تحریر : ڈاکٹر حسین احمد پراچہ تاریخ اشاعت     10-10-2026

کہ آواز دے کر بُلا لے گی مجھ کو…

فضا میں اتنی تلخی و مایوسی آ چکی ہے کہ اس میں مزید اضافہ کرنے کے بجائے بات کا آغاز ہلکے پھلکے انداز میں ہونا چاہیے۔
گزشتہ ہفتے کے روز حکومت اور پی ٹی آئی کے مذاکرات کی پہلے کامیابی اور پھر ناکامی کی خبریں آئیں۔ اسی پس منظر میں اتوار کے روز ایک پریس کانفرنس میں سینیٹ میں قائد حزبِ اختلاف علامہ راجا ناصر عباس نے ایک دلچسپ خواہش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ جب ہم مذاکرات کی میز سے واضح فیصلے کے بغیر اُٹھ کر آ رہے تھے تو میرا خیال یہ تھا کہ سپیکر صاحب اور حکومتی مذاکراتی ٹیم کے دیگر شرکا ہمیں روک لیں گے‘ بٹھا لیں گے اور معاملے کا کوئی درمیانی حل نکال لیں گے۔ یہ سن کر مجھے کیفی اعظمی کا لکھا ہوا ایک گیت یاد آ گیا۔ اس کے بول کچھ یوں تھے:
میں یہ سوچ کر اُس کے در سے اٹھا تھا
کہ وہ روک لے گی منا لے گی مجھ کو
قدم ایسے انداز سے اُٹھ رہے تھے
کہ آواز دے کر بلا لے گی مجھ کو
مگر اس نے روکا نہ مجھ کو منایا
نہ دامن ہی پکڑا نہ مجھ کو بٹھایا
نہ آواز ہی دی نہ مجھ کو بلایا
میں آہستہ آہستہ بڑھتا ہی آیا
تاہم جب سے مذاکرات میں تعطل آیا ہے یا پہلا دور ناکام ہوا ہے تب سے حکومت چین سے سوئی ہے نہ پی ٹی آئی کو نیند آئی ہے۔ حکومت مذاکرات کو کامیاب بنا کر یا کم از کم پی ٹی آئی کو انگیج کر کے اسلام آباد کی طرف آتے ہوئے مارچ سے جان چھڑانا چاہتی ہے۔ مذاکرات کے پہلے دور کی ناکامی کے بارے میں دونوں فریق ایک دوسرے کو الزام دیتے ہیں۔ مذاکرات میں تعطل کا سب سے بڑا سبب باہمی عدم اعتمادی ہے۔ مذاکرات کے آخری مرحلے میں سیاسی معاملات کے ساتھ جب دہشت گردی کے خلاف قومی پالیسی بھی جڑ گئی تو پھر اُن کی نتیجہ خیزی میں پیچیدگی آ گئی۔ پی ٹی آئی والوں کا کہنا ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف قومی پالیسی کا حصہ ہیں اور اس سلسلے میں اُن کی کوئی الگ پالیسی نہیں۔ پاکستان کی ہر سیاسی جماعت سمجھتی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف مشترکہ قومی پالیسی اور حکمت عملی ہی میں ہمارا اجتماعی مفاد ہے۔ پی ٹی آئی والوں کا کہنا ہے کہ ہم قومی مفاد کیلئے ہر قربانی دینے کو تیار ہیں تاہم حکومت ڈکٹیٹ کرنے کے بجائے مشاورت و مفاہمت سے کام لے۔ دوسری طرف حکومت بار بار اعلان کر رہی ہے کہ ہم موجودہ سیاسی کشمکش کی طوالت کے متحمل نہیں ہو سکتے اور صوبے کے انتظامات و معاملات کی درستی کیلئے قانونی دائرے کے اندر رہتے ہوئے کئی اقدامات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ ان اقدامات میں ایمرجنسی‘ گورنر راج اور دیگر آئینی آپشنز شامل ہیں۔ اگر پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کو کسی غیرآئینی طریقے سے ہٹانے کی کوشش کی جاتی ہے تو اس کے اثرات نہ صرف صوبے بلکہ پورے ملک پر مرتب ہوں گے۔ خیبر پختونخوا میں چاہے لانگ مارچ کیلئے لاکھوں نہیں ہزاروں لوگ ہی نکلے ہوں مگر گزشتہ ایک دہائی سے صوبہ متواتر پی ٹی آئی کو ووٹ دے رہا ہے اور اب بھی وہاں اس جماعت کی سیاسی و انتخابی قوت موجود ہے۔ تازہ ترین صورتحال کے مطابق کے پی اسمبلی میں پی ٹی آئی کو جمعیت علمائے اسلام کی بھی مکمل حمایت حاصل ہو گی۔ مجھے سب سے زیادہ حیرت پاکستان پیپلز پارٹی کے رویے پر ہے۔ جب نئے صوبے بنانے کی بات ہوئی تو پیپلز پارٹی نے اس پر سندھ اسمبلی میں غیرمعمولی ردِعمل کا اظہار کیا۔ اور اس احتجاج کو سیاسی و آئینی حق قرار دیا۔ اسی طرح آزاد کشمیر میں انتخابات کے موقع پر بلاول بھٹو زرداری نے مسلم لیگ (ن) پر دھاندلی کے الزامات لگائے اور شدید تنقید کی۔ مذاکرات سے پہلے پیپلز پارٹی کے زعما اور بعض دیگر سپورٹرز نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ حکومت تو بس گورنر راج لگانے پر تلی بیٹھی تھی مگر ہم نے پی ٹی آئی کو یہ سپیس دلوائی ہے۔ پیپلز پارٹی فخریہ کہتی ہے کہ ہم سیاسی سوچ اپروچ رکھتے ہیں جبکہ ایسا نہیں ہے۔ مدتوں سے اس کی سوچ ''عملی‘‘ ہو چکی ہے۔ مگر اب یہ محسوس ہو رہا ہے کہ پیپلز پارٹی کی سینئر رکنِ قومی اسمبلی شیری رحمن سے لے کر سید نوید قمر تک مذاکرات کی ناکامی کا سارا ملبہ پی ٹی آئی کے سر ڈال رہے ہیں اور حکومت کی وکالت کر رہے ہیں۔ پنجابی کی ایک مشہور مثل ہے کہ ''چور نالوں پَنڈ کاھلی‘‘ کہ چور سے زیادہ مال مسروقہ کو ٹھکانے لگنے کی جلدی ہوتی ہے۔ اب گورنر کے پی فیصل کریم کنڈی بھی اسلام آباد میں ملاقاتیں کرتے ہیں‘ کبھی گورنر ہاؤس پشاور میں آئی جی سمیت انتظامیہ کا اجلاس بلا لیتے ہیں۔ جب تک صوبائی حکومت قائم ہے اس وقت تک پیپلز پارٹی کے گورنر اور وفاقی حکومت کو عوامی مینڈیٹ اور آئینی حکومت کا ہر طرح سے احترام کرنا چاہیے۔ پیپلز پارٹی کے زعما کو ادراک ہونا چاہیے کہ ایمرجنسی‘ گورنر راج کی رِیت چل نکلی تو بات دور تلک جائے گی۔
مذاکرات کا حقیقی منظر نامہ یہ ہے کہ حکومتی پارٹی کی طرف سے سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق‘ رانا ثنا اللہ اور ڈاکٹر طارق فضل چودھری چاہتے تھے اور اب بھی چاہتے ہیں کہ مذاکرات کامیاب ہوں‘ ملک میں امن و امان ہو‘ سیاسی عمل آگے بڑھے اور معاشی استحکام آئے۔ اسی طرح پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان‘ سابق سپیکر اسد قیصر اور علامہ راجا ناصر عباس بھی ہر طرح سے بات بنانے کیلئے کوشاں ہیں۔ قومی اسمبلی میں محمود خان اچکزئی بھی مذاکرات کی کامیابی کیلئے تگ و دو کر رہے ہیں۔ عمران خان سے ملاقات کو انہوں نے مذاکرات کیلئے اوّلین شرط قرار دیا ہے۔ اچکزئی صاحب سے ہماری پرانی یاد اللہ ہے‘ وہ بڑے منجھے ہوئے پارلیمنٹرین ہیں۔ البتہ ایک طرف اُن کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ کو سپریم ہونا چاہیے تو دوسری طرف قومی اسمبلی یا سپیکر چیمبر میں مذاکرات نہ کرنے کی منطق ناقابلِ فہم ہے۔
پی ٹی آئی والے چار پانچ روز پہلے مولانا فضل الرحمن سے ملاقات کرنے گئے اور اُن سے اپوزیشن کی قیادت اور مذاکرات کیلئے حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان ایک پُل کا کردار ادا کرنے کی درخواست کی۔ اس موقع پر مولانا نے تحریک انصاف کی قیادت سے یہ بھی پوچھا کہ آپ کی جماعت میں فیصلہ سازی کس کے پاس ہے؟ لانگ مارچ کے اہداف کیا ہیں؟ مولانا نے یہ استفسار بھی کیا کہ اگر آپ نے 27 ستمبر کا لانگ مارچ طے کر لیا تھا تو اسے آپ نے ملتوی کر کے چار اکتوبر کی نئی تاریخ کیوں دی؟ وغیرہ وغیرہ۔ پی ٹی آئی والے اندرونِ خانہ معاملات درست کر لیں۔ اب جبکہ پی ٹی آئی کے زعما اور اگلے روز حکومتی مذاکراتی ٹیم کے ارکان سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق‘ رانا ثنا اللہ اور ڈاکٹر طارق فضل چودھری مولانا کی اسلام آباد میں رہائش گاہ پر گئے۔ فریقین نے مذاکرات کے حوالے سے اپنا اپنا مؤقف مولانا کے سامنے رکھا۔ ادھر وزیراعظم نے بھی تجدیدِ مذاکرات کی دعوت دی ہے۔ فریقین مولانا فضل الرحمن کو ثالث مان لیں اور اُن کی زیر صدارت فیصلہ کن مذاکرات کریں۔ نیز اپوزیشن کے قائدین اور وکلا کی عمران خان سے ملاقات کا راستہ ہموار کروائیں تاکہ بات آگے بڑھے۔ نیز وزیراعظم مذاکرات کی کامیابی کیلئے اپنے بعض وزرائے کرام کی زباں بندی کرائیں۔
خاکسار مولانا فضل الرحمن کو مذاکرات کیلئے بطور ثالث تسلیم کرنے کی تجویز درج بالا سطور میں پیش کر چکا تھا کہ خبر آئی کہ تحریک انصاف ہی نہیں وزیراعظم شہباز شریف بھی مولانا کی ثالثی میں مذاکرات پر آمادہ ہیں۔ یہ بہت بڑی پیش رفت ہے۔ مذاکرات کی کامیابی کیلئے حکومت گورنر راج یا ایمرجنسی وغیرہ کا آپشن واپس لے۔ سہیل آفریدی لانگ مارچ ملتوی کریں۔ دہشت گردی کے خلاف صوبائی حکومت ریاستی اداروں کے ساتھ تعاون کرے۔ سینیٹر علامہ ناصر عباس اللہ والے بندے ہیں‘ لگتا ہے کہ حکومت انہیں آواز دے کر مذاکرات کیلئے واپس بلا رہی ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved