کبھی سمجھ نہیں آتی کہ ہم انسان کیا چاہتے ہیں اور ہمارے اندر کیا بھانبڑ جل رہے ہوتے ہیں۔ اس وقت اگر دیکھا جائے تو دنیا بھر میں‘ ہر معاشرے میں آپ کو بے چینی دیکھنے کو ملے گی۔ لوگ دھیرے دھیرے حکومتوں سے تنگ آ جاتے ہیں۔ عوام ہر وقت ایک ہی چہرہ دیکھ کر بھی اکتا جاتے ہیں اور پھر وہ خوشحالی کی پروا بھی نہیں کرتے اور مرنے مارنے پر تل جاتے ہیں۔ میں پڑھ رہا تھا کہ بارسلونا میں ہزاروں مظاہرین سڑکوں پر آ گئے اور ہنگامہ ہوا۔ وہاں بھی جلاؤ گھیراؤ ہوا‘ پولیس کے ساتھ جھڑپیں ہوئیں۔ وجہ ہے گھریلو کرایوں میں اضافہ۔ جب وہاں لوگوں سے گھر خالی کرانے کا سلسلہ شروع ہوا تو اس میں ایک 87 سالہ خاتون سے بھی گھر خالی کرایا گیا جس پر احتجاج شروع ہوا۔ میں پچھلے سال بارسلونا گیا تھا تو گجرات کے دوست امتیاز احمد اور جھنگ کے نواز سیال کی وجہ سے وہاں بہت سے پاکستانیوں اور دیگر لوگوں سے ملنے کا موقع ملا تھا۔ پاکستانیوں کو وہاں خاصا خوشحال اور خوش پایا۔ خود مجھے بھی بارسلونا بہت اچھا لگا۔ صاف ستھرا شہر اور لوگ بھی اچھے تھے۔ لہٰذا اس شہر میں ہنگاموں کی خبر پڑھی تو دل کچھ دکھی ہو گیا کہ جس شہر یا وہاں کے لوگوں کو آپ پسند ہوں تو وہاں پر اس طرح کے واقعات سن اور پڑھ کر آپ بھی تکلیف محسوس کرتے ہیں۔
میں فرانس کبھی نہیں گیا‘ اگرچہ اس دفعہ پروگرام تھا کہ لندن سے صفدر بھائی کے ساتھ پیرس جائیں گے لیکن ابھی جانا نہیں ہوا۔ اب وہاں طالبعلموں کے پُرتشدد مظاہروں کی خبریں پڑھیں تو دل افسردہ ہو گیا کہ شاید یہ سب کچھ میری حوصلہ شکنی کرنے کیلئے ہوا ہے کہ میں پیرس نہ جاؤں۔ فرانس جانے کی بڑی وجہ فرانس کے بالزاک‘ وکٹر ہیوگو‘ الیگزینڈر ڈوما‘ موپساں‘ فلابیر جیسے بڑے ادیب اور لکھاری ہیں۔ پھر نپولین کے بارے میں اتنا کچھ پڑھ رکھا ہے اور سب سے بڑھ کر ڈوما کی The Hunchback of Notre Dame اور The Three Musketeers جیسی کہانیاں وہاں رکھی ہیں۔ اس طرح مجھے دوسرا شوق روس جانے کا ہے اور اس کی وجہ ٹالسٹائی‘ دوستوفسکی‘ پوشکن‘ چیخوف اور گورکی جیسے ادیب ہیں۔ نعیم بھائی اکثر کہتے تھے کہ کہانیاں؍ناول صرف روسی اور فرانسیسی ادیبوں نے لکھے ہیں‘ فلاسفی جرمن نے اور ڈرامہ انگریزوں نے لکھا ہے۔ میں ابھی تک روس اور فرانس نہیں جا سکا اور لگتا ہے اس سال بھی شاید نہ جا سکوں۔
دوسری طرف جرمنی ہے جہاں رائٹ وِنگ تیزی سے معاشرے کو اپنی گرفت میں لے رہا ہے کہ یورپ میں تارکینِ وطن کے خلاف نفرت بہت پھیل چکی ہے۔ پچھلے دنوں جرمنی سے میرے پرانے مہربان منیر صاحب آئے ہوئے تھے۔ وہ انجینئرنگ یونیورسٹی کے گریجویٹ ہیں۔ اسلام آباد آئے تو ان سے لمبی گپ شپ ہوئی۔ جرمنی کے حالات کا پوچھا تو کہنے لگے کہ حالات تو واقعی مختلف ہیں۔ انہوں نے یہ بات بھی بتائی کہ جرمنی میں بھارتیوں کا امیج بہتر ہے۔ جرمن سرمایہ کار یا بڑے گروپ بھارت کو پاکستان پر ترجیح دیتے ہیں۔ بھارتیوں نے پاکستان کا امیج ان کی نظروں میں خراب کر رکھا ہے کہ چھوڑو‘ پاکستانیوں کی کیا بات کرتے ہو‘ ہم بہت اچھے ہیں۔ یوں وہ پروپیگنڈا یورپ میں بھی چلتا ہے کہ انڈین شریف ہیں اور پاکستانی نہیں۔ شاید یہی امیج پورے یورپ میں ہے اور شاید ایک وجہ ہے کہ نائن الیون کے بعد ہم نے افغانستان میں طالبان کو نیٹو اور عالمی فورس کے مقابلے پر اپنی پراکسی کے طور پر استعمال کیا۔ ہم سمجھتے تھے کہ یورپ‘ امریکہ بیشک ہمارے دشمن بن جائیں لیکن طالبان ہاتھ سے نہ نکلنے پائیں۔ اب نتیجہ یہ نکلا ہے کہ طالبان بھی ہاتھ سے نکل گئے اور پورے یورپ میں یہ تاثر عام ہے کہ شاید پاکستانی اچھے لوگ نہیں۔ دوسری جانب ہمارے خطے میں دہشت گردی پہلے بھی تھی‘ اب بھی ہے‘ اس معاملے میں انڈین بہتر رہے۔ نائن الیون کے بعد وہ افغانستان کی کرزئی حکومت ہو یا اشرف غنی‘ ان کے بھی پارٹنر رہے اور اب طالبان کے بھی پارٹنر ہیں۔ ہمارے ہاتھ کیا لگا کہ یورپ میں بھی امیج خراب کرا بیٹھے‘ طالبان بھی ہاتھ سے نکل گئے اور افغان بھی ناراض۔ پتا نہیں اس سارے دھندے میں ہمارے ہاتھ کیا لگا ہے۔
ادھر بھارت میں طالبعلم پھر سڑکوں پر آئے ہوئے ہیں‘ لاٹھی چارج اور تشدد ہو رہا ہے۔ وہاں بھی نئی نسل باہر نکلی ہوئی ہے اور حکومت اور پولیس کے تشدد کا مقابلہ کر رہی ہے۔ جنہیں لگتا تھا کہ جمہوریت میں مظاہرے کرنا آئینی حق ہوتا ہے‘ وہ انڈیا کو دیکھ لیں‘ جو 79 برس سے جمہوری ملک ہے‘ دیکھ لیں کہ وہاں کتنا حق دیا جا رہا ہے۔ جو بدترین تشدد ہو رہا ہے‘ وہ سب کے سامنے ہے۔ راہول گاندھی اور پریانکا گاندھی کو بھی پولیس نے گرفتار کیا۔ لڑکیوں تک کو پولیس نے گھسیٹا اور مارپیٹ کی۔ پس ثابت ہوا کہ اس خطے میں چاہے بھارت کی طرح 79سالہ پرانی جمہوریت ہو یا پھر پاکستان جیسی ہائبرڈ جمہوریت‘ حالات سب جگہ ایک جیسے ہیں۔ اگر مظاہرے کرنے کی اجازت پاکستان میں نہیں ہے تو بھارت میں بھی نہیں ہے۔
اس وقت پاکستان مسلسل سیاسی انتشار کا شکار ہے بلکہ شاید جب سے ملک بنا ہے‘ اس وقت سے ہی یہ بحران چلا آ رہا ہے۔ جب میں تبصرہ کاروں کو یہ کہتے سنتا ہوں کہ پاکستان کو آج سنگین حالات کا سامنا ہے تو حیرانی ہوتی ہے۔ بھلا کون سا دور تھا جب حالات نارمل تھے۔ میں بھٹو صاحب کی بہت ساری خوبیوں کا معترف ہوں لیکن ان کی غلطیاں ان کی خوبیوں پر حاوی ہیں۔ آپ شاید یہ جان کر حیران ہوں کہ پنجاب میں صرف چار برسوں میں بھٹو صاحب کے دور میں یکے بعد دیگرے چار وزرائے اعلیٰ آئے۔ ملک معراج خالد‘ غلام مصطفی کھر‘ حنیف رامے اور نواب صادق قریشی۔ اندازہ کریں کہ چار سال میں چار وزرائے اعلیٰ۔ کیا بھٹو صاحب کو بھی کسی پر اعتماد نہ تھا کہ وہ بار بار وزیراعلیٰ بدل رہے تھے۔ انہوں نے نہ صرف پنجاب میں وزیراعلیٰ بدلے بلکہ سرحد اور بلوچستان میں مخالف وزرائے اعلیٰ کو گھر بھیج کر وہاں گورنر راج لگا یا۔ یہی وجہ تھی کہ بھٹو صاحب کے خلاف مارشل لاء لگانا آسان ہو گیا کہ ان کے سب مخالف جیل میں تھے۔ اگر وہ حکومتیں قائم رہتیں تو شاید جنرل ضیاء کیلئے آسان نہ ہوتا۔ صرف بھٹو کو گرفتار کرنا تھا اور کوئی مزاحمت نہیں ہونی تھی۔ اور وہی ہوا۔ جنرل ضیاء نے بھٹو کے سب مخالف جیل سے رہا کر دیے اور بھٹو صاحب کو جیل میں ڈال دیا۔ یہ بھٹو صاحب کی اپنی غلطی تھی کہ انہوں نے پوری اپوزیشن کو جیلوں میں ڈال کر خود کو کمزور کر لیا۔
اگر دیکھا جائے تو جس جس وزیراعظم نے اپنی اپوزیشن کو کمزور کیا‘ انہیں خود بھی جیلوں میں ڈالا گیا اور انجام اچھا نہیں ہوا۔ بھٹو صاحب کو ایک طرف دیکھیں‘ یہی کام نواز شریف نے کیا اور بینظیر بھٹو کو جلاوطن ہونا پڑا۔ جس سے جنرل پرویز مشرف کا کام آسان ہوا اور انہوں نے نواز شریف کا تختہ الٹ دیا۔ بینظیر بھٹو بھی اسی کیفیت سے گزر رہی تھیں جس سے کبھی ان کے والد کی جیل میں قید مینگل اور مری گزرے تھے۔ عمران خان نے بھی وزیراعظم بن کر پوری اپوزیشن کو جیل میں ڈال کر سب کو دیوار کے ساتھ لگا دیا اور یوں انہیں ہٹانا آسان ہو گیا۔ اب بھی اگر دیکھا جائے تو اس سے ملتی جلتی ہی صورتحال ہے۔ خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت ہے‘ جہاں گورنر راج لگانے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ یہ وہی کام ہو گا جو بھٹو صاحب نے کیا تھا اور آخر پر اکیلے رہ گئے تھے۔ پاکستان جیسے ملکوں میں سیاست کے نام پر ذاتی دشمنیاں نبھائی جاتی ہیں۔ یہاں سیاست‘ سیاست سمجھ کر نہیں بلکہ ذاتی دشمنی سمجھ کر کی جاتی ہے اور انجام وہی ہوتا ہے جو ذاتی دشمنیوں میں ہوتا ہے۔ جیسے بھٹو صاحب کے ساتھ ہوا‘ نواز شریف کے ساتھ اور اب عمران خان کے ساتھ ہو رہا ہے۔ کیا شہباز شریف گردشِ ایام سے بچ پائیں گے‘ یہ وقت بتائے گا۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved