تحریر : مفتی منیب الرحمٰن تاریخ اشاعت     08-10-2026

ہمارے فیصلہ ساز

ہم بھی عجب قوم ہیں اور ہمارے مقتدر اور فیصلہ ساز ہم سے بھی زیادہ ''اَعجب العجائب‘‘ (The Wonder of all wonders) ہیں۔ بچپن سے سنتے آ رہے ہیں کہ پاکستان واقعی ''مملکتِ خداداد‘‘ (God Gifted State) ہے کہ پوری قوم اس کی بیخ کَنی میں لگی ہوئی ہے مگر ملک جیسے تیسے چلاجا رہا ہے۔ اس کو عربی میں ''کَیْفَ مَا اتَّفَق‘‘ اور انگریزی میں Contingent کہتے ہیں۔ بقول جناب نصرت جاوید روزانہ سرِ شام ٹی وی چینلوں پر سیاستدان‘ تجزیہ کار‘ ماہرینِ قانون اور اینکر پائوڈر مل کر آ کر بیٹھ جاتے ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ آج یہ قوم کے مسائل حل کر کے دم لیں گے اور کل سے ہماری ترقی کا سفر شروع ہو جائے گا۔ مگر اگلے دن منظر پھر وہی ہوتا ہے‘ کچھ بھی بدلا نہیں ہوتا۔ ایک دن محسن نقوی صاحب نے صنعتکاروں اور تاجروں کا کنونشن بلایا اور انہیں خبر دی کہ ملک کا نظام منہدم (Collaps) ہو چکا ہے۔ پھر سوال ہوا کہ آپ اس ڈوبتی کشتی پر کیوں سوار ہیں تو خبر درست کی گئی کہ نظام تو یقیناگزشتہ اسّی سال سے تباہی کا شکار ہے‘ بوسیدہ اور منہدم ہو چکا ہے‘ مگر وزیراعظم سمیت یہ حکومت اپنا دورانیہ پورا کرے گی۔ پھر میڈیا پر رونقیں لگ گئیں‘ بشارت سنائی جانے لگی کہ صوبے تو بن کر رہیں گے‘مقتدر حلقوں نیفیصلہ کر لیاہے‘ وہ اس سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ اس کے بعد سے اب تک تاریخیں آگے پیچھے ہو رہی ہیں‘ کبھی صوبے بنانے کی بات ہوتی ہے اور کبھی انتظامی یونٹ بنانے کی ‘ مگر چِتاونی کا اعادہ کیا جاتا ہے کہ ہونی تو ہو کر رہے گی۔ ''چِتاونی‘‘ سنسکرت کا لفظ ہے‘ اسے اردو میں انتباہ اور 'ڈراوے‘ سے تعبیر کر سکتے ہیں۔ عربی میں اسے ''وعید ‘‘ کہتے ہیں۔
ہم جیسا معمولی عقل وفہم کا آدمی بھی یہ سمجھتا ہے کہ اس کام کیلئے پارلیمنٹ میں موجود سیاسی جماعتوں کی تائید وحمایت درکار ہو گی‘ خواہ وہ منتخب ہوں یا بقولِ اطہر ہاشمی چُنتخب (جن پر فارم 47 کی پھبتی کسی جاتی ہے)‘ الغرض کوئی نہ کوئی آئینی اور قانونی راستہ اختیار کرنا پڑے گا۔ آئین کی شقوں کی کوئی نئی توجیہات وتاویلات کرنی پڑیں یا اس کیلئے وفاقی آئینی عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانا پڑے۔ پس سوچنا پڑتا ہے کہ پوری قوم کو پسِ پردہ تیاری کے بغیر اس تفریق میں مبتلا کرنے اور سوشل میڈیا پر رونق افروز ستاروں کو زحمت دینے کی ضرورت کیا تھی‘ صحیح راستہ اختیار کیا جاتا اور پسِ پردہ تیاری کرکے آخری مرحلے میں اسے منظرِ عام پہ لایا جاتا۔ صدر آصف علی زرداری کا یہی تو کرشمہ ہے کہ 2010ء میں پارلیمنٹ کی آئینی کمیٹی بنی‘ تقریباً سال بھر پسِ پردہ اٹھارہویں ترمیم پر کام ہوا اور کمیٹی کے شرکا سے حلف لیا گیا کہ اس کی کارروائی (Proceedings) کو عوام کے سامنے یا میڈیا پر زیرِ بحث نہیں لایا جائے گا۔ پھر جب یہ کام مکمل ہوا تو پارلیمنٹ نے ایک دن اٹھک بیٹھک کر کے اچانک اٹھارہویں ترمیم کے عنوان سے آئین میں ایک سو ایک ترامیم منظور کر لیں اور کسی کو اس کی ہوا تک نہ لگی۔ جب اٹھارہویں ترمیم پوری طرح فعّال ہوگئی تو پھر اس کے مابعد جھٹکے (Aftershocks) پورے نظام کو محسوس ہونے لگے۔
یہی غیر یقینی اور پوری قوم کو ذہنی انتشار میں مبتلا کرنے والا تجربہ خیبر پختونخوا میں تبدیلی کے بارے میں کیا جا رہا ہے۔ پس سوشل میڈیا پر رونق افروز غیر سرکاری ترجمان صبح وشام ثقہ اور مستند خبریں سناتے ہیں اور پھر ان میں ردّوبدل بھی کرتے رہتے ہیں کہ صدر اور پارلیمنٹ کی منظوری سے آئین کے آرٹیکل 234 کے تحت گورنر راج لگے گا یا آرٹیکل232 کے تحت ہنگامی حالات کا نفاذ ہوگا یا پی ٹی آئی کے اندر سے تبدیلی لاکر سہیل آفریدی کو فارغ کر دیا جائے گا‘ کیونکہ نہ صرف یہ کہ وہ سلامتی کے اداروں کے ساتھ تعاون نہیں کر رہے‘ بلکہ ملکی دفاع اور سلامتی کے اداروں کو اُن کی بیش بہا قربانیوں کے باوجود اس ساری صورتحال کا ذمہ دار قرار دے رہے ہیں۔ یہ کام برسرِ عام سمندر کی لہروں میں ارتعاش پیدا کیے بغیر پسِ پردہ گفت وشنید سے بآسانی انجام پا سکتا تھا۔ آخرکار ایوانِ صدر میں اجلاس ہوا اور اس پر اتفاق ہوا کہ حتی الامکان گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ سے گریز کیا جائے اور پی ٹی آئی کو اعتماد میں لے کر اور ان کے کم از کم مطالبات کو قبول کر کے کوئی متفقہ صورت نکالی جائے ۔ حکومت اور اپوزیشن کا دو روزہ اجلاس 2 اور 3 اکتوبر کو قومی اسمبلی میں سپیکر کے چیمبر میں سپیکر کے زیر صدارت منعقد ہوا۔
الغرض اس سلسلے میں پیپلز پارٹی کا کردار مثبت رہا ہے‘ وہ دوسری سیاسی جماعتوں کے مقابلے میں نسبتاً جمہوری مزاج رکھتے ہیں‘ تحمل وبرداشت بھی نسبتاً بہتر ہے اور دوسروں پر یلغار کیلئے سوشل میڈیا کے ٹرولرز یعنی اتّہام و الزام اور گالی گلوچ کا لشکر بھی نہیں پال رکھا۔ مگر دریں اثنا کہ حکومت اور پی ٹی آئی کی مذاکراتی کمیٹیاں آپس میں مذاکرات کر رہی تھیں‘ اس میں حکومت کا اولین مطالبہ یہ تھا کہ ریلی کے اعلان کو غیر مشروط طور پر واپس لیا جائے اور اپوزیشن کا مطالبہ یہ تھا کہ خان صاحب سے دو شخصیات کی ملاقات کا اہتمام کیا جائے کہ اچانک وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے ریلی کا اعلان کر دیا اور یہ تاثرپیدا ہوا کہ پی ٹی آئی میں عمران خان کے علاوہ کسی کے پاس حتمی فیصلے کا اختیار نہیں ۔ ہماری دانست میں یہ ملاقات کرا دینی چاہیے تھی‘ زیادہ سے زیادہ یہ ہوتا کہ وہ ریلی کو موقوف کرنے کا مطالبہ نہ مانتے اور یہ کام تو ویسے بھی ہو رہا ہے‘ مگر کم از کم اپوزیشن کی حجت تمام ہو جاتی۔ نیز اگر مذاکرات کی کامیابی اسی پر موقوف تھی تو عمران خان اور ان کی اہلیہ کو ہسپتال میں داخل کر دیا جاتا اور ضروری افراد کو ان تک رسائی دے دی جاتی تاکہ تنائو کم ہو اور کسی حد تک باہمی اعتماد کی فضا قائم ہو۔
چونکہ ہمارے دفاع اور قومی سلامتی کے اداروں نے گزشتہ چند برسوں میں بے انتہا قربانیاں دی ہیں‘ زخم سہے ہیں‘ افسروں اور جوانوں کی شہادتیں ہوئی ہیں‘ اس لیے ان کا جذباتی ہونا فطری امر ہے اور قابلِ فہم ہے۔ ان اداروں سے تمام شکایات بجا‘ لیکن چاروں طرف سے دشمنوں کے گھیرے میں رہتے ہوئے ملک کے سلامت رہنے میں ان اداروں کا کردار نہایت قابلِ قدر اور قابلِ تحسین ہے‘ ورنہ فلسطین‘ عراق‘ شام‘ لبنان اور شرقِ اوسط کے تمام ممالک کی صورتحال ہمارے سامنے ہے۔ شرقِ اوسط اور خلیج کے ممالک نے اپنے دفاع کیلئے امریکہ پر بھروسا کیا‘ اس کی غلامی قبول کی‘ اپنا سرمایہ ان کے بینکوں میں جمع کیا‘ ان کی خوشنودی میں حد سے گزر گئے‘ لیکن جب اصل امتحان کا وقت آیا تو امریکہ نے ان کو بے سہارا چھوڑ دیا‘ اڈے خالی کر دیے اور وہ ایران کے رحم وکرم پر رہ گئے۔ اس لیے اب وہ متبادل امکانات کی تلاش میں ہیں؛ چنانچہ 'معاہدۂ مکہ‘ اسی کا نتیجہ ہے اور خلیج کے بعض ممالک تو لگتا ہے کہ اسرائیل کی آغوش میں جا رہے ہیں اور ٹرمپ کے جال 'ابراہم اکارڈ‘ کا حصہ بن رہے ہیں۔
حالیہ 277ویں کورکمانڈر کانفرنس کا اعلامیہ درست ہے کہ دہشت گردی کا مقابلہ پوری قوم کو مل کر کرنا ہوگا اور اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے سلامتی کے اداروں کے شانہ بشانہ کھڑا ہونا ہوگا‘ کیونکہ ملک میں دہشت گردی کرنے والوں کی کمین گاہیں انہی علاقوں میں ہوتی ہیں‘ وہاں انہیں پناہ بھی ملتی ہے اور معلومات کی فراہمی میں مدد بھی کی جاتی ہے۔ پس اس نیٹ ورک کو توڑنے کیلئے لازم ہے کہ وفاقی وصوبائی حکومتیں اور قومی سلامتی کے ادارے ایک صفحے پر ہوں‘ دوئی کا تاثر پیدا نہ ہو کہ اس سے دشمن کا حوصلہ بڑھتا ہے ۔لازم ہے کہ خیبر پختونخوا میں پولس کو پورے وسائل فراہم کیے جائیں‘ ان میں نقل وحمل کے بہترین ذرائع‘ جدید ترین اسلحہ کی فراہمی اور صوبائی حکومت کی سیاسی وانتظامی پشت پناہی شامل ہے‘ الغرض یہ جماعتی یا صوبائی خلافیات کا مسئلہ نہیں‘ بلکہ پوری قوم کی بقا کا مسئلہ ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved