تحریکِ لبیک پاکستان کے وابستگان ہمیں لکھتے رہتے ہیں کہ ان کے معاملات پر بات کریں۔ اس دوران جو ہم سے ہو سکا‘ وہ کرتے رہے اور ہر صاحبِ اختیار سے رابطہ کیا‘ بعض امور میں کچھ کامیابیاں ملیں‘ لیکن مکمل کامیابی نہیں مل سکی؛ تاہم اب بھی ہماری کوششیں جاری ہیں‘ مگر ان کی تشہیر ہم نے مناسب نہیں سمجھی۔ یہ بات ریکارڈ کا حصہ ہے کہ ماضی میں بھی ہم تمام تر تحفظات کو بالاتر رکھتے ہوئے تحریک کے حق میں بات کرتے رہے ہیں اور انہیں مشکل سے نکالنے کی ہر ممکن کوشش کی ہے؛ اگرچہ ہمارا تحریک کی تنظیمی ساخت یا اُس کے نظم سے کسی بھی طرح کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ ہمارا اُن کے ساتھ تعلق صرف دین ومسلک کے حوالے سے ہے۔ ہم نے علامہ حافظ خادم حسین رضوی رحمہ اللہ تعالیٰ سے کراچی میں علامہ غلام غوث بغدادی اور علامہ لیاقت حسین اظہری کی موجودگی میں اپنی آخری ملاقات میں کہا تھا: ''آپ اپنے کارکنوں کے جذبات کو گرمانے کے لیے نعرے ضرور لگوائیں لیکن ازراہِ کرم چہار دیواری کے اندر اُن کی تربیتی نشستیں بھی منعقد کریں‘ اس کی بہت ضرورت ہے‘‘۔ مگر پھر اُن کو حیاتِ مستعار نے زیادہ مہلت نہ دی اور قضائے الٰہی سے وہ ہم سب سے جدا ہو گئے۔ عقیدت میں غُلو‘ اِفراط اور مبالغہ آرائی کی اسلام نے اجازت نہیں دی۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ''اے اہلِ کتاب! تم اپنے دین میں حد سے تجاوز نہ کرو اور اللہ کے متعلق حق کے سوا اور کچھ نہ کہو‘ مسیح عیسیٰ ابن مریم تو صرف اللہ کا رسول اور اس کا کلمہ ہے جس کو اس نے مریم کی طرف القا کیا اور اس کی طرف سے روح ہے‘ سو تم اللہ پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لائو اور یہ نہ کہو کہ (معبود) تین ہیں‘ (اس قول سے) باز رہو‘ یہ تمہارے لیے بہتر ہے‘ صرف اللہ ہی واحد مستحقِ عبادت ہے‘ وہ اس سے پاک ہے کہ اس کی کوئی اولاد ہو‘ جو کچھ آسمانوں اور زمینوں میں ہے‘ اسی کی مِلک میں ہے اور اللہ کافی کارساز ہے‘‘ (النسآء: 171)۔ رسول اللہﷺ کے بارے میں امت کے مسلّمہ اجماعی عقیدے کو اس شعر میں سمو دیا گیا ہے: (ترجمہ) ''آپ کی تعریف کا حق ادا کرنا ممکن ہی نہیں ہے‘ مختصراً یہی کہا جا سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے بعد مخلوق میں بزرگ ترین ہستی فقط آپ ہی ہیں‘‘۔ اس کے باوجود رسول اللہﷺ نے اپنی ذات کے بارے میں فرمایا: ''(میری شان بیان کرنے میں) مبالغہ نہ کرو جیساکہ نصاریٰ نے ابنِ مریم کے بارے میں کیا (کہ انہیں ابن اللہ اور ثَالِثُ ثلٰثۃ کہا)‘ پس میں فقط اُس کا بندہ ہوں‘ سو یوں کہو: اللہ کا بندہ اور اس کا رسول‘‘ (بخاری: 3445)۔
ہم نے 23 جنوری 2026ء کو ''تحریکِ لبیک کی قانونی پوزیشن‘‘ کے عنوان سے کالم لکھا اور اس کا مقصد یہ تھا کہ اہلِ اقتدار کو یہ باور کرایا جائے کہ ٹی ایل پی قانونی طور پر اب بھی قائم ہے‘ کیونکہ محض وفاقی وزارتِ داخلہ کے کسی جماعت کو ممنوع قرار دینے سے وہ جماعت آئینی اور قانونی طور پر ممنوع نہیں ہو جاتی‘ جب تک کہ آئین وقانون میں درج پورے طریقۂ کار کو اختیار نہ کیا جائے ۔ ٹی ایل پی الیکشن کمیشن آف پاکستان میں اب بھی ایک سیاسی جماعت کی حیثیت سے رجسٹرڈ ہے۔ نیز اس میں حکمتِ عملی کے اعتبار سے ٹی ایل پی سے جو غلطیاں ہوئیں‘ اُن کی بھی نشاندہی کی تو اس پر ٹی ایل پی کے بعض غالی عقیدت مندوں نے لکھا: ''یہ تو آپ نے چارج شیٹ مرتب کی ہے‘‘۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انہیں اصلاح سرے سے مطلوب ہی نہیں ہے‘ صرف تعریف وتوصیف مطلوب ہے۔ ہم نے یہ بھی کہا: ''آپ لوگ سرکردہ علما و مشایخ کے ساتھ احترام کا تعلق رکھیں‘ مگر ان کے کارکنوں نے علما ومشایخ کی توہین کو بھی اپنا شعار بنا لیا ‘ ہم جب ملک کے بیشتر حصوں میں جاتے ہیں تو علما ومشایخ کو یہی گلہ کرتے ہوئے پاتے ہیں۔ تجربے نے ثابت کیا کہ ٹی ایل پی کے کارکنوں کا شعار احسان شناسی نہیں بلکہ اپنے محسنوں کو ذہنی اذیت پہنچا کر لطف اٹھانا ہے‘ انہیں یہ ادا مبارک ہو۔ اب پی ٹی آئی اور ٹی ایل پی کے کارکنوں کے طریقۂ کار اورسوشل میڈیا پر تحقیر آمیز تحریروں کے حوالے سے کوئی فرق نہیں ہے‘ حالانکہ ٹی ایل پی ایک مذہبی جماعت ہے اور اپنے افعال واقوال کے لیے اللہ کے سامنے جوابدہ اور دینی اقدار کی پابند ہے۔ دوسروں کو گالیاں دینا‘ تحقیر‘ تذلیل اور توہین کرنا یہ اہلِ دین کا شعار کبھی نہیں رہا۔ رسول اللہﷺ سے جب مشرکوں کے خلاف دعائے ہلاکت کے لیے کہا گیا تو آپﷺ نے فرمایا: ''مجھے لعنت کرنے والا بناکر نہیں بھیجا گیا‘ مجھے تو رحمت بنا کر بھیجا گیا ہے‘‘ (مسلم: 2599)۔
ہم نے وزیرِ داخلہ محسن نقوی اور حساس اداروں کے ذمہ داران سے ایک سے زائد بار کہا کہ ''اہلسنّت کے سب فعّال لوگوں کی ٹی ایل پی کے ساتھ جذباتی وابستگی ہے اور ابھی تک اس میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی۔ آپ انہیں قومی سیاست کے مرکزی دھارے میں لانے کے لیے کوئی مناسب طریقۂ کار وضع کریں‘ کوئی 'ایس او پی‘ بنا لیں کہ یہ تنظیم آئین وقانون کے دائرے میں رہتے ہوئے کسی ضابطۂ اخلاق اور سیاسی شعار کی پابندی قبول کرکے اپنی سیاسی سرگرمیاں جاری رکھ سکے۔کیونکہ اگر ملک کے ایک بڑے مذہبی طبقے کے لیے اپنے اجتماعی مؤقف کے اظہار کے سارے آئینی اور قانونی راستے بند کر دیے جائیں گے تو پھر اس سے انتہا پسندی جنم لیتی ہے اور ہم پہلے ہی اس وبا کا سامنا کر رہے ہیں۔ جس الزام میں ٹی ایل پی پر کریک ڈائون کیا گیا ہے اور پابندی لگائی گئی ہے‘ ایک دوسری مذہبی جماعت کا ریکارڈ ان سے دس گنا زیادہ شدید ہے لیکن ان کے ساتھ یہ سلوک روا نہیں رکھا گیا۔ یہ امتیازی سلوک صرف اہلسنّت کے ساتھ روا رکھا گیا ہے‘ جبکہ اہلسنّت تحریکِ پاکستان سے لے کر آج تک ہمیشہ پاکستان کے وفادار اور محبِّ وطن رہے ہیں‘ ان کی تاریخ اس پر گواہ ہے‘‘۔ ہم نے ان سے کہا: 'آپ مسجد کھولیں ‘ہم ایک معتدل مزاج امام وخطیب فراہم کر دیں گے اور وہ اس مسجد کے پلیٹ فارم سے ریاست وحکومت کیلئے کوئی مسئلہ پیدا نہیں کریں گے‘‘ لیکن آج تک یہ مسئلہ بھی حل نہیں کیا گیا۔
حکومت کو پی ٹی آئی کی ریلی کو روکنے کیلئے پورے اسلام آباد اور راولپنڈی واٹک کے ضلعوں کو بند کرنا پڑ ا ہے اور بعض میڈیا رپورٹوں کے مطابق ریلی کے مؤخر اور طویل ہونے کے سبب اس پر ایک ارب روپے کے لگ بھگ اخراجات کا تخمینہ ہے۔ بہتر ہے کہ ساری سیاسی اور مذہبی جماعتیں مل کر قومی اتفاقِ رائے سے احتجاج کیلئے کوئی طریقۂ کار وضع کریں اور پھر سب اس کی پابندی کریں تاکہ ملک کی سماجی زندگی اور معیشت کا پہیہ رواں دواں رہے‘ لیکن کسی ایک طبقے یا جماعت کو تعیین کے ساتھ ہدف بنانا ہرگز جائز نہیں ہے۔ لوگ پوچھتے ہیں کہ رضوی برادران کہاں ہیں؟ ہمیں اس کا کوئی علم نہیں ہے‘ ہم نے وزیر داخلہ اور حساس اداروں سے ایک سے زائد بار پوچھا تو انہوں نے کہا: ہمارے پاس نہیں ہیں۔ اگر حکومت کی نظر میں اُن سے کوئی جرم سرزد ہوا ہے تو بھی عدالتی طریقۂ کار ہی اختیار کیا جائے۔ پاکستان میں مختلف اوقات میں سب جماعتوں پر ابتلا کے ادوار آئے ہیں لیکن پارٹی کا موقف بیان کرنے کیلئے ان کا کوئی نہ کوئی ذمہ دار ترجمان میدان میں رہا ہے۔ ٹی ایل پی کا المیہ یہ ہے کہ وہ خود روپوش ہیں اور توقع یہ کر رہے ہیں کہ سارے علماء و مشایخ ان کیلئے سرپر کفن باندھ کر میدان میں نکل آئیں۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved