تحریر : ایاز امیر تاریخ اشاعت     11-10-2026

جتنی بات ہم گناہگار سمجھ سکے ہیں

اس جنگ کو سمجھنے کیلئے یا اس کی تہہ تک جانے کیلئے ایک بات ضروری ہے کہ شیعہ سنی کی اصطلاحوں کا استعمال ترک کر دینا چاہیے۔ ان سے کنفیوژن پیدا ہوتی ہے۔ یہ جنگ امریکی سامراج نے کسی اور پر نہیں مسلم دنیا پر مسلط کی ہے۔ اور مسلمانوں کی بدقسمتی یا کم عقلی ہے کہ بجائے اس کے کہ امریکی سامراج کے سامنے مل کر کھڑے ہوں‘ آپس میں بٹے ہوئے ہیں۔ ایک طرف وہ ممالک صف آرا ہیں جو روایتی طور پر امریکہ کے حمایتی رہے ہیں اور اب تک ہیں۔ دوسری طرف ایران اور اُس کے حمایتی ہیں جن کا مدعا صرف اتنا ہے کہ امریکی اثر و رسوخ اس خطے سے نکل جائے کیونکہ تب ہی اس خطے کو چین نصیب ہو سکتا ہے۔ اتنی بات تو کم عقل بھی سمجھیں کہ اس خطے میں اسرائیل امریکی اڈے کی حیثیت رکھتا ہے اور امریکی پالیسی کا اہم جزو یہ ہے کہ جو کچھ بھی ہو اس خطے میں اسرائیل کو فوجی برتری حاصل رہنی چاہیے۔
اسرائیل کا شر تو اپنی جگہ رہا‘ مسلمان ممالک کو اتنی بات تو سمجھ آنی چاہیے کہ امریکی اثر و رسوخ اور امریکی اڈے خطے سے نکل جائیں تو پیچھے جھگڑا کیا رہ جاتا ہے۔ لیکن یہ بات بھی عیاں ہے کہ جتنی سمجھ بوجھ مسلمان ممالک میں ہونی چاہیے اُس کا ہمیشہ فقدان رہا ہے۔ کبھی شاہ ایران اپنے آپ کو عقلِ کُل سمجھتا تھا۔ کبھی ایران عراق جنگ ہو رہی ہے اور جی سی سی ممالک اس جنگ میں عراق کی پشت پناہی اور مالی معاونت کر رہے ہیں۔ کبھی عراق کویت پر حملہ آور ہو رہا ہے اور امریکی اور اُس کے اتحادی کویت کو صدام حسین کی حاکمیت سے آزاد کرانے آتے ہیں۔ یعنی اتنی سمجھ بوجھ مسلمان ممالک میں نہیں ہوتی کہ اپنے مسائل کا حل خود تلاش کر سکیں۔ اس جنگ کی وجہ سے البتہ بہت سی بنیادی چیزیں واضع ہو گئی ہیں۔ اب تک تیل سے مالا مال عرب بادشاہتوں نے یہ نکتہ گلے سے لگایا ہوا تھا کہ اُن کی حفاظت امریکہ کے ہاتھوں میں ہے۔ خطرہ اُنہیں ایران سے لگتا تھا حالانکہ ایران نے کبھی کسی عرب ملک پر حملہ نہیں کیا۔ ایران للکارتا تھا امریکہ اور اسرائیل کو اور ہمارے عرب دوستوں کو یہ بات بری لگتی تھی۔ حالانکہ سوچا جائے تو اس میں بری بات کیا تھی۔ مشرقِ وسطیٰ میں جو انتشار اور شورش ہے وہ ایران کی وجہ سے نہیں بلکہ امریکہ اور اسرائیل کی وجہ سے ہے۔ انتشار پھیلانے والا اسرائیل ہے اور اسرائیل پر ہاتھ امریکہ کا ہے۔ یہ ریاضی کا کون سا مشکل سوال ہے جو سمجھ نہ آئے؟
اچھی بات یہ کہ اس جنگ سے حفاظت والا مفروضہ ہوا میں تحلیل ہو گیا۔ بادشاہتوں نے دیکھا اور بڑے قریب سے دیکھا کہ امریکی نہ تو اپنے اڈے بچا سکے نہ عربوں کی تیل اور گیس کی تنصیبات۔ اور تو اور امریکی نیوی آبنائے ہرمز کو کھلا نہ رکھ سکی۔ حفاظت کی ضمانتیں تو پھر ہوا میں اُڑ گئیں۔ اس کے باوجود عرب ممالک ڈرے ہوئے ہیں کہ امریکہ سے ناطہ توڑا یا فوجی اڈوں کو ختم کرنے کی بات کی تو پتا نہیں کیا ہو جائے گا۔ اتنا بھی نہیں سوچ رہے کہ جتنا ان کے ساتھ ہو چکا ہے اس سے زیادہ کیا ہونا ہے۔
امریکہ کا سلطان ایئر بیس عربیہ کے تقریباً درمیان میں ہے۔ بہت بڑا اڈہ ہے۔ تیل کی ترسیل خلیجِ فارس اور بحیرۂ احمر دونوں طرف سے بند ہے۔ مشرقِ سے مغرب پائپ لائن پر متعدد حملے ہو چکے ہیں۔ بندرگاہ ینبع کے گرد پمپنگ سٹیشنوں پر حوثیوں کے حملے ہوئے ہیں۔ جازان ریفائنری اور آرامکو کی دوسری ریفائنریوں پر حملے ہو چکے ہیں۔ ریاض ایئر پورٹ حوثی حملوں کی زد میں آ چکا ہے اور کئی ایئر لائنوں نے عارضی طور پر عربیہ کی طرف اپنی پروازیں معطل کی ہیں۔ اس صورتحال میں سلطان ایئر بیس سے کیا حاصل ہو رہا ہے؟ کس مرض کی وہ دوا ہے؟ یہ اڈہ ویسے بھی بہت حد تک ایرانی حملوں کی وجہ سے ناکارہ ہو چکا ہے۔ اس میں تعینات امریکی فوجی دیگر شہروں اور ان شہروں کے ہوٹلوں میں منتقل ہو گئے تھے۔ جنہیں اپنی جان کی پڑی ہو انہوں نے عربیہ کی حفاظت کیا کرنی ہے؟ نجد اور حجاز میں فوجی تنصیبات ایران کے خلاف استعمال نہ ہوں تو عرب بادشاہت اور ایران کا جھگڑا کیا رہ جاتا ہے؟ آپس کی ان کی کوئی لڑائی نہیں۔ جھگڑا محض اتنا ہے کہ اس سرزمین پر امریکی فوجی موجود ہیں جن کی وجہ سے خطے میں عدمِ استحکام پیدا ہو رہا ہے۔ پہلے تو امریکہ کے خلاف کوئی بات سننے کیلئے بادشاہت تیار نہ ہوتی تھی لیکن اب تو صورتحال یکسر بدل چکی ہے۔ بادشاہت کے استحکام پر حملے ہو رہے ہیں اور یہ سلسلہ شروع تب ہوا جب امریکی سامراج اور اس کے آلہ کار اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا۔ حملہ نہ ہوتا تو پُرامن طور پر تیل کی ترسیل جاری رہتی اور گولہ بارود کی گھن گرج سنائی نہ دے رہی ہوتی۔ یعنی بادشاہتوں کو محافظ ہی ایسا ملا جس کی وجہ سے اُن پر حملے ہونے لگے۔
یمن کی صورتحال ذرا مختلف ہے۔ وہاں پر لڑائی ایک طرف بادشاہت اور دوسری طرف حوثیوں کے درمیان ہے۔ یہ مغربی میڈیا کا کرتب ہے کہ حوثیوں کو باغی کہتے ہیں۔ وہ باغی نہیں ہیں‘ یمن کی 70فیصد آبادی ان کے زیر کنٹرول علاقوں میں ہے۔ یمن کے دارالحکومت صنعا میں وہ موجود ہیں۔ یمن کے باسی ان کو باغی نہیں حریت پسند اور قوم پرست سمجھتے ہیں۔ دس گیارہ سال سے سعودی عرب اور یو اے ای کی طرف سے حوثیوں پر حملے ہوئے۔ اندھا دھند ہوائی بمباری ہوتی رہی۔ سویلین علاقے متاثر ہوئے‘ عام شہری مارے گئے۔ جنگ کی وجہ سے قحط کی صورتحال پیدا ہوئی اور اس بنا پر لاکھوں افراد لقمۂ اجل بنے۔ یہ ایک انسانی بحران تھا جس میں بچے اور بوڑھے بِلک بِلک کر مرتے رہے اور کمال یہ ہے کہ اسلام کا نام لینے والوں کے دلوں میں کوئی رحم کی گنجائش پیدا نہ ہوئی۔ اس سب کے باوجود حوثی جہاں تھے وہاں قائم رہے اور آخرکار دس سال کی جنگ کے بعد 2022ء میں بڑی بادشاہت کو حوثیوں کے ساتھ جنگ بندی کا معاہدہ کرنا پڑا۔ اس سے پہلے یو اے ای اور سعودیہ کے درمیان مسائل پیدا ہو چکے تھے اور یو اے ای نے اپنے فوجی یمن سے واپس بلا لیے تھے۔ جنگ بندی چار سال رہی۔ اس سال جولائی میں ایران نے ایک جہاز صنعا بھیجا حوثیوں کے ایک وفدکیلئے جس نے تہران میں آیت اللہ خامنہ ای کے جنازہ میں حاضری دینی تھی۔ وفد تہران گیا اور رسومات کے بعد جب صنعا پہنچنے والا تھا تو بادشاہت نے صنعا ایئر پورٹ پر حملہ کر دیا اور وجہ یہ بتائی گئی کہ جہاز آنے کی اجازت ہم سے نہ لی گئی۔ اندازہ کیجئے کہ کیا ذہنی کیفیت ہو گی جس میں ایسا اقدام کیا گیا۔ موجودہ جنگ وہاں سے شروع ہوئی۔
ہم مجبوریوں کے مارے ہوئے ویسے ہی پھنس گئے۔ اب وضاحتیں دیے جا رہے ہیں کہ اتنا کریں گے اتنا نہیں کریں گے۔ بہرحال زیادہ تبصرہ کیا کرنا‘ بات نہ کریں تو چپ پر شرمندگی‘ بات کریں تو مشکل۔ بہرحال کون پوچھے برادروں سے کہ جولائی میں تیلی لگانے کی ضرورت کیا تھی۔ لیکن اب جب جنگ کے شعلے بھڑک اُٹھے ہیں عقل کس میں ہے‘ شعلوں کو ہوا دینے میں یا بجھانے میں؟ لیکن ہر قدم جو لیا جا رہا ہے اُس سے آگ بھڑک رہی ہے۔ یا تو طاقت اتنی ہو کہ حوثیوں کو شکست ہو۔ لیکن ایسا نہیں ہے‘ حوثی آگے بڑھ رہے ہیں۔ تاریخ کا سبق تو جانیے‘ جو حملہ آور یمن آیا مارا گیا ۔ اَنا کا مسئلہ بھی ہے‘ حوثیوں کو کمتر سمجھا جاتا تھا۔ جنہوں نے امریکہ سے مار نہ کھائی اُنہوں نے کمتر کیا ہونا ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved