائے۔ یقینا اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے‘‘۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو نبوت و رسالت عطا فرمائی‘ ان کی اولاد میں بھی نبوت کو جاری کیا اور اس کے ساتھ ساتھ ان کی اولاد میں بہت سے بادشاہوں کو بھی پیدا کیا جس پر لوگ ان سے حسد کا شکار ہو گئے۔ نبی کریمﷺ کو بھی جب اللہ تبارک وتعالیٰ نے رسالت ونبوت عطا فرمائی تو یہودیوں کی ایک بڑی تعداد رسول کریمﷺ سے فقط اس لیے حسد کا شکار ہو گئی کہ آپﷺ آلِ اسماعیل میں سے تھے۔ حاسد درحقیقت اللہ تبارک وتعالیٰ کی تقسیم پر حسد کرتا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ النساء کی آیت: 54 میں ارشاد فرماتے ہیں: ''یہ لوگوں سے حسد کرتے ہیں اس پر جو اللہ نے اپنے فضل سے انہیں دیا ہے‘‘۔
جہاں قرآنِ مجید میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے حسد کی مذمت کی ہے وہیں احادیثِ مبارکہ میں بھی حسد کی بہت مذمت کی گئی ہے۔ اس حوالے سے چند اہم احادیث درج ذیل ہیں: 1۔ صحیح بخاری میں حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ''آپس میں بغض نہ رکھو‘ حسد نہ کرو‘ پیٹھ پیچھے کسی کی برائی نہ کرو‘ بلکہ اللہ کے بندے آپس میں بھائی بھائی بن کر رہو اور کسی مسلمان کیلئے جائز نہیں کہ ایک بھائی اپنے (مسلمان) بھائی سے تین دن سے زیادہ سلام کلام چھوڑ کر رہے‘‘۔
2۔ حسد اور تکبر کی وجہ سے اپنے مسلمان بھائیوں سے قطع تعلقی ہر اعتبار سے قابلِ مذمت ہے۔ اس حوالے سے صحیح مسلم میں حضرت ابوایوب انصاریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ''کسی مسلمان کیلئے حلال نہیں کہ وہ تین دن سے زیادہ اپنے بھائی کو چھوڑ دے (قطع تعلق کر کے رکھے کہ) دونوں ایک دوسرے سے ملیں تو یہ بھی منہ موڑ لے اور وہ بھی منہ موڑ لے اور دونوں میں سے بہتر وہ ہے جو سلام میں پہل کرے‘‘۔
3۔ کئی مرتبہ انسان بدگمانی اور کئی مرتبہ مال ودولت میں مسابقت کی وجہ سے ایک دوسرے سے حسد کا شکار ہو جاتا ہے۔ یہ چیزیں بھائی چارے اور اخوت کو بہت زیادہ نقصان پہنچاتی ہیں۔ اس حوالے سے صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ''ایک دوسرے سے ترکِ تعلق مت کرو‘ ایک دوسرے سے روگردانی نہ کرو‘ دوسروں کے عیب تلاش نہ کرو‘ تم میں سے کوئی کسی کی بیع (تجارت) پر بیع نہ کرے اور اللہ کے ایسے بندے بن جائو جو آپس میں بھائی بھائی ہیں‘‘۔ 4۔ ایک دوسرے سے بغض اور دشمنی رکھنا اس قدر سنگین عیب ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ ان لوگوں کو اس وقت تک معاف نہیں کرتے جب تک وہ آپس میں صلح نہیں کر لیتے۔ اس حوالے سے صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ''پیر اور جمعرات کے دن جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور ہر اُس بندے کی مغفرت کر دی جاتی ہے جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں بناتا‘ اس بندے کے سوا جس کی اپنے بھائی کے ساتھ عداوت ہو؛ چنانچہ کہا جاتا ہے: ان دونوں کو مہلت دو حتیٰ کہ یہ صلح کر لیں‘ ان دونوں کو مہلت دو حتیٰ کہ یہ صلح کر لیں۔ ان دونوں کو مہلت دو حتیٰ کہ یہ صلح کر لیں‘‘ (اور صلح کے بعد ان کی بھی بخشش کر دی جائے)۔
5۔ اپنے دل کو حسد سے پاک کرنے کیلئے یہ انتہائی ضروری ہے کہ انسان دوسروں سے نعمت چھننے کی تمنا کرنے کے بجائے ان کیلئے وہی پسند کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔ اس حوالے سے صحیح بخاری میں حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ آنحضرتﷺ نے فرمایا ''تم میں سے کوئی شخص ایمان والا نہ ہو گا جب تک اپنے بھائی کیلئے وہ نہ چاہے جو اپنے نفس کیلئے چاہتا ہے‘‘۔
کسی بھائی میں کوئی اچھی خوبی یا اچھی نعمت دیکھ کر اس بات کی تمنا کرنا کہ مجھے بھی یہ نعمت مل جائے جبکہ دل میں بھائی کی نعمت چھن جانے کی خواہش نہ ہو تو اس کی اسلام میں گنجائش موجود ہے۔ کئی مرتبہ انسان سے جب حسد کیا جاتا ہے تو اس کو مختلف طرح کے نقصانات پہنچنے کا اندیشہ ہو جاتا ہے‘ ایسی صورت میں حسد سے بچائو کیلئے خصوصیت سے سورۃ الفلق اور حسبنا اللہ ونعم الوکیل کا ورد کرنا چاہیے تاکہ حسد سے محفوظ رہا جا سکے۔ دعا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ ہم سب کو حسد کرنے اور حاسدین کے حسد سے محفوظ رکھے‘ آمین!

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved