آج کل اسلام آباد میں کنٹینروں کی بہار ہے۔ اگلے روز فارن آفس جانا ہوا‘ ہوٹل سیرینا کے باہر اتنے کنٹینر پڑے تھے کہ دیوارِ چین یاد آ گئی جو چند سال پہلے دیکھی تھی۔ دیوارِ چین لمبے عرصے میں تعمیر ہوئی تھی اور دفاعی مقاصد کے لیے بنائی گئی تھی۔ ہوٹل کے باہر کنٹینروں سے بنائی گئی دیوار بھی دفاعی مقصد کے لیے ہے۔ سینکڑوں کنٹینر اسلام آباد میں تین‘ چار ہفتوں سے موجود ہیں اور مزید کئی ہفتوں تک رہنے کاقوی امکان ہے۔ شنید ہے کہ ایک کنٹینر کا یومیہ کرایہ بیس سے پچیس ہزار روپے ہے۔ باہر سے آئی ہوئی پولیس‘ رینجرز اور ایف سی کے اخراجات ملا کر روزانہ دارالحکومت کو یلغار سے بچانے کا خرچ تقریباً ایک ارب روپے ہے۔ اس بارے پوری دنیا میں جو منفی تاثر جا رہا ہے اسے اعداد و شمار میں سمیٹنا ناممکن ہے۔ ہمارے سینگ متواتر آپس میں ہی پھنسے رہتے ہیں اور ہم دنیا سے توقع کرتے ہیں کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کرے۔ اس وقت سب سے اہم کام قومی تصادم کو کم کرکے قومی اجماع اور مفاہمت کا فروغ ہے۔
قریب ڈیڑھ ماہ قبل ایک وفاقی وزیر نے بیان دیا کہ ہمارا نظام ناکام ہو گیا ہے‘ اور ان کے بیان کی خاصی اہمیت ہے۔ قومی لیول پر بحث چھڑ گئی کہ صوبوں کا سائز چھوٹا کر دیا جائے تو بہت سے مسئلے حل ہو جائیں گے۔ اس حل کے حق میں بہت سے بیانات آئے۔ میرا ذاتی خیال ہے کہ ہمارا قومی مسئلہ صرف نئے صوبے تشکیل دینے سے حل نہیں ہوگا‘ ہمارے قومی مسائل کی جڑ اس مسئلے سے وسیع تر ہے۔ فرض کر لیں کہ اسلام آباد کا دیہی اور شہری علاقہ ایک صوبہ ہے اور اگر یہ صوبہ ہے تو یہ پاکستان کا سب سے چھوٹا صوبہ ہوگا۔ یہاں علیحدہ ہائیکورٹ ہے‘ پولیس اور ریونیو کے ضرورت سے زیادہ دفاتر ہیں۔ سی ڈی اے کے افسران اور سٹاف کی فوج ظفر موج ہے اور پھر ہائوسنگ اتھارٹی ہے جو وہی کام کر رہی ہے جو کبھی سی ڈی اے اکیلے کرتی تھی۔ ان کی تنخواہیں اور مراعات قابلِ دید ہیں لیکن یہ اسلام آباد میں صرف اونچے گریڈز سے ریٹائر ہونے والے افسران کی رہائش کا ہی بندوبست کرتی ہے۔ اس سنگدل اور گریڈ زدہ شہر میں نائب قاصد اور کلرک کو سرکاری پلاٹ نہیں ملتا۔ اسلام آباد صفائی کے لحاظ سے بھی کوئی ماڈل شہر نہیں۔ بڑی وجہ یہ ہے کہ اس شہر کی اونرشپ اس کے باسیوں کے پاس نہیں۔ یہاں کوئی لوکل گورنمنٹ نہیں‘ ایک زمانے سے اسلام آباد کا کوئی میئر نہیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ محض انتظامی یونٹ کا چھوٹا ہونا گڈ گورننس کی ضمانت نہیں ہے۔ سابق فارن سیکرٹری شمشاد احمد خان صاحب کی تجویز ہے کہ جی او آر کے تمام گھر خالی کرا کے مع زمین‘ نیلام کر دیے جائیں اور سبز نمبر پلیٹ کی تمام گاڑیاں واپس لے لی جائیں۔ تاہم میرے خیال میں اس اقدام سے بھی ہمارا قومی مسئلہ حل نہیں ہوگا‘ جو وسیع تر ہے۔
کچھ دوست آبادی کے جن کو بوتل میں بند کرنے اور فرسٹ کزن شادیوں کو کم کرنے کو ذریعہ نجات سمجھتے ہیں لیکن پاپولیشن کنٹرول بھی قومی مسئلے کا جزوی حل ہے۔ کئی پڑھے لکھے اور باخبر دوست یہ صائب مشورہ دیتے ہیں کہ کرپشن کو مکمل ختم کریں اور ہر کام میرٹ پر ہو تو پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن ہو جائے گا۔ اس سلسلہ میں وہ سنگاپور کی مثال دیتے ہیں۔ لیکن پاکستان اور سنگاپور کے معروضی حالات مختلف ہیں۔ سنگاپور کو اپنے ہمسایوں سے کوئی خطرہ نہیں۔ آبادی چھوٹی ہے۔ اکثریت چین نژاد لوگوں کی ہے جو بہت محنتی ہیں۔ سنگاپور کی خوش قسمتی تھی کہ اسے لی کوآن یو جیسا لیڈر مل گیا۔ پاکستان میں اُس لیول اور وژن والا لیڈر دور دور تک نظر نہیں آتا۔ پھر کرپشن کا مکمل خاتمہ ایک غیر عملی سی بات ہے۔ کرپشن ہر ملک اور ہر معاشرے میں ہوتی ہے لیکن پاکستان اس فیلڈ میں بہت آگے ہے۔ ہماری نصابی کتب میں وعظ و نصیحت کی بھرمار ہے لیکن ہماری اخلاقیات درست نہیں ہو سکیں۔ اخلاقیات کا درس دینے والا استاد جب سالانہ امتحان میں نقل کی حوصلہ افزائی کرتا ہے تو طلبہ کا نصابی کتابوں میں لکھے وعظ و نصیحت پر سے ایمان اٹھ جاتا ہے۔ کرپشن کا سو فیصد خاتمہ ناممکنات میں ہے۔ کسی کو سفارش پر یا برادری ازم کی بنا پر سرکاری جاب دینا بھی کرپشن ہے۔ چند ہفتے پہلے ایک وزیر باتدبیر نے کہا تھا کہ بہت سے بیورو کریٹ پرتگال کی شہریت لے چکے ہیں۔ پرتگال کی شہریت حاصل کرنے کے لیے آج کل اس ملک میں پانچ لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری کرنا پڑتی ہے جو ملکی کرنسی میں 14 کروڑ سے کچھ زائد رقم بنتی ہے۔ جس افسر کے پاس 14 کروڑ کی بچت ہے‘ اس کی ایمانداری پر شکوک اٹھنا فطری بات ہے۔ کاش وزیر موصوف دو چار نام بھی ثبوت کے طور پر دے دیتے‘ لیکن اُس کے بعد وہ بالکل خاموش ہو گئے۔ ہم کرپشن کے خلاف اپنی نفرت کا اظہار محض اپنی سیاسی ضرورت کے مطابق کرتے ہیں۔ چین میں کرپشن ثابت ہو جائے تو موت کی سزا یقینی ہے اور فائرنگ سکواڈ کے لیے گولی بھی مجرم کے اہلِ خانہ خریدتے ہیں۔ حکومت یہ خرچ بھی برداشت نہیں کرتی۔ جبکہ ہمارے ہاں احتساب اکثر صرف سیاسی مقاصد کے لیے ہی استعمال ہوتا ہے۔ میرے خیال میں کرپشن ایک بڑا مسئلہ ضرور ہے لیکن ہمارا نمبر ون قومی پرابلم نہیں ہے۔
کچھ احباب کا خیال ہے کہ ہماری عدلیہ بہتر ہو جائے‘ لوگوں کو انصاف ملنے لگے تو ہمارے حالات خاصے بہتر ہو جائیں گے۔ 2025ء کی ایک انٹرنیشنل رینکنگ میں 143ملکوں میں ہماری عدلیہ کا 130واں نمبر تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ عدلیہ کی کارکردگی اور جج صاحبان کی تنخواہیں اور مراعات کا آپس میں کوئی تناسب نہیں۔ لیکن صرف عدلیہ کی بہتر کارکردگی سے بھی قومی مسائل جزوی طور پر ہی حل ہوں گے۔ پاکستان میں جی ڈی پی کے اعتبار سے ٹیکس کا تناسب تقریباً دس فیصد ہے۔ ہماری اشرافیہ بہت کم ٹیکس دیتی ہے۔ پوش علاقوں میں جائیں تو لگتا ہے کہ پاکستان بہت خوشحال ملک ہے۔ فارم ہائوسز بن رہے ہیں‘ بچے مہنگے پرائیویٹ سکولوں میں جا رہے ہیں جہاں ایک ایک بچے کی فیس گریڈ اٹھارہ کے افسر کی ماہانہ تنخواہ کے برابر ہے۔ لش پش کرتی لمبی لمبی گاڑیاں ہماری سڑکوں پر فراٹے بھر رہی ہیں۔ کچھ لوگوں کی روز افزوں خوشحالی غریبوں کی غربت کا ہر روز مذاق اڑاتی ہے۔ ورلڈ بینک کی حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں غربت میں چھ فیصد اضافہ ہوا ہے۔
میرے نزدیک پاکستان کا اصل مسئلہ قومی افہام وتفہیم اور اجماع کا ہے۔ ہمیں طاقتور اور صائب رائے عامہ کی ضرورت ہے جو پاور سینٹر اور سیاسی لوگ ایک دوسرے کی بات سننے کو تیار نہیں‘ انہیں مل بیٹھنا ہو گا۔ اسلام آباد کا کوئٹہ‘ کراچی اور پشاور سے رشتہ مضبوط کرنا ہو گا۔ ملک کی اونرشپ عوام کے حوالے کریں‘ صاف شفاف الیکشن کرائیں اور متواتر کرائیں۔ الیکشن کمیشن مکمل آزاد ہو۔ تعلیمی نظام اور میڈیا صحتمند رائے عامہ کو فروغ دیں۔ ہمیں نئی لیڈرشپ کی ضرورت ہے۔ ترکیہ کے صدر اردوان ایک زمانے میں استنبول کے میئر تھے۔ ہمیں سیاسی نفرتوں کے گھن چکر سے نکلنے کی ضرورت ہے اور اس کے لیے ہمیں نیلسن منڈیلا اور لی کوآن یو کے قد کاٹھ کے لیڈر درکار ہیں۔ اور لیڈر مسلسل سیاسی عمل سے بنتے ہیں۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved