سینیٹر پرویز رشید سے لندن میں بہت ملاقاتیں رہیں۔ جب نواز شریف اور بینظیر بھٹو لندن میں مقیم تھے تو اُن دنوں میں دی نیوز کی رپورٹنگ کیلئے وہاں تھا۔ میرا دوست ارشد شریف اس وقت ڈان ٹی وی کیلئے رپورٹنگ کرتا تھا۔ سارا دن اکٹھے گزرتا تھا۔ وہاں ارشد شریف‘ پرویز رشید اور میں اکثر لندن کی سڑکوں پر واقع کیفیز میں وقت گزارتے۔ پاکستانی سیاست پر گفتگو ہوتی تھی اور پرویز رشید سے سیاسی طور پر بہت کچھ سمجھا اور جانا بھی۔ خیر‘ پرویز رشید اب سینیٹ کی مواصلات کمیٹی کے چیئرمین ہیں اور بڑے اچھے انداز میں کمیٹی چلاتے ہیں۔ میں بھی ان کی کمیٹی میں جا بیٹھتا ہوں تاکہ کچھ خبریں نکال سکوں۔ مجھے اپنی کمیٹی کے اجلاس میں پریس والوں کے ساتھ بیٹھے دیکھا تو حیران ہو کر بولے کہ اور کوئی اینکر تو کبھی ان کمیٹیوں میں نہیں آتا‘ تم اکثر یہاں پائے جاتے ہو۔ میں نے کہا: سر جی‘ میں شوقیہ صحافی ہوں اور اپنا شوق پورا کرتا ہوں۔ خیر‘ اجلاس پارلیمنٹ لاجز کے ایک کمیٹی روم میں ہو رہا تھا تو مجھے کہنے لگے کہ چل‘ تجھے کمرے میں بیٹھ کر کافی پلاتا ہوں۔ فیملی لاہور میں رہتی ہے‘ اس لیے جب وہ پارلیمنٹ اجلاس اٹینڈ کرنے آتے ہیں تو لاجز میں اپنے کمرے میں اکیلے ہی رہتے ہیں۔ کمرے کو خاصا صاف ستھرا اور آرٹسٹک دیکھ کر کچھ حیرانی ہوئی۔ وہ کچن میں گئے اور وہاں سے دو کافی مگ اٹھا کر لائے۔ پانی گرم کیا۔ مگوں میں کافی ڈالی اور پھر چمچ سے دھیرے دھیرے ہلانے لگے۔ اچانک انہیں کچھ یاد آیا اور کہنے لگے: برسوں پہلے بھٹو صاحب جب یحییٰ خان کی کابینہ میں وزیر تھے تو انہوں نے مجھے کہا کہ مہمان (یاسر عرفات) آ رہے ہیں‘ آپ نے آنا ہے۔ پرویز رشید طالب علمی کے دور سے بھٹو کے قریب ہو گئے تھے۔ یاسر عرفات آئے تو انہوں نے نوجوان پرویز رشید سے کہا کہ ہمیں بلیک کافی بنا کر سرو کرو۔ پرویز رشید نے اندر جا کر مگ لیے‘ پانی گرم کیا اور کافی کے مگوں میں پانی اور کافی ڈال کر چمچ سے دونوں مگوں میں موجود کافی کو ہلایا تاکہ اچھی طرح مکس ہو جائے‘ اور پھر سرو کر دی۔کچھ دیر بعد یاسر عرفات روانہ ہونے لگے تو بھٹو صاحب نے پرویز رشید کو کہا کہ انہیں رخصت کر کے آؤ۔ وہ رخصت کر کے واپس دفتر میں آئے تو بھٹو صاحب نے تعریف کی کہ میں اوپر سے دیکھ رہا تھا‘ آپ نے بڑے اچھے انداز میں مہمان کو رخصت کیا۔ لیکن ایک بات بتاؤں‘ آپ نے کافی کو صحیح انداز میں چمچ سے مکس نہیں کیا۔ آپ نے فزکس پڑھی ہو گی۔ کافی مکس کرتے وقت اس پر فزکس ہی اپلائی ہوتی ہے۔ (شاید بھٹو صاحب نے لاء آف موشن کی بات کی ہو گی)۔ کافی کے پانی میں چمچ کو دائرے میں نہیں گھماتے‘ جیسے تم گھما رہے تھے۔ اس سے گرم پانی اچھل کر باہر گرتا ہے۔ چمچ کو سیدھا رکھ کر مگ کے ایک سے دوسرے کونے تک بس ہلاتے ہیں۔
پرویز رشید کہنے لگے کہ کافی بنانے کا سلیقہ بھٹو صاحب سے سیکھا تھا۔ کہنے لگے کہ جب نواز شریف وزیراعظم تھے تو میں کسی تقریب میں قطار میں کھڑا تھا اور گلے میں مفلر ڈالا ہوا تھا۔ نواز شریف رکے‘ میرے کوٹ کے بٹن بند کیے اور مفلر کو اندر کر دیا۔ بعد میں جب وہ تقریب ختم ہوئی تو کہنے لگے: پرویز صاحب‘ آپ ناراض تو نہیں ہوئے؟ لیکن آپ ایسے کھڑے تھے جیسے راجہ بازار میں پھرنے آئے ہوں۔ نواز شریف کی بات ہوئی تو کہنے لگے کہ ان کی عادت ہے‘ وہ کسی بھی بندے سے ملتے ہیں تو ان کی پہلی نظر اس کے جوتوں پر جاتی ہے کہ آیا صاف ہیں یا نہیں۔ مجھے یاد آیا کہ اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ صاف جوتا آپ کی شخصیت کے بارے میں دوسروں کو جاننے کا موقع دیتا ہے اور پہلی نظر جوتوں پر ہی پڑتی ہے۔ خیر‘ کافی دیر تک بھٹو صاحب کی باتیں بتاتے رہے تو مجھے یاد آیا کہ پاکستان کے ایک سابق سفیر ڈاکٹر افضل اقبال نے بھٹو صاحب کی شخصیت کے ایک اہم پہلو کے بارے میں اپنی کتاب میں لکھا تھا۔ بھٹو صاحب وزیراعظم تھے تو وہ سویڈن کے دورے پر گئے جہاں ڈاکٹر افضل اقبال اس وقت سفیر تھے۔ انہوں نے بھٹو صاحب اور ان کے وفد کے اعزاز میں ضیافت دی۔ کھانا کھاتے وقت یہ بات زیرِ بحث آ گئی کہ انگولا کو تسلیم کرنا چاہیے یا نہیں۔ وزیرِ خارجہ نے انگولا کو تسلیم کرنے میں تاخیر کو روس کی پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے جوڑا۔ اس میز پر جتنے مہمان بیٹھے تھے‘ سب نے اس معاملے پر اپنی اپنی رائے دی۔ لیکن وزیراعظم بھٹو‘ جن سے یہ سوال کیا گیا تھا‘ اس پوری بحث میں خاموش رہے اور ایک لفظ نہیں بولے۔ ڈاکٹر افضل اقبال نے بھی اپنی رائے دی کہ ان کے خیال میں انگولا کو تسلیم کر لینا چاہیے۔ اس سے روس کسی حد تک مطمئن ہو گا‘ پاکستان کے خلاف اس کا جو جارحانہ رویہ رہا ہے‘ اس میں کمی ہو گی اور انگولا کو تسلیم کرنے سے ہمارے قومی مفاد کو بھی کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔ اس پر ساتھ بیٹھے سیکرٹری خارجہ نے سختی سے سفیر کی بات کو رد کیا اور اونچی آواز میں پوری گفتگو کو یہ کہہ کر ختم کرنے کی کوشش کی کہ سفیر صاحب کو اس معاملے کا کچھ علم نہیں ہے اور یہ معاملہ اتنا سادہ نہیں ہے کہ اسے جلدی میں لپیٹ دیا جائے۔ اس پر سفیر نے بھی جواباً ردِعمل ظاہر کیا کہ اگر میں فارن آفس ڈیسک پر نہیں ہوں اور مجھے ان خفیہ ٹیلی گرامز تک رسائی نہیں ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں اپنی رائے نہیں دے سکتا۔ سفیر کی اہلیہ نے‘ جو میزبان تھیں‘ بات بگڑتی دیکھ کر فوراً مداخلت کی اور میزبان ہونے کے ناتے سیاسی بحث روک دی۔ جونہی کھانا ختم ہوا تو بھٹو صاحب نے اسی سیکرٹری خارجہ سے کہا کہ اسلام آباد فون کر کے فارن آفس کو کہیں کہ وہ انگولا کو تسلیم کرنے کا اعلان کرے۔ یہ سن کر سب ہکے بکے رہ گئے۔ باقی سب خوش ہوئے لیکن فارن سیکرٹری کا منہ بن گیا۔ میز پر بھٹو صاحب نے اشارہ تک نہ دیا کہ وہ کیا سوچ رہے ہیں اور سارا وقت چپ رہے ۔ انہوں نے سب کے دلائل سنے اور قائل ہوئے تو فوراً فیصلہ کر لیا۔
اگلی صبح وزیراعظم نے سٹاک ہوم جانا تھا اور انہوں نے سفیر کو وہاں بلایا جہاں وہ ٹھہرے ہوئے تھے۔ پتا چلا کہ وزیراعظم فارن سیکرٹری کے رات والے رویے پر سخت ناراض تھے۔ بھٹو صاحب کا خیال تھا کہ اس نے غیر ضروری بات کی ۔ وزیراعظم کے علاوہ وہاں تین وفاقی وزیر اور دو سینئر سیکرٹری جنرلز بھی اس میز پر موجود تھے۔ فارن سیکرٹری پروٹوکول کے حساب سے وہاں سب سے جونیئر تھے۔ بھٹو صاحب نے اپنے تین وزیروں کی بھی کلاس لی کہ جب فارن سیکرٹری سفیر صاحب کو ہراساں کر رہے تھے تو انہوں نے فوراً مداخلت کیوں نہیں کی۔ بھٹو صاحب نے کہا کہ ایک لمحے کیلئے تو انہوں نے سوچا کہ وہ میز چھوڑ کر چلے جائیں لیکن پھر خیال آیا کہ یہ میزبان کی توہین ہو گی۔ وزیراعظم نے اپنے وزیرِ خارجہ سے کہا کہ اس ڈنر کے تمام مہمانوں کو دوبارہ بلایا جائے اور سیکرٹری خارجہ ان سب کے سامنے سفیر سے اپنے رویے کی معذرت کریں گے۔ وہی ہوا۔ اجلاس بلایا گیا۔ وزیرِ خارجہ نے پوری صورتحال بتائی کہ انہیں یہاں کیوں بلایا گیا تھا۔ وزیرِ خارجہ نے سیکرٹری خارجہ سے کہا کہ وہ وزیراعظم بھٹو اور سفیر سے اپنے نامناسب رویے کی معذرت کریں۔ فارن سیکرٹری نے کھڑے ہو کر معذرت کی اور سفیر کو گلے لگایا۔ سفیر صاحب جب جہاز پر الوداع کہنے گئے تو بھٹو صاحب نے پوچھا کہ کیا سیکرٹری نے دل سے معذرت کی؟ سفیر نے جواب دیا: سر‘ اس کی ضرورت نہیں تھی۔ معذرت تو کر لی تھی لیکن بعد میں اس کا خمیازہ تو مجھے بھگتنا پڑے گا۔ بھٹو صاحب نے نصرت بھٹو کی موجودگی میں غصے سے کہا: Over my dead body۔ اور پھر وہی ہوا۔
پرویز رشید اب بھی بلیک کافی میں بھٹو صاحب کے سکھائے ہوئے طریقے سے چمچ ہلا رہے تھے۔ مجھے بھٹو صاحب کی پھانسی سے پہلے کی آخری خواہش یاد آئی کہ مجھے شیو کا سامان مہیا کریں اور بلیک کافی پلائیں۔ کافی ختم کی اور جا کر تارا مسیح سے کہا: Finish it, please۔ کمرے میں کافی کے چمچ کے ہلنے کی آواز اب بھی سنائی دے رہی تھی۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved