تحریر : افتخار احمد سندھو تاریخ اشاعت     10-10-2026

ہماری پسماندگی کا اصل سبب

سوشل میڈیا پر انڈیا میں دہلی کے ایک سرکاری سکول کو دیکھا تو اندازہ ہوا کہ بھارت کے تعلیمی اداروں میں کیا بہتری آئی ہے۔ اس سال وہاں چالیس ہزار بچوں نے پرائیویٹ سکولوں سے نام کٹوا کر سرکاری سکولوں میں داخلہ کروایا ہے جبکہ ہمارے تقریباً دو کروڑ 60 لاکھ بچے سکولوں سے باہر ہیں۔ سکول سے باہر بچوں کی بڑی تعداد تعلیمی نظام کے لیے ایک اہم چیلنج بنی ہوئی ہے۔ پاکستان میں تعلیم کا یہ بحران اچانک پیدا ہونے والا مسئلہ نہیں بلکہ دہائیوں پر محیط ناقص تعلیمی پالیسیوں‘ سیاسی عدم استحکام‘ معاشی کمزوریوں‘ سماجی بے حسی اور فکری انتشار کا شاخسانہ ہے۔ پاکستان میں تعلیمی مسائل کا جائزہ لیں تو پتا چلتا ہے کہ یہاں تعلیم کے حالات دوسرے ترقی پذیر ممالک کی طرح نہیں ہیں۔ لازمی تعلیم کی سطح پر داخلے کی کم شرح‘ صنفی امتیاز‘ معاشی تضادات‘ اساتذہ کی عدم موجودگی اور مناسب سازو سامان کی کمی کی وجہ سے پاکستان میں تعلیمی مسائل دن بدن بڑھتے جا رہے ہیں۔ طبقاتی تقسیم اور تعلیمی عدم مساوات بھی پاکستان میں تعلیم کے تنزل کی ایک بڑی وجہ ہے۔ پاکستان میں تعلیم تین بڑے طبقات میں تقسیم ہو چکی ہے۔ ایلیٹ کلاس کے مہنگے تعلیمی ادارے‘ متوسط طبقے کے کم معیاری تعلیمی ادارے اور غریب طبقے کے لیے بنیادی سہولتوں سے عاری سرکاری تعلیمی ادارے۔ یہ تقسیم پاکستان کے طبقاتی نظام میں ناہمواری کو مزید بڑھا رہی ہے اور ایک متحد معاشرتی نظام کی تشکیل میں بہت بڑی رکاوٹ ہے۔ پاکستان کے تعلیمی اداروں کی موجودہ حالتِ زار کا جائزہ لیں تو یہ حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے کہ مسئلہ صرف کمزور تعلیمی اور انتظامی معیار کا نہیں بلکہ یہ ایک ہمہ جہتی بحران ہے جس نے قوم کی فکری‘ علمی اور معاشی ترقی کو جکڑ رکھا ہے۔ ہمارے سرکاری سکولوں کی حالتِ زار یہ ہے کہ وہ اصطبل اور بھینسوں کے باڑے بنے ہوئے ہیں اور وہاں سے انسانوں کے بجائے جانور برآمد ہوتے ہیں۔ بچے سکول سے باہر درختوں کے نیچے بیٹھ کر پڑنے پر مجبور ہیں۔ آٹھ دہائیوں کے بعد بھی ہمارے پاس بجلی ہے نہ گیس‘ نہ تیل اور نہ کوئی سیاسی اور معاشی نظام ۔ بقول شاعر:
لوگ حد سے ہیں بڑے‘ چاند پر چلے گئے
اور اب مریخ کے بھی ڈھونڈتے ہیں راستے
ہم صرف جہاں میں طعام ڈھونڈتے رہے
اور ملک کے لیے نظام ڈھونڈتے رہے
اس امر میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان میں ایلیٹ طبقات تمام اختیارات اپنے پاس رکھنا چاہتے ہیں اور عوام کو تعلیم سے دور رکھ کرکمزور کرنا چاہتے ہیں کہ ان میں بولنے کی صلاحیت نہ رہے اور مقتدر طبقات اپنی من مانی کرتے رہیں۔ ملک کے معاشی اور سماجی حالات اور رویے بھی پاکستان میں تعلیمی مسائل میں اضافہ کرنے کا باعث بنتے ہیں۔ ملک میں پائے جانے والے سیاسی عدم استحکام کے نتیجے میں ہونے والی ہڑتالیں‘ جلسے جلوس‘ ہنگامے‘ رشوت اور سفارشی کلچر کو بڑھاوا ملتا ہے۔ پاکستان میں تعلیمی مسائل کے دوسرے عوامل میں سب سے بڑا مسئلہ نصاب تعلیم کو جدید زمانے سے ہم آہنگ نہ کرنا ہے۔ ہمارے نظام تعلیم میں نصاب عموماً جدید زمانے سے ہم آہنگ نہیں ہوتا اور ہم بچوں کواس بات پر مجبور کرتے ہیں کہ وہ رٹا لگائیں اور زیادہ سے زیادہ نمبر حاصل کریں۔ پاکستان کے تعلیمی نظام میں رائج رٹا بازی کا چلن طلبہ میں ایک تنگ اور محدود نقطہ نظر کو برقرار رکھتا ہے۔ یہ نقطہ نظر تنقیدی سوچ یا آزادانہ تجزیہ کی حوصلہ افزائی کیے بغیر حقائق اور اعداد وشمار کو یاد کرنے پر زور دیتا ہے‘ نتیجتاً طلبہ اکثر نصابی کتابوں کے ذریعے وضع کردہ نقطہ نظر تک محدود رہتے ہیں‘ تخلیقی صلاحیتوں اور اختراعات کو روکتے ہیں۔ تبدیلی کے دور میں پاکستانی طلبہ اب بھی نصابی کتب میں کسی بڑے اَپ ڈیٹ کے بغیر فوٹو کاپی شدہ نوٹس اور سمریوں پر گزارہ کرتے ہیں اور نتیجے میں تنگ نظر اور پُرتشدد معاشرہ تشکیل دیتے ہیں۔ دوسری طرف نصابِ تعلیم کا یکساں نہ ہونا ایک بہت اہم فیکٹر ہے جو ہمارے بچوں میں شروع دن سے طبقاتی تضاد پیدا کرنا شروع کر دیتا ہے۔ والدین کی ذاتی پسند ناپسند بھی ہمارے ہاں تعلیمی مسائل میں ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ بجائے اس کے کہ بچے کے رجحانات کے مطابق اسے تعلیمی عمل سے گزارا جائے‘ ہم لوگ بچوں پر اپنی مرضی تھوپتے ہیں۔ میرا بچہ پڑھ لکھ کر ڈاکٹر بنے گا‘ میں اسے انجینئر بناؤں گا‘ میرا بیٹا تو اعلیٰ افسر بنے گا۔ ایسے میں بیشتر بچے نہ تو ڈاکٹر بنتے ہیں نہ انجینئر اور نہ ہی افسر بلکہ ان کا پڑھائی سے دل ہی اچاٹ ہو جاتا ہے۔
اسی طرح اساتذہ کا معیارِ تعلیم میں سب سے اہم کردار ہے۔ اگر آپ کا استاد اچھا نہیں ہے تو پھر آپ چاہے کچھ بھی کر لیں‘ جو بھی ریسورسز فراہم کر دیں وہ کارگر نہیں ہو پائیں گے۔ پاکستان میں سب سے پہلے تو اساتذہ کی مناسب تعداد ہی موجود نہیں ہے۔ ایک کلاس جس میں عموماً پچاس یا اس سے زیادہ بچے ہوتے ہیں اور انہیں پڑھانے کے لیے صرف ایک استاد۔ جو اساتذہ ہیں اگر ان کا پڑھانے سے لگاؤ نہیں ہو گا تو وہ طلبہ کو اچھی تعلیم فراہم کرنے میں ناکام ہو جائیں گے۔ انگریز کے زمانے سے رائج نو آبادیاتی اور طبقاتی نظام تعلیم پاکستان کے مسائل کی جڑ سمجھا جاتا ہے۔ گزشتہ 77 سال سے ہمارے ہاں ایک دو نہیں چار پانچ قسم کے تعلیمی نظام رائج ہیں۔ حکمران طبقہ‘ بیورو کریسی اور امیر لوگ اپنے بچوں کو جدید اور مہنگے اداروں میں تعلیم دلوا کر اپنی جاں نشینی کے لیے تیار کرتے ہیں جبکہ عام طبقے کے بچے سرکاری سکولوں میں جاتے ہیں۔ بدقسمتی سے ان تعلیمی اداروں کو بھی نیلام کیا جا رہا ہے اور ایک عام آدمی کے بچوں پر تعلیم کے دروازے بند کیے جا رہے ہیں۔
قیامِ پاکستان کے وقت سے ہی اس ملک میں تعلیم کے دو مختلف نظام موجود رہے ہیں۔ ایک طرف سرکاری تعلیمی ادارے تھے اور دوسری طرف مشنری سکول‘ دینی ادارے اور نجی ادارے۔ معاشی لبرلائزشن کی پالیسیوں کے نتیجے میں پہلے سے موجود طبقاتی نظام تعلیم ایک منافع بخش کاروبار کی صورت اختیار کر گیا۔ آج جہاں ہمیں ایک طرف سرکاری تعلیمی اداروں کی زبوں حالی نظرآتی ہے وہیں دوسری طرف ہر گلی کوچے میں اکیڈمیوں اور سکولوں کا جال نظر آتا ہے۔ جو بچے فیسوں کا بوجھ برداشت نہیں کر سکتے وہ دینی مدارس کا رخ کر لیتے ہیں‘ اور ان بچوں کی بھی ایک اچھی خاصی تعداد ہے جو ان مدرسوں سے فارغ ہونے کے بعد بیروزگاری کی صورت میں ملک وقوم پر بوجھ بن جاتی ہے کیونکہ ان کے پاس کوئی ہنر نہیں ہوتا۔ آئین پاکستان کے مطابق استحصال کی تمام تر شکلوں کا خاتمہ کرتے ہوئے ہر شہری کے لیے بنیادی سہولتوں کی فراہمی کو یقینی بنانا ریاست کی ذمہ داری ہے‘ یعنی ہر شہری کے لیے تعلیم کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری اور اس کا فرض ہے لیکن اس کا اطلاق پاکستان میں کہیں نظر نہیں آتا۔ تعلیم کی عدم فراہمی کے باعث جہالت‘ غربت اور بیروزگاری میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے‘ اور یہی ہماری پسماندگی کا اصل سبب ہے۔ حکومت کو اس طرف خاص توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved